سیاستہندوستان

مسلم رائے دہندگان اور کرناٹک الیکشن

مسلمانوں کی تعلیم، اقتصادی ترقی، روزگار سماجی و معاشرتی دشواریوں اور بہبود کو لے کر کبھی کسی نے بات نہیں کی۔ سوائے ہندو، مسلم کو ایک دوسرے کا ڈر دکھا کر ووٹ بٹورنے کے۔

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

مسلمان اور دلت کرناٹک کی انتخابی چرچا سے ندارد ہیں۔ ویسے مسلمانوں کا ذکر 2014 اور اس کے بعد ہونے والے انتخابات سے پہلے، لو جہاد، پدماوت، گائے، بچے زیادہ ہونے، گوشت کھانے یا پھر پڑوسی ملک بھیجے جانے کے حوالے سے ضرور ہوا۔ شاید انتخابی شگون کے طور پر یا متروں کو یہ بتانے کے لئے کہ کس طرح الیکشن کو بنیادی سوالوں سے دور رکھنا ہے۔ کرناٹک میں بھی سلطان کے نام کے ذریعہ اس کی کوشش ہوئی لیکن مسلمانوں کی سمجھ اور سرکار کی سوجھ بوجھ سے شر پسند اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے۔ عجیب لگتا ہے کہ مسلمانوں کی تعلیم، اقتصادی ترقی، روزگار سماجی و معاشرتی دشواریوں اور بہبود کو لے کر کبھی کسی نے بات نہیں کی۔ سوائے ہندو، مسلم کو ایک دوسرے کا ڈر دکھا کر ووٹ بٹورنے کے۔ دلتوں کے ساتھ بھی ایسا ہی رویہ روا ہے۔

کرناٹک کی سیاست لنگایت، ووکالیگا کے ارد گرد گھوم رہی ہے۔ جبکہ ریاست میں مسلمانوں کی آبادی 12.5 اور دلت 24 فیصد ہیں ۔ 2013 میں 12 مسلم ممبران اسمبلی میں پہنچے تھے۔ ان میں سے دس کانگریس کے اور دو کو جے ڈی ایس کے ٹکٹ پر کامیابی ملی تھی۔ ریاست کی65 سیٹیں ایسی ہیں جن پر ہار جیت کا فیصلہ مسلم ووٹوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اسی طرح کرناٹک میں ایس سی 36 اور ایس ٹی کے لئے 15 سیٹیں مخصوص ہیں اور اس سے زیادہ سیٹوں پر ان کے ووٹ الیکشن کے نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ لنگایت اور ووکالیگا طبقہ کے لوگ کل آبادی کا 25۔ 27 بتائے جاتے تھے، لیکن اب معلوم نہیں یہ تعداد گھٹ کر 17.65 فیصد کیسے ہو گئی؟ 2018 کے شروع میں کرناٹک حکومت نے ذات کی بنیاد پر مردم شماری کرائی، اس ڈاٹا کے لیک ہونے پر لنگایت 59 لاکھ بتائے گئے، جو کرناٹک کی کل آبادی کے 9.65 فیصد ہوئے۔ اور ووکالیگا 8.01فیصد۔ لیکن دلچسپ یہ ہے کہ 224 نشستوں والی کرناٹک اسمبلی میں دونوں ذاتوں کے 103 ایم ایل اے ہیں ۔ لنگایت کے 50 اور ووکالیگا کے 53۔ شاید اسی لئے سیدھا رمیا نے لنگایت کی پرانی مانگ کو مان کر اسمبلی کے ذریعہ انہیں ہندوتوا سے الگ مزہب ہونے کی منظوری دے دی۔ لنگایت سماج کے مزہبی مراکز کی سب سے بڑی سبھا ‘فورم فار لنگایت مہادھی پتی’ کی صدر ماتے مہادیوی نے کہا کہ جس نے ہماری مانگ کی حمایت کی ہے ہم اس کی حمایت کریں گے۔

