مسلم راشٹریہ منج اور نظریہ ٔ قربانی

مولانا محمد غیاث الدین حسامی

 عید الاضحی سے تین دن پہلے 30؍ اگسٹ 2017ء بروز چہارشنبہ کٹرمسلم مخالف جماعت آر یس یس سے ملحقہ تنظیم مسلم راشٹریہ منج (ایم آر ایم) کے یوپی کنوینر سید حسن گوثر نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک نیا شوشہ چھوڑتےہوئے شرپھیلانے کی کوشش کی ہے، موصوف نے کہا کہ بقر عین کے دنوں میں جانورں کی قربانی تین طلاق کی طرح ایک غلط عادت ہے، عوام کو چاہئےکہ اس دن قربانی کا بائیکاٹ کریں، نیز موصوف نے غیرت و حمیت کے تمام حدود پار کرتے ہوئے یہ بھی کہہ دیاکہ قربانی مذہب اسلام میں حرام ہے، اگر قربانی دینا چاہتےہیں تو خراب عادتوں کو ترک کریں اور ایک علامتی بکری کا کیک کاٹیں ۔

 سب سے پہلے تو ہم یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ یہ موصوف کی ناواقفیت ہے یا اسلام کی مخالفت پر جرأت، اگر یہ ناواقفیت ہے تو سوائے افسوس کے اور کچھ نہیں کیا جاسکتا، اور اگر یہ مذہب ِاسلام کے تئیں جرأت ہے تو ہم حیران ہے کہ خاندان نبوت سےرشتہ رکھنے والا ایک معزز مسلمان سرِعام ایک حکم ِ شرعی کا کس طرح انکار کرسکتا ہے، جب کہ قربانی اور طلاق کے احکامات شریعت اسلامیہ میں واضح طورپر بیان کئے گئے ہیں ۔

موصوف نے قربانی کو تین طلاق کی طرح غلط عادت قرار دیا ہے، موصوف اگر اسلامی تعلیمات کا بغیر کسی دباؤ اور خالی الذہن ہوکر مطالعہ کرتے تو شاید جان لیتے کہ قرآن پاک میں تین طلاق سے متعلق جو آیات نازل ہوئی ہیں اوراحادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو احکامات دئیے ہیں وہ نہایت حکیمانہ و منصفانہ انسانی فطرت اور تقاضہ کے عین مطابق ہے، یہ قانون انسانوں کو مصیبت اور پریشانی میں ڈالنے کے لیے نہیں ؛ بلکہ آسانی پیدا کرنے کے لیے ہے، طلاق کااسلامی نظام انسانوں خصوصاً عورتوں کے لیے زحمت نہیں ؛بلکہ رحمت ہے، پھر یہ کہ طلاق کا حکم اس خالق کی طرف سے ہےجو اپنی مخلوق کی فطرت اور جذبہ سے خوب واقف ہے، اسی نے انسانوں کے آسانی کے لئے طلاق کا نظام چلایاجو سراسر مبنی بر انصاف ہے، اور جو اُس کے حکم کوترمیم یا تبدیل کرنےکے درپرہو یا اس کا انکاری ہویا اس کے بارے میں کسی بھی قسم کی لب کشائی یا نکتہ چینی کرنے والاہو تویقیناً وہ ظالم ہے، کیونکہ حدود اللہ کے حقوق میں سے ہے جو نہ قابل ِ تنسیخ ہے اور نہ لائق تبدیل ؛ چنانچہ قرآن مجید میں طلاق کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا:

’’ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ‘‘

یہ اللہ کی حدود (سرحدیں ) ہیں، اس سے تجاوز نہ کرو، اور جو اللہ کی حدود سے آگے بڑھے گا یقیناً وہ ظالم ہے ( البقرۃ:229)

ہاں ! طلاق کے بارے میں معاشرتی غلطیوں کا انکار نہیں کیاجاسکتاہے، لیکن معاشرتی غلطیوں کو ذریعہ بناکر اسلامی احکام کو غلط عادت بتلانا کسی بھی انصاف پسند آدمی کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔

