سیاست

مسلم یونیورسٹی اور جناح کی تصویر

ملک کی تقسیم کے بعد یہ کیوں نہیں کیا کہ فریم سے تصویر نکال کر پھینک دیتے اور فریم میں یہ لکھ دیتے کہ اس فریم میں مسٹر جناح کی تصویر تھی۔

حفیظ نعمانی

ہم مسلم یونیورسٹی کے بیٹے نہیں عاشقوں میں ہیں۔ عمارت کے اندر بار بار جانے کا اتفاق ہوا لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ گوشہ گوشہ سے واقف ہیں۔ علی گڑھ کے بھاجپائی ایم پی نے مسٹر جناح کی تصویر کا شوشہ چھوڑا تو ہمیں بھی معلوم ہوا کہ 1938 ء سے ان کی تصویر دوسری تصویروں کے ساتھ لگی ہے۔ اس عرصہ میں جتنے ممتاز فرزند نکلے ان کی گنتی آسان نہیں ہے۔ کم از کم ہمیں حیرت اس پر ہے کہ ملک کی تقسیم کے بعد بھی ان حضرات نے جو مسٹر جناح کو مسلمانوں کی ہر پریشانی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اس تصویر کو لگا رہنے دیا؟ اور ملک کی تقسیم کے بعد یہ کیوں نہیں کیا کہ فریم سے تصویر نکال کر پھینک دیتے اور فریم میں یہ لکھ دیتے کہ اس فریم میں مسٹر جناح کی تصویر تھی۔

آج جو ہمارے اور قوم کے مستقبل کے ہونے والے معمار وہاں زیرتعلیم ہیں انہیں تو کیا معلوم ہوتا، انہیں بھی نہیں معلوم جو آج پڑھا رہے ہیں کہ ملک کی تقسیم اور مسٹر جناح یا مسلم لیگ کی حمایت میں مسلم یونیورسٹی کے لڑکوں نے پوری طرح پاگل بن کر حصہ لیا تھا۔ آج سے 70 سال پہلے مسلم یونیورسٹی کا کوئی لڑکا کسی بھی ضرورت سے یونیورسٹی سے باہر بغیر یونیفارم کے نہیں نکل سکتا تھا۔ کالی بند گلے کی شیروانی ترکی سرخ ٹوپی کالا پھندنا سفید پیجامہ ان کی شناخت تھی اور ہزار کے مجمع میں اگر 50 لڑکے بھی مسلم یونیورسٹی کے ہوتے تھے تو مشہور ہوجاتا تھا کہ مسلم یونیورسٹی آگئی۔ یہی لڑکے اگر سو ہوتے اور عام لباس میں ہوتے تو یونیورسٹی اتنا نشانہ نہ بنتی۔

یہ صرف مولانا آزاد اور ڈاکٹر ذاکر حسین خاں کا دم تھا اور جواہر لعل نہرو کی کسی حد تک کشادہ قلبی تھی کہ آج اپنی روایات کے ساتھ مسلم یونیورسٹی باقی ہے۔ جس وقت تقسیم کی وباء چل رہی تھی نواب اسماعیل خاں وائس چانسلر تھے۔ پاکستان بن جانے کے بعد بھی وہ وائس چانسلر رہے اور کئی مہینے کے بعد جب استعفیٰ دے کر وہ پاکستان گئے تب ڈاکٹر ذاکر حسین خاں کو وائس چانسلر بناکر بھیجا گیا۔ اور جب ڈاکٹر صاحب نے چارج لیا تو بقول ان کے وہ پولیس کی چھاؤنی بنی ہوئی تھی۔ یہ ان کا اور جواہر لعل کا تعلق تھا اور مولانا آزاد کی وزارتِ تعلیم کے پہلے پولیس ہٹائی گئی اور اس کے بعد ذاکر صاحب نے ایک ایک چیز کا جائزہ لیا۔ انہوں نے پوری طرح دیکھنے کے بعد یونیورسٹی میں موجود سب کو جمع کیا اور مستقبل کے نقشہ کے بارے میں ایک تقریر کی اس میں ہی انہوں نے یہ شعر پڑھا تھا۔

مصحفی ہم تو سمجھتے تھے کہ ہوگا کوئی زخم
تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

اور یہ ان کی ہی شخصیت تھی کہ مسٹر جناح کی مار سے بچی ہوئی یونیورسٹی آج بھی مسلمانوں کی آواز بنی ہوئی ہے۔
آج جو بچے وہاں زیر تعلیم ہیں ہم ان سے یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ بیشک وہ مادر علمی کے فرزند ہیں لیکن وہ جس دانش گاہ میں زیرتعلیم ہیں اس کی خوش نصیبی یہ ہے کہ صرف اس کے فرزند ہی نہیں وہ بھی اس سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں جنہوں نے ایک دن بھی وہاں نہیں پڑھا اور جب بھی ضرورت پڑی تو

