سیاست

مسلمان ہیں، تو کیا مار ڈالو گے؟ (تیسری قسط)

یہ سوال پورے ہندوستان کا سوال ہے۔

مشرّف عالم ذوقی

٢٠١٨ کے ہجومی تشدد میں مارے جانے والے صرف مسلمان ہیں۔ اتر پردیش، راجستھان، جھارکھنڈ جیسی تمام ہندی ریاستوں میں تشدد اور ہلاکت کی واردات کو اگر مرکز کی ہمدردی حاصل نہ ہوتی تو یہ حادثے نہ ہوتے۔ آج بھی مودی، امت شاہ، راج ناتھ سنگھ کی آنکھوں میں ان حادثوں کے لئے کہیں کویی ہمدردی نظر نہیں آتی۔ بیان دینا مجبوری ہے، اس لئے کبھی کبھی ایسی ہلاکتوں کے خلاف مرکز کی طرف سے بیان جاری بھی ہوتا ہے تو ایسے بیانات میں نہ ملک کا درد شامل ہوتا ہے نہ کویی بھروسہ دلانے کی بات کہی جاتی ہے۔ ۔بلکہ بیشتر بیانات احمقانہ اور مودی کے ظالم انڈیا کی ترجمانی کر رہے ہوتے ہیں۔ ۔ادھر دو باتیں خاص ہوئیں جس پر ابھی میڈیا کی نظر نہیں گیی ہے۔ آر بی آیی کے گورنر ارجیت پٹیل نے پچھلے دو بیانات میں مرکز کی خبر لی ہے۔ ایک بیان نوٹ بندی پر بھی آیا تھا۔ کیا ارجیت پٹیل خوفزدہ ہیں کہ ٢٠١٩ میں نیی حکومت آیی تو انکو کون بچاہے گا ؟ دلی کے لیفٹنینٹ گورنر سے حقوق چھیننے والافیصلہ سپریم جج دیپک مشرا کی بنچ کا تھا۔ ہجومی تشدد پر قانون لانے کا بیان بھی دیپک مشرا کا ہے جنکے اب تک تمام فیصلے مودی کے حق میں ہوتے تھے۔ تو کیا دیپک مشرا کو بھی اندازہ ہو چکا ہے کہ مودی حکومت گیی تو انکا کیا ہوگا ؟وہ ریٹائر ہونے والے ہیں اور اب کسی بھی طرح کے دباؤ سے بچنا چاہتے ہیں۔ ۔

مودی کے لئے سب سے بڑی مصیبت ہندوتو کو لے کر پیدا ہوئی ہے۔ پہلی بار مودی کی دیش بھکتی اور ہندوتو پر خطرہ منڈرا رہا ہے۔ یہ کہا جانے لگا ہے کہ ملک کے ہندو خوش ہیں مگر ملک کے ہندو اور مودی کے ہندوؤں میں فرق ہے۔ ممتا بنرجی کی پارٹی کے دنیش چترویدی نے راماین اور مہابھارت سے مثال دے کر بتایا کہ مودی ہندوؤں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ممتا بنرجی، مایا وتی، اکھلیش یہاں تک کہ کا نگریسی خیمے نے بھی آر ایس ایس اور مودی کے ہندوتو کو بری طرح خارج کیا۔ مودی کے پاس سے اگر ہندوتو کا منتر چلا گیا تو انکا سیاسی کاروبار ہی ختم ہو جایئگا۔ اس سے پہلے سوامی اگنویش بھی یہ الزام لگا چکے ہیں کہ جمہوری ملک کے کسی پرائم منسٹر کا کام مندر کے پٹ کھلوانا اور پوجا پاٹھ نہیں ہے۔ ۔ان چار برسوں میں بابا کمپیوٹر اور یوگی آدتیہ ناتھ جیسے مسخروں نے ہندو مذھب کا مذاق بنا ڈالا، ملک کا ہندو اب ان باتوں کو سمجھنے لگا ہے۔

مسٹر گاندھی، ہندوستان کی اصل ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ہم اس ملک کے عوام کو مذھب کی افیم دینا بند کر دینگے۔ ۔آپ کے لوگ کبھی کبھی آپکو نرم ہندوتو کی دنیا میں لے جاتے ہیں۔ ذرا غور کیجئے مسٹر گاندھی، جب پہلے سے ہی گرم ہندوتو موجود ہے تو کویی ہندو آپکا نرم ہندوتو لے کر کیا کرے گا ؟ اس لئے کانگریس کے پرانے سکلیرزم کے اصول پر ہی چلنا کانگرس کے لئے مفید ہے۔