موصوف نے طلاق کا ذکر تو ضمناً کیا، موصوف کاانٹرویو قربانی کے تعلق سے تھا جس میں موصوف نے قربانی کو غلط عادت قرار دیا ہے، اور کہا کہ کسی بھی نبی نے قربانی نہیں دی ہے، نیز مذہب اسلام میں اسے حرام قرار دیا گیا ہے، اور کہا کہ حضرت ابراہیمؑ نے اپنےبیٹے کی قربانی دی ہے تو ابراہیمؑ کے ماننے والے اگر ابراہیمؑ سے محبت رکھتے ہیں تو وہ بھی اپنے بیٹے کی قربانی دیں، موصوف کا یہ بیان اسلام کے تعلق سے بہت بڑی گستاخی اور سفید جھوٹ ہے، شاید موصوف قرآن مجید کی آیتو ں کا اور اسلامی تعلیمات پوری طرح مطالعہ نہیں کئے ہیں، کیونکہ حضرت ابراہیم ؑ کے بیٹے اسماعیلؑ کی جگہ اللہ نے جنت سے ایک دنبہ بھیج دیا جس کی قربانی حضرت ابراہیم ؑ نے دی ہے، اگر اللہ تعالی حضرت ابراہیم ؑ سے ان کے بیٹے کی ہی قربانی چاہتا اور حضرت ابراہیمؑ اپنے بیٹے کو ذبح کردیتے اور بیٹوں کوقربان کرنے کی یہ سنت جاری ہوجاتی تو اسلام سے محبت رکھنے والا سچا مسلمان اس سے بھی دریغ نہیں کرتا اور اپنے رب کو خوش کر نے کے لئے مال و دولت کیا اولاد کو بھی قربان کردیتا، مگر اللہ نے انسانوں کو ایسا حکم نہیں دیا صرف جانور کی قربانی کا حکم دیا ہے، جس کو مسلمان دل وجان اور خالص نیت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔

 موصوف نے بڑی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ مذہب اسلام نے قربانی کو حرام قرار دیا ہے، یہ سراسر اسلام سے بغاوت اور اسلامی حکم کو تبدیل کرنا ہے، جس سے نہ صرف قرآن مجید کی توہین ہوئی ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی توہین ہوئی، کیونکہ حدیث میں تو جناب نبی کریم ﷺ یہ فرمارہے ہیں کہ

’’مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ‘‘

عید الاضحی کےدن قربانی سے زیادہ کوئی عمل اللہ کے نزدیک پسندیدہ نہیں ہے(ترمذی، باب ماجاءفی فضل الاضحیۃ، حدیث نمبر 1493)

اور وسعت و گنجائش کے بعد قربانی جیسی عظیم عبادت سے غفلت برتنے والوں کے لئے آپ ﷺنے فرمایا:

’’مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا‘‘

جس کو گنجائش ہو اور پھر قربانی نہ دے وہ ہمارے عید گاہ میں نہ آئے(ابن ماجہ، باب الاضاحی واجبۃ ھی ام لا، حدیث نمبر3123)

اور ادھر موصوف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کو حرام کہہ رہے ہیں، یہ توہین ِ رسالت و شریعت نہیں تو اور کیا ہے ؟ جبکہ قربانی شریعت ِ مطہر ہ کا ایک اہم حصہ ہے، جس کی پوری وضاحت سنت نبوی میں موجود ہے، اور یہ وہ عظیم الشان عمل ہےجسے اللہ کے رسولﷺنے سنت ابراہیمی سےتعبیرکیاہے، اللہ رب العزت نےان کی اس عظیم قربانی کو قیامت تک کے لئے یادگار بنا دیا، اور پوری امت میں اس کو جاری فرمایا، قرآن مجید میں اللہ نے اپنے پیارے نبی ﷺکو حکم دیا ہے ’’فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ‘‘ اے محمد ﷺ اپنے رب کے لئے نماز (عید) پڑھو اور نحر کرو ( جانور کی قربانی کرو) اس امرِ خداوندی کو بجالاتے ہوئے رسو ل اللہ ﷺ نے ہر سال قربانی کرنے کا اہتمام فرماتے تھے، اور صحابہ کرام کو بار ہا اس کی تاکید فرماتے تھے، ان تمام آیات و احادیث کی موجود گی میں قربانی جیسے پاک اور پسندیدہ عمل کو حرام قرار دینادائرۂ اسلام سے نکلنے کےلئے کافی ہے ۔

 دوران گفتگو موصوف نے کہا کہ کسی بھی نبی نے جانورں کی قربانی نہیں دی، موصوف کی یہ بات بھی حقیقت سے بعید ہے، کیونکہ دنیا میں جتنے مذاہب ہے ان میں بعض کے علاوہ تمام مذاہب کے ماننے والوں نے کس نہ کسی شکل میں جانوروں کی قربانی دی ہے، کائنات کی جلوہ گری سے آج تک قرب ِ خداوندی کے لئے جانوروں کی قربانی دینے کارواج رہاہے، دنیا کے سب سے پہلے انسان سیدنا آدم علیہ السلام کے بیٹوں قابیل اور ہابیل کے درمیان رشتۂ نکاح کے بارے میں جب جھگڑا ہوا تو حضرت آدم نے اس قضیہ کو سلجھانے کے لئے اللہ کے حضور قربانی پیش کرنے کاحکم دیا، ہابیل نے اپنے مویشیوں میں سے عمدہ قسم کا دنبہ پیش کیا اور قابیل نے اپنی کھیتی میں سے اناج اور غلہ پیش کیا، اللہ نے ہابیل کی قربانی قبول کی اور آسمان سے آگ آئی ہابیل کے قربانی کے جانور کوکھا گئی؛ جبکہ قابیل کی قربانی جوں کی توں باقی رہ گئی(معارف القرآن: 2؍112)اس واقعہ کو تقریباً تمام مفسرین نے ذکر کیا ہے، اور یہ قربانی انسانی دنیا کی سب سے پہلی قربانی ہے، اس کے علاوہ قربانی کا تصور دنیا کے مشہور مذاہب میں بھی ملتا ہے ۔