؂ مٹی کو لہو دے کے چمن ہم نے بنایا

مسٹر جناح کی تصویر بہت حقیر معاملہ ہے وہ 80 برس سے لگ رہی ہو یا 100 برس سے ہمیں ان سب لیڈروں سے شکایت ہے جو کبھی وہاں یونین کے لیڈر تھے کہ انہوں نے ایک مسلم دشمن کی تصویر وہاں ایک دن بھی کیوں لگی رہنے دی۔ اسلام میں تصویر بلاضرورت جائز نہیں ہے۔ اگر جائز بھی ہوتی تو اس آدمی کی تصویر جس کے مسلمان ہونے نہ ہونے کا بھی فیصلہ نہ ہوسکا ہو اس کی تصویر اور اس یونیورسٹی میں جس کی ساری مشکلیں اس کی ہی پیدا کی ہوئی ہوں کیسے مسلمان برداشت کرتے رہے؟

مسلم لیگ کے چوٹی کے لیڈر سردار عبدالرب نشترؔ جو شعلہ بیان مقرر تھے، ملک کی تقسیم کے بعد جب پریس کانفرنس میں ان سے پوچھا کہ کیا تمام مسلمانوں کو آپ پاکستان لے جائیں گے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ جو جانا چاہے جائے اور جو نہ جانا چاہے وہ یہاں رہے۔ ایک رپورٹر نے ان سے معلوم کیا کہ جو مسلمان یہاں رہ جائیں گے وہ کیا کریں گے؟ نشتر صاحب نے جواب میں کہا کہ دھوتی باندھیں گے گھنٹہ بجائیں گے تلک لگائیں گے؟ تو کیا فرق پڑتا ہے ہم نے 6 کروڑ مسلمانوں کا ایمان بچا لیا۔ واضح ہو کہ 1947 ء میں مغربی اور مشرقی پاکستان میں کل مسلمان 6 کروڑ تھے اور 3 کروڑ ہندوستان میں رہ گئے تھے۔ ہرچند کہ پشاور کے رہنے والے نشتر بول رہے تھے لیکن یہ مسٹر جناح کی تعلیم تھی۔ آج اگر بھگوا بریگیڈ اور بھیڑ یہ نعرے لگا رہی ہے کہ وندے ماترم کہنا ہوگا تب ہندوستان میں رہنا ہوگا تو یہ آر ایس ایس نہیں مسٹر جناح کی روح کہلا رہی ہے۔

مسٹر جناح کے بارے میں یہ سب کو معلوم ہے کہ انہوں نے ایک پارسی خاتون سے شادی کی تھی جن کے بارے میں محترمہ تارہ علی بیگ نے لکھا ہے کہ جو سردینا ناتھ پٹیٹ کی ہمشیرہ تھیں اور بہت سی رنگین داستانیں ان سے وابستہ تھیں وہ انتہائی حد تک مغرب زدہ تھیں کئی معاشقے ان سے منسوب تھے گھر میں ہر وقت بلیوں سے گھری رہتی تھیں۔ مسٹر جناح اور بیگم کے درمیان مزاج میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ پھر ایک بچی بھی دنیا میں آگئی۔ اسے اتفاق ہی کہا جائے گا کہ پنڈت نہرو کی بھی ایک ہی بیٹی تھی اور مسٹر جناح کی بھی ایک ہی بیٹی ہوئی اور دونوں نے پارسی سے شادی کی پنڈت نہرو کے نواسے راجیو گاندھی اور سنجے گاندھی ہندو ہی رہے اور جناح صاحب کے نواسے پارسی ہوگئے جنہوں نے حکومت ہند سے درخواست کی کہ ہمارے نانا کی جائیداد اسلامی قانون سے تقسیم نہ کی جائے ہم مسلمان نہیں ہیں بلکہ بورے خوجے ہیں۔

جناح صاحب سے مسلم یونیورسٹی کے لڑکوں کو محبت نہیں نفرت کرنا چاہئے اور ان کی تصویر جہاں بھی ہو اسے ہٹا دینا چاہئے۔ اس لئے نہیں کہ غنڈوں کی بھیڑ کا مطالبہ ہے بلکہ اس لئے کہ وہ 20 کروڑ مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اور یہ اس کی ہی نحوست ہے کہ پاکستان کے 20 کروڑ مسلمانوں میں کوئی لیڈر ایسا نہیں جو وزیراعظم بن سکے۔ ایک نواز شریف ہیں جنکے پردے ہٹے تو وہ وہی نکلے جن کے بارے میں پاکستان میں لڑکوں کے جلوس نکلتے تھے کہ

ماں شریف نہ باپ شریف

نواز شریف نواز شریف

دوسرے انصاف پارٹی کے صدر عمران خاں ہیں جن کے بارے میں تازہ خبر یہ ہے کہ ان کی تیسری بیگم جو عابدہ اور زاہدہ تھیں وہ بھی انہیں چھوڑکر چلی گئیں اور وہ تمام کتے جو بیگم کی وجہ سے گھر سے باہر کردیئے گئے تھے سب واپس آگئے اب گھر میں عمران خاں ہیں اور کتوں کی فوج یہ ہے وہ پاکستان جو مسٹر جناح نے بنایا تھا۔ اور ان کی نحوست کا ہی نتیجہ ہے کہ جماعت اسلامی بھی وہاں جان کنی کی حالت میں ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close