سیاستہندوستان

منا بجرنگی کا قتل: جرائم کی  سیاست کا خوفناک انجام

ڈاکٹر سلیم خان

منا بجرنگی کے آگے سنجو کی منابھائی  ایم بی بی ایس  اور سلوّ کی بجرنگی بھائی جان بھی فیل ہے۔ اس لیے کہ حقیقت کے آگے خیال تو پھر ایک خیال ہے۔ بجرنگی کی زندگی جس قدر تہہ دار تھی اس کو موت کم پراسرار نہیں تھی۔بڑے سے بڑے سیاسی رہنما کے انتقال پر اتنی ویڈیوز یو ٹیوب پر نہیں ہوں گی جتنی   اکیلے منا بجرنگی کے قتل پر ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے اس کی زندگی کس قدر دلچسپ تھی اور ذرائع ابلاغ نے اس کو کتنا نمک مرچ لگا کر عوام کے سامنے پروسا۔ بی جے پی والے جس طرح سے  منا بجرنگی کی موت کا سیاسی استحصال  کررہے ہیں اس سے صاف   ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک سیاسی قتل تھا۔ منا بجرنگی کو  مختار انصاری اور عتیق احمد سے جوڑکر اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جارہی  ہے اور بار بار یہ کہا جارہا ہے کہ مختار کے اشارے پر بی جے پی رکن اسمبلی کرشنانندرائے  کا قاتل  منا بجرنگی کسی ہمدردی کا مستحق نہیں  تھا  ۔ یہ سچ تو ہے مگر  ادھورا سچ ہے۔

بی جے پی والے جس  حقیقت کو  چھپا رہے ہیں وہ ہے پریم پرکاش سنگھ عرف منا بجرنگی کا جرائم کی دنیا میں قدم رکھنے کی کہانی  اور ابتدائی زمانے میں اس کو حاصل ہونے والی سرپرستی۔  جرم کے پیشے میں منا  بجرنگی نے اپنے سفر کا آغاز ۱۹۸۴؁ کے نادر    جونپور کے مافیا گجراج  سنگھ کی گینگ میں  شامل ہوکر کیا تھا۔ اس نے پہلا قتل تو ایک تاجر کا کیا لیکن آگے چل کر  گجراج سنگھ کے اشارے پر بی جے پی رہنما رامچندر سنگھ کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بی جے پی والے رامچندر سنگھ کا ذکر اس لیے نہیں کرتے کہ اس میں کسی مسلمان کا نام شامل کرکے اسے فرقہ واریت کا رنگ نہیں دیا جاسکتا ہے۔ ۹۰ کی دہائی میں جب مختار انصاری نے دبنگائی کے علاوہ سیاست کے میدان  میں بھی  ہاتھ پیر پھیلانا شروع کیاتو منا بجرنگی اس کا دست راست  بن گیا۔

مختار انصاری کی دشمنی برجیش سنگھ سے تھی لیکن برجیش بھی کوئی دیش بھکت رابن ہڈ نہیں بلکہ داود ابراہیم کا آدمی  تھا۔ اس لحاظ سے منا بجرنگی اور برجیش سنگھ کی حالت  یکساں  تھی۔ برجیش سنگھ کی  سرپرستی میں بی جے پی رہنما کرشنانند رائے نے اپنا اثرو رسوخ بڑھانا شروع کیا۔ مختار انصاری نے جب دیکھا کہ کرشنانند اس کی سیاست کے لیے خطرہ بن رہا ہے تو منا بجرنگی کو اسے ٹھکانے  لگانے کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ اس طرح اترپردیش  کے زیرزمین دنیا میں پہلی  بار اے کے ۴۷ کا استعمال کرکے  منا بجرنگی نے اپنے نام  کا ڈنکا بجا دیا۔ منا بجرنگی کی بیوی نے  دھننجے سنگھ کے علاوہ کرشنانند کے خاندان  پر بھی قتل کی سازش  کا الزام لگایا تھا۔ بی جے پی والے باربار یاددلاتے ہیں کہ کرشنانند اور اس کے ساتھیوں  کے جسم میں سے۶۷ گولیاں نکلی تھیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ اس کشت وخون  میں جس اے کے ۴۷ کا استعمال کیا گیا وہ اسے مختارانصاری نے نہیں بلکہ داودابراہیم  کے لیے کام کرنے والے گجرات کے انردھو  سنگھ جڈیجا نے فراہم کی تھی۔