بنی اسرائیل( یہودو نصاری) میں قربانی کا تصور

    قرآن کریم میں اللہ نے حضرت ابراہیم ؑ کا وہ مشہور واقعہ بیان کیا ہے، جس سے خوش ہوکر اللہ نے قربانی کی سنت کو جاری کیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سب سے بڑی قربانی یہ ہے کہ اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی کی خاطر انھوں نے اپنی زندگی کی سب سے زیادہ پسندیدہ اور محبوب چیز اپنے اکلوتے لختِ جگر حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی قربانی دی، اللہ رب العزت ان کے اس عمل سے اتنا خوش ہوا کہ حضرت اسماعیل کی جگہ میں ایک دنبہ کو ذبح کرنے کا حکم دیا، ( تفصیل کے لئے دیکھئے، معارف القرآن :7؍457)اسی طرح حضرت ابراہیم کا ایک اور واقعہ اللہ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے، جب فرشتہ انسانی شکل میں حضرت لوط ؑ کی قوم کو عذاب دینے کے لئے آئے تو پہلے حضرت ابراہیم ؑ کے پاس حضرت اسحاق ؑ کی خوشخبری دینے آئے، حضرت ابراہیم ؑ نے انسان سمجھ کر ضیافت میں ایک بھنا ہوا بچھڑا رکھ دیا، وہ مہمان چونکہ فرشتے تھے، اسلئے انہوں نے اس کو کھانے سے انکار کردیا ( تفصیل کے لئے دیکھئے، معارف القرآن : 4؍ 646)

اسی طرح قرآن و حدیث میں حضرت سلیمان ؑ کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے، ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ جہاد کے لئے اپنےپاس موجود گھوڑوں کا معائنہ کررہے تھے جس کی وجہ سے عصر کی نماز( عبادت ) کا وقت ختم ہوگیا، اس پر حضرت سلیمان ؑ کو بہت افسوس ہوا اور انہوں نے تمام جانوروں (گھوڑوں ) کو اللہ کی رضا کے لئے ذبح (قربان) کردیا ( حوالہ کے لئے دیکھئے، معارف القرآن : 7؍512)

 اسی طرح مفسرین نے حضرت الیاس ؑ کے احوال میں لکھا ہےکہ انہوں نے بتوں کے پجاریوں کو چیلنج دیا کہ مجمع عام میں ایک بیل کی قربانی تم کرو اور ایک کی قربانی میں کرتا ہوں جس کی قربانی کو غیب کی آگ کھالے وہی حق پر ہے چنانچہ ایک بڑے مجمع کے سامنے یہ مقابلہ ہوا اور غیبی آگ نے حضرت الیاس کی قربانی جلا دی(تفسیر معارف القرآن، 7؍471)اور یہ واقعہ بائبل میں بھی لکھاہوا ہےجو عیسائی مذہب کی مستند کتاب میں جاتی ہے، ا س کے علاوہ عیسائیوں کے اکثر فرقے مثلا کیتھولک، آرتھوڈوکس اور ہائی چرچ اینجلیکن وغیرہ قربانی کے قائل ہیں ۔

 اسلام سے پہلےاہل ِ مکہ بھی قربانی کے قائل تھے اور گاہے بگاہے اپنے جانور خانہ کعبہ اور اس میں رکھے ہوئے بتوں کے نام بھینٹ چڑھا یا کرتے تھے، ان کے نام بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام رکھتے، دس ذوالحجہ کو منی میں قربانی کا بندوبست کیا جاتا جس میں سینکڑوں جانور ذبح کیے جاتے، اس کے ساتھ ساتھ نذر کے جانور بھی قربان کرتے، جیسےخواجہ عبدالمطلب نے زم زم کی تلاش کرتے ہوئے منت مانی کہ اگر میں اس مقصد میں کامیاب ہو گیا تو اپنے سگے بیٹے عبداللہ کو ذبح کروں گا، اس کے بعد انہوں نے سو اونٹ کی قربانی میں ذبح کئے ۔