رہا سوال ووکالیگا کا تو وہ بھگوان شیو میں آستھا رکھتے ہیں ۔ بی جے پی کے سیاسی منصوبہ سازوں نے انہیں اپنی طرف کرنے کے لئے یوگی ادتیہ ناتھ کو میدان میں اتارا۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ ناتھ طبقہ میں ان کی بڑی عزت ہے اور کرناٹک میں ناتھ طبقہ کے 80 مٹھ ہیں ۔ یوگی ان مٹھوں کے ذریعہ ووکالیگا ووٹ جھٹکنے میں کامیاب ہوں گے۔ جنوبی کرناٹک اور اڈپی ووکالیگا کا گڑھ ہے اور دیوی گوڈا ان کے لیڈر۔ سوال یہ ہے کہ کیا ووکالیگا ناتھ مٹھوں کے کہنے پر آنکھ بند کرکے بی جے پی کو ووٹ دیں گے؟ وہ یہ نہیں پوچھیں گے کہ ان کی ترقی میں مرکز نے کہا ان کی ان دیکھی کی۔ اپنی پارٹی جے ڈی ایس کو چھوڑ کر بی جے پی کو ووٹ کیوں دیں گے؟ بھاجپا دیوی گوڈا اور کمار سوامی سے اختلاف رکھنے والوں کی مدد سے اس ووٹ بنک میں سیندھ لگانا چاہتی ہے۔ اس کے لئے وہ ایس ایم کرشنا پر بھروسہ کر رہی ہے جو کانگریس چھوڑ کر مارچ 2017 میں بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں ۔

بھاجپا کا کرناٹک کے ساحلی علاقے میں ہندوتوا، نفرت کا ایجنڈہ نہیں چل پا رہا ہے۔ وہاں فلم اداکار پرکاش راج کی تنظیم جسٹ آسکنگ فاونڈیشن کے ساتھ بڑی تعداد میں جو ان جڑے ہیں جو روزگار، مزہبی نفرت، مرکزی حکومت کی چارسالہ کارکردگی اور بی جے پی کے وعدوں پر سوال پوچھنے لگے ہیں ۔ وہ اننت کمار کے دستور بدلنے، مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کی سیاست کا مزاک اڑارہے ہیں ۔ انہیں بھاجپا کے کئی اونٹ پٹانگ بیان دینے والے نیتاؤں کی باتیں ناگوار گزر رہی ہیں ۔ اگر پرکاش راج کی کوشش اسی طرح جاری رہی تو نوجوانوں کو دنگوں وغیرہ کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ سب سے زیادہ دلت ممبر پارلیمنٹ اس نے دئے ہیں لیکن وہ کرناٹک الیکشن میں نظر نہیں آرہے۔ بلکہ یہ ممبران پارلیمنٹ اپنی ہی پارٹی کی یو پی حکومت پر سوال داغ رہے ہیں ۔ جن کی بازگشت کرناٹک انتخاب میں سنائی دے رہی ہے۔ اوپر سے دلتوں کے نئے لیڈر جگنیش میواڑی شہر اور گاؤں میں گھوم کر بھاجپا کا کھیل بگاڑ رہے ہیں ۔ ویسے بھی کرناٹک کے دلت بی جے پی کے رویہ سے نالاں ہیں خاص طور سے گوری لنکیش کے قتل کے بعد۔ اپنوں کے بدکنے کی وجہ سے ہی بھاجپا نے سیاسی اخلاقیات کی ساری حدیں پار کر دیں ۔ وزیر اعظم نریندرمودی نے تو اپنے عہدے، شبیہ کا بھی خیال نہیں رکھا۔ انہوں نے سدھارمیا کے نام کی پیروڈی کرتے ہوئے ‘سیدھا روپیہ سرکار’ کہا۔اسی طرح کانگریس کی ریاستی سرکار کا دس پرسینٹ کی سرکار کہہ کر مزاک اڑایا۔ بنگلور ملک کے صاف ستھرے شہروں میں گنا جاتا ہے۔ یہاں 800 کے قریب پارک ہیں اسے وزیر اعظم نے کوڑے دان سے تعبیر کرکے بنگلور کے باشندوں کی طوہین کی۔ بی جے پی کے وزیر اعلیٰ کے امید وار یدیو رہا نے پارٹی کارکنوں سے کہا کہ یہ آرام کرنے کا وقت نہیں جو ووٹ ڈالنے نہ آئیں ان کے ہاتھ پیر باندھ کر لائیں اور ووٹ ڈلوائیں ۔ کرناٹک میں سیاست کا جوا بڑی بے شرمی سے کھیلا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن بھیشم پتامہ یا دھرت راشٹر کی طرح بے بس بیٹھا دیکھ رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے الیکشن نہیں کورو سبھا چل رہی ہے۔

