سیاست

مغربی بنگال میں نفرت انگیز مہم کس طرح چلائی جارہی ہے؟

عبدالعزیز

  آج 15 اکتوبر کی اشاعت میں انگریزی روزنامہ ’دی ٹیلیگراف‘ کے صفحہ 24 پر نوجوان ڈرامہ رائٹر اور ناول نگار سوئبل داس گپتا کا ایک انٹرویو شائع ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ آر ایس ایس مغربی بنگال میں نفرت کا زہر کس طرح پھیلا رہا ہے۔ سوئبل داس نے آر ایس ایس اور اس کی سرگرمیوں کو قریب سے دیکھنے کیلئے اس کے رضا کاروں میں شامل ہوا۔ اس کی شاکھاؤں میں جا جا کر پریڈ کرتا رہا۔ جب جاکر اسے آر ایس ایس کے غیر انسانی اور ظالمانہ منصوبہ کا براہ راست علم ہوا۔ تقریباً ایک سال آر ایس ایس میں شمولیت رہی۔ آج بھی بہتوں سے اس کے تعلقات قائم ہیں۔

 ایک رپورٹ چند مہینے پہلے اخباروں میں شائع ہوئی تھی کہ بی جے پی کے ٹریڈ سیل ضلع جنوبی چوبیس پرگنہ کے سابق کنوینر سنتوش کمار کو گرفتار کرلیا گیا۔ داس گپتا کے بیان کے مطابق کمار نے یہ تسلیم کرلیا ہے کہ کیسے وہ سوشل میڈیا کے ذریعہ دہشت پھیلانے کے منصوبے میں شامل تھا اور کیسے اس منصوبہ کو ساشترا پوجا، ہتھیار پوجا اور وجے دشمی کے بعد عملی طور پر پورا کیا جائے گا؟ مسٹر کمار نے یہ بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ غیر انسانی منصوبہ کی تکمیل اس لئے کی جانے والی تھی کہ محترمہ ممتا بنرجی نے یکم اکتوبر کو مورتی بھسان پر پابندی عائد کر دی تھی کیونکہ اس روز مسلمانوں کا تہوار محرم تھا۔ تعزیہ اور اکھاڑہ نکلنے کا دن تھا۔ یہ کام انتقام لینے کے جذبہ سے کیا جانے والا تھا۔

 داس گپتا نے موسم گرما کے 2016ء میں آر ایس ایس میں رضاکار کے طور پر شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ کہتا ہے کہ میں اس تنظیم کا والنٹیئر اس لئے بنا کہ میں اچھی طرح سے معلوم کرسکوں کہ کس طرح آر ایس ایس نوجوانوں اور بچوں کے ذہن کو ہندو مت اور تاریخ کے نام پر گمراہ اور خوفناک بنانے کی کوشش کررہا ہے؟ اگر چہ مجھے سراغ لگانے میں بہت بڑی کامیابی نہیں ہوئی کہ وہ کس طرح اپنے دشمنوں کو تکلیف پہنچانے کا کام کرتا ہے اور ریاست میں فساد برپا کرنے کا کام انجام دیتا ہے؟

 2014ء میں سوئبل داس گپتا نے پنجاب کالج سے اپنی انجینئرنگ کی بی ٹیک (B. Tech) کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد اس نے جنانانیا منچ جو جنم کے نام سے مشہور ہے، اس کا حصہ بنا۔ یہ تھیٹر 1970ء میں انقلابیوں بشمول مقتول صدر ہاشمی کے ذریعہ قائم ہوا۔ داس گپتا کے والدین اپنے بیٹے کو اس طرح کے تھیٹروں سے رشتہ رکھنے میں منع کرتے تھے پھر بھی دس گپتا نے جوائن کیا۔

داس گپتا نے بیان کیا ہے کہ وہ آر ایس ایس کے کے ایک ڈرامہ میں حصہ لیا جس میں ایک وزیر نے تقریر میں کہاکہ بھگوان گنیش کے سرکی کس طرح دنیا میں پہلی بار پلاسٹک سرجری ہوئی ۔ منسٹر نے کہاکہ قطب مینار وشنو مینار ہے۔ سامعین دو حصے میں منقسم ہوگئے۔ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ اس طرح کی باتیں آر ایس ایس کے اسکولوں میں پڑھائی جاتی ہیں ۔

