سیاستہندوستان

ملائم سنگھ کے بعد نتیش کمار مودی بھکت!

عبدالعزیز

وزیر اعظم کیلئے نریندر مودی کی امیدواری کی نامزدگی کے خلاف سب سے پُر زور آواز نتیش کمار نے بلند کی تھی۔ بہار کے اسمبلی الیکشن میں بھی نتیش کمار نے اپنے پرانے حریف لالو پرساد یادو سے مل کر بی جے پی کے خلاف مہا گٹھ بندھن (عظیم اتحاد) کی تشکیل کی تھی۔ مودی اور بھاجپا کی کاٹ زوروں پر کرتے تھے مگر اب آہستہ آہستہ نتیش کمار کو بھاجپا اور مودی دونوں میں گُن دکھائی دینے لگا ہے۔ اپوزیشن کے اتحاد کے پہلے نتیش میر کارواں بنے ہوئے تھے مگر اب وہ سابق وزیر اعلیٰ اتر پردیش ملائم سنگھ کے نقش قدم پر چلنے لگے ہیں ۔ نتیش کمار نے جب بہار میں عظیم اتحاد قائم کرنے کی کوشش شروع کی تو ملائم سنگھ بھی بات چیت میں ساتھ رہتے تھے اور جب جنتا دل پریوار کو اکٹھا کرنے کی بات آئی تب بھی ملائم سنگھ کو نتیش کمار آگے رکھنے کی حتی الامکان کوشش کرتے تھے مگر اچانک ملائم سنگھ میں تبدیلی پیدا ہوئی اور انھوں نے نہ صرف ’’عظیم اتحاد‘‘ سے دوری اختیار کی بلکہ بھاجپا کی کامیابی کیلئے راہیں ہموار کرنے لگے اور کہاکہ بہار میں مہا گٹھ بندھن کی کامیابی نہیں ہوگی، بھاجپا کی جیت ہوگی۔ نتیش کمار ملائم سنگھ کے اس رویہ سے حیرت زدہ تھے کہ آخر ملائم کو ہوا کیا جب وہ اپوزیشن اتحا دکے حق میں تھے اور بات چیت میں شامل تھے مگر اچانک اپوزیشن سے الگ تھلگ ہوگئے۔ آج بالکل یہی حالت نتیش کمار کی ہے۔

 نتیش کمار نے اپوزیشن اتحاد کیلئے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی سے کئی بار ملاقاتیں کیں اور دیگر اپوزیشن لیڈروں سے صدارتی انتخاب کے سلسلے میں متحد ہونے کی ایک بار نہیں کئی بار ملاقاتیں کیں مگر اچانک جب وقت آنے لگا تو نتیش کمار اپوزیشن کی میٹنگوں سے دوری اختیار کرنے لگے۔ رام ناتھ کووند کا صدارتی امیدوار کے طور پر نام آنے سے پہلے ہی راہ فرار اختیار کرنے لگے۔ 26مئی کو صدارتی امیدوار کے سلسلے میں اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ دہلی میں تھی جس میں نتیش کمار نے شرکت سے اپنی مجبوری ظاہر کی لیکن دوسرے ہی دن مریطانیہ کے وزیر اعظم کے اعزاز میں مودی جی کی جانب سے ظہرانہ (ڈنر) میں شریک ہوئے۔ نتیش کمار نے نریندر مودی کی نوٹ بندی کی بھی اپوزیشن پارٹیوں کے موقف سے ہٹ کر پرزور حمایت کی اور یہ کہتے رہے کہ وہ حمایت تو کر رہے ہیں مگر اس کے نفع و نقصان کا ضرور جائزہ لیں گے مگر جائزہ لینے کی نوبت نہیں آئی۔ نتیش کمار اپوزیشن پارٹیوں کے واحد وزیر اعلیٰ ہیں جو سنگھ پریوار کے نظریہ ساز دین دیال اپادھیائے کی برسی منانے والی یادگار کمیٹی کے ممبر ہیں۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ نتیش کمار کو بھاجپا کے نظریۂ سیاست اور فرقہ پرستی سے کوئی بیر فی الحال نہیں ہے کیونکہ دین دیال اپادھیائے سنگھ پریوار کی ان نظریہ ساز شخصیتوں میں سے ہیں جو آر ایس ایس کے فرقہ پرستانہ نقطہ نظر کے کٹر حامی ہیں۔

 نتیش کمار نے لالو پرساد سے الگ ہوکر این ڈی اے یعنی بھاجپا سے ناطہ جوڑا تھا مگر مودی کی شخصیت سے انھیں الجھن تھی اس لئے وہ بھاجپا یا این ڈی اے سے الگ ہوگئے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھاجپا کے کام کاج سے ان کو کوئی اختلاف نہیں ہے۔نریند مودی کی شخصیت سے جو انھیں الجھن تھی، مودی نے اپنی ملاقاتوں سے وہ الجھن بھی دور کردی ہے۔

