سیاست

مضبوط کانگریس کے لیے استعفیٰ نہیں، جامع منصوبہ بندی کی ضرورت

جاوید جمال الدین

کانگریس کے صدرراہل گاندھی قابل مبارکباد ہیں کہ انہوںنے حالیہ لوک سبھا انتخابات میں ملک کی ایک قدیم ترین پارٹی کی شکست کی ذمہ داری لیتے ہوئے اپنے عہدہ سے علیحدگی اختیار کرلی ہے، حالانکہ ان پر صدارتی مسند پر برقررہنے کے لیے دباﺅڈالا جارہا ہے، اوراس تعلق سے کانگریس کے ورکرس ہی نہیں بلکہ لاکھوں۔ کروڑوں ہندوستانی اس فیصلہ پر انتہائی جذباتی نظرآئے ہیں، بلکہ راہل گاندھی پرحد سے زیادہ تنقید کرنے والے دانشوروں نے بھی اس بات کو سنجیدگی سے لیا ہے اور ان کے صدارت چھوڑنے کے فیصلہ کا خیر مقدم یقینی ہے، لیکن راہل گاندھی اپنے صدارت کے دورمیں چند جرا ¿ت مندانہ فیصلے لے لینا چاہئے تھا، جیسا کہ انہوںنے 2014کے لوک سبھا انتخابات کے موقعہ اظہار کیا تھا کہ 2019تک کانگریس پارٹی کا رنگ وروپ تبدیل نظرآئے گا، لیکن ان پانچ برسوں میں راہل ایسا کچھ نہیں کرپائے، اس کی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ محض چھ مہینے قبل تین ہندی ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے والی پارٹی 2019کے لوک سبھا انتخابات میں بُری طرح سے پچھاڑدی گئی۔

دراصل کانگریس کے صدرکی حیثیت سے راہل گاندھی ان بوڑھوں کی لگام کسنے میں ناکام رہے ہیں جوکہ پانچ۔  پانچ عشرے سے پارٹی کی باگ ڈورتھامے ہوئے ہیں اور ان کی ناکام حکمت عملی نے کانگریس کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے، اس بار کم سے کم یہ امید لگائی جارہی تھی اور سیاسی پنڈت بھی پیش گوئی کرتے رہے کہ راہل گاندھی نے جوجارحانہ اندازاربرسر اقتدار پارٹی اورخصوصی طورپرسنگھ پریوار کے خلاف اپنایا ہے، اس کی وجہ سے پارٹی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی، لیکن یہ بات حقیقت سے کوسوںدورنظرآئی ہے۔ ان بوڑھے گھوڑوں نے سب سے زیادہ 2019میں راہل کو پریشانی میں مبتلا کیا ہے اور وہ اسی وجہ سے بضدرہے کہ انہیں صدارتی مسند پر مزید براجمان نہیں رہنا ہے۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیوسی)کے اجلاس میں راہل نے کھل کرایسے عناصر کی نشاندہی کی، جوکہ اب بھی اقتدار پر بیٹھے ہیں اور ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں۔ راہل کا یہ کہنا ہے کہ ہندوستان میں یہ ایک عادت سے بن چکی ہے کہ اقتدار میں رہنے کے بعد اس کے لیے قربانی دینا ممکن نہیں ہوتا ہے۔ اس کے لیے کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیوسی) کے سنیئر ترین ممبرموتی لال ووہرا 93بہاریں دیکھ چکے ہیں اور اقتدار میں رہنے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑتے ہیں۔ ڈیڑھ عشرہ قبل جب راہل گاندھی 2004میں سیاست میں داخل ہوئے تو ان کی شناخت ایک نئی نسل کے سیاستداں کے طورپر کی جانے لگی تھی۔ اس دورمیں ہی سونیا گاندھی نے ملک کے سب سے اعلیٰ ترین عہدہ کے لیے قربانی دےدی تھی اور ڈاکٹر من موہن سنگھ کو وزارت عظمیٰ کے عہدہ پر فائز کیا گیا، پورے دس سال من موہن سنگھ وزیراعظم رہے اور سونیا گاندھی پارٹی کی صدربنی رہیں۔ ان عمررسیدہ کانگریسیوں نے 2019میں زیادہ مسئلہ پیدا کیا، کیونکہ یہ اقتدار سے ہٹنے کے قائل نہیں ہیںاور کوئی قربانی بھی نہیں دینا چاہتے ہیں۔

راہل گاندھی کو اس بات کا علم ہے، انہیں عہدوں اور ذمہ داری سے ہٹانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ان سیاستدانوں کو علم ہونا چاہئے کہ اقتدار کی ہوس کو بالائے طاق رکھ کر کامیابی ممکن نہیں ہے۔ سونیا کے حامی عمر رسیدہ کانگریسی سی ڈبلیوسی میں بھرے پڑے ہیں، جیسا کہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے کہ ان میں سے موتی لال ووہراسب سے زیادہ عمررسیدہ ہیں، جس سن میں وہ پیدا ہوئے تب راہل گاندھی کے پردادا پارٹی کے صدرتھے۔ سونیاگاندھی کے ان حامیوں کی فہرست کافی طویل ہے، جس میں من موہن سنگھ، اشوک گہلوٹ، امبیکا سونی، غلام نبی آزاد، ملک ارجن کھڑگے، اے کے انتھونی وغیرہ شامل ہیں۔ سی ڈبلیو سی کے 20ممبران کی عمریں 70سے زیادہ ہے۔

راہل گاندھی کو کانگریس پارٹی کومضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) سے سبق لیناہوگا، 2004اور پھر 2009میں بی جے پی کو کامیابی نہ ملنے کے نتیجے میں بی جے پی نے نریندرمودی کی شکل میںنئے لیڈر کا انتخاب کرلیا اور ان کی قیادت میں 2014میں تقریباً تین عشرے بعد بی جے پی نے اکثریت حاصل کرلی اور مودی وزارت عظمیٰ کے مسند پر بیٹھے تھے۔ دراصل بی جے پی نے ان بزرگوں کو بڑی عزت سے باہرکا راستہ دکھا دیا گیا اور ان بااحترام لوگوں میںاٹل بہاری واجپئی، ایل کے اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی شامل ہیں، اگر نظردوڑائی جائے تو ان پارٹی کے وفاداروں میں ارون جیٹلی، سشما سوراج اور راج ناتھ سنگھ بھی شامل ہیں جنہوںنے امت شاہ اورمودی کے لیے اعلیٰ عہدے چھوڑدیئے ہیں، لیکن کانگریس کی 2014میں شکست کے باوجود پرانے کھوسٹوں سے کانگریس نے نجات نہیں پائی ہے اور پہلے انہوںنے 2014اور پھر 2019میں اپنی انا غلط حکمت عملی کے نتیجہ میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔  حالانکہ راہل گاندھی تب سے پارٹی کی شکل وصورت بدلنے کے حق میں رہے، لیکن ان بوڑھے سیاستدانوںنے اقتدارکے لیے کوئی قابل ستائش قدم نہیں اٹھایا اور واضح رہے کہ راہل گاندھی نے ان بزرگ کہے جانے والوں کو راہل سخت نشانہ بنایا بلکہ اپنی ناراضگی کا بھی اظہار کیا، جنہوں نے لوک سبھا الیکشن کے لیے پارٹی کی ٹکٹ کی تقسیم کے عمل میں بیجا مداخلت کی بلکہ کئی علاقائی پارٹیوں کو یوپی اے میں شامل کرنے سے گریز کیا اور ان لیڈران نے اپنی ضد اور انا کی خاطردہلی میں عام آدمی پارٹی کے ساتھ اتحاد کے سبھی راستے بند کردیئے اورجھوٹی خوداعتمادی دکھاتے رہے۔ راہل گاندھی اتنے بے بس ومجبور نظرآئے، اور انہوںنے اتنی ہمت نہیںجٹائی کے ان پر استعفیٰ دینے کے لیے دباﺅڈالاجائے۔ نتیجے میں2019کی شکست جھیلنی پڑی ہے۔

راہل گاندھی ظاہری طوربالکل ناکام نظرآرہے ہیں اور انکی جانب سے ان عمررسیدہ لیڈروں کو کنارے کرنے کے لیے ہمت ہی نہیں دکھا پائے ہیں۔ جبکہ مخالف پارٹی بی جے پی کی لیڈرشپ نے یہ کام آسانی سے کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔  بلکہ بلامبالغہ یہ کہاجاسکتا ہے کہ راہل نے کوئی قدم اٹھانے کی زحمت نہیں کی اور اب جب وہ صدارت سے ہٹ رہے ہیں تو ان حامی جگہ جگہ ان کے صدربرقراررہنے کے لیے اجتماعی استعفے پیش کررہے ہیں۔ کانگریس صدرکی حیثیت سے راہل کو سخت فیصلہ لیتے ہوئے جن ریاستوں میں پارٹی شکست سے دوچار ہوئی، ان ریاستوں کے عہدیداران کوبرطرف کردینا چاہئے تھا، ایسی متعدد ریاست ہیں جہاں کانگریس نے کھاتہ ہی نہیں کھولاہے۔ اس شکست کے بعد سبھی کے استعفے طلب کرنے کے بعد تنظیم نوکرنا چاہئیے تھا۔

یہ حقیقت ہے کہ راہل گاندھی نے چند روز قبل اعلان کیا کہ وہ اب کانگریس کے صدرنہیں ہیں، جس کے بعد کئی سنیئر کانگریسوں کے نام سامنے آئے ہیں جوکہ کافی عمررسیدہ ہیں اور یہ حیرت انگیز امر ہے کہ موتی لال ووہرا بھی عبوری صدرکی دوڑمیں شامل ہوگئے ہیں۔ کانگریس نے ایسا پلان تیار کیاہے، جس کے تحت عبوری صدر2024سے قبل صدارت کی کرسی گاندھی خاندان کے سپردکردے گااب راہل گاندھی نے ممبئی میں یہ بیان دیا ہے کہ وہ آئندہ پانچ سال دس گنا طاقت کے ساتھ لڑائی لڑنے کے لیے تیار ہیں۔  یہ وقت ہی بتائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جاوید جمال الدین

Editor In Chief ./HOD javedjamaluddin@gmail.com 9867647741

متعلقہ

Close