سیاستطنزو مزاح

مغل سرائے سے دین دیال تک

ڈاکٹر سلیم خان

للن مشرا  نے جب بچپن کے دوست  کلن شرما کو دہلی ہوڑا راجدھانی ایکسپریس میں  دیکھا تو باغ باغ ہوگیا اور پوچھا کیوں بھائی شرما کہاں کا ارادہ ہے ؟

کلن نے جواب دیا جہاں ٹرین جائے گی اور آپ جائیں گے وہیں ہم بھی جائیں گے۔ اب ٹرین کا اسٹیرنگ ہمارے ہاتھ میں تھوڑی نا ہے؟

یہ کیا بات ہوئی ؟یہ  ڈورنٹو تو ہے نہیں  کہ دہلی سے چلی تو سیدھے ہوڑا۔ یہ بیچ میں کئی جگہ رکے گی اور ہم جہاں مرضی ہو اتر سکتے ہیں۔

کلن بولا جی ہاں بات تو سہی ہے۔ ویسے میں ہوڑا جارہا ہوں آپ اپنی بتاو؟

میں مغل سرائے اتر کر ڈفرین نکل جاوں گا۔

مغل سرائے ؟ یہ کون سا اسٹیشن ہے؟

للن نے کہا ارے آپ مغل سرائے بھول گئے۔ اس روٹ پر سب سے مصروف جنکشن وہی تو ہے۔

کلن بولا ہے نہیں تھا۔

اچھا تو کیا اسے بھی بابری مسجد کی طرح منہدم کردیا گیا؟

نہیں بھائی ایساکرنے سے ان کوکون سے ووٹ  مل والے تھے  جو اسے مسمار کردیتے۔

تو کیا اس کو اٹل جی کے نام سے منسوب کردیا ؟ آج کل ان پر یہ نیا بخار چڑھا ہوا ہے۔

نہیں بھائی ایسی بات نہیں۔ اٹل جی کی موت سے پہلے ہی مغل سرائے اسٹیشن  پر بھگوا رنگ لگا کر اسے دین دیال جنکشن بنا دیا گیا۔

ایک ہی بات ہے۔ یہ لوگ اور کرہی کیا سکتے ہیں ؟

کلن نے حیرت سے پوچھا کیا مطلب ؟ مغل سرائے کو پنڈت دین دیال اپادھیائے جنکشن بنا دینا کوئی معمولی کام ہے؟

اس میں کون سی بڑی بات ہے؟ وقفہ وقفہ سےہر اسٹیشن کی رنگائی پوتائی ہوتی ہے اور اس کے بعد نام بھی دوبارہ لکھا جاتا ہے۔ اس بار سفید کے بجائے گیروا رنگ پوت دیا گیا اور مغل سرائے کے بجائے دین دیال لکھ دیا گیالیکن پنڈت جی  کے نام پر بھی  ٹھیکے میں رشوت وہی پہلے والی دی گئی  ہوگی؟

کلن نے سوال کیا اچھا اگر یہ بڑی بات نہیں تو  آپ بتائیے کہ ہمارے یوگی جی اپنے گرو کوشردھانجلی دینے کے لیے   کیا کرتے ؟

کرنے کےبہت کام ہیں مثلاً مغلوں کی طرح دین دیال کے نام پر کوئی سرائے بنادیتےیا انگریزوں کی مانند  متھرا کے پاس نیا اسٹیشن کھڑا کردیتے۔

یہ متھرا بیچ میں کیسے آگیا ؟

دین دیا ل وہیں پیدا ہوئے تھے  کچھ نہیں تو ورنداون میں بیواوں کے لیے ان کی یاد میں کوئی آشرم ہی تعمیر کردیتے تو بیچاری بوڑھی خواتین کا بھلا ہوجاتا

بھائی دیکھو ایسا ہے کہ آج کل ہمارے پردھان سیوک مسلمان خواتین کی فلاح بہبود کی بابت سنجیدہ ہوگئی ہے کیا تم نےان کے من کی بات نہیں سنی ؟

ارے بھائی ہم لوگ ان کے من کی بات سن سن کر پک گئے ہیں اب انہیں چاہیے کہ ہمارے من کی بات سنیں۔