 معاملہ یہ ہے کہ نتیش کمار نے اسمبلی کا الیکشن مودی کے خیالات اور ان کی پارٹی کی فرقہ وارانہ سیاست کے خلاف لڑا تھا۔ بی جے پی کو ’بڑا جُھٹھا پارٹی‘ کہتے تھے اور مودی کو ملک کیلئے خطرہ بتاتے تھے۔ آج وہ بڑا جھٹھا پارٹی ان کیلئے محبوب نظر ہوگئی اور مودی کی ہر بات انھیں آہستہ آہستہ اچھی اور پسندیدہ لگنے لگی۔ کانگریس جس کے ساتھ ان کا بہار میں اتحاد ہے وہ ان کو کاٹ کھانے لگی اور لالو پرساد جس کی پارٹی کے بغیر ان کی حکومت بھی قائم نہیں رہ سکتی وہ بھی ان کو ناپسند لگنے لگے ۔ ایک سب سے بڑی وجہ تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ بہار میں آر جے ڈی اور کانگریس کے بغیر بھاجپا کی مدد سے حکومت قائم رکھ سکتے ہیں ۔ کانگریس اور آر جے ڈی ان کی مجبوری نہیں ہے۔ دوسری وجہ شاید یہ ہے کہ لالو پرساد کے ساتھ رہنے میں انھیں کلیت پسندی حاصل نہیں ہورہی ہے۔ وہ بے چینی (Un Comfortable) محسوس کر تے ہیں ۔ حقیقت ہے کہ لالو پرساد شروع سے فرقہ پرستوں کے نشانے پر رہے ہیں کیونکہ لالو پرساد فرقہ پرستوں کے خلاف محاذ بنانے میں کبھی کسی سے پیچھے نہیں رہے بلکہ آگے آگے رہے ہیں ۔ نتیش کمار کو آر جے ڈی اور بھاجپا کے لوگوں کے ساتھ مل کر حکومت کرنے کا تجربہ ہے۔ ممکن ہے وہ بھاجپا کو آر جے ڈی پر ترجیح دے رہے ہیں ۔

نتیش کمار کی دیکھا جائے تو بہار کے عوام کے ساتھ بے وفائی ہے ۔ جب وہ بھاجپا کے ساتھ الیکشن لڑکر وزیر اعلیٰ ہوئے تو بھاجپا مودی کی وجہ سے گوارا نہیں ہوئی اور وہ بھاجپا سے الگ ہوگئے۔ اس وقت بھاجپا کے لوگ کہتے تھے کہ یہ نتیش کمار کی سراسر عوام کے ساتھ بے وفائی اور وعدہ خلافی ہے ۔ آج آر جے ڈی اور کانگریس والوں کی مجبوریاں ہیں وہ شاید بھاجپاکی طرف علم بغاوت بلند نہ کرسکیں کیونکہ سب مل کر بہار کی حکومت میں شامل ہیں ۔

آر جے ڈی کے ترجمان منوج جھا نے کہاہے کہ نتیش کمار کے رویہ اور اپوزیشن اتحاد سے دوری اختیار کرنے کی وجہ سے بہار کے اتحاد میں کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر دراڑ پر داڑ اس قدر ہوتی جارہی ہے کہ ایک نہ ایک دن فرق پڑسکتا ہے۔

 آر جے ڈی کے ایک لیڈر نے کہاہے کہ اپوزیشن کی لڑائی کسی فرد واحد سے نہیں ہے کہ وہ صدر یا وزیر اعظم ہوتا ہے بلکہ اس نظریہ اور خیال سے ہے جس سے ملک میں فرقہ پرستی بڑھ رہی ہے۔ خانہ جنگی کی شکل اور ایمرجنسی کی کیفیت پیدا ہورہی ہے۔ آر جے ڈی لیڈر نے بالکل صحیح اور سچی بات کہی ہے کہ نتیش کمار جس انداز سے سیاست کر رہے ہیں ان کا انداز یہی ہے کہ وہ مودی یا کووند کی کبھی مخالفت اور کبھی حمایت کر دیں اور ان کی سیاست پر حرف نہیں آئے گا۔ افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ جس نتیش کمار کے بارے میں یہ سوچا جارہا تھا کہ ہوسکتا ہے 2019ء میں انھیں وزیر اعظم کی امیدواری کیلئے ایک بڑا چہرہ بناکر پیش کیا جائے وہی مودی بھکتی کا 2019ء سے پہلے شکار ہوگیا۔ یہ اچھا ہوا کہ نتیش کمار نے اپنی اصلی شکل لوگوں کو دکھادی ہے کہ وہ فرقہ پرستی کے کتنے مخالف ہیں اور کس قدر حامی ہیں ۔ وہ اس وقت دو کشتی میں سوار ہیں ۔ شیطان اور شیخ کو ایک ساتھ خوش رکھنا چاہتے ہیں ۔

جے ڈی (یو) کے جنرل سکریٹری کے سی تیاگی نے کہاہے کہ جے ڈی (یو) کسی ایک معاملہ کی وجہ سے اپوزیشن اتحاد سے ہٹا نہیں ہے بلکہ اتحاد میں شامل ہے۔ تیاگی کی بھی بات عجیب ہے کہ جب اتحاد کا وقت آیا تو اتحاد میں پھوٹ ڈال دیا، اسے کمزور کردیا اور اتحاد سے ہٹے بھی نہیں ہیں اور اتحاد کی مخالفت میں بھی ہیں ۔ اسی کو سیاسی منافقت کہتے ہیں کہ جس کے نتیش کمار اور تیاگی جیسے لوگ شکار ہیں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close