سیاست

مایاوتی اور اکھلیش پھر سوچ لیں

حفیظ نعمانی

ایس پی اور بی ایس پی لیڈروں کی لمبی ملاقات کے بعد یہ اعلان کہ 15 جنوری کو اکھلیش یادو کی مسز ڈمپل یادو کی سالگرہ کے موقع پر رسمی طور پر اعلان کردیا جائے گا کہ لوک سبھا کے الیکشن میں کانگریس کے لئے دو سیٹیں چھوڑکر اور چار سیٹوں کو معاون پارٹیوں کے لئے چھوڑکر 74 سیٹوں پر سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی لڑیں گی۔

ہمارا کوئی تعلق نہ کانگریس سے ہے نہ راہل گاندھی سے لیکن ایک بات ایسی ہے کہ جن میں ہم جیسے سب شریک ہیں اور وہ یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو ایسے حالات بنادیئے جائیں کہ بی جے پی حکومت نہ بنا سکے۔ یہ بات ہر آدمی جانتا ہے کہ مدھیہ پردیش میں دس سال حکومت کرکے دگ وجے سنگھ جب ہارے تو انہوں نے وہ نہیں کیا جو انہیں کرنا چاہئے تھا اور اس لئے وہاں 15 سال بی جے پی نے حکومت کی لیکن گذشتہ پانچ سال جو نوجوان لیڈر سندھیا نے وہاں محنت کی اس کا نتیجہ یہ ہے کہ 15 سال کے بعد پھر کانگریس واپس آگئی اور یہی راجستھان میں ہوا کہ نوجوان پائلٹ نے راجستھان کو اُلٹ کر رکھ دیا اور رانی کا صفایا کردیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ گذشتہ 30 برس سے جو کانگریس اترپردیش سے گئی ہے تو پھر اسے اقتدار نصیب نہیں ہوا اس کی ابتدا چودھری چرن سنگھ نے کی اس کے بعد بہوگنا جی آئے ضرور مگر ان کے جانے کے بعد پھر کانگریس نے لکھنؤ کا منھ نہیں دیکھا۔

گذشتہ اسمبلی کے الیکشن میں کانگریس نے سماج وادی پارٹی سے مل کر الیکشن لڑا اگر وہ بہار کی طرح 25 یا زیادہ سیٹیں لاتی تو آج اس کی ایسی ناقدری نہ ہوتی۔ اس کی ذمہ داری ریاست کے انچارج غلام نبی آزاد اور صدر راج ببر پر عائد ہوتی ہے۔ پورے الیکشن میں کہیں نہ ان کا چہرہ دیکھا اور نہ ان کی تقریر سنی۔ اگر وہ اکھلیش سے مل کر لڑنے کو غلط سمجھتے تھے تو ان کا فرض تھا کہ وہ راہل گاندھی سے بات کرتے اور فیصلہ تبدیل کراتے اور وہ نہ مانتے تو اعلان کرکے کہتے کہ ہم الگ ہیں۔ اس وقت ان کے پاس تین صوبوں کی وہ فتح ہے جو انہوں نے بی جے پی سے چھینی ہے بیشک یہ بہت بڑی بات ہے لیکن اترپردیش کے کس علاقہ پر اس کا کیا اثر پڑا؟ اتنے بڑے صوبہ میں آخر کیوں کوئی سندھیا یا پائلٹ نہیں بنا جو پوری نہیں تو ریاست کا مغربی، مشرقی، جنوبی یا شمالی علاقہ پر اپنی پکڑ بناتا۔

پارٹی کے صدر اور سرپرست راہل گاندھی اور سونیا جی اپنے اپنے حلقوں میں آکر اپنی سیٹ مضبوط کرکے چلے جاتے ہیں کم از کم راہل گاندھی ہی اتنا کرتے کہ اترپردیش کے ہر گوشہ میں ایک بار آکر منھ دبائے جو کانگریسی بیٹھے ہیں ان کا حوصلہ بڑھاتے۔ راہل گاندھی اب نریندر مودی کے سامنے برابر کے لیڈر بن کر اُبھرے ہیں انہوں نے پہلے گجرات میں دکھایا پھر کرناٹک میں جو کیا اور اب تین ریاستوں میں ثابت کردیا کہ وہ ان کے منھ سے نوالہ چھین بھی سکتے ہیں۔ لیکن اترپردیش میں اگر انہوں نے ہر سیٹ پر لڑنے کا فیصلہ کیا تو یہ بہت بڑی غلطی ہوگی کانگریس کے لیڈر پی ایل پنیا صاحب شیوپال سے ملنے چلے گئے کیا کسی لیڈر کے لئے یہ اقدام مناسب ہے شیوپال تو یوگی آدتیہ ناتھ کا اور ملائم سنگھ یادو کی نئی بیگم کا کھلونا ہے جہاں تک سمجھ بوجھ کا تعلق ہے تو وہ صرف ملائم سنگھ کے بھائی ہیں اور ان لوگوں کو ٹکٹ دے دیں گے جو سماج وادی پارٹی سے مایوس ہوں گے اب یہ ان کی ذمہ داری نہیں ہے کہ ان کو ووٹ ملے یا نہیں۔

اکھلیش یادو مایاوتی کو چھوڑ نہیں سکتے اور مایاوتی کے دماغ کے ایک گوشہ میں وزیراعظم کی کرسی ہے انہوں نے مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں جو پوری سنجیدگی سے الیکشن لڑا وہ صرف اس لئے تھا کہ تینوں صوبوں میں اتنی اتنی سیٹیں لے لوں کہ نیشنل پارٹی کی صف میں آجاؤں۔ مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں جو ہوا اس نے انہیں کانگریس سے دور کردیا۔ اب یہ اُن کے سوچنے کی بات ہے کہ کانگریس اگر دو پارٹیوں کو ساتھ لے کر تین صوبوں کو جیت لیتی تو راہل گاندھی یا کانگریس سے ان کا برابری کا مقابلہ نہ ہوتا جو اُن صوبوں میں ہوا کہ صرف راہل بنام مودی مقابلہ مانا گیا اس نے راہل کو کیا دیا اسے چھوڑیئے یہ دیکھئے کہ اس نے ان کے مقابل مودی سے کیا لے لیا؟ قارئین کرام بھی ٹی وی سنتے ہوں گے یہ 50 مہینے کے بعد پہلا موقع ہے کہ ہندو دانشور اب کھل کر کہہ رہے ہیں کہ عوام کو وہ سب وعدے یاد ہیں جن کی بنیاد پر مودی جی نے 2014 ء میں ووٹ لیا تھا۔ اور ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کیا تو اب ووٹ کس نام پر۔ یہاں تک کہا گیا کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس بھی صرف نعرہ بن کر رہ گیا نہ کہیں سب کا ساتھ ہے نہ کہیں وکاس۔

اور یہ بھی پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ راجستھان میں جو پوسٹر اور بینر بنے ان میں نمایاں چہرہ رانی کا تھا اور چھوٹا وزیراعظم کا جبکہ اصل چہرہ مودی کا ہوا کرتا تھا۔ اور ان تین صوبوں کے الیکشن نے ثابت کردیا کہ مودی جی آئیں گے بو لیں گے اور سب ووٹ دے دیں گے کا زمانہ گیا اب وہ آتے بھی ہیں بولتے بھی ہیں کانگریس کو گالیاں بھی دیتے ہیں مگر مجمع ووٹ میں تبدیل نہیں ہوتا۔ اور اسی کا نام زوال ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close