دیکھو بھائی للن آشرم کھولنے کا کام تو کوئی بھی خیراتی ادارہ  کرسکتا ہے لیکنہمارے یوگی جی  نے پنڈت دین دیال اپادھیائے کا نام روشن کردیا ہے۔

دین دیال تو بیچارے خود اپنا نام روشن نہ کرسکے۔ جنگ آزادی سے دور  رہے جن سنگھ بنی تو شیاما پرشاد مکرجی کے نائب تھے۔ پارلیمانی انتخاب لڑا تو ہار گئے

ویسے توسنگھ پریوار  کسی نے  کوئی قابل قدر کام  نہیں کیا۔ تو کیا ان کے نام پر کوئی یادگارہی  نہیں قائم کی جائے ؟ہر جگہ   صرف نہرو  اور گاندھی کا نام ہو؟

یہ کس نے کہا۔ اسی مغل سرائے میں لال بہادر شاستری پیدا ہوئے۔ وہ وزیرریلوے بھی تھے۔ انہوں غیر معمولی اصلاحات کیں۔ ایک حادثہ ہوگیا تو استعفیٰ دے دیا اور بعد میں وزیر اعظم بھی ہوئے۔ وہ تو نہرو خاندان میں نہیں تھے یہ لوگ  انہیں  کیوں نہیں  یاد کرتے ۔

لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ مغل سرائے جنکشن  پر مسلمان دہشت گردوں نے   دین دیال کو قتل کردیا  تھا۔

بکواس کرتے ہو شرما جی۔ ان کے قتل پرپہلے سی بی آئی اور پھرجسٹس  چندرچڈتحقیق کرکے اس نتیجے پر پہنچے کہ انہیں چوروں نے نیچے ڈھکیل دیا تھا۔

اچھا مشرا جی یہ بتائیے کہ آخر کوئی تو وجہ ہوگی جو یوگی جی یہ سب کررہے ہیں ؟

بھائی کلن تمہارے یوگی جی کا دعویٰ ہے کہ وہ  ایک ہزار سالہ مسلمانوں کی غلامی کی نشانیاں مٹا دینا چاہتے ہیں۔

اچھا لیکن میں نے تو سنا ہے کہ جس گورکھ ناتھ مندر کے وہ مہنت ہیں اس کی زمین بھی سراج الدولہ کی عطا کردہ ہے۔ اس کا کیا کریں گے؟

یہ تو بھائی تم انہیں سے پوچھو۔ مجھے تو لگتا ہے وہ بھی  پردھان سیوک کی طرح نوٹنکی کرتے ہوئے اپنی مدت کار پوری کرکے چلے جائیں گے۔

شرماجی نے جھنجھلاکر کہا لیکن وہ  مغلوں کی کس کس نشانی کو مٹائیں گے؟ کیا تاج محل کو بھی بھگوا رنگ دے کر گوروگولوالکر کی سمادھی بنادیں  گے۔

دیکھو کلن وہ ایسا تو نہیں کرسکتے اس لیے کہ دنیا بھرسے تاج محل کو دیکھنے کے لیے آنے والے سیاحوں کا سلسلہ بند ہوجائے گا۔

سیاحوں کو اس سے کیا مطلب کہ وہ شاہجہاں کی یادگار ہے یا گرو جی کی وہ تو خوبصورت عمارت کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔

ٹھیک ہے لیکن اگر بی جے پی والے اپنے عیش کے لیے سات ستارہ دفتر بناسکتے ہیں تو اپنے گرو کی یادگار کیوں نہیں بناپاتے۔ دوسروں کے مال پر کیوں رال ٹپکاتے ہیں۔ میں تو کہتا ہوں اگر یہی حال رہا تو شاہجہاں کے تاج محل  کو دیکھنے بھی کوئی سیلانی نہیں آئے گا۔

یہ پیشنگوئی آپ کس بناء پر کر رہے ہیں؟

بنانا تو دور بی جے پی والے پرانی یادگاروں  کو سنبھال بھی نہیں پارہے ہیں اس لیے انتظام و انصرام کا کام  ٹھیکے پر اٹھا یا جا رہاہے۔  لال قلعہ کے بعدتاج محل !

