سیاستہندوستان

مشن ‘2018 ‘کا بجٹ!

جاوید انیس

مدھیہ پردیش میں  شیوراج سنگھ کی حکومت سیاسی طور پر پہلے ہی مشن 2018 کے موڈ میں  آ چکی تھی. اب صوبے کا نیا بجٹ بھی اگلے سال ہونے جا رہے اسمبلی انتخابات کے رنگ میں  رنگا ہوا ہوا نظر آ رہا ہے. وزیر خزانہ جینت ملیيا کے سال 2017-18 کیلئے پیش کئے گئے بجٹ میں  2018 کے جیت کی چابی تلاش کرنے کی کوشش گئی ہے. یہ اعلانات سے بھرپور بجٹ ہے، جس کے ذریعہ سب کو یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ بجٹ میں  شہری غریبوں  کیلئے پانچ روپے میں  کھانا، بیوہ خواتین کیلئے پنشن اور ریاستی حکومت کے ملازمین کو 7 ویں  پے کمیشن کا فائدہ دینے کی بات کہی گیی ہے۔ اسے دیکھ کر گھوشايے جنوبی کے سیاست کی یاد تازہ ہو جاتی ہیں .

اس لوک لبھاون بجٹ میں  کوئی نیا "کر” نہیں  لگایا گیا ہے اور تعلیم و صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دی گئی هے۔ مکھیہ منتری  طرف چلائے جا رہے نرمدا سروس سفر کو بھی خاص اہمیت دیتے ہوئے اس کے لئے فنڈز کی کمی نہ ہونے دینے کا یقین دہانی کرائی گئی ہے. ظاہر ہے بی جے پی 2018 کے انتخابات میں  نرمدا کو هند توا کے ایک مسئلے کے طور پر کیش کرانے کی تیاری میں  ہے. اس کو لے کر کانگریس نے الزام بھی لگایا ہے کہ نرمدا ندی کے تحفظ کے نام پر چلائی جا رہی ‘نمام دیوی نرمدے سروس سفر’ اگلے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی کے سیاسی ایجنڈا سے منسلک ہے جس میں  سرکاری خزانے سے سینکڑوں  کروڑ روپے خرچ کئے جا رہے ہیں .

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے اس بجٹ کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ "یہ ریاست کو ترقی یافتہ ریاستوں  کی صف میں  کھڑا کرنے والا اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا بجٹ ہے، جس میں  سماجی علاقے کو ترجیح دی گئی ہے.” ادھر پردیش کانگریس صدر ارون یادو نے بجٹ کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ "ریاستی حکومت نے بجٹ کے نام پر صرف اعداد و شمار کی بازی گری کر عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی ہے.” انہوں  نے بجٹ میں  پیٹرولیم پر راحت نہ دینے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ‘ریاستی حکومت کے اعلی ٹیکس وصولی کی وجہ سے عوام کو دیرینہ کافی مہنگا ڈیزل-پیٹرول خریدنا پڑ رہا ہے، بجٹ میں  اس’ مال ‘سے عوام کو کوئی ریلیف نہیں  دی گئی ہے ".

2018 میں  بی جے پی کو صوبے کے اقتدار میں  آئے ہوئے پندرہ سال پورے ہو جائیں  گے. گزشتہ سال 29 نومبر کو شیوراج سنگھ چوہان نے بھی بطور وزیر اعلی 11 سال پورے کر لئے ہیں ۔ ایسے میں  سوال اٹھنا لازمی ہے کہ اتنے لمبے وقت تک اقتدار میں  رہنے کے بعد صوبے کے حالات میں  کیا بہتری ہوئے ہیں ؟ شوراج 29 نومبر 2005 کو وزیر اعلی بنے تھے اور ان کا پہلا بجٹ 21 فروری 2006 کو اس وقت کے وزیر خزانہ راگھوجي طرف سے پیش کیا گیا تھا اس کے بعد سے لے کر اب تک تبدیلی کے متعدد دعوے کئے جا چکے ہیں . وزیر اعلی شوراج سنگھ چوہان تو عوام کو آمادہ کرنے والے اعلانات کے لئے بھی خاصے مشہور ہیں . اس کی وجہ سے انہیں  گھوشاوير وزیر اعلی بھی کہا جاتا ہے. اگرچہ ایک دہائی کا تجربہ بتاتا ہے کہ ان میں  سے زیادہ تر گھوشايے زمین پر اترتی ہوئی دکھائی نہیں  پڑتی ہیں .

