سیاستہندوستان

مراٹھا۔مسلم ریزرویشن: ایک سراب

مرزاعبدالقیوم ندوی

مہاراشٹر میں مراہٹہ ریزورویشن کو لے کر مراہٹہ سماج کی طرف سے زبردست پر تشدد احتجاج جاری ہے، اس کے باوجود کہ معاملہ کورٹ میں زیرلتوا ہے۔ ریاستی وزیر دیویندرفرنڈویس کے اس اعلان کے باوجود کہ ہم امسال جونوکر بھرتی کرنے جارہے ہیں اس میں مراہٹہ سماج کو16%کے لیے سیٹیں مختص رکھی گئی ہیں کا کوئی اثر نہیں ہورہاہے۔ گزشتہ دنوں اورنگ آباد کے قریب کائے گاؤں پل سے ایک مراہٹہ نوجوان کی ریزرویشن کے لیے خودکشی نے جلتی پرتیل کاکام کیا اور پورے مہاراشٹر میں اس واقعہ کے بعد پرتشدد بند منایاگیا۔ اب دیکھنایہ ہے کہ اس کا کیا اثر حکومت پر ہوتاہے۔

مہاراشٹر کی گانگریس حکومت نے 2014میں جاتے جاتے مراہٹہ مسلم ریزرویشن کابل ریاستی اسمبلی جس انداز سے پاس کیا اس کی نوعیت و حیثیت کیاہے جس جانتے ہیں۔ اس وقتمراہٹوں کے ساتھ مسلمانوں کو بھی ریزرویشن دیا گیا تھا، اس پر ریاست مہاراشٹر کے حزب مخالف لیڈرایکناتھ کھڑسے نے کیا خوب بات کہی تھی کہ ’’مراہٹوں کے ریزرویشن میں مسلمانو ں کا ریزرویشن ٹھوس دیاگیا، دوسرے کئی ہندولیڈروں اور کٹر ہندوتنظیموں کے بیانات بھی شائع ہوئے کہ ’’ہم مسلمانوں کو ریزرویشن نہیں دینے دیں گے ‘‘ان کی باتوں میں د م ہے، وہ اس طرح کہ قانون اعتبارسے مسلمانوں کو دیئے گئے ریزرویشن کی کوئی حیثیت نہیں۔ یہ بات صحیح ہے کہ ریاستوں کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں، چنانچہ حکومت مہاراشٹر نے دفعہ 15/4اور 16/4کے تحت اس ریزرویشن کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ قانون یہ ہے کہ ملک میں 50%سے زیادہ ریزرویشن نہیں دیاجاسکتا، یہ سپریم کورٹ کی ہدایت ہے۔ مہاراشٹر میں پہلے ہی سے 52%ریزرویشن نافذہے، اب یہ73% ہوگیا اور قوی امکان ہے، یہ سپریم کورٹ میں رد ہوجائے گا۔ ؟

85%مسلمان اوبی سی میں شامل ہیں۔ بڑے تعجب کی بات ہے کہ جس ریزورویشن کے لیے ملک کی طاقتور جماعتیں جس شدت اور طاقت کے ساتھ ملک کی مختلف ریاستوں میں اپنی ذات و برادری کے لیے مطالبہ کررہی ہیں جن میں مہاراشٹر میں مراہٹہ، گجرات میں پاٹیدار، ہریانہ میں جاٹ اور راجستھان میں گجریعنی OBCمیں انہیں شامل کیاجائے یاعلیحدہ ان کے لیے ریزوریشن مختص کیاجائے۔ وہ سہولت ملک کے 85%مسلم آبادی کو حاصل ہے، یعنی مسلمانوں کی۸۵فیصد آبادی میں او بی سی و دیگر پسماندہ زمرے میں شامل ہیں، جس کاہمیں یا تو علم نہیں ہے یا اس کا خاطر خواہ فائدہ اٹھانے سے ہم قاصر ہیں۔