 ہاشمی کی بیوی مولیا شری سے داس گپتا سے انٹرویو لینے والے نامہ نگار پرسن چودھری کو بتایا کہ ’’داس گپتا ہم لوگوں کے ساتھ کچھ مدت کیلئے ساتھ تھے۔ اس زمانے میں وہ ایک ڈرامہ لکھ رہے تھے۔ میں اس کی تفصیل سے ناواقف ہوں ۔ اس کی ان کی پرسنل ونچر تھی۔ میرا پھر ان سے کوئی رابطہ نہیں رہا، شاید ان کو فون نمبر تبدیل ہوگیا یا وہ دہلی سے کلکتہ چلے گئے۔ اس کی یہ اسکیم تھی کہ وہ آر ایس ایس میں شمولیت اختیار کرکے اس کی سرگرمیوں کو قریب سے جائزہ لینے کے بعد آر ایس ایس پر ایک پلے رائٹ کریں گے‘‘۔ داس گپتا ہاشمی میموریل ٹرسٹ کے ویب سائٹ کو اکثر و بیشتر دیکھتے تھے جس سے ان کی معلومات میں اضافہ ہوا کہ آر ایس ایس کے اسکولوں میں فرقہ واریت کو فروغ کس طرح دیا جاتا ہے۔ پہلے داس گپتا نے دہلی میں آر ایس ایس کے چند اسکولوں میں رسائی حاصل کی۔ وہ اسکول کے اساتذہ اور طلبہ سے گفتگو کرنے کے خواہاں تھے مگر ان کو ٹیچروں او طلبہ سے بات کرنے نہیں دیا گیایہ سمجھ کر کہ یہ باہری آدمی ہیں ۔ یہاں تک کہ انھیں کیمپس میں بھی جانے نہیں دیا گیا۔ اسی بنا پر سوئبل داس گپتا نے آر ایس ایس کے رضاکاروں کی ٹیم میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ داس گپتا نے اپنی ایک نئی شناخت ظاہر کرنا شروع کیا اور وہ داس گپتا سے داس مجمدار ہوگئے۔ اس طرح وہ آر ایس ایس کی طلبہ تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP) میں شامل ہوگئے اور پورے طور پر سنگھی ہوگئے۔

حسن اتفاق سے اسی زمانے میں وہ مغربی بنگال کیلئے ایک ایسے نوجوان کی تلاش میں تھے جو ہندی اچھی طرح بول سکتا ہو اور بنگالی ہو۔ داس گپتا اچھی طرح سے ہندی اور انگریزی میں بول سکتے تھے۔ سوئبل داس گپتا آر ایس ایس کے ہندو نظریہ کو گہرائی سے ریسرچ کرنے لگا۔ داس گپتا کا کہنا ہے کہ ’’شروع میں جب میں آر ایس ایس کے مختلف لوگوں سے ملنے جلنے لگا اور انٹرویو لینے لگا تو ان کو مجھ پر شک و شبہ ہوا کہ میں صحافی ہوں ، لیکن جب میں چینار پارک کی ساکھاؤں میں شامل ہونے لگا تو وہ لوگ مجھ پر اعتماد کرنے لگے۔ ان لوگوں کے ساتھ مجھے جسمانی ورزش بھی کرنی پڑی اور ڈسپلن کی پابندی بھی کی۔ پہلے لوگوں کو ہندو کلچر سے واقف کرایا جاتا ہے پھر انھیں ہندو ، ہندی اور ہندستان کی برتری کا علم دیا جاتا ہے اور انھیں تکثیری معاشرہ کی مخالفت کا سبق پڑھایا جاتا ہے پھر سب سے آخر میں انھیں خوف و ہراس کی بات بتائی جاتی ہے اور ہندوؤں کو مظلوم بتایا جاتا ہے۔ انھیں صاف صاف بتایا جاتا ہے کہ مسلم اقلیت تمہیں قتل کر دے گی۔ تمہیں اپنی بقا کیلئے مسلمانوں سے لڑائی لڑنی ہوگی۔ ذات پات کے نظام کے بارے میں بھی وہ آگاہ کرتے ہیں ۔ داس گپتا نے یہ بھی نوٹس کیا کہ شہروں میں رہنے والے نوجوانوں کو قومیت اور ہندستان کے شاندار ماضی بتاتے ہیں ۔ اس کے برعکس اب نوجوانوں کو دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔غلط پروپیگنڈہ کرتے ہیں اور مسلمانوں کو کمتر اورملیچھ بتاتے ہیں ۔

