سیاست

مسلمانوں کیلئے ایسا وقت کبھی نہیں آیا

حفیظ نعمانی

وزیراعظم نے اندازہ کرلیا ہے کہ 2019  ء میں ان کو جو میدان ملے گا وہ پانچ سال پہلے والا نہیں ہوگا۔ اترپردیش جہاں سے وہ 73  سیٹیں لے گئے تھے اب شاید ان کو 20  سیٹیں بھی نہ دے سکے گا خبروں کے مطابق اکھلیش یادو نے بی ایس پی سربراہ مس مایاوتی سے جو سمجھوتہ پھول پور اور گورکھ پور کے بارے میں کیا تھا وہ اب پورے اترپردیش میں نافذ رہے گا بس اتنا فرق ہوگا کہ کانگریس، لوک دل اور نشاد پارٹی کو بھی ان کی محبت کا انعام دیا جائے گا۔ معلوم ہوا ہے کہ مس مایاوتی کو پورے ملک میں صبر و ضبط سے کام لینے کے لئے بزرگ لیڈر شرد پوار نے آمادہ کرلیا ہے۔ اترپردیش کے لئے سب سے اچھا فارمولہ تو یہ ہوتا کہ 2014 ء میں جن سیٹوں پر ایس پی اور بی ایس پی کا مقابلہ ہوا ان میں جس سیٹ پر جسے زیادہ ووٹ ملے وہ سیٹ اسے دے دی جاتی۔ لیکن مودی جی نے مایاوتی کو اترپردیش میں 30  سیٹیں اور کامیاب ہونے کے بعد وزیراعظم کی کرسی دکھا دی تھی تو وہ اُڑنے لگی تھیں۔

اب اترپردیش کے باہر ممتا بنرجی نے مورچہ سنبھال لیا ہے وہ دہلی میں تمام لیڈروں سے بات کررہی ہیں انہوں نے تو اڈوانی جی سے بھی ملاقات کرلی اور وہ مودی اقتدار کو ختم کرنے کیلئے ایسے ہی سر سے کفن باندھ کر نکلی ہیں جیسے انہوں نے بنگال میں 35  برس کی موٹی جڑوں والی بائیں بازو کی حکومت کو اُکھاڑنے کے لئے باندھا تھا۔ ممتا بنرجی اس وقت اکیلی ایسی لیڈر ہیں جو مسلمانوں کے لئے لڑرہی ہیں۔ انہوں نے اپنا پہلا الیکشن جیت کر صاف الفاظ میں اعتراف کیا تھا کہ مجھے عورتوں اور مسلمانوں نے کامیاب کرایا ہے۔ اور اس کے بعد انہوں نے بنگال میں مسلمانوں کو وہی محبت دی جو جیوتی بسو نے دی تھی وزیراعظم اب تک اکیلے بنگال پر حملہ کرتے تھے اور ناکام ہوکر آجاتے تھے اب انہوں نے بنگال، آسام اور انتخابی میدان امت شاہ کے سپرد کردیا ہے۔ امت شاہ کی جو شہرت ہے وہ چھپی نہیں ہے ان کی کوشش یہ ہوگی کہ الیکشن کے آتے آتے ماحول میں اتنا زہر بھردیں کہ ہندو اور مسلمان ایک بس میں ایک سڑک پر ساتھ ساتھ نہ چل سکیں۔

اس الیکشن میں سب سے زیادہ ذمہ داری مسلمانوں پر ہوگی انہیں ایجنٹوں کے ذریعے ہندوئوں سے اتنا متنفر کیا جائے گا کہ وہ کیسا ہی ہو مسلمان اُمیدوار کو ووٹ دیں اور اس کے لئے حکومت خزانہ خالی کردے گی لیکن مسلمانوں کو قسم کھانا چاہئے کہ وہ سیاسی پارٹی کے مسلمان امیدوار کے علاوہ کسی خانہ ساز مسلم پارٹی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ ہم کسی کا نام نہیں لیتے لیکن امت شاہ ایسے مسلمان لیڈر کو نوٹوں میں تول دیں گے جو مسلمانوں کے ووٹ کاٹے اور کہے کہ وہ دلت اور مسلم قوم کا لیڈر ہے۔ اترپردیش میں صرف ایس پی، بی ایس پی، کانگریس اور لوک دل کے امیدواروں کو مسلمان ووٹ دیں اسی طرح مس ممتا بنرجی دوسرے صوبوں میں جن پارٹیوں کے ساتھ محاذ بنائیں وہاں کے مسلمان ان کو ووٹ دیں۔ مسلمان ممتا بنرجی کو اپنی سگی بہن سمجھیں اور ان کی بات کو حرفِ آخر مانیں۔