  مسلم ریزرویشن کی بنیاد تین ستونوں پر قائم ہے، مہاراشٹر کے وزیر اعلی نے کہا کہ ہم نے مسلمانوں کو ریزرویشن، رنگاتھن مشرا کمیشن، جسٹس راجندر سچر کمیٹی اور محمود الرحمن کمیٹی، ان تینوں کی سفارشات کی بنیاد پر دیا ہے۔ یہ ستون نہایت ہی کمزور ہے۔ ہمارے بھائی لوگ بھی خوش فہمی مبتلا ہیں کہ ان تینوں کی سفارشات کے بعد تو مسلمانوں کو ریزرویشن ملنا ہی چائیے۔ ان تینوں کی سفارشات کاہم ذر اتجزیہ کرتے ہیں۔ سب سے پہلی بات جو دھیا ن میں رکھنی ہے وہ یہ کہ ان تینوں کی قانونی حیثیت کیا ہے۔ ہمارے لیڈروں کوتو جانے دیجئے بہت سارے لکھے پڑھے مسلم بھائیوں کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ، بھارت میں کمیٹی اور کمیشن کی سفارشات کی حیثیت کیا ہوتی ہے۔ کانگریس نے 2004نے اپنے اعلامیہ میں کہا تھا ہم الیکشن جیتنے کے بعد مسلمانو ں کو ریزرویشن دیں گے۔ جس کے لیے انہوں نے جسٹس راجندرسچر کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی۔ دس سال تک اقتدار میں رہنے کے باوجود مسلمانوں کو کیا دیا؟دس سالوں تک انہیں مسلمانوں کے مسائل کی یا دکیوں نہیں آئی۔ ادھرمہاراشٹر میں کانگریس بھی 15سال سے اقتدار میں ہے۔ ان سالوں میں کیوں کوئی ٹھوس فیصلہ مسلمانوں کے بارے میں نہیں کیا گیا، جبکہ مسلمان پورے تن من دھن سے کانگریس کے ساتھ رہے ہیں، کانگریس نے سوائے وعدوں کے مسلمانوں کیادیا۔ ؟رنگاناتھن مشرا نے اقلیتوں کے لیے 15%ریزرویشن کی سفارش کی تھی۔ کانگریس نے مشرا کی سفارشات کو کیوں نہیں روبعمل لایا۔

        ہم بات کررہے ہیں، تین ستونوں کی جس پرسارے ریزرویشن کی بنیاد کھڑی ہے۔ (۱)جسٹس رنگاناتھن مشرا کمیشن حکومت نے قائم کیا، جسٹس مشرا صاحب نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے مسلمانوں کے تمام مسائل کواپنی رپورٹ میں پیش کیا، ( طوالت کی بناپر یہاں اس کی تفصیلات نہیں دی جارہی ہے) مگرواہ رے کانگریس!! دس سال میں مشرا کمیشن کی رپورٹ کو پارلیامنٹ میں بحث کے لیے تک نہیں رکھا۔ جبکہ آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن کے روح رواں شبیر احمد انصاری نے ہرسال دہلی میں تمام مسلم ممبر ان پارلیامنٹ کو جمع کرکے اور مشرا کمیشن کی سفارشات کو اردو، ہندی میں ترجمہ کرکے ان ممبران کودیا، انہوں نے وزیر اعظم اور سونیا گاندھی کوہر سال مشرا کمیشن کی سفارشات کو پارلیامنٹ میں بحث میں لانے کے کہا، مگر ایسا نہیں ہوا، دس سال تک کانگریس مسلمانوں کو بے وقوف بناتی رہی۔ قانونی اعتبار سے جب تک کمیشن کی رپورٹ پرپارلیامنٹ میں بحث نہیں ہوتی اس وقت تک اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ چنانچہ آج جسٹس رنگاناتھن مشرا کمیشن کی رپورٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی(ہاں اگر اس کو ا ب بھی پارلیامنٹ میں بحث کے لیے رکھا جاتاہے تو اس کی حیثیت رہے گی۔ مگر ا ب بی جے پی ْحکومت سے یہ توقع رکھنا عبث ہے)یہ ایک ستون تھا جس کا حال ہم نے آپ کے سامنے بیان کیا۔ (۲)ہم بات کرتے ہیں جسٹس راجندر سچر کمیٹی کی، یادر ہے کہ کمیٹی صرف سفارشات پیش کرسکتی ہے اور سفارشات کو ماننا کوئی ضروری نہیں ہے، نہ یہ رپورٹ پارلیامنٹ میں پیش کی گئی اور نہ اس پر پارلیامنٹ میں کوئی بحث ہوئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ وزیر اعلظم کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی تھی، اس میں سابقہ چیف جسٹس بھی تھے اور آئی پی ایس آفسران بھی تھے مگر اس پر بھی بحث نہیں ہوئی۔ (۳) محمود الرحمن کمیٹی تو مسلمانوں کے ساتھ بھونڈا مذاق تھا۔ یہ ملک میں قائم ہوئیں تمام کمیٹیوں میں سے سب سے ہٹ کر کمیٹی تھی جس کے دفتر کا آج تک پتہ نہیں چل سکا، یہ بھی سناگیا کہ جو گاڑی کمیٹی کے چیئر مین کو دی گئی تھی اس کا کرایہ بھی کئی دنوں تک ادانہیں کیاگیا۔ کوئی بھی کمیٹی جب بنائی جاتی ہے تو اس کا کام یہ ہوتاہے کہ وہ تمام مسائل پر غور خوض کرے، جس سماج یا برادری کے لیے اس کا قیام عمل میں آیا ہے، لوگوں سے جاکر ملاقات کرے، شہروں میں جاکر وہاں کی این جی اوز، فلاحی، سماجی تنظیموں سے رابطہ قائم کرکے ان سے مسائل طلب کریں، ان سے مسائل معلوم کرے۔ مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ چنانچہ جب کورٹ میں ان کمیٹیوں کی سفارشات کو بنیاد بنایاجائے گاتو ان کی کوئی بھی قانونی حیثیت نہیں ہوگی، رہی سفارشات کی تو قبول کر نا یا نہیں کرنا یہ کورٹ کا اپنا اختیار ہوگا۔

