سیاست

مجلس اتحاد المسلمین اور یو ڈی ایف: مقامی یا کل ہند ؟

انتخابات جیتنے کے لئے  شعلہ بیانی اور آر ایس ایس کا بهوت اور بهاجپا  کا ڈر دیکهانا کافی نہیں ہے۔

مسعود جاوید

مجلس اتحاد المسلمین کا قیام  1927  بریٹیش انڈیا کے دور استعمار میں عمل میں آیا تها یعنی آج سے 91 سال قبل  اور اس وقت سے لے کر 2014 تک حیدرآباد بلکہ اگر بالتحدید کہا جائے تو پرانے شہر حیداراباد کی ایک مقامی سیاسی پارٹی کے طور پر کام کرتی رہی۔ 1984 سے لوک سبها کی ایک سیٹ پر قابض رہتی آئی ہے۔ مسلمانوں کے مقامی مسائل کو حل کرنا اور خستہ حال عوام کی پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے  جذباتی اور ہیجان انگیز تقاریر سے مڈل اور لوور طبقے میں مقبولیت حاصل کی۔  stereo type لب و لہجہ میں عوام کے سامنے پولیس اور انتظامیہ کے افسران سے بات چیت کرنا اویسی برادران کو ورثے میں ملی ہے۔

سلطان صلاح الدین اویسی صاحب مرحوم بهی ایسی ہی پرجوش لہجے میں گرجتے تهے بلکہ دهاڑتے تهے اور عوام سالار ملت زندہ باد کے نعرے لگاتے تهے۔ اتنی عوامی مقبولیت میں نے کسی اور مسلم لیڈر کی نہیں دیکهی۔

پهر 2014 میں نہ جانے  مجلس اتحاد المسلمین”کل ہند ” کے راستے پر چل پڑی۔ توسیع پسندی اور تنظیم کی تجدید کاری بری شئی نہیں ہے۔ ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آندهرا سے کاٹ کر  بنی نو تشکیل شدہ ریاست  تلنگانہ کی اسمبلی میں 7 سیٹ حاصل کیا اور مہاراشتر میں 02 سیٹ اسی طرح میونسپل الیکشن میں دوسری سب سے بڑی پارٹی بن کر ابهری۔

طالع آزمائی اس پارٹی نے بہار اور اتر پردیش میں بهی کی لیکن اویسی یا کسی بهی باہر کی مسلم پارٹی کے لئے یہ بہت ہی خاردار علاقے ثابت ہوئے اور ہوں گے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان علاقوں کی مسلم لیڈرشپ سے براہ راست چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم ان ریاستوں میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو بدرالدين اجمل اور ان کی پارٹی یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ  اور اسد الدین اویسی اور ان پارٹی مجلس اتحاد المسلمین کی طرح اپنے صوبوں میں بهی مضبوط سیاسی پارٹی کو دیکهنے کے خواہاں ہیں مگر بد قسمتی یہ ہے کہ بہار اور اتر پردیش کی مقامی مسلم لیڈرشپ کا کوئی ایسا عوامی کارنامہ نہیں ہے جسے حیدرآباد کی مجلس یا آسام کی فرنٹ کے مقابل پیش کیا جائے۔ ان دونوں پارٹیوں نے خستہ حال والدین کے بچے اور بچیوں کے لئے  تعلیم اور صحت کے میدان میں زمینی کام کیا ہے۔ 85 میں جب حیدرآباد کا دورہ کیا تو اس وقت صلاح الدین اویسی صاحب اور عبد الرحیم قریشی صاحب اللہ دونوں کو غریق رحمت کرے، نے میرا سوال کہ اعلی تعلیم کے میدان میں عثمانیہ یونیورسٹی میں  مسلمانوں کی تعداد تقریباً صفر کیوں ہے ، انہوں نے جواب دینے کی بجائے بعض علاقوں کا دورہ کرایا جہاں میں نے د یکها کہ ووکیشنل ٹریننگ ، شارٹ ٹرم کورس اور بلو کالر کے مختلف ٹریڈ کی ٹریننگ کے چهوٹے چهوٹے سنٹرز قائم کئے گئے تھے۔ یہاں سیکھ کر لڑکے خلیجی ممالک روزگار کے لئے جاتے تهے۔

اویسی صاحب مرحوم نے بتایا کہ ہم نے اس معمہ کو  کہ ” پہلے مرغی یا پہلے انڈا” یعنی تعلیم ہوگی تو مالی حالت سدهرے گی یا مالی حالت بہتر ہوگی تو اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر انجنئیر بنائیں گے اسے اس طرح حل کیا کہ یہ نسل قربانی دے بارہویں کے بعد روایتی بی اے اور ایم اے میں وقت ضائع نہ کرے بلکہ پیرا میڈیکل کورس لیب ٹیکنیشن اکسرے ٹیکنیشن ویلڈر پلمبر وغیرہ وغیرہ کا کام سیکھ کرکے ہیسے کمائیں تاکہ ان کے بچے پیسوں کی قلت کی وجہ سے ڈاکٹر انجنئیر بننے سے محروم نہ رہیں۔