2019ء کا الیکشن اس الیکشن سے بھی زیادہ اہم ہے جو 1946 ء میں ہوا تھا اور جس کے بعد ملک تقسیم ہوا تھا۔ مسلم لیگ نے مسلمانوں کو ہندو سے الگ کرلیا تھا۔ ہر مسلمان کی دُکان پر بورڈ ٹانگ دیا تھا کہ

زندگی عزت کی مسلم ہند میں چاہے اگر

تو یہ لازم ہے کہ سودا جب بھی لے مسلم سے لے

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندو نے مسلمانوں کی دُکانوں کا بائیکاٹ کردیا آج بھی جو لوگ مسلم امیدوار اور مسلم ووٹ کی بات کرتے ہیں یہ اسی ذہنیت کے مسلمان ہیں۔ اور یہ نہیں سوچتے کہ ہندوستان میں اگر ہندو مسلم الگ الگ ہوگئے تو مسلمانوں کا کتنا بڑا نقصان ہوگا؟

بنگال میں ہندو اور مسلمان کمیونسٹ پارٹی کے زمانہ سے ایک دوسرے کے بھائی کی طرح رہ رہے ہیں انہوں نے بائیں بازو کو چھوڑا تو اس کا تعلق مذہب سے نہیں تھا بلکہ وہ کمیونسٹ جو غریب کی آواز ہوا کرتے تھے وہ سرمایہ داروں کے ایجنٹ ہوگئے تھے۔ غریب کسانوں کی زمین اونے پونے معاوضہ پر لے کر ٹاٹا کو دے دی کہ سستی کار نینو بنائیں گے۔ کار مہنگی ہو یا سستی وہ غریب کے لئے آسمان کا تارا ہے۔ ممتا بنرجی نام کی دھان پان سی ایک لڑکی نے غریبوں کی آواز بن کر حکومت کو للکارا کہ سستی کار بنے یا ہوائی جہاز غریب کے لئے اس کی زمین ہی سب کچھ ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ وہ کمیونسٹ جو غریبوں کی آواز ہوا کرتے تھے انہوں نے ٹاٹا جیسے سرمایہ دار کے لئے غریبوں کو مارا اور زبردستی ان سے ان کی زمین لے لی۔

ممتا بنرجی کو نہ کسی پارٹی کی حمایت حاصل تھی اور نہ وہ کسی راجہ مہاراجہ کے خاندان کی شہزادی یا راج کماری تھیں وہ ایک ایسے گھر کی لڑکی تھیں جن کی چھت کھپریل کی تھی اور دوسری بار وزیراعلیٰ بننے کے بعد بھی سنا ہے وہی چھت ہے۔ ممتا نے سرسے کفن باندھا اور وہ بے زبان غریبوں کی زبان اور آواز بن گئیں۔ پورے بنگال میں انہیں جہاں سے بھی رونے کی آواز آئی وہ ہوا کی طرح وہاں گئیں اور حکومت سے ٹکر لی۔ ان کی برسوں کی محنت رنگ لائی اور وہ کمیونسٹوں کو ہرانے میں کامیاب ہوگئیں۔ پچھلے الیکشن میں کمیونسٹ اور کانگریس دونوں نے مل کر مقابلہ کیا اور دونوں ذلیل ہوئے۔

اب ممتا کا مقابلہ مودی جی کررہے ہیں ان کے پاس ایک ہی ہتھیار ہے وہ ہندو مسلمان اور گرم ہندو اور نرم ہندو کے درمیان دیوار کھڑی کریں ممتا بنرجی بھی ہندو ہیں اور نریندر مودی اور امت شاہ سے زیادہ اچھی ہندو ہیں جو ایک دوسرے کو محبت کا سبق پڑھا رہی ہیں۔ مودی جی نے اب تک جو کیا اس کا حاصل چند جھگڑے اور دنگے ہیں بس وہ جو بنگال کو فتح کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے اسے ممتا جیسی دھان پان نے تار تار کردیا۔ اب انہوں نے بنگال کا مورچہ امت شاہ کے سپرد کیا ہے جنہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ پارلیمنٹ میں سینہ پر ہاتھ مار مارکر اپنے کو ہمت والا بتانا گنوار ہونے کی دلیل ہے۔ وہ شوق سے بنگال آئیں لیکن یہ سمجھ کے نہ آئیں کہ ممتا بنرجی بھی عشرت اور کوثر جیسی عورت ہوگی۔ ممتا نے امت شاہ سے زیادہ موٹے تازے کمیونسٹوں کو مسل کر پھینک دیا اور ٹاٹا کو نینو میں بٹھاکر گجرات بھیج دیا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close