مسلمانوں کا یہ کہنا کہ کچھ نہیں سے کچھ تو سہی :اس بات میں کوئی دم نہیں، ارے بھائی کچھ بھی نہیں ملنے والاہے۔ جب کورٹ کی پہلی ہی پیشی میں خارج ہوجائے گا تو کہاں کچھ ملنے والا ہے۔ ٹھیک یہ مان لیتے ہیں کہ حکومت اس کو اور اچھی طرح پوری تیاری کے ساتھ پیش کرے گی۔ کانگریس کے پاس دن کتنے رہ گئے ہیں، کل ملا کر 60دن کی حکومت ہے، اس میں ان کو فیصلہ کرنا ہے۔ اب کوئی سیشن بھی نہیں چلنے والا کہ اس پر بحث ہوسکے۔ ریاستی پسماندہ طبقات کمیشن کو بھی اپنی رپورٹ دینا باقی ہے۔ اس کے لیے بھی مدت درکار ہو گی۔

مراہٹہ کو بھی ریزرویشن نہیں ملنے والا ؟:مراہٹہ سماج کو بھی بہت زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ جن مسائل کا سامنا مسلمانوں کو ہے ان ہی مسائل کا سامنا مراہٹوں کو بھی ہے۔ مسلمانوں کے لیے تو سچر کمیٹی بنائی گئی تھی جس کوپارلیامنٹ کے خصوصی اختیار ات حاصل تھے، اسی طرح جسٹس رنگاناتھن مشرا کمیشن بھی بنایا گیا تھا، جس کی بھی قانونی حیثیت ہے، اسی طرح محمود الرحمن کمیٹی بھی بنائی گئی جو کہ آئی اے ایس آفسر ہیں۔ لیکن مراہٹہ کو صرف نارائن رانے کی ماتحتی میں ایک کمیٹی بنا دی گئی، جبکہ اس کمیٹی نے پورے مہاراشٹرکا دورہ کیا، لاکھوں لوگوں سے ملاقات کی، ان سے ان کے مسائل دریافت کیے، مراہٹوں کی سیاسی، سماجی، فلاحی تنظیموں میں اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مہاراشٹر میں مرہٹوں کی صورتحال سے ہر میٹنگ میں کمیٹی کو آگاہ کیا۔ ان سب کے باوجود اس کمیٹی کو کوئی قانونی درجہ حاصل نہیں تھا۔ وہ اس لیے کہ کمیٹی کا چیئر مین کسی سیاسی پارٹی کا رہنما اور موجودہ حکومت میں وزیر بھی ہے، دوسرے جس سماج کے معاشی، تعلیمی، سیاسی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ان کو چئیرمین بنایاگیا ہے ان کا تعلق بھی اسی سماج سے ہے۔ اس لیے ان کی سفارشات بہت زیادہ کور ٹ میں دم مارنے والی نہیں ہے۔ قانون کے حسا ب سے اس طرح کی رپورٹیں پیش کرنے کے لیے جو کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں ان میں کسی ریٹائرڈ جج یا آئی ا ے ایس آفسر کا ہونا لازمی ہوتاہے، اس کو ریاستی پسماندہ طبقاتی کمیشن کی منظوری بھی ضروری ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہی اس رپورٹ کو بحث کے لیے ایوان میں رکھا جاتاہے۔ مذکورہ بالا باتوں میں سے نارائن رانے کمیٹی کے معاملہ میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔ اس لیے یہ ریزرویشن بھی بہت دیر دم نہیں مار پائے گا۔