چونکہ ہمارے یہاں شمالی ہند میں کسی سیاسی لیڈر یا ملی قائد کا کوئی کام اس نہج پر نہیں دیکها تها اس لئے بے حد متاثر ہوا اور آنے کے بعد آرٹیکل لکها کہ مسلم قیادت جنوبی ہند کے لوگوں کو سونپ دی جائے۔۔۔۔۔ اس وقت اور آج بهی بڑی ملی تنظیموں کی قیادت شمالی ہند کے لوگوں کے ہاتھ میں ہے الا ماشاءاللہ کی استثناء کے ساتھ۔

آمدم بر سر مطلب یہ کہ مجلس اور فرنٹ کو شمالی ہند میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے یہ کہنے کی ضرورت کیوں ہیش آئی ؟  ان کے آنے سے غیر مسلم ووٹ کا پولرائزیشن ہوگا یہ بہت معقول دلیل نہیں ہے۔ جہاں تک ووٹ کاٹنے کی بات ہے تو اتر پردیش میں پچھلے اسمبلی انتخابات میں مسلم ووٹوں کی تقسیم یا ووٹ کٹوا اویسی صاحب نہیں تهے سماجوادی اور بہوجن ان دونوں پارٹیوں کے مسلم امیدوار تهے جو مثال کے طور پر بالترتيب سپا سات ہزار، بسپا نو ہزار اور اویسی ایک ہزار کل سترہ ہزار مسلم ووٹ کے مقابل بهاجپا کا امیدوار دس ہزار ووٹ لا کر جیت گیا۔

اس لئے اویسی اور اجمل سے ڈرنے اور جلنے کی بجائے ان کی پارٹیوں کی طرح ز مینی کام کرکے عوامی مقبولیت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اویسی صاحب اور اجمل صاحب جس طرح اپنے حلقوں میں تعلیمی ادارے اور ٹریننگ سنٹرز ،  ہاسپٹل اور ڈسپنسری قائم کرکے ، اپنے devoted cadre کو کم پڑهے لکهے لوگوں کے کام کرانے کے لئے متعین کرکے، سرکاری اسکیموں  جیسے پردهان منتری آواس یوجنا سے مستحقین کو گهر، تعلیمی وظائف اسکالر شپ ، اور تعلیم اور تجارت کے لئے بلا سودی قرض عمر رسیدہ کے لیے وظائف ، راشن کارڈ،  آدهار کارڈ،  الیکشن آئی ڈی ، انکم اور ذات سرٹیفکیٹ وغیرہ وغیرہ بنوانے اور پولیس تهانوں میں ایف آئی آر ودیگر کاموں میں تعاون کے لئے کام پر لگا کر محبوب ملت بنے ایسا ہی کچھ ان ریاستوں میں کرکے مقبولیت حاصل کرنے کے بعد ہی انتخابی دوڑ میں حصہ لے سکتے ہیں۔ بیج بوئیں آبیاری کریں جانوروں سے فصل کی حفاظت کریں کسی ریاست میں اور فصل کاٹنا چاہیں کسی اور ریاست میں یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ بے باک مسلم مسائل کو اٹهانا بلاشک اویسی صاحب کی بہت اچهی خوبی ہے اس کا اعتراف ہم سب کو کرنا چاہئے اور پارلیمنٹ نے بهی سنسد رتن کا ایوارڈ دے کر کیا ہے۔۔۔۔ سید شہاب الدین مرحوم خود بهی پارلیمنٹ میں اور دوسرے پلیٹ فارم پر اقلیتوں کے مسائل اور خاص طور مسلم مسائل کو اٹهاتے تهے اور انہوں نے اویسی صاحب کی اس خاصیت کی تعریف بهی کی تهی۔ ہمیں سید شہاب الدین صاحب کی طرح بے باکی سے مسائل اٹهانے کے لئے اویسی صاحب کی ضرورت ہے لیکن الیکشن جیتنے کے لئے جو اجزاءئے ترکیبی ingredients  کی ضرورت ہوتی ہے  ان میں سب سے اہم زمینی کام ، عوامی رابطہ اور پکڑ ہے۔ (یہ اور بات ہے کہ ان دنوں سب سے زیادہ کامیاب اور مجرب نسخہ  مذہب کے نام پر پولرائزیشن کرکے جیتنا ہے)۔ یہی وجہ تهی کہ سید شہاب الدین کو بهی شکست کا سامنا کرنا پڑا تها۔

عوام نے اچها مقرر orator ، statesman ،IFS diplomat  کی قدر نہیں کی ان کی ملی سرگرمیوں اور مسلم انڈیا جیسے اعداد وشمار data based چشم کشا میگزین کے باوجود مسلم اکثریتی حلقہ کشن گنج میں ان کو ووٹ نہیں کیا اس لئے کہ اچها لکهنے اور بولنے کے باوجود عوامی پکڑ انہوں نے نہیں بنائی اور دوسری طرف مقامی لیڈروں سے جڑے لوگوں کے اپنے مفادات ہوتے ہیں اس لئے ان کی ترجیح اعلیٰ ملی مفاد کے مقابل مقامی ایشو تهے اور دیگر فرقہ وارانہ تعصب کی بنیاد پر ان کی شکست کی اسٹریٹیجی بهی تهی۔

ان تجربات کی روشنی میں یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ انتخابات جیتنے کے لئے  شعلہ بیانی اور آر ایس ایس کا بهوت اور بهاجپا  کا ڈر دیکهانا کافی نہیں ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close