وزیر اعلی ہر پلیٹ فارم سے یہ دعوی کرنا نہیں  بھولتے کہ انہوں  نے مدھیہ پردیش کو بيمارو ریاست کے ٹیگ سے چھٹکارا دلوا دیا ہے، لیکن زمینی حقیقت کچھ اور ہی تصویر پیش کرتی ہے. صوبے کے ادھكاش لوگ آج بھی کاشت پر ہی انحصار کرتے ہیں ، صنعتی ترقی کی رفتار سست ہے اور اس کے لئے آج بھی ضرورت کے مطابق بنیادی ڈھانچے نہیں  بنايے جا سکی ہے. صوبے میں  تعلیم کا معیار بھی کافی خراب ہے، یہاں  ایک بھی ایسا ڈھنگ کا تعلیمی ادارہ نہیں  ہے جس کے معیار کے تمام معیار پر کھرا اترتا ہو. اسی طرح سے اعداد و شمار کی وزارت کی حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں  کہ صوبے کی فی کس آمدنی اب بھی قومی اوسط سے آدھی ہے اور اس کے بڑھنے کی رفتار بہت سست ہے.

بجٹ سے ایک دن پہلے پردیش کا جو اقتصادی سروے پیش کیا گیا ہے، اس میں  انسانی ترقی کے میدان میں  صوبے کی بدصورت تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے. قومی سطح پر جہاں  بچوں  کی شرح اموات 39 ہیں ، وہیں  مدھیہ پردیش میں  یہ شرح 52 ہیں . پردیش کے دیہی میں  تو بچے موت کی شرح 57 ہیں . زچگی موت کی شرح کے معاملے میں  بھی صوبے کی تصویر بہت سياه ہیں  جہاں  قومی سطح پر یہ شرح 167 ہیں . وہی مدھیہ پردیش میں  اس سے 32.33 فیصد زیادہ 221 پر کھڑا ہے. ظاہر ہے یہ تصویر بہت خطرناک ہے. موجودہ بجٹ میں  میڈیکل تعلیم کے بجٹ میں  گزشتہ سال کے مقابلے 61 فیصد کا اضافہ اور سات نئے میڈیکل کالج کھولنے کی تجویز کیا گیا ہے، اسی طرح سے ڈكٹيرو کو دیہی علاقوں  میں  خدمات فراہم کرنے کے لئے خصوصی الاؤنس دیئے جانے کا اعلان بھی کی گئی ہے لیکن صحت کی خدمات کی خستہ حالت کو دیکھتے ہوئے یہ ناکافی لگتے ہیں . گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں  بھی تین نئے میڈیکل کالج کھولنے کا وعدہ کیا گیا تھا جو کہ ابھی تک پورے نہیں  ہو سکے ہیں .

قومی خاندان صحت سروے -4 کے مطابق مدھیہ پردیش میں  پانچ سال تک کے 42.8 فیصد کم وزن ہیں . گزشتہ ایک دہائی میں  بھاری بھرکم رقم خرچ ہونے کے باوجود مپر. میں  بچوں  کے غذائی قلت میں  کمی کی سالانہ شرح 1.8 فیصد ہی ہے. قومی خاندان صحت سروے 4 (2015-16) کے مطابق ریاست میں  40 فیصد بچے آج بھی پرورش سے محروم ہیں ، ررپوٹ کے مطابق 5 سال سے کم عمر کے ہر 100 بچوں  میں  سے تقریبا 40 بچوں  کی ترقی ٹھیک سے نہیں  ہو پائے، اسی طرح سے 5 سال سے کم عمر کے تقریبا 60 فیصد بچے خون کی کمی کا شکار ہیں  اور صرف 55 فیصد بچوں  کا ہی تمام ویکسینیشن ہو پاتا ہے. نئے بجٹ میں  غذائی قلت کے شکار بچوں  کے لئے 6 نئے غذائیت مرکز کھولنے کے اعلان کے علاوہ کچھ نیا نہیں  ہے.