        مراہٹہ ریزرویشن کے خلاف ہائی کورٹ میں جورئیٹپشین  داخل کی گئی ہے اورجودلائل دیئے گئے ہیں اس سے تو لگتاہے کہ مراہٹوں کو ریزرویشن ملنا مشکل ہی  ہوگا۔ ممبئی کے ایک صحافی کیتن تیروڈ کر نے عدالت کے علم میں یہ باتیں لائی ہیں کہ۔ (۱)موجودہ اور سابقہ وزیر اعلی میں 99%مراہٹہ سماج سے تھے۔ (۲)اس سماج کے ڈی وی پاٹل، پتنگ راؤ کدم انہوں نے تعلیم کے نام پرحکومت سے ہزاروں ایکڑ زمینات حاصل کی ہیں۔ (۳) ریاست کے جملہ شوگر فیکٹریوں میں سے 85%کے مالکانہ حقوق یاتصرف مراہٹہ سما ج کے پاس ہے۔ (۴)ریاست کی جملہ ارضیات میں سے 75%مراہٹوں کے پاس ہے۔ (۵)ریاستی اسمبلی میں ابھی تک کے 2000ممبران اسمبلی میں سے تقریباََ1200ممبران مراہٹہ سماج سے تھے۔ (۶)پسماندہ یاپھردیگر پسماندہ کے ریزرویشن میں سے ایک بھی ریزرویشن زبان کی بنیادپر نہیں ہے۔ (۷)مراہٹہ یہ پسماندہ ذات ہے کہنا مطلب اس سماج میں پیداہوئے بڑے آدمیوں کی توہین کرنا ہے۔ (۸)اس برادری کو پسماندہ کہنا مطلب بھارت کے شہریوں کو دھوکہ دینا ہے، اس کے ساتھ ہی دستور کی بھی خلاف ورزی ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئیے کہ اگر مراہٹوں کا ریزرویشن ختم ہوا تو مسلمانوں کا خود بخود ختم ہوجائے گا۔ مراہٹہ بھی یہ چائیں گے کہ ہمارا ریزرویشن ختم نہ ہو اور مسلمانوں کو بھی ملے۔

