سیاستہندوستان

مظفر نگر: سانپ اور سیڑھی کا  کھیل، کوئی پاس کو ئی فیل

ڈاکٹر سلیم خان

ملوکیت کوشطرنج کی بازی سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ شطرنج کی ہر  چال  بہت سوچ سمجھ کر چلی جاتی تھی۔ اس کھیل میں  نتائج کی ذمہ داری پوری طرح کھلاڑی  یا اس کے اقدام پر ہوتی تھی۔ یہ کھیل جستہ جستہ آگے بڑھتا اور اس میں  اتفاقات کا عمل دخل کم ہی  ہوتا۔ اس کے برعکس  جمہوریت سانپ اور سیڑھی کا کھیل  ہے۔ اس میں چال پانسے کے بھروسے چلی جاتی ہے جس پر کھلاڑی کا اختیار نہیں ہوتا۔ اس کھیل کی  بساط پر بہت ساری چھوٹی بڑی سیڑھیاں اور کئی  لمبے چوڑے سانپ  پھیلے ہوتے ہیں۔ کب؟ کس کو؟؟ کون سی؟؟؟ سیڑھی ہاتھ آجائے  اور وہ عروج کی بلندیوں پر پہنچا جائے یہ کہنا بہت مشکل ہوتا ہے اور کب کسے کون سا سانپ کاٹ کر  اس  کامستقبل تاریک کردے اس کا اندازہ بھی ناممکن ہوتا ہے۔  انتخابی سیاست کو اسی تقدیر کی کرشمہ سازی  نے اتنا دلچسپ بنادیا ہے کہ اس کے سامنے سارے تفریحی ڈرامے پھیکے پڑ جاتے ہیں اور بڑی بڑی فلمیں پٹ جاتی ہیں۔ انتخابی نتائج پر سجنے والے سٹہّ بازار کے آگے کرکٹ کے جوے کی  چکا چوند بھی  ماند پڑ جاتی ہے۔

گجرات کے  گودھرا کی سابرمتی ایکسپریس میں لگنے والی آگ سے جو فائدہ اٹھایا گیا تھا اسی کو مظفر نگر میں دوہرایا گیا۔ مظفر نگر فساد کی ابتداء  ۲۷ اگست ؁۲۰۱۳ کو شاہنواز نامی ایک مسلم نوجوان کے قتل سے ہوئی تھی۔ پولیس نے  اس معاملے میں ۸ لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔ ان میں سے  دو ملزمین  سچن اور گورو کی کوال گاؤں میں بھیڑ نے شاہنواز کے قتل کے انتقام میں پیٹ پیٹ‌کرہلاک  کر دیا۔  بی جے پی نے اس قتل  کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی غرض سے کرفیو  کے باوجود  کھاپ  پنچایت بلائی۔  اس میں اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعہ   مذہبی  جذبات کو بھڑکا کر نفرت پھیلانے کی مذموم کوشش کی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ  یوپی کے اندر اپنی نوعیت کا منفرد فساد پھوٹ پڑا۔

مظفرنگر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں برپا ہونے والے  فرقہ وارانہ تشدد میں جملہ ۶۲  لوگوں کی موت ہوئی جن میں سے ۴۲ مسلمان اور ۲۰ ہندو تھے  لیکن اس کے سبب خوف و ہراس کا ایسا ما حول بنایا گیا کہ ۴۰ ہزار سے زیادہ لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی  جن میں سے بیشتر مسلمان تھے ۔ اس وقت مرکز میں کانگریس اور اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی کی حکومت تھی۔ جاٹوں کو بھڑکا کر چونکہ فساد میں ملوث کیا گیا تھا اس لیے سماجوادی پارٹی کو ان کے خلاف سخت اقدامات کرناپڑے پر مجبور ہونا پڑا۔ سماجوادیوں کا  اس میں کوئی سیاسی نقصان نہیں تھا کیونکہ  وہ  مسلمانوں کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے  تھے نیز جاٹ ویسے بھی راشٹریہ لوک دل کے ساتھ تھے۔ مسلمان  صوبے کے دوسرے علاقوں میں تو سماجوادی کو ووٹ دیتے تھے مگر مظفر نگر کے گردو نواح میں آر ایل ڈی کے ساتھ  تھے۔ اس لیے اجیت سنگھ نے مفاہمت کی راہ اپنائی ۔

