سیاستہندوستان

مسئلہ بھگوان رام کا نہیں، ووٹ کا ہے

حفیظ نعمانی

بابری مسجد رام مندر تنازعہ کے بارے میں سپریم کورٹ کے اقدام پر آر ایس ایس کی طرف سے ایک غیرذمہ دارانہ بیان یہ آیا کہ اگر حق ملکیت کے بارے میں سپریم کورٹ نے فوراً فیصلہ نہیں کیا تو وہ 1992 ء جیسی تحریک چلائیں گے۔ 1992 ء میں جو غنڈہ گردی ہوئی اسے تحریک کا نام دینا اس کا مذاق اُڑانا ہے۔ انتہائی مستحکم عمارتیں گرانا اور جو اس پر دُکھ اور رنج کا اظہار کرے اسے قتل کردینا دُکانیں لوٹنا آگ لگانا اگر تحریک ہے تو پھر غنڈہ گردی کیا ہے؟

اس مقدمہ کا دوسرا فریق مسلمان ہے۔ سنی وقف بورڈ، جمعیۃ علماء ہند اور مسلم پرسنل لاء بورڈ اسے عدالت کے ذریعہ حل کرانا چاہتے ہیں دو نومبر سے پانچ نومبر تک آر ایس ایس کے بھیاجی آر ایس ایس کی تین روزہ میٹنگ امت شاہ اور موہن بھاگوت کی ایک گھنٹہ کی گفتگو تین ہزار سادھو سنتوں اور دھرمی اکھاڑوں کے علاوہ سنگھ کے سربراہ بھاگوت کا یہ کہنا کہ حکومت یا بل لائے یا آرڈی نینس کے ذریعے مسجد کی زمین پر رام مندر بنانے کی ابتدا کرنے کی اجازت دے دے۔

اس پورے شور اور ہنگامہ کے باوجود مسلمانوں کی طرف سے کسی نے زبان نہیں کھولی صرف پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی نے انقلاب سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اب 1992 ء جیسی تحریک پھر چلائی گئی تو خراب نتیجے ہوں گے۔ انہوں نے صرف یہ مشورہ دیا ہے کہ جب عدالت میں کوئی مقدمہ ہے تو اس کے فیصلہ کا انتظار کرنا چاہئے۔ اور یہ عدالت بہتر سمجھتی ہے کہ وہ اس پر اپنا فیصلہ کب سنائے گی؟

ہندو لیڈروں اور تنظیموں کے ذمہ داروں کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان میں جیسی حکومت اب ہے نہ اس سے پہلے کبھی تھی اور نہ آئندہ کبھی بن سکے گی۔ اوپر سے نیچے تک اُن ہندوؤں کے ہاتھ میں ہے جو دستور کو بھی مجبوراً مانتے ہیں اور سیکولرازم کا صاف انکار کرتے ہیں۔ ملک کے صدر وہ ہیں جن کے بارے میں چھپ چکا ہے کہ وہ گورنر اور صدر بننے سے پہلے ان وزیراعظم کو جب وہ صرف نریندر مودی تھے اپنی سائیکل کے کیریئر پر بٹھاکر گھمایا کرتے تھے۔ نائب صدر وہ ہیں جو صرف مودی جی کی وجہ سے نائب صدر بنے ہیں چیف الیکشن کمشنر اور ریزرو بینک کے گورنر مودی کے اپنے خاص بندے ہیں اور وزیر قانون وہ ہیں جو وزیراعظم کی طرف آنے والے تیروں کو اپنے سینے پر لے لیتے ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود وہ نہیں ہورہا جو ہندو مانگ رہے ہیں اور وہ ہورہا ہے جو مسلمان چاہتے ہیں اور بولتے بھی نہیں۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جن کے بارے میں عام شہرت تھی کہ وہ وزیراعظم کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور ریٹائرہونے سے پہلے پہلے اس زمین کا فیصلہ ان کے حق میں کرجائیں گے۔ ان کے طریق کار سے گھٹن محسوس کرنے والے چار ججوں نے وہ کیا جو تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ پریس کانفرنس بلاکر صاف صاف کہہ دیا کہ سپریم کورٹ مین سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور یہاں تک کہہ دیا کہ انتہائی اہم معاملات جونیئر ججوں کی بینچ بناکر ان کے سپرد کردیئے جاتے ہیں جس کے ذریعہ یہ اشارہ دینا تھا کہ ان سے اپنی مرضی کے فیصلے کرالیتے ہیں اور اپنے ہاتھ گندے نہیں ہونے دیتے۔ اس پریس کانفرنس کے بعد وہ اتنا ڈر گئے کہ مسجد اور مندر کے بارے میں صاف صاف کہہ دیا کہ وہ صرف یہ دیکھیں گے کہ زمین کا مالک کون ہے؟ یہ فیصلہ آستھا اور عقیدے کی بنیاد پر نہیں ہوگا۔ اور وہ دونوں کے ثبوت دیکھ چکے تھے اور ثبوتوں کی بنیاد پر وہ جو فیصلہ کرتے تو شاید منھ نہیں دکھا سکتے تھے اس لئے وہ آنے والے چیف کے لئے سر کا درد بناکر چھوڑ گئے۔

اس مقدمہ کی ابتدائی تاریخوں میں ایک دن کانگریس کے اہم لیڈر اور ممتاز ایڈوکیٹ کپل سبل نے کہا تھا کہ اچھا یہ ہے کہ اس مقدمہ کا فیصلہ 2019 ء کے الیکشن کے بعد کیا جائے۔ ان کے ان جملوں سے طوفان آگیا اور اسے کانگریس کا بیان بنایا گیا۔ کانگریس نے کہا کہ اس مقدمہ میں ہم فریق نہیں ہیں۔ کپل سبل صاحب نے کہا کہ میں سنی وقف بورڈ کا وکیل ہوں پھر بھی کانگریس نے ان سے کہا کہ آپ اس مقدمہ سے اپنے کو الگ کرلیجئے اور وہ اس کے بعد سامنے نہیں آئے۔ حکومت اس مقدمے کو اپنے حق میں کراکے الیکشن میں ہندو ووٹ لینا چاہتی ہے اور کانگریس چاہتی ہے کہ اس کا فائدہ کسی کو نہ ہو۔ اب جسٹس گوگوئی نے جو جنوری کی تاریخ بینچ بنانے کی دے دی اس سے آر ایس ایس اور جتنے سادھو سنت جو اپنی حکومت چاہتے ہیں وہ شور مچا رہے ہیں کہ اگر مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوتا تو زمین اپنی ہو یا نہ ہو قبضہ کرلو اسے ذہن میں رکھنا چاہئے کہ جہاں 6 دسمبر 1992 ء تک ایک عالیشان مسجد تھی جسے دیکھنے والے کروڑوں مسلمان اور ہندو موجود ہیں یہ زمین اس کی ہے یا سب اس مندر کی جسے موجود ہندوؤں کے باپ دادا پردادا نگردادا لکڑدادا اور ان سے بھی پہلے کسی نے دیکھا ہو یا کسی کے پاس اس کا کوئی فوٹو ہو۔ اس کے باوجود اگر بل لایا جاتا ہے یا آرڈی نینس کے بارے میں سوچا جاتا ہے تو یہ رام بھکتی نہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون ہے جو صرف الیکشن میں ووٹ کے لئے کیا جائے گا۔ اور جب حکومت چلانے والے یہ فیصلہ کرلیں کہ اب حکومت نہیں جانے دیں گے وہ قلم سے رُکے یا لاٹھی سے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close