راجستھان کے الور میں اکبر خان کو بھگوا ہجوم کے ساتھ پولیس نے مار ڈالا۔ یہ ہندوستان کی پولیس ہے، جس پر اب مسلمانوں کو کویی بھروسہ نہیں رہا۔ آزادی کے بعد کی تاریخ گواہ ہے کہ پولیس ایسے ہر موقع پر مسلمانوں کا تحفظ کم ہلاکت کی ذمہ دار زیادہ ثابت ہوئی ہے۔ یہ بھی ایک سوال ہے مسٹر گاندھی کہ پولیس کے اندر مسلمانوں کو لے کرتشدد کی حد تک نفرت کا زہر کیوں بھرا گیا ؟کس نے بھرا ؟ پولیس مسلمانوں سے ہمیشہ انتقام کیوں لیتی ہے ؟ آپ کو مسٹر گاندھی اس سوال کا جواب بھی تلاش کرنا ہے۔ جس طرح الور میں پہلو خان کا قتل کیا گیا، اس سے زیادہ بھیانک طریقے سے اکبر کو موت کے گھات اتارا گیا۔ اور اکبر کے قتل میں سب سے بھیانک کردار پولیس کا تھا۔ اب اکبر کی نوجوان بیوہ مودی سے ایک سوال کر رہی ہے کہ مسلمان ہیں تو کیا مار ڈالو گے ؟اکبر کی بیوہ بیچاری کیا جانے کہ ہم کسی ڈیجیٹل انڈیا میں نہیں بلکہ مودی کے ابھینو بھارت میں جی رہے ہیں، جہاں وہ مسلمانوں کو دیکھنا نہیں چاہتے۔ ۔

گجرات ٢٠٠٢ سے ملک کا اقتدار سنبمالنے تک مودی کو کبھی منشی پریم چند کی کہانی پنچ پرمیشور کی یاد نہیں آیی کہ ذمہ دار تخت پر بیٹھے ہوئے شخص کو انتقام کی جگہ انصاف سے کام لینا ہوتا ہے۔ ۔جسنے گودھرا کے شک میں گجرات کے مسلمانوں کو زندہ جلا دیا، اس سے انصاف کی امید رکھنا ہی فضول تھا۔ ۔مسٹر گاندھی، اس وقت جب تمام سیاسی پارپارٹیوں کو مسلمانوں کا نام لینا تک گوارا نہیں، کیا آپ مسلمانوں کے ساتھ انصاف کر ینگے۔ ؟ عام آدمی پارٹی کے اروند کیجریوال بھی دلی کی حکومت سنبھالنے سے قبل اس وقت خوفزدہ ہو گئے تھے جب انکے حق میں امام بخاری نے بیان دیا تھا، اور اروند کو ڈر محسوس ہوا کہ کہیں مسلمان کا نام انکے ہندو ووٹ بینک کی قبر نہ کھود دے۔ ۔تا حال کیجریوال مسلمانوں کے تعلّق سے بولنے میں پرہیز کرتے رہیں ہیں۔ جبکہ انکے کھاتے میں مسلمانوں کا سو فی صد ووٹ آیا۔ بی جے پی کے ہندوتو کے ڈرامے کے بعد کانگریس بھی مسلمانوں سے پلّہ جھاڑتی رہی۔ یہ کانگریس کی سب سے بڑی بھول تھی کیونکہ بیس سے بائیس فی صد مسلمانوں کے یکمشت ووٹ پر کسی زمانے میں کانگرسس کا ہی حق تھا۔ ۔مسٹر گاندھی، یہ سوال بھی اپنے لوگوں سے کیجئے کہ مسلمانوں کا ووٹ آخر منتشر کیوں ہوا ؟ آپ کے لوگوں نے آپکو یہ تو سمجھا دیا کہ مسلمانوں کا نام لینے سے شکست یقینی ہے لیکن یہ کیوں نہیں بتایا کہ کانگریس کی جیت کے پیچھے بھی مسلمان رہے ہیں ؟

مسٹر راہل، عدم اعتماد کی ووٹنگ کے موقع پر آپکی تقریر میں بھی ہجومی تشدد کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ اکبر خان کی موت پر اپنے ٹویٹ کیا اور مودی کے ہندوتو پر سوالیہ نشان لگاہے۔ ۔لیکن اب معاملہ ٹویٹ کرنے اور بیان بازی سے آگے نکل چکا ہے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ کانگریس اب تک مسلمانوں کے تعلق سے صرف بیان بازی کرتی آیی ہے۔ ملک کے تیس کروڑ مسلمان اگر اب آپ میں امید کی کرن دیکھتے ہیں تو یقین کیجئے، اس کے پیچھے محض مودی کے ظالم انڈیا یا اکبر خان کی طرح مار دیے جانے کا خوف نہیں ہے۔ اس لئے ایک سوال اور ہے۔ ۔۔کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جھکے ہوئے، حاشیے پر ڈالے گئے مسلمانوں کے پاس کانگریس کے علاوہ کویی دوسرا آپشن نہیں ہے ؟غور کیجئے تو آر جے ڈی، سماج وادی، بہو جن سماج اور دیگر سیکولر پارٹیوں میں مسلمانوں نے اپنا آپشن تلاش کر لیا۔ اس لئے اس خوش فہمی سے الگ اقلیتوں اور مسلمانوں کے لئے کچھ ٹھوس تجاویز پر عمل کرنے کا وقت آ چکا ہے۔ ۔کچھ فیصلہ اپنی سیاسی بصیرت سے کیجئے۔