اس صورتحال میں  سارے مسلمان سماجوادی   کو اپنا نجات دہندہ سمجھ کر اس کے ساتھ ہوگئے اور جاٹوں نے بی جے پی کو اپنا ہمدرد  جان کر اس کا دامن تھام لیا۔ ؁۲۰۱۴ کے قومی انتخابات میں  اس تقسیم  کا بی جے پی کو زبردست فائدہ ملا  اور آر ایل ڈی کا صفایا ہوگیا۔ اس کے صدر اجیت سنگھ اور ان کا بیٹا  جینت چودھری بھی انتخاب ہار گئے۔ مظفر نگر کا فساد جہاں بی جے پی کے لیے سیڑھی ثابت ہوا وہیں آر ایل ڈی کے لیے ایک اژدھا کر اس کو سالم نگل گیا۔ چرن سنگھ کی پارٹی  عالمِ سکرات میں مبتلاء ہوگئی۔ ؁۲۰۱۷  کے صوبائی انتخاب سے قبل  اس علاقہ کا جاٹ نوٹ بندی اور دیگر کسان دشمن پالیسیوں کے سبب بی جے پی سے بیزار ہوچکا تھا اور اپنی پرانی پارٹی آر ایل ڈی کی طرف لوٹنا چاہتا تھا لیکن چونکہ مسلمان ہنوز سماجوادی پارٹی کے ساتھ تھے اس لیے اس نے سوچا آرایل ڈی کی حمایت کرکے  اپنے ووٹ کو ضائع کرنے سے بہتر ہے  پھر سے کمل پر مہر لگادی  جائے۔ یہی وجہ ہے کہ  کیرانہ کے پارلیمانی حلقہ کی ۵ میں سے  اسمبلی ۴ نشستوں پر بی جے پی کامیاب ہوگئی۔

 اس ضمنی انتخاب سے قبل  سماجوادی پارٹی کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ وہ مسلمانوں کے بل بوتے پر انتخاب جیت نہیں سکتی اس لیے ۲۹ فیصد ووٹ حاصل کرنے والی سائیکل  ۴ء۳ فیصد ووٹ پانے والے ہینڈ پمپ کے حق میں دست بردار ہوگئی۔  یہ ایک نہایت حقیقت پسندانہ فیصلہ تھا۔ اس بار  ٹکٹ ایک مسلمان امیدوار کو دے کر مسلمانوں کا ووٹ یقینی  بنایا  گیا اور جاٹوں کے اندر یہ اعتماد پیدا کیا گیا کہ مسلمانوں کی واپسی سے کامیابی کے امکان روشن ہوگئے ہیں۔ اس حکمت عملی کے سبب انتخابی مہم کی باگ ڈور جینت چودھری کے حوالے کی گئی۔ یوگی ادیتیہ ناتھ کے للکارنے کے باوجودکہ’ اکھلیش  میں اگر ہمت ہے تو یہاں آکر دکھائیں‘‘ سابق وزیر اعلیٰ  نے خود کو دور رکھا تاکہ بی جے پی ان کے ذریعہ جاٹوں کو بھڑکانے کا موقع نہ ملے۔ یہی وہ سیڑھی ہے جس نے  آر ایل ڈی میں نئی روح پھونک دی  اور یوگی جی کو اس سانپ نے ایسے ڈسا کہ وہ  کراہنے پر مجبور ہوگئے۔

کیرانہ ضمنی انتخاب کی نگرانی بی جے پی نے مظفر نگر کے رکن پارلیمان سنجیوبالیان کو سونپی تھی۔ انہوں شکست کا سبب بتاتے ہوئے کہا کہ گنے کےبقایہ  کی عدم ادائیگی سے کسان ناراض ہوگئے۔یوگی جی نے بھی غالباً امیت شاہ سے ملاقات کرکے یہی رونا رویا ہو۔ اس لیے مرکزی حکومت نے گنا کسانوں کی بقایہ رقم ادائیگی کے لیے ۷۰۰۰ہزار کروڈ مختص کیے حالانکہ اس کا تخمینہ ۱۳۰۰۰ کروڈ ہے۔ یہ دراصل ایک خودفریبی ہے جس کا شکار ہوکر بی جے پی دوسروں کو بھی گمراہ کررہی ہے۔ علاقائی سطح پر ظاہر ہونے والے اعدادوشمار گنے کو شکست کی وجہ نہیں مانتےکیونکہ گنگوہ اور نکوڑ کے علاقہ میں  ۷۰ فیصد ادائیگی  کے باوجود بی جے پی  کو سب سے کم ووٹ ملے۔ تھانہ بھون میں ۵۳ فیصد بھگتان  ہوالیکن بی جے پی ۱۴ ہزار سے پچھڑی۔ کیرانہ میں ۵۰ فیصدی رقم ادا ہوگئی تھی پھر  بھی بی جے پی کا فائدہ نہیں ہوا۔ شاملی میں سب سے کم گنے کے بقایہ ادا کیے گئے لیکن وہاں بی جے پی نے آر ایل ڈی سے زیادہ ووٹ پائے۔ اس لیے اگر بی جے پی یہ سوچتی ہے کہ سرکاری خزانے سے روپیہ خرچ کرکے اپنے سیاسی نقصان کی بھرپائی کرلے گی تو یہ خوش  فہمی اس کو مہنگی پڑے گی۔

