سیاست

 مایوس تو نہیں طلوع سحر سے ہم

فردوس کوثر

الیکشن 2019 کے  نتائج آچکے ہیں۔زعفرانی فکر کے حامل افراد نے پھر سے بازی مار لی ہے۔ لوگوں نے الیکشن کے تعلق سے  جو  قیاص کیا تھا، رزلٹ اس کے بہت بر خلاف آئے ہیں۔ وہیں اقلیتیں بالخصوص مسلمان بھی الیکشن کے نتائج سے مایوس کن نظر آرہے ہیں۔ ان کے اندر ایک خوف کی کیفیت دکھائی دے رہی ہے۔ انھیں اس بات کا اندیشہ ہے کہ زعفرانی فکر کی حامل حکومت نے مسلمانوں نے گزشتہ ایام میں جو کچھ مسلمانوں نے ساتھ ظلم و ستم کیا، عین امکان ہے کہ اب اس میں مزید شدت آجائے۔ لیکن  مسلمانوں کو پریشان ہونے کی یا کسی بھی طرح سے رنج و غم خوف و خطر و مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ دوبارہ اگر موجودہ حکومت ہی  رہی تو ہمارا حشر کیا ہوگا؟ وسوسے اور خدشات بجا ہیں ہونا بھی چاہئے۔ لیکن مایوسی کی کیفیت طاری نہیں ہونی چاہیے، بلکہ آنے والے حالات میں پریشانیوں اور مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ یہی در اصل مسلمان کی پہچان ہے۔

سر مین ہند پر امت مسلہ کا حال بھی بہت بہتر نہیں ہے۔ وہ اپنے مذہب، دین،منصب، مقصد اور نصب العین کو بھلا کر الگ الگ فرقوں میں بٹ گئی ہے۔ لیکن ان سابقہ چار سالوں میں شریعت کے نام پر ہی صحیح لیکن کچھ وقت کے لئے یکجا ضرور ہوئی تھی۔ طلاق ثلاثہ پر  ایک ساتھ کھڑی نظر آئی تھی موجودہ حکومت نے یہ ایک کام تو اچھا کیا۔ جب تک ہم بکھرے ہوئے ہے ہم اس شعر کی مثل ہے۔

چلتے ہے دبے پاؤں کوئی جاگ نا جائے

غلامی کے اسیروں کی یہی خاص ادا ہے

ہوتی نہیں جو قوم حق بات پہ یکجا

اس قوم کا حاکم ہی بس انکی سزا ہے

حالات سے بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اقلیت میں صرف مسلمان ہی نہیں ہے

لگے گی آگ تو آئے گے گھر کئی زد میں

یہاں پر صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

اللہ رب العزت کا ارشاد گرامی ہے سورہ آل عمران آیت نمبر 26 کہو اللہ ملک مالک تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے چھین لے۔

حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تک اللہ چاہے گا کہ تم میں نبوت رہے، تو نبوت رہے گی پھر جب اللہ اسے اٹھانا چاہے گا اٹھا لے گا۔ پھر نبوت  کے طریقے پر خلافت  ہوگی۔ جب تک اللہ چاہے گا خلافت رہے گی، پھر جب اللہ تعالٰی اسے اٹھانا چاہے گا اٹھالے گا۔ پھر ظلم والی بادشاہت آجائے گی جب تک اللہ چاہے گا یہ بادشاہت رہے گی جب  اسے اٹھانا چاہے گا اٹھا لے گا۔ پھر سرکشی والی بادشاہت ہوگی جب تک اللہ چاہے گا یہ رہے گی پھر جب اللہ اسے اٹھانا چاہے گا اٹھالے گا پھر نبوت کے نہج پر خلافت ہو گی ۔پھر آپ ﷺ خاموش ہوگئے۔ (بیہقی 1754)

