سیاست

ملک میں قدم قدم پر انہونی ذمہ دار کون؟

وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کا چوتھا سال سب کی معافی اور سب کے گناہ معاف پر ختم ہورہا ہے۔

حفیظ نعمانی

وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کا چوتھا سال سب کی معافی اور سب کے گناہ معاف پر ختم ہورہا ہے۔ اُترپردیش کے سنیاسی وزیراعلیٰ نے اپنے خلاف چل رہے مقدمات اور بی جے پی کے ہر لیڈر کے خلاف چل رہے ہر طرح کے مقدمات کو واپس لینے کا عمل شروع کردیا ہے۔ حیدر آباد میں مکہ مسجد کے بم دھماکے کے پانچوں ذمہ داروں کو بری کرادیا گیا ہے۔ گجرات کی سابق وزیر مایا کوڈنانی کو بھی شبہ کا فائدہ دے کر بری کرادیا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کس نے کب کیا کیا تھا اور کیا کہا تھا؟

کل ایک اہم اخبار کی شاہ سرخی تھی کہ ’’جسٹس بی ایچ لویا کو کب ملے گا انصاف؟‘‘ بات وہی ہے کہ جس کے خلاف سب اشارے کررہے ہیں اس کی کمر پر ملک کا سب سے طاقتور ہاتھ رکھا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ جس کو وزیرداخلہ ہوتے ہوئے سی بی آئی گرفتار کرکے جیل میں ڈال دے۔ پھر اسے سپریم کورٹ سے ضمانت مل سکے اور اس شرط پر کہ وہ گجرات میں قدم نہیں رکھے گا۔ اس شرط کو ختم کرانے کے لئے حکومت لاکھوں روپئے خرچ کرکے ایک ڈرامہ کرائے اور ایک دہشت گرد سے امریکہ کی جیل میں رہتے ہوئے یہ کہلائے کہ عشرت کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا۔ اور گجرات کا دروازہ کھول دیاجائے۔ اور ضمانت پر ہوتے ہوئے اسے ملک کی حکمراں پارٹی کا صدر بنا دیا جائے تو پھر کون ہے جو اس کی طرف آنے والے تیروں کو روکنا اپنا فرض نہ سمجھے؟

جسٹس بی ایچ لویا سی بی آئی کی عدالت کے خصوصی جج تھے۔ انہوں نے بار بار سی بی آئی کے افسروں سے کہا کہ مسٹر شاہ طلب کرنے پر بھی عدالت نہیں آتے۔ اور ممبئی میں ہوتے ہوئے بھی نہیں آتے۔ لیکن ان پر کوئی اثر نہیں تھا۔ یہ بات جسٹس لویا کے انتقال کے بعد ان کے گھر سے معلوم ہوئی کہ ان کو 100  کروڑ روپئے اور ممبئی میں ایک مکان کی پیشکش اس شرط پر کی گئی تھی کہ وہ امت شاہ کو کلین چٹ دے دیں اور جسٹس لویا نے اسے ٹھکرا دیا تھا۔ ان کی موت کے بعد نہ جانے کتنی باتیں سامنے آئیں کہ ان کے کپڑوں پر خون کے دھبے تھے۔ ان کے ساتھ کوئی نہیں تھا ان کی سیکورٹی واپس لے لی گئی تھی موت کے دشت میں ہر جگہ فرق نظر آیا وہ کون تھا جس نے پوسٹ مارٹم کرایا وغیرہ وغیرہ۔

اگر جسٹس لویا شری امت شاہ کے خلاف مقدمہ نہ کررہے ہوتے، یا شری امت شاہ بی جے پی کے صدر نہ ہوتے اور وزیراعظم کا صرف داہنا ہاتھ نہیں بلکہ دونوں ہاتھ نہ ہوتے۔ تہلکہ کی سب ایڈیٹر رعنا ایوب نے اپنی کتاب میں جگہ جگہ یہ نہ لکھا ہوتا کہ جتنے بھی گجرات میں انکائونٹر ہوئے ہیں ان میں امت شاہ کا ہاتھ ہے اور یہ نہ لکھا ہوتا کہ سہراب الدین کو مرواکر اس کی بیوی کوثر کو امت شاہ نہ لے گئے ہوتے تو ان کی موت کو فطری تسلیم کیا جاسکتا تھا۔ لیکن ہر طرف سے فطری کہی جانے والی موت جب ایسے جج کی ہو جو دنیا کی سب سے بڑی پارٹی کے صدر کے مقدمہ کی سماعت کررہا ہو تو ایک نہیں بار بار اور ہر کسی کے کہنے سے اس کی تحقیق کرانا چاہئے تاکہ انصاف ہو اور انصاف ہوتا ہوا سب کو نظر آئے۔

ہم نے تین دن پہلے ایک سیشن قریشی صاحب کے ایک فیصلہ کا ذکر کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ مقتول مجسٹریٹ کی موجودگی میں جب نزاعی بیان دے اور قاتلوں کا نام بھی لے لے تو بظاہر دماغ سوزی کی ضرورت نہیں۔ لیکن ایک جج کی حیثیت سے یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ منا اور منئی میں کیا رشتہ ہے اور دونوں الگ الگ ہیں تو مارنے میں دونوں کیوں شریک تھے؟ اور منا کو کم سزا دینا اور منئی کو زیادہ دینا اس لئے ہوسکا کہ تھانہ کی مدد سے ہر طرح کی تحقیق کی گئی تب یہ معلوم ہوا کہ دونوں کی دوستی تھی اور ہر وقت ساتھ رہنے کی وجہ سے منا منئی کہا جاتا تھا۔ عدالت عظمیٰ کا یہ کہنا کہ کاروباری اور سیاسی جنگ مفاد عامہ کی درخواستوں کے ذریعے نہیں لڑی جاتی۔ ہم تو بہت معمولی آدمی ہیں ہم نہ کاروباری جنگ لڑرہے ہیں نہ سیاسی ہم تو صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ جسٹس لویا کے انتقال کے بعد صرف یہ نہیں ہوا کہ دوسرے جج کے پاس مقدمہ گیا اور جج صاحب نے کلین چٹ دے دی بلکہ اور بھی کچھ ہوا جو بڑے جج صاحب کو معلوم ہے۔ اور ان کو یہ بھی معلوم ہے کہ تقریباً چار سال کے بعد یہ مسئلہ اٹھا ہے۔ اب تک خاموشی کی وجہ یہ بھی تذکروں میں ہے کہ جسٹس لویا کے علاوہ بھی کچھ لوگ مرگئے یا مروا دیئے گئے۔ اور یہ جو 100  کروڑ روپئے اور ممبئی کے مکان کی بات آئی ہے یہ اس وقت زبان سے نکلی جب بڑے بڑے اخباروں نے اس موت پر قتل کا شبہ ظاہر کیا۔

اور یہ پے در پے ہونے والے معاملات ہی کا نتیجہ ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف مواخذہ کے نوٹس کی نوبت آگئی اور سپریم کورٹ کی زندگی میں وہ ہوا جو آج تک نہیں ہوا تھا۔ حیدر آباد میں ایک چھوٹے جج نے شاید اس لئے استعفیٰ دیا کہ وہ جو فیصلہ کرنا چاہ رہے تھے انہیں وہ نہیں کرنے دیا اور جو نہیں کرنا چاہتے تھے وہ ان کو کرنا پڑا۔ ہر جج کو ایسا ہی ہونا چاہئے اب چیف جسٹس کی آزمائش ہے ان کے سامنے رویندر ریڈی کا استعفیٰ بھی ہے اور جسٹس قریشی کا فیصلہ بھی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close