شاملی کے  بی جے پی رہنما پون طرار  کے مطابق گنے کی ادائیگی سرے سے شکست  کی وجہ  ہی نہیں ہے بلکہ یہ فرق  دلتوں کی ناراضگی سے پڑا ہے۔  ایسا لگتا ہے کہ وزیراعلیٰ یوگی جی کو بھی اس کا قلق ہےجس کا اعتراف  ایک خطاب عام میں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کام کرنے کے باوجود ہمیں عوام نے کریڈیٹ نہیں دیا۔ دلتوں کے لئے کچھ بھی نہ کرنے والے لوگ بی جے پی پر دلت مخالف ہونے کا الزام لگا رہے ہیں۔ قالین کی صنعت کے لیے مشہور  بھدوہی میں ۸۲؍ کروڑ کے ترقیاتی کاموں کی نقاب کشائی کیا۔ دلتوں کے آگے گہار لگاتے ہوئے وہ بولے  جو آپ کی ترقی کرے اور آپ کو تحفظات دے او رآپ کو کھلی فضا میں سانس لینے کی سہولت فراہم کرے اور سرکاری اسکیموں کافائدہ پہنچائے اس بی جے پی کی حمایت کریں۔ویسے ترقی کا کام تو اکھلیش بھی نے  بہت کیا تھا لیکن بی جے پی اس کی مخالفت کرتی رہی اور جہاں تک ترقیاتی مہمات کا سوال ہے  ان کا اعلان تو یوگی اور مودی جی خوب کرتے ہیں لیکن عملدرآمد کی کمی سارا کام خراب کردیتی ہے۔

 اس شکست کا ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ رام بھکت یوگی جی نے سریو ندی کے کنارے پر ایک لاکھ دیئے جلانے کے بجائے اب ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘  کا نعرہ یاد آگیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جب سنگھاسن ڈولتا ہے تو انسان کی عقل ٹھکانے آتی ہے۔ اسی لیے پہلی بار ان کے منہ سے یہ الفاظ نکلے ہیں کہ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ آپ نے ہمیں ووٹ دیا ہے یا نہیں ہم سب کی عزت کرتے ہیں اورسبھی کی  ترقی کے لئے کام کرنے میں لگے ہیں۔ مرکزی اور ریاستی حکومتیں ’’ سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘‘کے تحت کام کررہی ہیں۔ اس دعویٰ میں اگر حقیقت ہوتی تو یوگی جی کو رونے دھونے کی نوبت نہ آتی۔ سی ایس ڈی کے حالیہ جائزے کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں دلتوں کے اندر بی جے پی کے رسوخ ۲۴  سے  ۳۳ فیصد تک پہنچا جس سے صوبائی انتخاب میں بہت بڑا فائدہ ہوا لیکن اب وہ گھٹ کر  ۲۲ فیصد پر آگیا۔اس کے برعکس دلتوں میں کانگریس کی پذیرائی۱۸ سے ۲۰ اور امسال  ۲۳  فیصدپر پہنچ گئی ہے جو بی جے پی سے ایک فیصد زیادہ ہے۔ اس کے باوجود مدھیہ پردیش میں کانگریس نے بہوجن سماج پارٹی کے ساتھ الحاق کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایسا لگتا ہے مسلسل چار شکست کے بعد امیت شاہ نے یوگی جی کو ایک ایسے کام میں لگایا ہے جو تقریباً ناممکن ہے اور اس میں ناکامی  کے بعد ان کے پاس کمل اٹھا کر بن باس لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچے گا۔ رام جنم بھومی کے حوالے سے وزیرا عظم کی خاموشی سنتوں اور ہندو تنظیموں کو کھٹکنے لگی ہے۔ اس لیے  وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ ایودھیا کے ذمہ  سنتوں کو سمجھانے منانے کا دیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے  جمعرات کو لکھنؤ میں ملیں گے۔