اقتصادی سروے میں  بتایا گیا ہے کہ مدھیہ پردیش میں  خواندگی کی شرح قومی اوسط سے چار فیصد کم ہے اور صوبے کی چالیس فیصد مہلایں  تو ابھی بھی اساكشر ہیں . اسی طرح سے درمیان میں  ہی پڑھائی چھوڑ دینے والے بچوں  کی تعداد میں  اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے. اقتصادی سروے کے مطابق 2015-16 کے دوران کلاس 1 سے کلاس 5 کے 6.2 فیصد لڑکوں  اور 6.1 فیصد لڑکیوں  نے درمیان میں  ہی پڑھائی چھوڑ دی۔ جبکہ اسی دوران کلاس 6 سے کلاس 8 تک کے 8.2 فیصد شالا سولٹیئر لڑکے اور 11 فیصد لڑکیاں  درج کی گئی ہیں . اسی طرح پرائمری سطح پر (کلاس 1 سے کلاس 5) بچوں  کی نامزدگی میں  بھی کمی درج ہوئی ہیں  جہاں  2014-15 کے دوران بنیادی کلاس میں  86.62 لاکھ بچے درج تھے وہی 2015-16 کے دوران یہ تعداد گھٹ کر 80.94 لاکھ ہو گئی ہے. ریاست ایجوکیشن سینٹر کی مجموعی شناخت سروے کے مطابق کلاس ایک سے آٹھویں  تک کے پردیش کے تقریبا تین لاکھ بچے اسکول سے دور ہیں . مدھیہ پردیش کے سرکاری اسکولوں  میں  بھی 40 ہزار سے زیادہ اساتذہ کی کمی ہے اور بیس فیصد اسکول ایک ہی استاد کے بھروسے چل رہے ہیں . ظاہر ہے ان سب کا اثر تعلیم کے معیار اور اسکولوں  میں  بچوں  کی رکاوٹ پر دیکھنے کو مل رہا ہے. نئے بجٹ میں  19،872.89 کروڑ روپے مختص اسکول کی تعلیم کے لیے کیا ہے جو کہ کل بجٹ کا 12 فیصد ہے. گزشتہ بجٹ میں  اس کے لئے 18،094.04 کروڑ روپے مختص کیا گیا تھا.یہ بار کے بجٹ میں  36 ہزار اساتذہ کی بھرتی کی بات کی گئی ہے. امید ہے اس سے اسکول کی تعلیم میں  کچھ بہتری دیکھنے کو ملے گا.

شیوراج سنگھ چوہان دعوی کرنا نہیں  بھولتے کہ ان کی حکومت نے کھیتی کو فوائد کا دھندہ بنا دیا ہے اور آئندہ پانچ برسوں  میں  کسانوں  کی آمدنی دوگنا ہو جائے گی. لیکن اسمبلی میں  خود ان وزیر داخلہ نے اعتراف کیا ہے کہ ریاست میں  روزانہ 3 کسان مزدور خود کشی کر رہے ہیں . اسی طرح سے گزشتہ سال کے مقابلے اس سال آبپاشی علاقے میں  3.12 فیصد کی کمی ہوئی ہے. ان سب کے باوجود اس بجٹ میں  کسان بہبود کاروبار محکمہ زراعت کے بجٹ میں  256 کروڑ کی کمی کی گئی ہے جوکہ مایوس کن ہے.

خواتین کی حفاظت کی بات کریں  تو یہاں  روزانہ 12 آبروریزی ہوتے ہیں . قانون ساز اسمبلی کے موجودہ اجلاس میں  وزیر داخلہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ صوبے میں  فروری 2016 سے لے کر اب تک قریب ساڑھے چار ہزار مہلایں  آبروریزی کا شکار ہوئی ہیں . اتنی سنگین صورتحال کے باوجود بجٹ میں  خواتین کی حفاظت کے لئے کوئی خاص اعلان نہیں  کی گئی ہے.

مندرجہ بالا صورت حال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ اس بجٹ کو ایک پاپولر بجٹ کا تمغہ حاصل ہو جائے لیکن اس میں  مستقبل کو لے کر کوئی ویژن یا خیال دکھائی نہیں  پڑتا ہے. ایوان میں  آپ کے بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے خود قبول کر کیا ہے کہ مدھیہ پردیش اب بھی بيمارو ریاست ہے لیکن اس سے باہر نکلنے کے لئے انہوں  نے کوئی روڈ میپ پیش نہیں  کیا ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close