سیاست

ملک میں جو ہورہا ہے، نام اس کا الیکشن ہی ہے

حفیظ نعمانی

انسانی زندگی کی اکثر چیزوں کا انحصار عمر پر ہوتا ہے موسم کی تبدیلی کے موقع پر کون ہے جسے کچھ نہ کچھ جھیلنا نہ پڑتا ہو؟ ہم بھی جوانی میں چھینکتے اور کھانستے جاتے تھے اور زندگی کے فرائض ادا کرتے جاتے تھے۔ لیکن اس عمر میں کہ جب جی چاہتا ہے کہ مکھی بھی کوئی اور اُڑا دے ایسے میں زبردست حملہ نے دس دن کے لئے ناکارہ بنا دیا۔ اور جس کی زندگی کی مصروفیت ہی جب قلم کے ذریعہ دل کا بخار نکالنا ہو اور وہ اس زمانہ میں بستر پر لٹا دیا جائے جب دن میں دوبار لکھنے کی اس لئے ضرورت ہو کہ ملک کے زمین و آسمان کے اُلٹنے کی جنگ چل رہی ہے؟

سب کو معلوم ہے کہ نیند کا تعلق بھی عمر سے ہی ہے… اس عمر میں جہاں ہم آگئے ہیں کیسی نیند کہاں کا سونا۔ اور اس کا نتیجہ یہ تھا صرف اخبارات پڑھ کر اور ٹی وی سن کر خیال کے قلم سے دماغ میں لکھنا اور مٹانا مشغلہ رہ گیا تھا۔ ان دنوں میں جو کچھ ہوا اس کا تجزیہ کیا تو اس نتیجہ پر پہونچے کہ اپنے ملک میں جو ہورہا ہے اور جسے الیکشن کہا جارہا ہے کیا واقعی وہ الیکشن ہیں؟ اپنے ملک کے سیاسی لیڈروں نے جو رنگ دکھائے اور جو کچھ زبان سے کہا اور جیسی جیسی شرمناک حرکتیں کیں ان پر غمزدہ ہوکر جب یادوں کے خزانہ کو کھولا تو یاد آیا۔

1945 ء میں دوسری جنگ عظیم ختم ہوگئی تھی وزیراعظم چرچل نے اپنی حکمت عملی سے برطانیہ کو تباہ ہونے سے بچا لیا۔ حالات اتنے خطرناک تھے کہ چرچل نے لندن سے 50  میل دور جنگل میں فوجی چھاونیوں کی طرح عارضی شہر بنایا اور شیرخوار بچوں سے 10  سال کے بچوں تک کو ان کی مائوں کے ساتھ وہاں منتقل کردیا کہ اگر لندن اور ہم سب تباہ بھی ہوجائیں تو یہ بچے بڑے ہوکر اپنے ملک کو سنبھال لیں گے۔ چرچل کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ راشن میں فی کس ایک سیر شکر ملتی تھی جنگ کی وجہ سے قلت ہوگئی تو فیصلہ کیا کہ آدھا سیر کردی جائے۔ حکومت کے فیصلہ کرنے اور اس کے چھپنے میں دیر ہوگئی اور راشن والے راشن لے گئے۔ وزیراعظم چرچل نے قوم سے اپیل کی کہ جن لوگوں نے سب خرچ نہ کی ہو وہ آدھی شکر واپس کردیں۔ اور ہوا یہ کہ چند کے علاوہ ہر آدمی نے آدھی شکر واپس کردی۔ ایسے نہ جانے کتنے واقعات ہیں ہمارے عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب جنگ کے بعد حالات معمول پر آگئے اور نئے الیکشن ہوئے تو برطانیہ ہی نہیں پوری دنیا سمجھ رہی تھی کہ چرچل بلامقابلہ وزیراعظم بن جائیں گے لیکن زندہ قوم نے ان کو ہرادیا۔ اور کہا یہ گیا کہ جنگ کے زمانہ کے لئے چرچل بہت کامیاب ہیں لیکن امن کے زمانہ کے لئے مناسب نہیں۔