اس ملاقات کے دوران رام مندر کی تعمیر کے مطالبہ سے لے کر گھاگھرا کا نام بدل کر سریو رکھنے کی مانگ بھی کی جائے گی۔ حالانکہ، اہم مدعا وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے خلاف سادھو سنتوں کی لام بندی ہی رہے گی۔

وزیر اعلی کو سنتوں کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔ لہذا اب سنتوں کو منانے کی ذمہ داری انہیں  دی گئی ہے۔اس مقصد کے لیے یوگی جی نے  دگمبر اکھاڑہ کے مہنت سریش داس ،رام جنم بھومی ٹرسٹ کے صدر مہنت نرتیہ گوپال داس کے جانشین مہنت كمل نين داس، بڑابھكت محل کے مہنت اودھیش داس، رام بللھا کنج کے افسر راج کمار داس اور مہنت ڈاکٹر بھرت داس کو اپنی رہائش گاہ پر بلایا۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ امیت شاہ اپنے حلیفوں کو منانے کے لیے ان کے گھر جتاتے ہیں لیکن رام جنم بھومی کے سادھو سنتوں کو خود چل کر آنا پڑتا ہے اس سے ان کی کم اہمیت کا اندازہ بہ آسانی لگایا جاسکتا ہے۔ یہ ایک سانپ ہے جس کے ڈسنے سے یوگی جی کا سورج غروب ہوسکتا ہے۔ کیرانہ کی شکست کے بعد تولین سنگھ جیسے بی جے پی کے حامی اخبارنویسوں نے یوگی کو جلدازجلد ہٹانے کا مطالبہ شروع کردیا ہے۔

اُدھر اتر پردیش سے  بی جے پی رکن پارلیمان روندر کشواہا  مرکزی وزیر ریلوے  پیوش گوئل خلاف مظاہرہ کررہے ہیں  اور رکن اسمبلی  سریندر سنگھ نے ریاست کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کے خلاف بدعنوانی  کے عروج پر مظاہرہ کررہے ہیں۔ ان سے ہٹ کر حلیف جماعت بھارتیہ سماج پارٹی کے سہیل دیو راج بھر نے یہ الزام لگایا کہ  کیشو پرشاد موریہ کے بجائے یوگی ادیتیہ ناتھ کو وزیراعلیٰ بناکر دیگر پسماندہ طبقات کے ساتھ جو دھوکہ بازی کی گئی اس کا خمیازہ  بی جے پی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ راج بھر کی بات میں دم ہے۔ ؁۲۰۱۴ میں خود نریندرمودی کو پسماندہ امیدوار کے طور پر پیش کیا گیا اور وہ حربہ خاصہ کامیاب رہا ۔ بی جے پی کو ۸۰ میں سے ۷۱ نشستوں پر کامیابی ملی۔ اس وقت بی جے پی کی صوبائی اکائی کا صدر  براہمن  لکشمی کانت باجپائی تھے۔

 اسمبلی انتخاب سے قبل پسماندہ طبقات کو فریب دینے کے لیے امیت شاہ نے  باجپائی کو ہٹا کر کیشو پرشاد موریہ کو کے ہاتھ میں پارٹی کی کمان سونپ دی۔ پسماندہ طبقات کو یہ باور کرایا گیا کہ مرکز کی طرح صوبے میں بھی انہیں کا آدمی وزیراعلیٰ ہوگا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بی جے پی نے ایک راجپوت کو وزیراعلیٰ بنایا اور کیشو پرشاد کے ساتھ ساتھ ایک براہمن دنیش شرما کو نائب وزیراعلیٰ بنادیا۔ اس کے بعد موریہ کے سبب جو پارٹی کی صدارت خالی ہوئی تھی اس کو بھی  مہندر ناتھ پانڈے نامی براہمن سے بدل دیا گیا۔ ایسے میں پسماندہ طبقات نے یہ محسوس کیا کہ انہیں بے وقوف بنانے کے لیے موریہ کو لایا گیا اور پھر موقع ملتے ہی کنارے کردیا گیا۔ یہ بات بھی خبروں میں رہی کہ یوگی اور موریہ میں نہیں بنتی۔ اس کا ایک ثبوت تویہ  ہے کہ ۲۸ مئی کو موریہ کے دماغ کی جراحی ہوئی لیکن یوگی جی کو ان سے ملاقات کے لیے ۶ جون کو یعنی پورے ۹ دن بعد فرصت ملی۔