ہندو مذہب میں قربانی کا تصور

 ہندو مذہب کے ماننے والوں میں قربانی کا تصور عام ہے، کبھی دیوی دیوتاؤں کو خوش کرنے کےلئے تو کبھی مرحومین کو راحت پہنچانے کے لئے جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے، اور اس مذہب کی مقدس کتابوں میں بھی جانورں کو ذبح کرنے کا ذکر ملتاہے، جیسے : رگ وید میں !ہند و دھرم کے چار ویدوں رگ وید یجروید سام وید اور اتھروید میں “رگ وید سب سے اہم اور قدیم وید ہے اس میں ہے کہ !تیرے لئے اے اندر ! جس کی حمدو ثنا تمام ماروت یکساں خوش ہوکر کرتے ہیں یسان اور وشنو تمہارے لئے ایک سو بھینس پکائیں ” (رگ وید 6۔11۔17)ایک جگہ لکھا ہے:وہ بیلوں کو پکاتے ہیں اور تم ان کو کھاتے ہو”(رگ وید 3۔28۔1)  اواندر! ہم پروہتوں کے ساتھ مل کر فربہ بیل پکاتے ہیں (رگ وید 11۔27۔20)ایک جگہ اندر بھگوان کہتے ہیں :وہ میرے لئے پندرہ بیس بیل پکاتی ہے جنھیں کھا کر میرے جسم کی فربہی (موٹاپا) بڑھتی ہے اور میں اپنے پیٹ کی دونوں کوکھیں بھر لیتا ہوں (رگ وید14۔85۔10)

 اسی طرح یجروید میں بائیسویں باب سے لے کر پچیسویں باب تک پورے چار بابوں میں اشومیہ یگّہ ( شرعی رسوم کی انجام دہی ) کا تذکرہ ہے اور یجروید کے چھ سے بائیس باب تک ذبح ہونے والے جانور کے منتر اور کھمبے سے متعلق لکھا ہے، اسی طرح منوسمرتی میں لکھا ہے، اور منوسمرتی ہندو قانون کی بنیادی اور مسلمہ کتاب ہے اس میں مردہ بزرگوں کی فاتحہ کا ذکر ہے یہ کھانا برہمنوں کو کھلایا جاتا ہے اور برہمنوں کے کھانے کے بعد عزیزوں رشتے داروں کو دیا جاتا ہے، اس کے تیسرے باب میں ہے کہ مچھلی کے گوشت سے دومہینے تک مرحومین آسودہ ہوتے ہیں، اور ہرن کے گوشت سے تین مہینے تک اوربھیڑ کے گوشت سے چار مہینے تک مردہ بزرگ آسودہ رہتے ہیں (منوسمرتی ادھیائے 22۔23)اسی طرح ایک جگہ لکھا ہےکہ یگیہ(پوجا) کے واسطے اور نوکروں کے کھانے کے واسطے اچھے ہرن اور پرند مارنے چاہیئے، رشیوں ( بزرگوں ) نے گذشتہ زمانے میں ایسا ہی کیا ہے(منوسمرتی ادھیائے22۔23)

 غرض یہ کہ مذہب اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں جانور کے ذبیحہ اور قربانی کا تصور عبادت کے طور پر پایا جاتا ہے اور قربانی کے تاریخ اتنی ہی پرانی ہے کہ جتنا پرانا یہ انسان ہے، اس واضح دلائل کے بعد جانور کی قربانی کا انکار کرنا گویا چلچلاتی دھوپ کے وقت سورج کا انکار کرنا ہے۔

 موصوف نے اپنے انٹرویو میں ایک بات اور کہی کہ بہتر ین تعلیم یافتہ افراد ہی اسلام کو سمجھ سکتے ہیں، موصوف کی اس بات سے ہم سو فیصد اتفاق کرتے ہیں، اسلئے بہترین تعلیم یافتہ افراد تو صرف علمائے امت اور فقہائے ملت ہی ہیں جو دین کی صحیح سمجھ بوجھ رکھتےہیں، ان کے علاوہ دین کو اس کے مزاج کے مطابق سمجھنا عصری تعلیم یافتہ اور سیاسی افراد کے بس میں نہیں، اگر دین کو موصوف کی طرح سمجھنے لگے توپھر قربانی کی جگہ علامتی بکرے کا کیک اور نماز کی جگہ صبح کی چہل قدمی اور زکوۃ کی جگہ غریب کو گھر کا بچاہوا کھا نا دینااور روزے کی جگہ ایک گھنٹہ بھوکے رہنا اور حج کی جگہ کسی ایک مسجد کا طواف کرنا کافی ہوجائے گا ۔



⋆ مولانا محمد غیاث الدین حسامی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے