سیاست

مایا ملائم ملاپ معجزہ سے کم نہیں

حفیظ نعمانی

اُترپردیش کی تین پارٹیوں کے متحدہ محاذ کے بارے میں ایک سال پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ لوک سبھا الیکشن تک نہ صرف باقی رہے گا بلکہ وہ آگ اور پانی کے خوشگوار ملاپ کا ایک معجزہ بھی دکھائے گا۔ اس محاذ میں اکھلیش یادو سب سے کم عمر ہیں لیکن جس صلاحیت کا انہوں نے مظاہرہ کیا ہے اس نے تمام سفید بال والوں کو انگشت بدنداں کردیا ہے۔

اکھلیش یادو نے مس مایاوتی کو بوا (پھوپھی) کہنا شروع کیا اور اتنا کہا کہ آخرکار غیرمعمولی صلاحیتوں اور مخصوص مزاج والی مایاوتی کو تسلیم کرنا پڑا کہ اکھلیش واقعی بوا مان رہا ہے۔ اس کے بعد اکھلیش نے یہ کہنا شروع کیا کہ اترپردیش میں ہم اور بوا مل کر بی جے پی کا مقابلہ کریں گے لیکن مایاوتی نے ایک بار بھی نہیں کہا کہ ہاں ہم دونوں ساتھ مل کر لڑیں گے۔ یوگی آدتیہ ناتھ اور موریہ دونوں لوک سبھا کے ممبر تھے دونوں میں یوگی کو وزیراعلیٰ اور موریہ کو نائب وزیراعلیٰ بنانے سے لوک سبھا کی دو سیٹیں خالی ہوگئیں اور ان کے ضمنی الیکشن کا اعلان ہوگیا۔ مایاوتی کا اصول ہے کہ وہ ضمنی الیکشن میں حصہ نہیں لیتی ہیں۔ اکھلیش نے ان سے کہا کہ وہ لڑنا چاہتے ہیں آپ نہیں لڑتیں تو ہمیں حمایت دے دیں جس طرح سے 2014 ء میں مودی اور 2017 ء میں یوگی آندھی طوفان بن کر آئے تھے ان کے مقابلہ کا فیصلہ کرنے کیلئے فولاد کے جگر کی ضرورت تھی اور جواں سال اکھلیش یادو نے سینہ ٹھونک کر کہا کہ میں مقابلہ کروں گا۔

اکھلیش نے چاہا کہ ان کی بوا آواز میں آواز ملاکر آئیں لیکن انہوں نے بس اتنا کہا کہ جو بی جے پی کو ہرا رہا ہو ہمارے پارٹی کے لوگوں کو انہیں ووٹ دینا چاہئے۔ واضح رہے کہ گورکھ پور کی سیٹ پر کانگریس نے بھی امیدوار کھڑا کیا تھا اور نشاد برادری کے ایک لیڈر کو اکھلیش نے آگے کردیا تھا۔ اگر اس اعلان کا تجزیہ کیا جائے تو یہ سماج وادی پارٹی کی حمایت کا اعلان نہیں ہے لیکن شور مچا دیا کہ بہن جی کا مطلب یہی ہے۔ اب اسے اکھلیش کی قسمت کہیں گے کہ گورکھ پور اور پھول پور دونوں سیٹیں اکھلیش نے جیت لیں اور مایاوتی اکھلیش کے قریب آگئیں۔

پھر کیرانہ اور نور پور میں بھی وہی ہوا تو مایاوتی سنجیدہ ہوگئیں اور پھر اکھلیش کے ساتھ مسلسل مستقبل کا نقشہ بننے لگا۔ یہ اکھلیش کی غیرمعمولی صلاحیت کا نتیجہ ہے کہ مایاوتی کی جائز اور ناجائز ہر بات مانتے چلے گئے جبکہ لوک سبھا راجیہ سبھا اسمبلی اور کائونسل ہر جگہ اکھلیش بہت آگے اور مایاوتی بہت پیچھے تھیں۔ اور اکھلیش کے لئے دوسری مشکل یہ تھی کہ ان کے باپ اس بات پر ناراض تھے کہ تم نے پارٹی کو آدھا کردیا۔ مایاوتی کو اس بات پر آمادہ کرنا کہ وہ اپنے پرانے دشمن ملائم سنگھ کے ساتھ ڈائس پر بیٹھیں اور دونوں ایک دوسرے کی تعریف کریں وہ کام تھا جس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا مگر نظر نہ لگے اکھلیش کی صلاحیتوں کو کہ اس نے تسلہ میں آگ اور پانی کو گھنٹوں ایک دوسرے کا قصیدہ پڑھتا ہوا دکھادیا اور اب اکھلیش کو گھر کی طرف سے اطمینان ہوگیا کہ باپ ان کی مخالفت کی ہمت نہیں کریں گے۔