اقتدار میں آنے کے بعد یوگی جی نے جاٹوں کو خوش کرنے کے لیے کئی نمائشی   اقدامات کیے مثلاً ایک خصوصی  جانچ  کی ٹیم تشکیل دی  اور اس کے ذریعہ فساد میں ملوث جاٹ ملزمین کے لیے  کلین چٹ کا اہتمام کیا۔ان رہائی پانے والوں  میں وہ ۶ لوگ بھی شامل تھے  جن کے خلاف شاہنواز قتل کا مقدمہ  درج ہے۔ قدرت کا کرنا دیکھیے کہ یوگی راج  کے دہشت زدہ ماحول میں شاہنواز کے والدمحمد وسیم نے خصوصی جانچ ٹیم  کے ذریعہ ملزمین کے بے قصور ٹھہراکر کیس بند کرنےکے فیصلے کو چیلنج کردیا اور اس  نجی  شکایت کی بنیاد پر مجسٹریٹ نے خود نوٹس لے لیا۔ ایڈیشنل  چیف جسٹس مجسٹریٹ انکور شرما نے خصوصی جانچ ٹیم کی رپورٹ کر مسترد کرتے ہوئے  ملزم پرہلاد، وشن، دیویندر، جتیندر، یوگیندر اور روندر کو ۱۰  جولائی کے دن  عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔  اسی کے ساتھ اے سی جے ایم دوئم  انکور شرما نے کمال غیر جانبداری اور دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے  ۲۹ مئی کو عدالت میں پیش ہونے سے گریز کرنے والوں کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ نکال دیا۔ اس سیڑھی پر سوار ہوکر آر ایل ڈی اور سماجوادی کو اوپر چڑھنا آسان ہوگیا۔

مظفرنگر فسادات سے جڑے اس معاملے کے تعلق سے  عدالت میں پیش نہیں ہونے پرجن لوگوں کے خلاف یہ غیر ضمانتی وارنٹ جاری ہوا ہے ان میں  سابق مرکزی وزیر سنجیو بالیان، وی ایچ پی کی شعلہ بیان  سادھوی پراچی، بی جے پی کے رکن اسمبلی  امیش ملک اور ان کے دو ساتھی شامل ہیں۔ ان  ملزمین کو ۲۲جون کے دن  عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ بجنور رکن پارلیمان بھارتیندو سنگھ، اتر پردیش کے وزیر گناسریش رانا اور رکن اسمبلی  سنگیت سوم نے عدالت میں حاضر ہونے سے معذوری ظاہر کی تھی جسے قبول کرکے چھوٹ دی گئی لیکن مقدمہ تو بہر حال ان پر بھی چلے گا۔ استغاثہ کے مطابق، ملزمین پر حکم امتنائی  کی خلاف ورزی اور انتطامیہ    کے کام میں رکاوٹ ڈالنے اور بیجا رکاوٹ ڈالنے کے الزامات ہیں۔ یوگی جی کے راج میں یہ دوسرا موقع ہے اس سے قبل  دسمبر ؁۲۰۱۷ میں بھی ایڈیشنل  چیف جسٹس مجسٹریٹ نے غیرضمانتی وارنٹ جاری کرتے ہوئے ملزمین  کو عدالت میں پیش ہونے کے لئے کہا تھا۔

یہ عجیب صورتحال  ہے کہ  مجلس قانون ساز کے ارکان دستور پر ہاتھ رکھ کر اس سے وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں اور خود آئین کو پامال کرتے ہیں۔ حزب اختلاف میں بی جے پی  مظفر نگر فسادات کی سیڑھی پر چڑھ کر اقتدار میں پہنچی تھی لیکن اب اقتدار میں آنے بعد اسی  سانپ سے   انکور شرما جیسے مجسٹریٹ  اس کو ڈس رہے ہیں۔  سانپ سیڑھی کا یہ کھیل تماشہ  بدستور جاری ہے اور اس کے چلتے گھڑی میں کوئی تولہ ہوجاتا ہے اور گھڑی میں کوئی ماشہ۔ پردہ گرنے تک یونی ؁۲۰۱۹ کے قومی انتخاب تک  ناظرین اس کھیل سے لطف اندوز ہوتےر ہیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close