سینئر صحافی مقبول احمد سراج نے بی جے پی کی جارحانہ انتخابی مہم کے بارے م?ں معلوم کرنے پر بتایا کہ چناوی ریلی میں نریندرمودی کی تقریر کو سن کر ایسا نہیں لگتا کہ ملک کا وزیر اعظم بول رہا ہو، وہ ایک بھاجپائی کارکن کی طرح کانگریس پر حملہ بولتے ہیں ۔ اس میں زبان اور جمہوری اقدار کا بھی دھیان نہیں رکھا جاتا۔ ان کی تقریر میں سب کچھ ہڑپنے کی خواہش جھلکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کوئی بھی ان کی تقریر لکھتا ہے اس کے من میں جمہوریت کے لئے کو ئی عزت نہیں ہے۔ مودی جی کی ملک کے تئیں سنجیدگی پر سپریم کورٹ نے سوال اٹھایا ہے۔ مسلم، دلت ووٹوں کے تعلق سے سراج صاحب نے بتایا کہ ان کے ووٹوں کو اپنی طرف کرنے یا پھر بانٹ کر برباد کرنے کے لئے آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیم مسلم راشٹریہ منچ کے کارکن بڑی تعداد میں کام کر رہے ہیں ۔ مودی شاہ کی جوڑی کرناٹک میں کتنی اثر انداز ہوگی اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرناٹک کے لوگوں نے اس طرح کی زبانی جنگ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ یہاں کے لوگ پڑھے لکھے ہیں اور چیزوں کو سمجھتے ہیں وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ موجودہ حکومت میں کیا کام ہوئے ہیں اور یدیو رپا کی سرکار میں انہیں کن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ موجودہ حکومت نے غریب لوگوں کے لئے جو سرکاری کینٹین بنائے ہیں ان میں پانچ روپے میں ناشتہ اور دس روپے میں صاف ستھرا کھانا کھایا جا سکتا ہے۔ ان بھاگیہ اسکیم میں غریبوں کو مفت میں چاول دیا جاتا ہے۔ اسکول کے بچوں کو دودھ، کھانا اور زچہ خواتین کو پوسٹک کھانے اور ایس سی ایس ٹی کے لوگوں کے لئے پی ڈبلیو ڈی ٹینڈر ریزرویشن کئے جانے کا بھی ذکر کیا۔ بی جے پی کے سیٹیں بڑھنے کی بات انہوں نے بھی مانی۔ جبکہ الیکشن کور کر رہے سینئر صحافی اعظم شاہد نے کہا کہ کرناٹک میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرے گی۔

کرناٹک الیکشن میں بھلے ہی مسلمان کنارے کر دئے گئے ہوں لیکن ان کے ووٹوں کی اہمیت مسلم ہے۔ 2013 کے انتخاب میں مشترکہ طور پر مسلمانوں نے کانگریس کو ووٹ کیا تھا۔ مسلمان موجودہ الیکشن میں کیا سوچ رہے ہیں اس بارے بات کرتے ہوئے مسلم متحدہ محاذ کے جنرل سیکرٹری محمد اقبال نے بتایا کہ ریاست کے مسلمان چھوٹی پارٹیوں کے جھانسے میں آکر اپنے ووٹ برباد نہیں کریں گے۔ ڈاکٹر نویرا شیخ مہیلا امپاورمنٹ پارٹی کے ذریعہ بانٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ عام رائے ہے کہ چھوٹی پارٹیوں کو ووٹ دینے کا مطلب ہے بی جے پی کو فائیدہ پہنچانا۔ متحدہ محاذ نے 224 سیٹوں میں سے 202 پر کانگریس، 16 پر جے ڈی ایس، ایک پر رائتا سنگھا اور دو دو سیٹوں پر ایس ڈی پی آئی، ویلفیر پارٹی آف انڈیا کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ 12 مئی کو ووٹ ڈالے جائیں  گے اور 15 کو نتیجہ آئے گا۔ اسی سے معلوم ہوگا کہ کرناٹک کے لوگوں نے سمجھداری کا ثبوت دیا یا پھر جزبات اور وعدوں میں بہہ کر ووٹ کیا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close