سیاست

ملک کی پولیس بھی کھل کر قاتلوں کے ساتھ

حفیظ نعمانی

گذشتہ دو برس میں صرف ایک جیسی خبر پڑھتے پڑھتے دل خون ہوگیا تھا کہ کسی مسلمان کو بی جے پی کے غنڈوں نے گئو رکشکوں کا چولہ پہن کر پیٹ پیٹ کر شہید کردیا۔ ان میں وہ بھی تھے جو مویشی بازار سے گائے خرید کر لئے جارہے تھے، وہ بھی تھے جو گوشت کا کاروبار کرتے ہیں، وہ بھی تھے جن کے پاس نہ گائے تھی نہ گوشت، وہ بھی تھے جن پر بھینس چوری کرکے لے جانے کا شبہ تھا، وہ بھی تھے جن کی عمر 70  برس تھی اور ان پر الزام تھا کہ تین نابالغ بچیوں کے ساتھ وہ چھیڑچھاڑ کررہے تھے اور وہ بھی تھا جو اپنے بھائی کے پاس آیا ہوا تھا اور تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا۔

تین دن پہلے اس پورے عرصہ میں پہلی خبر کان پور سے آئی کہ گائوں کے مسلمانوں نے ایسے چار غنڈوں کو دوڑا دوڑاکر مارا اور مارتے ہوئے پولیس چوکی لے گئے اور چوکی کے اندر بھی مارا پھر پولیس درمیان میں آگئی۔ اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ جانوروں کا تاجر عباس فتح پور کے بازار سے بھینسیں خریدکر ڈی سی ایم گاڑی میں لارہا تھا۔ چار غنڈوں نے گاڑی روکی اور عباس سے دس ہزار روپئے مانگے۔ اس نے معذوری ظاہر کی تو اس کی پٹائی شروع کردی۔ آخر اس نے دو ہزار کا وعدہ کرلیا اور غنڈے موٹر سائیکلوں سے گاڑی کے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ عباس نے ان سے بچنا چاہا تو ایک غنڈہ نے گاڑی کا اسٹیئرنگ پکڑلیا جس سے گاڑی بے قابو ہوکر ٹریکٹر سے ٹکرا گئی۔ اور عباس کو اتارکر پھر مارنا شروع کردیا۔ گاؤں کے کچھ لوگوں نے دیکھا تو وہ لاٹھیاں لے کر دوڑ پڑے اور ان چاروں غنڈوں پر ٹوٹ پڑے۔ ہم اس کی تو مبارکباد دیں گے کہ انہوں نے بہادری کا ثبوت دیا لیکن اس کی شکایت کریں گے کہ ان کو زندہ کیوں چھوڑا؟ اگر یہ چاروں مرجاتے تو یہ انصاف تھا۔ یوگی پولیس اسے کیسے برداشت کرسکتی تھی اس نے دونوں طرف کے چار چار آدمیوں کو حراست میں لے لیا۔

سپریم کورٹ نے ہجومی تشدد کے بارے میں سخت لب و لہجہ میں کہا تھا کہ حکومت کو قانون بنانا چاہئے۔ اور یہ کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔ کان پور کے معاملے میں گائے نہیں ہے اگر کوئی بھینسیں فروخت کرنے کیلئے لے جارہا ہے تو اس سے دس ہزار روپئے مانگنے والے یہ غنڈے کون ہوتے ہیں؟ اور اگر گائوں کے مسلمان عباس کو نہ بچاتے تو یہ اسے پیٹ پیٹ کر مار ڈالتے اس کے پاس جو کچھ تھا وہ لے لیتے بھینسوں کو فروخت کردیتے اس لئے کہ مودی جی نے پکوڑے بناکر بیچنے کو کاروبار کہا تھا ان کے ننگے بھوکے چاہنے والوں نے یہ روزگار اپنالیا ہے اس میں اگر چند روز کے لئے جیل بھی جانا پڑتا ہے تو وہاں بھی خاطر ہوتی ہے اور دو چار ہفتہ کے بعد جب ضمانت ہوجاتی ہے تو وزیر استقبال کرتے اور مبارکباد دیتے ہیں۔

ضرورت اس کی ہے کہ ملک کی پولیس کے رویہ کی مفصل شکایت سپریم کورٹ سے کی جائے۔ کان پور میں عباس کے مارنے والے اور اسے بچانے والے برابر کیوں ہوئے؟ بلرام پور میں 70  سالہ بزرگ جن کے خاندان والے بے ضرورت انہیں بار بار نمازی بھی کہہ رہے ہیں ان کے ساتھ جتنا شرمناک سلوک کیا گیا ہے اس میں پولیس برابر کی شریک ہے محمد اسماعیل کو شہید کرنے کے بعد پڑوس کے کرمیوں نے جیسا بہیمانہ سلوک کیا اس میں پولیس بھی شریک رہی اور اب جبکہ ہر طرف فریاد کی جارہی ہے تو ان کے گھر والوں کو دھمکی دی جارہی ہے کہ سب کا صفایا کردیا جائے گا۔ گھر کے افراد نے ایف آئی آر لکھنا چاہی تو پولیس نے ان کے بجائے ایک غیرآدمی کو بلاکر اسے بول کر درخواست لکھوائی اور جبراً اسماعیل کے بڑے بھائی کا انگوٹھا لگوالیا۔ اور پولیس اس معاملہ کو ہر حال میں ختم کرنا چاہ رہی ہے۔

یہی پرسوں دہلی میں ہوا کہ ایک 16  سال کے نابالغ لڑکے کو چوری کے الزام میں پیٹ پیٹ کر مارڈالا اور پولیس اسے 304  غیرارادی قتل کا مقدمہ بنانا چاہ رہی ہے۔ دہلی کی پولیس مرکزی حکومت کی نگرانی میں ہے۔ اگر وہ بھی قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے ہاتھ توڑنے کے بجائے ان سے محبت کرے تو انصاف کہاں ڈوب کر مرے گا۔ 302  اور 304  کا فرق تو اتنا واضح ہے کہ ہم جیسا جاہل بھی جسے پریس اور اخبار کے خلاف لگنے والی دفعات 153-A  یا ڈی آئی آر اور 144  جو ہر مہینے لگتی ہے کے علاوہ دوسری دفعات نہیں معلوم لیکن 302  اور 304  کے اتنے مقدمے اخبارات میں آتے ہیں کہ ان سے واقفیت ہوگئی ہے۔ دہلی کے مسلم دشمن پولیس والوں میں وہ کون ہے جو پیٹ پیٹ کر مار ڈالنے کو 304  ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے؟ اگر یہ 302  نہیں ہے تو پھر کوئی قتل 302  کے دائرہ میں نہیں آئے گا۔

وزیراعظم نے بار بار کہا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔ لیکن یہ ایک بار بھی نہیں کہا کہ اور اگر کسی نے قانون ہاتھ میں لیا تو…… وزیراعظم جانتے ہوں گے کہ ہندوستان میں جو قانون رائج ہیں ان میں بہت کم وہ ہیں جو ہندوستان کے کسی وزیر قانون نے بنائے ہیں۔ ان میں زیادہ تر وہ ہیں جو انگریز بنا گئے ہیں۔ ہم انہیں مشورہ دیں گے کہ وہ کچھ قانون اسلامی کتاب سے لے لیں جیسے قتل اور اقدام قتل کے مقدمے ہیں ان میں جسے جیسے قتل کیاجائے اس کی سزا یہ ہے کہ قاتل کو بھی ایسے ہی مارا جائے۔ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان۔ اگر وزیراعظم پیٹ پیٹ کر مسلمانوں کو قتل کئے جانے کو پولیس کی طرح اچھا سمجھ رہے ہیں تو ہمیں کچھ نہیں کہنا اور اگر ایک بزرگ وزیراعظم کی طرح اس کو اتنا ہی برا سمجھ رہے ہیں جتنا ہم سمجھ رہے ہیں تو پولیس کو پابند کردیں کہ اگر کچھ لوگ کسی کو پیٹ پیٹ کر ماردیں تو مارنے والوں کو تم پیٹ پیٹ کر ماردو اس سے پہلے کہ مرنے والوں کے رشتہ دار ہتھیار اٹھالیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close