وزیراعظم سے لے کر چھوٹے سے چھوٹا بی جے پی کا بھگوا ورکر جب گٹھ بندھن کی بات سنتا تھا تو فوراً مایاوتی اور گیسٹ ہائوس کی کہانی سنانے لگتا تھا۔ انتہا یہ ہے کہ امت شاہ کے حلق سے بھی یہ ملاوٹ والا محاذ نہیں اُتر رہا تھا لیکن مین پوری میں آدمیوں کے سیلاب نے ثابت کردیا کہ 2014 ء میں جو سماج وادی پارٹی بی ایس پی کے ساتھ ہوا تھا وہ اب بی جے پی کے ساتھ ہوگا جس کے ثبوت کے لئے یہ خبر کافی ہے کہ امروہہ میں محاذ کے کنور دانش علی کے لئے وہ جذبہ تھا کہ کئی جگہ 90  فیصدی ووٹنگ ہوئی ہے جبکہ وہ کرناٹک سے آئے تھے۔

ابھی صرف دو سو سیٹوں کا الیکشن ہوا ہے سیاسی مبصر کچھ اس طرح کی باتیں کررہے ہیں جیسے مودی جی کو حکومت پلیٹ میں رکھ کر نہیں دی جائے گی اور ان کو اس کا خوب اندازہ تھا اس لئے سنیل اروڑہ کو چیف بنایا جن کے لئے شرم کی بات ہے کہ سابق چیف قریشی ان پر اعتراض کررہے ہیں جبکہ قریشی مسلمان تھے اور اروڑہ وہ ہوتے ہیں جن کے سامنے ڈھاکہ میں پاکستان کے جنرل نیازی نے ہتھیار ڈالے تھے جگ جیت سنگھ اروڑہ۔ وزیراعظم نے تو صدر محترم بھی ایسے شریف اور اپنے دوست کو بنایا ہے کہ جو ردّی کاغذ بھی بھیج دیں تو وہ دستخط کردیں گے اس لئے کہ وہ پورا اعتماد کرتے ہیں ان تیاریوں کے بعد اگر ایک آواز راہل کی اٹھے اور دوسری غیربی جے پی اور غیرکانگریسی کی اٹھے اور تینوں دعویداروں میں بہت واضح فرق نہ ہو تو ظاہر ہے مودی کو وزیراعظم بننے سے کون روک سکتا ہے؟ اب جو 350  سیٹیں رہ گئی ہیں ان میں سے جو زیادہ لے جائے سہرا اس کے سر بندھے گا۔

اب امتحان کے نتیجہ کا سب کو انتظار رہے گا جو 23  کو آئے گا اس کے بعد ملک کو اندازہ ہوگا کہ اکھلیش یادو نے شق القمر کے معجزہ کی طرح چاند کے دونوں ٹکڑوں کو 25  سال کے بعد نہ صرف ملا دیا بلکہ ملائم سنگھ سے کہلا دیا کہ میں زندگی بھر مایاوتی کا احسان نہیں بھولوں گا اور مایاوتی سے کہلا دیا کہ ملائم سنگھ جی کو اتنے ووٹ دو کہ سارے ریکارڈ ٹوٹ جائیں۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ خبر اس الیکشن کی سب سے اہم خبر ثابت ہوگی ہم تو بس دعا کرتے ہیں کہ  ؎

نظر لگے نہ کہیں ان کے دست و بازو کو

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close