یہ کانگریس کی خام خیالی تھی اور اسی لئے مسلمانوں کا ووٹ بینک نہ صرف منتشر ہوا بلکہ زیادہ تر ریاستوں میں کانگریس کہیں تیسرے کہیں چوتھے نمبر کی پارٹی بنتی گیی۔ یہاں تک کہ کانگریس کا اپنا ووٹ بینک بھی اس درمیاں متاثر ہوا۔
مسٹر گاندھی، آپ اس بات سے انکار نہیں کرینگے کہ ملک کے ہر چھوٹے بڑے انتخاب میں جیت اور ہار کے فیصلے کے درمیان مسلمانوں کا مضبوط ووٹ بینک بھی ہوتا ہے۔۔ مسلمان اس ملک کی دوسری بڑی اکثریت ہیں۔ لیکن مسلمانوں کو آزادی کے بعد سے ہی انکا حق کبھی نہیں ملا۔ کانگریس چاہتی تو یہ حق مسلمانوں کو مل سکتا تھا۔ ۔، مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مسلمان اگر سب سے زیادہ کسی سے ناراض تھے، تو وہ کانگریس کی حکومت تھی۔ ۔اور اب کہیں امید نظر آ رہی ہے تو وہ بھی کانگریس کی حکومت ہے۔ سیاسی تجربات نے مسلمانوں کی بھی آنکھیں کھولی ہیں۔ اسلئے اگر آپ مسلمانوں کے حق کی بات کرتے ہیں تو ان پر کویی احسان نہیں کرینگے بلکہ اپنے  مسلم ووٹ بینک کو دوبارہ مضبوط کرینگے۔ اور ایسا کرنے سے آپکی پارٹی مسلمانوں کی پارٹی نہیں ہو جاےگی۔ ۔

یہ کیسا ملک ہے جہاں کویی مسلمان اگر گائے پالتا ہے تو بھگوا طالبانی اسے جان سے مار دیتے ہیں۔ ستر فی صد کسانوں کا ملک جہاں مسلمانوں کی بھی بڑی آبادی زراعت پر منحصر ہے اور کھیتی باڑی کر کے گاہے بھینس رکھ کر اپنا گزارا کرتی ہے۔ ۔راجستھان میں مسلم دشمن وسندھرا راجے سندھیا کی حکومت ہے۔ مسلمانوں کی ہلاکت کے واقعات سب سے زیادہ راجستھان میں ہی ہوئے ہیں۔ الور میں جس بستی میں پہلو خان رہتے تھے، وہاں ہزار سے زیادہ گاییں تھیں۔ ۔اب مسلمان گاہے سے خوفزدہ ہیں۔ مودی کے ملک میں گاہے کی حفاظت کی جا رہی ہے اور مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ ۔جنید، پہلو خان، اکبر خان جیسے کتنے ہی معصوم بے گناہ مسلمانوں کو بھگوا طالبانی ہلاک کر دیتے ہیں۔ ۔ اسبھگوا طالبانی انڈیا کو بدلنا آسان نہیں ہو گا۔ کیونکہ ان پانچ برسوں میں ہر محکمے، ہر ایجنسی میں آر ایس ایس کے لوگ بیٹھ چکے ہیں۔ ان سے لڑنا آسان نہیں ہوگا۔ ۔چیلنجز ہزار ہیں۔ دیگر پارٹیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانا کسی ٹیڑھی کھیر سے کم نہیں۔ ابھی یہ منزل دور ہے مسٹر گاندھی۔ ۔لیکن ملک کے وقار اور اقلیتوں کے تحفظ کے لئے آپکو اپنے دل کی بات سننی ہوگی۔ ۔ محبت سے نفرت مٹے گی، کہنے سے کام نہیں چلیگا۔ عملی طور پر یہ کر کے دکھانا ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مشرف عالم ذوقی

ڈاکٹر مشرف عالم ذوقی اردو کے معروف نقاد، ادیب اور فکشن نگار ہیں۔ موصوف کم و بیش تین درجن کتابوں کے مصنف ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close