سیاست

مستحکم سرکار کے لیے مضبوط اپوزیشن

اترپردیش الیکشن کے بالکل خلاف توقع نتائج کے آنے کے بعد تین مخالف پارٹیاں ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس میں صرف بی ایس پی کی سربراہ مس مایاوتی نے تو ضرور پوری آواز سے پہلے دن ہی مشینوں پر اس ہار کی ذمہ داری ڈالی۔ لیکن اکھلیش یادو ایک ذمہ دار لیڈر کی طرح خاموش رہے۔ بس انھوں نے اتنا کہا کہ مس مایاوتی جب ا تنا سنگین الزام لگا رہی ہیں تو اس کی جانچ ہونا چاہیے۔ حالاں کہ وہ بھی سمجھ رہے ہیں کہ الیکشن میں صرف ووٹ نہیں پڑے بلکہ شرارت بھی ہوئی ہے۔ اور وہ اس لیے سمجھ رہے ہیں کہ انھوں نے اکیلے دم پر الیکشن لڑا تھا اور ہر سیٹ کا حال انہیں معلوم تھا۔

ہم جو لکھنؤ میں بیٹھے ہیں اور جتنے بھی روڈ شو ہوئے ان کوصرف ٹی وی پر دیکھا اور یہ دیکھا کہ اکھلیش اور راہل کا ہر روڈ شو امت شاہ کے روڈ شو سے بڑھ کر تھا اور نوجو ان تو ٹوٹ کر ان دونوں کے روڈ شو میں شریک تھا۔ ا کھلیش یادو کو یہ کیسے ہضم ہوسکتا ہے کہ اسے نوجوانوں نے دھوکہ دیا؟ اور اگرد ھوکہ دیا تو وہ کون سی مجبوری یا لالچ تھی جس کی وجہ سے ا نھوں نے جوش تو دکھایا اور ووٹ نہیں دیا؟ان سب باتوں کے بعد بھی انھوں نے خاموش رہ کر ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی عمر سے بہت زیادہ تجربہ کار ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی ماں کی موت کے بعد وہ اکیلے رہ گئے اور جو کچھ بھی وہ بنے اپنے بل پر بنے۔باپ شری ملائم سنگھ بے سرو سامانی کے ہوتے ہوئے سیاست میں لگے تھے اور اکھلیش کے بقول کہ میں نے تو اپنا نام بھی خود رکھا ہے۔

جو بچہ بیساکھیوں اور سہاروں کی مدد کے بغیر آگے بڑھتا ہے وہ ا پنی ظاہری عمر سے بہت بڑا ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے پورے ملک میں شور ہونے اور الیکشن کمشنر کے اس اعلان کے بعد بھی کہ وہ حزب مخالف کی تمام پارٹیوں کے ساتھ مشینوں کی کارکردگی پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں، اکھلیش بابو کا کوئی ردّ عمل نہیں آیا حالاں کہ وہ بھی یہ جان چکے ہیں کہ اترپردیش میں زبردست بے ایمانی ہوئی ہے اور اگر ایمانداری سے الیکشن ہوتا تو ممکن تھا کہ وہ دو سو سیٹیں نہ لا پاتے یہ بھی نہ ہوتا کہ وہ0 15سے کم سیٹیں لاتے۔

اکھلیش جانتے ہیں کہ ہندوستان میں بی جے پی کی حکومت ہے،اس لیے یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ الیکشن دوبارہ کرائے جائیں۔ اس لیے دیواروں سے سر پھوڑ نے کے بجائے ملک میں طاقتور اپوزیشن بنانے پر سب کو آمادہ کیا جائے۔ انھوں نے یہ مہم شروع کردی ہے اور ۱۰؍ اپریل کو انھوں نے دہلی میں اپنے والد اور بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، شرد پوار، پرفل پٹیل، بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے ملاقات کی۔اکھلیش یادو کے پاس اب وقت کی کمی نہیں ہے اور وہ بی جے پی کے علاوہ ہر کسی کی نظر میں بے داغ ہیں۔ جو لوگ منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے کہہ رہے ہیں کہ جو اپنے باپ کا نہیں ہوا وہ کسی کا کیا ہوگا۔ وہ سب دشمن ہیں اور جاہل ہیں۔ بات جب ۲۲؍ کروڑ انسانوں کی آجاتی ہے تو جو یہ دیکھے کہ باپ کے لیے یہ کروں اور بیٹے کے لیے یہ کروں، وہ سیاسی نہیں عیاشی تعلقہ دار ہوتا ہے۔

سیاست میں آنے کے بعد باپ کو احترام تو پورا ملنا چاہیے جو اکھلیش نے ہر موقع پر دیا لیکن جب یہ یقین ہوجائے کہ باپ اپنی زبان سے دوسروں کی بولی بول رہے ہیں تو وہی کرنا چاہیے جو انھوں نے کیا۔ صرف اکھلیش یادو ہی نہیں سب دیکھ رہے تھے کہ ملائم سنگھ امر سنگھ اورکمزور دماغ کے شیو پال کی بولی بول رہے ہیں۔ یہ کب اکھلیش نے کہا کہ حکومت میرے باپ نے نہیں دی؟ لیکن پانچ سال حکومت کرکے اسے یہ بھی تو دکھانا تھا کہ وہ ایک اچھا وزیر اعلیٰ ثابت ہوا۔ یہ اس لیے ثابت کرنا تھا کہ اس کے سامنے لمبی زندگی ہے وہ اگر باپ کے اشاروں پر ناچتا تو کل کون اسے برابر بٹھا کر معلوم کرتا کہ آپ کی کیا رائے ہے؟

بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ “ہنوز دلی دور است‘‘ ابھی دلّی دور ہے۔ اکھلیش یادو نے دلّی کو لکھنؤ سے اتنا قریب کردیا کہ میرے بیٹے، بہو اور پوتا اپنی گاڑی سے قیصر باغ سے پونے دس بجے نکلے اور جامعہ ملیہ دہلی میں اپنے چھوٹے بھائی کے مکان پر پہنچ کر ٹھیک پونے تین بجے فون کیا کہ ہم مامون کے دروازہ پر کھڑے ہیں۔ لکھنؤ سے دہلی نہیں بلکہ لکھنؤکے اپنے گھر سے دہلی میں اپنے بھائی کے گھر صرف۵ گھنٹے میں پہنچ جانا جس نے اتنا آسان کردیا ہواس کی تعریف نہ کرنا نا انصافی ہے۔ جبکہ ا پنے گھر سے دہلی میں بھائی کے گھر ۵ گھنٹے میں ہوائی جہاز سے بھی نہیں پہنچ سکتے تھے۔

اکھلیش یا دو سے نہ ہماری ملاقات ہے،نہ تعارف اور نہ ہمارا ان کی پارٹی سے کوئی رشتہ۔ لیکن ہم نے یہ محسوس کیا کہ ان کے ا ندر صلاحیت ہے اوروہ ملک کے ا ہم لوگوں میں گنے جائیں گے۔ ہمارا مشاہدہ اورتجربہ یہ ہے کہ جب کوئی پارٹی یا پارٹیوں کا محاذ بنانا ہو تو ہمیشہ اپنے کوپیچھے رکھنا چاہیے۔ دماغ میں یہ خیال کہ ایک مہا گٹھ بندھن بنایا جائے اور اس کا کنوینر مجھے بنایا جائے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ گٹھ بندھن میں بھیڑ کے بجائے وہ لوگ ہونے چاہئیں جو بھٹی میں تپے ہوئے ہوں۔ کانگریس کے راہل گاندھی کو اس لیے ساتھ رکھناچاہیے کہ وہ ا یک نیشنل ٹیم کے کپتان ہیں اورمایاوتی کو اس شرط کے ساتھ شامل کرنا چاہیے کہ وہ صرف دلت مورچہ سنبھالیں۔ان کے علاوہ ملک کے سب سے بڑے سیکولر لالو یادو،نتیش کمار، ممتا بنرجی، اروند کجریوال، کیرالا کی مسلم لیگ کا کوئی لیڈر اور تمل نا ڈو کی جے للتا کی پارٹی کا کوئی سنجیدہ لیڈر اور سی پی ایم کے یچوری کو ساتھ لے کر ایک چھوٹا محاذ بنایا جائے۔ پھر اس میں جسے شامل کہا جائے اس کی پہلی شرط یہ ہوکہ عہدہ کی بات نہ کرو۔ بات صرف2019کے ا لیکشن کی نہیں ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ جتنی مضبوط حکومت ہو اتنا ہی مستحکم اپوزیشن ہو۔

نئی حکومت نے بھی وہی کیا جو ہر حکومت کہتی رہی ہے کہ ہمیں خزانہ خالی ملا اور ہر طرف سے پھٹا ہوا ڈھانچہ۔ اکھلیش نے جو کام اہم سمجھ کر کیے ان پر اعتراض ہے کہ اس سے غریب کو کیا فائدہ؟ یہ تو قدرتی بات ہے کہ جو حکومت کرے گا وہ اپنے نزدیک جو اہم کام ہیں وہ کرے گا بے شک یہ اعتراض کی بات ہے کہ کسان کو شکر مل سے اس کے گنے کی قیمت اسی وقت یا ایک ہفتہ کے بعد کیوں نہیں ملتی اور برسوں سے کیوں بقایا ہے؟ یوگی حکومت نے جو فیصلہ کیا ہے اس سے کسانوں کو نئی زندگی مل جائے گی۔ وہ ایک لاکھ تک کا قرض پہلے ہی معاف کرچکے ہیں۔ اب آلو جو کسان کا بوجھ بن گیا ہے اسے خریدنے کا بھی حکومت نے فیصلہ کرلیا۔ یہ فیصلے اب کسان کو بی جے پی کی طرف جانے سے نہیں روک سکتے۔ لیکن یوگی سرکار کو ان اعلانات کو بھی دیکھنا چاہیے جو تین برس میں مودی جی نے کیے اور کسان کو شکایت ہے کہ ان سے انہیں کوئی فا ئدہ نہیں ہوا۔ وہ صرف اس لیے کہ زمین کا سب کچھ تحصیلدار سے لے کر لیکھ پال تک کے پاس ہوتا ہے اور ان سے بڑا بے رحم کوئی نہیں ہوتا۔ یہ فیصلہ کہ فصل کا نقصان ۳۳ فیصدی ہوا ہے یا ۳۰ فیصدی اسے نہ وزیر اعظم ناپیں گے نہ وزیر اعلیٰ وہ ان کارندوں پر بھروسہ کریں گے۔ اور یہ اس کے ہیں جو رشوت دے دے اگر ان کا علاج نہیں ہوا تو وہی ہوگا جو ہر حکومت میں ہوا کہ ہر انعام بڑے کسانوں کو اور ہر سزا چھوٹے کسانوں کو۔

موبائل نمبر:9984247500

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close