 او بی سی اور دیگرزمرے میں شامل  مسلم برادریاں

تڑوی (ST)۔ نگارچی(ST )۔ نگارچی(ST )۔ نائیکواڑے(VJ)پاتھروٹ (VJ)ٹکاری (VJ)پاتھاروت (VJ)سنگتراس، دگڈپھوڈ(VJ)سلات(VJ )چھپر بند (VJ )بازیگر (obc) بھانڈ(obc) بہشتی، پکھالی (سقہ) (obc) بھڑبھونجا(obc) دھولی، ہاشمی ڈفالی (obc)گونڈی، گوجر، کاڈیا(obc)جوہری (obc) جولہا، انصاری (obc)۔ کاپڈی(obc)کنبھار، کمہار(obc)کچی(obc)کاسار(obc)لداف، نداف، منصوری (obc)مینا(obc)سلمانی، حجّام، حجام(obc)نکاشی (obc) دھوبی(obc) پٹویگر، پٹویکری (obc)پھولاری(obc)رنگاری(obc)رنگریز(obc)سائس سپیرہ ادریسی، درزی (obc)سونار (obc)تنڈیل، تامبٹ، بڑھئی، سوتار(obc)پنجاری، پنجارا۔ تیلی۔ باغوان، راعین۔ باورچی، بھٹیارہ۔ مومن انصاری۔ فقیر، بندر والا۔ تامبولی، پان فروش (obc)عطار(obc)قصائی، کساب، قریشی (obc)کٹی پامولا(obc)سیلاوت (obc)گھانچی (obc)منیار، بانگڑی والا مانیری (obc)مسلم کھاٹک (obc)مسلم دھاوڈ۔ مسلم چتر کار، ہرداس۔ گوجر۔ مسلم مچھی مار، ڈالٹی، بھالدارپنڈھاری مسلم، مہت، ماہت، ماہاوت، مسلم فقیر، لودھی، نالبند، مجاو، مولانا، ملانی، ملانے۔ مسلم کھاکر  یہ سبھی برادریاں او بی سی میں شامل ہیں۔ 2بیلدار (NT)سانپ گاروڈی (NT)سیکل گر، شیکلگر (NT)بھوئی، کاہار، ناواڈی، چھینگابھوئی (NT)بہروپیہ، (NT)گڈریا (NT)مسلم مداری، گاروڈی، سانپ والاجادوگر (NT)بحریا، ایرانی، بھارتیہ ایرانی (NT)درویش، واگھوالے، اسولوالے (NT)لوہار  (NT)۔

ریزرویشن پانے والی برادریاں، جماعتیں، فرقے، مسلک، خاندان

 کانگریس نے جلد بازی میں مسلمانوں کے لیے جس05%ریزرویشن کا اعلان کیا تھا اس میں مذکورہ بالا ذات برادریوں اور جتنے بھی نام مسلمانوں میں آتے ہیں ان کوشامل کرلیاتھا۔ جس کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہیں : دھوبی مسلم، دھوبی مسلم، مسلم دھوبی مسلمان گراڈی مسلم، نائی مسلم، ناویدناویک، شیخ، ناویک، شیخ، شیک، مغل مغل، سید پٹھا ن، خان، قادری، پیرزادے مولوی۔ مولانا، خاکروب۔ فراش، مرزا، بیگ، احمد ی، نقشبندی۔ ، مچھی مار۔ مسلم، تانڈیل مسلم، پٹوا مسلم، کاغذی مسلم۔ کاگدی مسلم، ، قاضی، ٹاکنکر، چشتی، مسلم شاہ، مسلم پٹیل فاروقی،۔ صدیقی، مالوی، میر، حکیم، ملا۔ ملاجی، موری، ملانی، جمادار، مقادم، نقوی، رضوی، حسین۔ حسینی، کاملی۔ قاسمی، مہندی، حیدری، علوی۔ عالوی، عثمانی، نوری، رحمانی، محمدی، چاؤش۔ فقیہ، صوفیوارثی۔ اشرفی، شطاری۔ ستاری مسلم، خواجہ (اجمیری، بغدادی، مدنی، مکی ترکی)

   مسلمانوں کو ریزرویشن !

یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ مسلمانوں کو ریزرویشن دیا گیا ہے۔ بظاہرایسا باور کرایا جاتا ہے کہ ملک میں مذہب کے نام پر ریزرویشن نہیں دیا جاتاہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برخلاف ہے، ایک مثال دیتا ہوں، ہندو قصائی (کھاٹک ) کو ایس ٹی کا درجہ حاصل ہے، جبکہ مسلم قصائی کو یہ سہولت حاصل نہیں ہے، دوسری طرف کوئی شیڈول کاسٹ کا فرد مذہب تبدیل کرتا ہے، مثال کے طورپرمسلمان بنتا ہے تو اس سے وہ سہولت چھین لی جاتی ہے۔ ا گر وہی شخص بدھ مت قبول کرتا ہے تو اس کو تمام سہولتیں حاصل رہتی ہیں۔