 سوئبل داس گپتا کا بیان ہے کہ چند مہینوں کے بعد عالمی آیورویدک کانگریس کے ایک سیمینار جسے آر ایس ایس نے آرگنائز کیا تھا شرکت کی۔ میری آنکھیں کھلی کھلی کی رہ گئیں جب ان کے ایک لیڈر نے بنگالیوں کے بارے میں بتایا کہ وہ کم تر ہندو ہوتے ہیں۔ بنگالیوں میں سنسکرتی نہیں ریکرتی ہے۔ ان کے اندر کلچر نام کی چیز نہیں بلکہ مسخ شدہ کلچر ہے۔ گپتا کا کہنا ہے کہ ’’میں نے اس طرح کی باتوں کی ریکارڈنگ کی ہے اور نفرت کے پروپیگنڈے کے مواد کی باقاعدہ اسکریننگ بھی کر رکھی ہے‘‘۔

ہندو سمیتی: سوئبل داس گپتا نے تپن گھوش کی ہندو سمیتی کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھا ہے۔ ہندو سمیتی آر ایس ایس اور بی جے پی سے مل کر کام کرتی ہے اور اپنے آپ کو غیر سیاسی جماعت یا ادارہ سے تعبیر کرتی ہے اور مظلوم ہندوؤں کیلئے کام کرتی ہے۔ اس سمیتی کا لیڈر تپن گھوش ہے۔ اس کے ویب سائٹ اور ٹوئٹر پر لکھا رہتا ہے کہ وہ ہندوؤں کی ایسی تنظیم ہے جو کسی سے بھی کسی قسم کی مصالحت اور مفاہمت نہیں کرتی۔ وہ اسلامی جارحیت اور توسیع پسندی کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے۔ گھوش کا کہنا ہے کہ وہ پچیس سال تک آر ایس ایس میں پرچارک تھا؛ چونکہ آر ایس ایس اپنے مقصد سے بھٹک گیا ہے۔ اس لئے اس نے نئی جماعت تشکیل دی ہے۔ گھوش کا کہنا ہے کہ یہ آر ایس ایس کی حکمت عملی ہوتی ہے کہ جب کوئی بے نقاب ہوجاتا ہے تو اس کو اپنے سے جدا بتاتا ہے۔ جب مغربی بنگال میں سنتوش کمار کو فرقہ وارانہ سرگرمیوں کی وجہ سے گرفتار کرلیا گیا تو آر ایس ایس نے سنتوش کو اپنی جماعت سے خارج کردیا۔ بی جے پی کے ایک لیڈر نے سنتوش کمار کے بارے میں بتایا کہ اس کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ داس گپتا نے اپنے انٹرویو میں کہاکہ آر ایس ایس کی طرف سے جو جارحیت اور جرائم مغربی بنگال میں بم اور ہتھیاروں کے ذریعہ کئے جارہے ہیں اسے جلد طشت از بام کروں گا وہ کس طرح بم اور ہتھیاروں کو جمع کر رہے ہیں اس کو بھی بے نقاب کروں گا۔