یہ ہیں وہ انگریز جن سے ہم اقتدار کے لئے الیکشن کا سبق لے کر آئے ہیں مگر ہم جو کپڑا لائے تھے اس کا سوٹ بنانے کے بجائے ایک دھوتی بنالی اور کوٹ ایسا بنایا جو نہ کوٹ ہے نہ شیروانی۔ نام الیکشن ہے۔ ایک بات اور عرض کردوں کہ ہم نے جو لکھا وہ پرانی تاریخ ہے اب 1968 ء سے ہمارے بڑے بھائی لندن میں ہیں وہ بہت بڑے صحافی ہیں لیکن وہاں وہ قرآن شریف پر کام کررہے ہیں لیکن ذہن سیاسی ہے اور وہاں کے شہری ہونے کی وجہ سے ووٹ دینے کی حد تک الیکشن میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ جب وہاں کے واقعات سناتے ہیں جن میں سے اکثر اخباروں اور ٹی وی سے معلوم ہوتے رہتے ہیں اور ان کا اپنے الیکشن سے موازنہ کرتے ہیں تو جو اُن کے دل پر گذرتی ہے اسے وہ اور ہم ہی سمجھ سکتے ہیں۔ قسمت کی بات ہے کہ آجکل وہ دہلی میں ہیں اور بہت بیمار ہیں وہ اگر ٹھیک ہوتے اور ان کو معلوم ہوتا کہ وزیراعظم اپنی زندگی پر فلم بنوا رہے ہیں ظاہر ہے کہ اس میں جھوٹ کے علاوہ کچھ ہو ہی نہیں سکتا اور ان کے پروپیگنڈہ میں جو ایک دو کو چھوڑکر تمام چینل ذبح کئے ہوئے بکرے کی طرح مودی مودی کرتے ہیں مودی جی کو وہ بھی کم لگ رہے ہیں اس کے لئے نموچینل جس کا سرکاری دفتر یا کسی سرکاری افسر سے کوئی تعلق نہیں وہ وزیراعظم کا قصیدہ اور جھوٹی سچی باتیں دن رات برسا رہا ہے وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم کو ہر حال میں الیکشن جیتنا ہے چاہے ملک تباہ ہوجائے۔

ملک میں بی جے پی کی حکومت ہے کہا جاتا ہے کہ دنیا کی سیاسی پارٹیوں میں وہ سب سے بڑی ہے۔ پانچ سال پہلے اس کے 282  ممبر جیتے تھے۔ پارٹی کے سب سے بڑے ہونے اور 282  سیٹیں جیتنے کا سہرا امت شاہ کے سر بندھا ہے۔ وہ اگر اتنے ہی بڑے سیاست داں ہیں تو پانچ برس میں ان کے لئے کوئی مشکل نہیں تھا کہ 250  ایسے آدمی ان کروڑوں ممبروں میں سے چھانٹ لیتے جو مخالف پارٹی کے ممبروں کے مقابلہ پر لڑسکیں۔ لیکن دیکھنے والے دیکھ رہے ہیں کہ پارٹی بالکل دیوالیہ ہے۔ دوسری پارٹی سے جو لیڈر اسے چھوڑکر آتا ہے اسے کچھ بھی پوچھے بغیر گلے لگا لیا جاتا ہے اور فوراً ٹکٹ دے دیا جاتا ہے ایک پرانی ہیروئن جو برسوں ملائم سنگھ کی پارٹی میں رہی لال ٹوپی بھی سر پر رکھے رہی برسوں کے بعد اسے چھوڑکر امرسنگھ کے ساتھ گئی ان کی پارٹی میں سب کچھ کیا اب سب کو چھوڑکر وہ بی جے پی میں آئی اسے فوراً ٹکٹ دیا اور رام پور بھیج دیا۔

راجستھان کا ایک گوجر جس کا کام صرف گوجروں کے ریزرویشن کے لئے تحریک چلانا اور ریل کی پٹری پر سب کو لے کر بیٹھ جانا ہے اور اس نے اب تک کئی سو کروڑ کا حکومت کا نقصان کیا ہوگا وہ کانگریس چھوڑکر آیا اسے فوراً پارٹی میں لے لیا اب ٹکٹ بھی دے دیا جائے گا۔ حکومت کے وزیروں کا یہ حال ہے کہ اگر مسلمانوں نے ووٹ نہیں دیئے تو پھر ان کا کام نہیں ہوگا ایک صوبہ کا وزیراعلیٰ حضرت علیؓ اور بجرنگ بلی کو بانٹ رہا ہے شرم نہیں آتی کہ انتہائی ڈھیلے ڈھالے الیکشن کمشنر نے وزیراعلیٰ اور وزیر کو 48  گھنٹے چپ رہنے کی سزا دی۔

دس دن بستر پر پڑے پڑے یہ نتیجہ نکالا کہ ملک میں الیکشن ہو ہی نہیں رہا کچھ گروہ ہیں جن کا ماضی داغدار ہے اور پاپوں کی گھڑی سر پر رکھی ہے وہ سب اور ان کو دیکھ کر ملک کے تمام چھنٹے ہوئے غنڈے سرکاری دلال ٹیکس چور بینکوں کے کروڑوں کے مقروض دس دس سنگین مقدموں میں پھنسے کروڑوں کا ٹکٹ خریدتے ہیں اور پھر سیکڑوں کروڑ خرچ کرکے لوک سبھا کے ممبر بن جاتے ہیں اور پانچ برس کے لئے سرکاری قلعہ میں محفوظ ہوکر جتنا خرچ کرکے آئے تھے اس کا دوگنا کما کرکے دوبارہ الیکشن لڑتے ہیں اس کا نام تو بیشک الیکشن ہے لیکن حقیقت میں ملک بھر کے چھنٹے ہوئے بدمعاشوں کا ٹکرائو ہے جن کی سرپرستی رنگ برنگے سیاسی لیڈر کررہے ہیں ان کے بارے میں اگر ہم نے دس دن تیر نہیں مارا تو کیا ہوا؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close