آل انڈیامسلم او بی سی آرگنائزیشن کے قائد شبیر احمدانصاری ہمیشہ کہتے ہیں کہ اس ملک میں مسلمانوں کو مذہب کے نام پرریزرویشن نہیں مل سکتا۔ اگر لیناہی ہے تو اس کے لیے دستورمیں ترمیم یا اضافہ کرناہوگا۔ اور یہ ممکن نہیں، کیونکہ وہ پارٹی جس مسلمانوں کے بل بوتے پراقتدارکامزہ چکھتی رہی ہے، اس نے پارلیامنٹ کے دونوں میں ایوانو ں میں اکثریت حاصل ہوتے ہوئے بھیمسلمانوں کو ریزرویشن نہیں دیا۔ جو باتیں کرنے کی تھی وہ تو نہیں کی، اب جبکہ ریاست مہاراشٹرمیں الیکشن قریب ہے تو مسلمانوں کی فکر ستانے لگی ہے۔ ہم  پوچھتے ہیں کہ گزشتہ پندرہ سالوں سے آپ کوریزوریشن دینے سے کس نے منع کیا تھا۔

حکومت مہاراشٹرمسلمانوں کو سراسر گمراہ کررہی ہے، وہ ایک طرف یہ کہہ رہی ہے کہ ہم نے مسلمانوں کو مذہب کے نام پر ریزرویشن نہیں دیا ہے، بلکہ پسماندگی بنیاد پر دیاہے۔ اس کے لیے حکومت نے Creamy Layerکی قید لگائی ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ مسلمانوں میں ایک طبقہ مالدار ہے، ان کوریزرویشن کی سہولت نہیں ملنی چائیے۔ creamy layer کی جو بنیادی شر ط لگائی گئی ہے، اس میں مسلمانوں کو جھوٹے، حلف نامے دینا پڑیں گے۔ ہر کوئی غریب بننے کی کوشش کریگا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ، جن برادریوں، خاندانوں، مسلکوں کو اس میں شامل کیاگیا ہے، کیا حکومت کے پاس اس کی کوئی فہرست ہے، جس طرح کی فہرست یا ریکارڈ، او بی سی میں شامل برادریوں کا ملتا ہے۔ مثال کے طورپررحمانی، نوری، فقیہ، فراش، خاکروب، قاسمی، شطاری وغیرہ وغیرہ۔ یہ ایسے القاب ہیں  لوگوں نے بعدمیں اپنے ناموں کے آگے لگالیاہے۔ ان ناموں کا سرکاری دفاتر، تعلیمی اسناد میں کوئی ریکارڈنہیں ملتا (الاماشاء اللہ ) ان لوگوں کو ریزرویشن کی سہولت حاصل کرنے کے لیے مذکورہ عہد ہ، القاب کا اضافہ، اپنے اسناد میں کرنا پڑے گا، جو کہ بہت مشکل کام ہے،۔ آل انڈیا مسلم او بی سی کے ذمہ داران گزشتہ کئی دہائیوں سے کاسٹ سرٹیفکیٹ نکالنے میں مصروف ہیں، انہیں پتہ ہے کہ اپنی برادری ثابت کرنے کے لیے کتنی تکالیف پیش آتی ہیں۔ کل ملاکر یہ بات سامنے آتی ہے کہ حکومت کی نیت مسلمانوں کوریزرویشن دینے کی نہیں ہے بلکہ اسمبلی انتخابات مد نظر مسلمانوں بہلاناہے اور یہ باور کرانا ہے کہ اب کی بار بھی ہم کو چن کر دو ہم دوبارہ منتخب ہونے کے بعد باقی مانندہ خامیاں دور کریں گے۔ !!!

 آخری بات: بڑے تعجب کی بات ہے کہ جس ریزورویشن کے لیے ملک کی طاقتور جماعتیں جس شدت اور طاقت کے ساتھ ملک کی مختلف ریاستوں میں اپنی ذات و برادری کے لیے مطالبہ کررہی ہیں جن میں مہاراشٹر میں مراہٹہ، گجرات میں پاٹیدار، ہریانہ میں جاٹ اور راجستھان میں گجریعنی OBCمیں انہیں شامل کیاجائے یاعلیحدہ ان کے لیے ریزوریشن مختص کیاجائے۔ وہ سہولت ملک کے 85%مسلم آبادی کو حاصل ہے، یعنی مسلمانوں کی۸۵فیصد آبادی میں او بی سی و دیگر پسماندہ زمرے میں شامل ہیں، جس کاہمیں یا تو علم نہیں ہے یا اس کا خاطر خواہ فائدہ اٹھانے سے ہم قاصر ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مرزا عبدالقیوم ندوی

قومی ترجمان آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close