  داس گپتا نے یہ بھی ظاہر کیا کہ اسے معلوم ہے کہ جب وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی ننگی جارحیت کو بے نقاب کرے گا تو اسے ڈرایا اور جان سے مار دینے کی دھمکی دی جائے گی مگر اس کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔ اس نے بتایا کہ آر ایس ایس یا بی جے پی ’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی اختیار کر رہی ہے۔  داس گپتا نے کہاکہ ’’ابھی بھی آر ایس ایس کے رینگ اور فائل (لیڈرس اور کیڈرس) سے رابطہ میں ہوں ۔ اس میں کچھ لوگ ہیں جو منحرف ہیں اور کچھ لوگ آر ایس ایس کے اصولوں اور نظریے سے پورے طور پر اتفاق رکھتے ہیں ‘‘۔ داس گپتا نے آخر میں کہاکہ اسی سال اس کی ایک کتاب منظر عام پر آنے والی ہے جس میں آر ایس ایس کی اور بہت سی باتیں منظر پر لائی جائیں گی، جسے جان کر لوگ حیرت زدہ رہ جائیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. لاس اینجلس کے ڈاکٹر ابراہام انسانی روح کا وزن معلوم کرنے کے لیے نزع کے شکار لوگوں پر پانج سال میں 1200 تجربے کیے۔اس سلسلے میں اس نے شیشے کے باکس کا ایک انتہائی حساس ترازو بنایا،وہ مریض کو اس ترازو پر لٹاتا،مریض کےپھیپھڑوں کی آکسیجن کا وزن کرتا، مریض کے جسم کا وزن کرتا ہے اور اس کے مرنے کا انتظار کرتا ہے,مرنے کے فوراً بعد اس کا وزن نوٹ کرتا ہے۔ڈاکٹر ابراہام نے سینکڑوں تجربات کے بعد اعلان کیا کہ انسانی روح کا وزن 21 گرام ہے ابراہام کا کہنا تھا کہ انسانی روح اس 21 گرام آکسیجن کا نام ہے جو پھیپھڑوں کے کونوں،کھدروں،درزوں اور لکیروں میں چھپی رہتی ہے،موت ہچکی کی صورت میں انسانی جسم پر وار کرتی ہے اور پھیپھڑوں کی تہوں میں چھپی اس 21 گرام آکسیجن کو باہر دھکیل دیتی ہے اس کے بعد انسانی جسم کے سارے سیل مر جاتے ہیں اور انسان فوت ہوجاتا ہے ۔۔۔
    ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ 21 گرام کتنے ہوتے ہیں ۔۔؟؟
    21 گرام لوہے کے 14چھوٹے سے دانے ہوتے ہیں ،ایک ٹماٹر ،پیاز کی ایک پرت،ریت کی چھہ چٹکیاں اور پانج ٹشو پیپر ہوتے ہیں ۔۔ یہ آپ اور ہماری اوقات ہے لیکن ہم بھی کیا لوگ ہیں ہم 21 گرام کے انسان خود کو کھربوں ٹن وزنی کائنات کا خدا سمجھتے ہیں ______________________
    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر روح کا وزن 21 گرام ہے تو ان 21 گراموں میں ہماری خواہشوں کا وزن کتنا ہے؟؟؟
    اس میں ہماری نفرتیں،لالچ،ہیراپھیری،چالاکی،سازشیں،ہماری گردن کی اکڑ ،ہمارے لہجے کے غرور کا وزن کتنا ہے ؟؟؟؟؟۔۔۔
    میں نے کسی جگہ پڑھا تھا کہ تبت کے لوگ 21 گراموں کی اس زندگی کو موم سمجھتے ہیں،یہ لوگ صبح کے وقت موم کے دس بیس مجسمے بناتے ہیں ان میں ہر مجسمہ ان کی کسی نا کسی خواہش کی نمائندگی کرتا ہے،دن کو سورج کی تپش میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ مجسمے پگھلتے ہیں شام تک ان کی دہلیز پر موم کے چند آنسووں کے سوا کچھ نہیں بچتا یہ لوگ ان آنسووں کو دیکھتے ہیں اور اپنے آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ تھی میری ساری خواہشیں؟ اور اس کے بعد ان کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔۔
    ہم 21 گرام کے انسان جوخود کو 21 گرام کے کروڑوں انسانوں کا حکمران سمجھتے ہیں ہم وقت کو اپنا غلام اور زمانے کو اپنا ملازم سمجھتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں بس ذرا سی تپش ،بس ذرا سی ایک ہچکی ہمارے اختیار ہمارے اقتدار ہماری اکڑ،غرور اور چالاکی کی موم کو پگھلا دے گی ،اور جب یہ 21 گرام ھوا ہمارے جسم سے باہر نکل جائے گی تو ہم تاریخ کی سلوں تلےدفن ہوجائیں گے اور 21 گرام کا کوئی دوسرا انسان ہماری
    جگہ لے لے گا ________________________

    #منقول

متعلقہ

Close