حدیث مبارکہ کا مفہوم پڑھنے کے بعد کئی دلوں کو قرار آیا ہوگا۔ کہ ہوتا وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے اللہ ہی ہے جو حاکم کو محکوم، ظالم کو مظلوم ،زیر دست کو زبردست و سرپرست بنا دیتا ہے، عزت و ذلت ،عروج و زوال سب اللہ کی قدرت میں ہے یہ حالات تو امت مسلمہ کو صحیح نہج پر لانے کے لئے اللہ رب العزت نے لائے ہیں  ۔ ہم جانتے ہے کہ لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے ۔ایسی شام ہے جسے ایک نا ایک دن اسلام کی روشنی سے ختم ہونا ہی ہے۔

اصل بات و مدعا یہ ہیکہ ہمارا ان چار سالوں میں کیا لائحہ عمل ہونا چاہئے؟ کس طرح کی تیاریاں ہماری ہونی چاہیے ؟ اس بات پر ہم اظہار خیال کرے گے۔

ہمارے کرنے کے کام

1. اول تو آپ اس بات کو اپنے فکر و نظر، قلب و عقل میں پیوست کرلیجئے کے ملک بھارت ہمارے لئے دعوت دین کا میدان ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے ۔  تم نیکی کا حکم دیتے ہو ،  بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو  ۔  یہ اہل کتاب ایمان لاتے تو انہی کے حق میں بہتر تھا ۔  اگرچہ ان میں کچھ لوگ ایمان دار بھی پائے جاتے ہیں مگر ان کے بیشتر افراد نافرمان ہیں۔‘‘ (النسائ: ۱۱۰)

اس چار سالہ مہلت میں ہمیں قرآن مجید کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا ہے۔ اس قدر فہم و تدبر سے مطالعہ قرآن کرنا ہے کہ ہمارا آؤٹ پٹ کردار کی شکل میں قرآن کا چلتا پھرتا نمونہ بن جائے۔ ساتھ ہی قرآن کی دعوت اور پیغام کو ہم اپنے وطنی بھائیوں تک بھی حتی المکان پہنچانے کی کوشش کریں۔

2۔ہر برادران وطن تک اسلام کا پیغام پہنچانے کی جدو جہد کی جائے۔

3۔ خدمت خلق،اخوت، محبت، ایثار و قربانی سے برادران وطن کے دلوں کے فاتح بننا ہے۔

4۔ حضور اقدس کی ذات اور قانون شریعت ہر ملی و وطنی بھائی بہنوں سے پوری اپنائیت، ہمدردی، ملاقاتوں و دیگر ذرائع کے ذریعے مکمل واقفیت کروائی جائے۔

5۔ فرقہ بندی و آپسی اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔

6۔ نوجوانوں کے سیاسی شعور کو منصوبہ بند طریقے سے بیدار کیا جائے۔

7۔ دینی و عصری تعلیم کے ساتھ تربیت دی جائے۔

والدین ذمہ داری کے ساتھ تاریخ اسلام سے واقف کروائے تاکہ ان کے بچے مجاہدین و داعی کی صف میں کھڑے ہوسکے۔

  والدین  اپنے بچوں کو سوشل میڈیا کے بے جا اور غلط استعمال کرنے سے منع کریں اور ان کی نگرانی کریں۔ سرپرست اپنے خاندان کے ہر لڑکا اور لڑکی کے اٹھارہ سال ہوتے ہی انکا الیکشن کارڈ بنوائے۔

ہماری حیثیت اس ملک میں ایک داعی قوم کی ہے۔ اس ملک عزیز کے حالات دعوتی نقطہ نظر سے بہت سازگار ہیں۔ عوام پیاس کی شدت سے نڈھال ہے اور ہم سمندر پر سانپ کی طرح بیٹھے ہیں۔ ملک کی تمام دینی جماعتوں کے سربراہ اگر یکجا ہوجائیں اور منصوبہ بند طریقے سے دعوت کا فریضہ انجام دیں تو ان شاءاللہ وہ وقت دور نہیں کہ ملک کی فضاء خوشگوار ہوگی اور ایک نئی صبح کا سورج طلوع ہوگا۔ انشائ اللہ

علامہ اقبال نے کہا تھا؎

سبق پڑھ پھر صداقت کا شجاعت کا عدالت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close