لیکن سنا ہے عدالت عظمیٰ نے اس پر پابندی لگا دی ہے؟

جی ہاں اس نے غصہ ہوکر کہہ دیا اگر سنبھال نہیں سکتے تو ڈھادو؟

اچھا تو اس کے جواب میں سرکار کیا بولی؟

وہ کیا بولتی سر جھکا کر چلی آئی اور وعدہ کیا کہ بہتر حکمت عملی بناکر پیش کریں گے۔

کلن نے سوال کیا اچھا مشرا جی آپ ہی بتائیں  کیا ہمیں اپنے  اس عظیم دانشور کو کوئی خراج عقیدت پیش نہیں کرنا چاہیے؟

اس سے کون منع کرتا ہے آپ دن رات ان کے بھجن گائیے لیکن اس طرح کے تماشے کرکے عوام کو کم ازکم بے وقوف تو نہ بنائیں ؟

کیا آپ کو نہیں لگتا ہے کہ اسٹیشن اپیادھیائے جی  کے نام کردینے سے لوگ ان کے بارے میں جانیں گے اور انہیں یاد رکھیں گے ؟

 اچھا یہ بتاو کہ تمہارا گھر کس سڑک پر ہے ؟

شرماجی نے دماغ پر زور دے کر گھنٹہ گھر سڑک کہتے ہیں۔ نام کیا ہے ٹھیک سے پتہ نہیں۔

میں بتاتا ہوں۔ اس کا نام سبرامنیم بھارتی روڈ ہے اب بتاو کہ تم اس تمل  مجاہدِ آزادی  کے بارے میں کیا جانتے  ہو اور اسے کتنا یاد کرتے ہو؟

شرما جی کی حالت خراب ہوگئی تھی وہ بولے اچھا اگر  یہ فضول کا نمائشی کام  ہے توآپ ہی بتاو کہ یوگی جی کو کیا کرنا چاہیے ؟

میں کیوں بتاوں یہ تو ان کے ساتھی وزیر راج بھر نے بتادیا کہ نام بدلنے سے گاڑی وقت پر نہیں چلے گی انتظام بدلیے تاکہ مسافروں کو راحت ملے۔

کلن بولا میں سمجھ گیا مشرا جی آپ اندر سے کانگریسی ہیں اس لیے اس نام کی تبدیلی کے مخالف ہیں۔

ارے نہیں بھائی کیا  تمہیں پتہ ہے کہ جب ممبئی سے امرتسر جانے والی فرنٹیر میل کا نام بدل کر گولڈن ٹیمپل رکھا جارہا تھا تو سکھوں نے مخالفت کی تھی۔

یہ تو حیرت کی بات ہے!  سکھوں کو تو خوش ہونا چاہیے تھا  بلکہ شکریہ ادا کرنا چاہیے تھا۔

جی نہیں ان کا کہنا تھا کہ یہ گاڑی اکثر تاخیر سے چلتی ہے اب لیٹ ہوگی تو لوگ گولڈن ٹیمپل کو برا بھلا کہیں گے۔

شاید اسی لیے یوگی جی نے ٹرین کے بجائے اسٹیشن کا نام بدل دیا اس لیے وہ تو وہیں ساکت و جامد ہے۔ نہ کہیں جانا ہے اور نہ تاخیر سے آنا ہے۔

جی ہاں لیکن انہیں وہاں موجود بنارسی داس کی پان کے دوکان ضرور بند کروادینی چاہیے۔

یہ درمیان میں بنارسی داس پان والا کہاں سے چلا آیا وہ تو مغل سرائے میرا مطلب دین دیا ل کی پہچان ہے۔

جی ہاں۔ اس لیے کہ پہلے لوگ بنارسی داس  کا پان کھاکر مغل سرائے پر تھوکتے تھے لیکن اب۰۰۰۰۰۰۰ تم سمجھ گئے نا؟

کلن شرما نے للن مشرا کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور پھر ہاتھ جوڑ کر بولے ان بس بھی کیجیے مشرا جی غلطی ہوگئی وہ تو اچھا ہوا اٹل کا نام نہیں رکھا۔

راجدھانی میں اعلان ہورہا تھا ابھی  بھوجن  سیو ا آرمبھ ہو رہی ہے کلن مشرا کو بہانہ مل گیا وہ بولا آئیے شرما جی بھوجن  کا مزہ لیتے ہیں۔

مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close