پریم پرکاش سنگھ عرف منا بجرنگی نے جرائم کی دنیا میں رہتے ہوئے سیاست میں قسمت آزمائی کی۔ سب سے پہلے اس نے غازی پور سے سے ایک کٹھ پتلی  امیدوار کو میدان میں اتارنے کا ارادہ کیا اور اس کے لیے بی جے پی سے ٹکٹ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ یہیں سے منا بجرنگی کے مختار انصاری سے تعلقات کشیدہ ہوگئے  اور انصاری نے بجرنگی  کی حمایت ترک کردی۔  بی جے پی سے مایوس ہوکر منا بجرنگی ممبئی  میں مقیم پذیر جونپور کے ایک قدآور  کانگریسی رہنما  کی پناہ میں آگیا اور صوبائی انتخاب میں اس کی حمایت بھی کی۔ منا  بجرنگی کو ہندوتوا کا مخالف کہنے والوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جس اپنا دل کے ٹکٹ پر اس  نے ۲۰۱۲؁ میں اسمبلی  انتخاب لڑا تھا وہ فی الحال  بی جے پی کے قومی جمہوری  اتحاد کا حصہ ہے۔ دن رات مختار انصاری اور عتیق احمد کی مالا جپنے والوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ برجیش سنگھ فی الحال دیوبند سے   بی جے پی کا رکن اسمبلی     ہے۔ دھننجے سنگھ بی جے پی کی بلاواسطہ حمایت سے کامیاب ہوا ہے اور راجہ بھیا کی حمایت وزیر داخلہ کرچکے ہیں۔ جو دامن ایسا تاتار ہو اسے دوسروں پر انگلی اٹھانے سے قبل دس بار بار سوچنا چاہیےنیز اس   قتل کو مذہبی رنگ دے کر اپنی سیاست چمکانے سے گریز کرنا چاہیے۔

منابجرنگی کے بھائی راجیش نے اپنے بھائی کے انتم سنسکار کے بعد  الزام لگایا ہے کہ” ریاست کے وزیر اعلیٰ  یوگی  آدتیہ ناتھ، منوج سنہا اور برجیش سنگھ نے بجرنگی کے قتل کی سازش کی ہے۔ حکومت نے سازش کے تحت جیل کے اندر بجرنگی کا قتل کرایا ہے۔ راجیش نے  ملزم راٹھی کے اس  بیان کو کہ ” بجرنگی کی پستول سے ہی بجرنگی کو گولی ماری گئی” مسترد کردیا  اور کہا کہ ”اگر بجرنگی کے ہاتھ میں پستول ہوتی تو کوئی  اس سے بچ نہیں سکتا تھا۔ راجیش نے سوال کیا کہ انتظامیہ نے جیل بھیجنے سے قبل بجرنگی کی تلاشی لی تھی، تو وہ پستول کے ساتھ اندر کیسے داخل ہوا؟ واضح رہے کہ کچھ دن قبل منا بجرنگی کی اہلیہ نے ایک پریس کانفرنس کرکے الزام عائد کیا تھا کہ” منا بجرنگی کے انکاؤنٹر کی سازش رچی جا رہی ہے”۔ انہوں نے یوپی ایس ٹی ایف پر الزام عائد کیا تھا کہ ” منا بجرنگی کا جیل میں قتل یا پھر پیشی کے دوران انکاؤنٹر کیا جا سکتا ہے”۔

آج تک چینل پر منا بجرنگی کے وکیل منوج یادو   کی ایک آڈیو سنائی گئی جس میں وہ جیل کے طبی افسر سے گفتگو کرکے اس کی  صحت کا حال دریافت کرتے ہیں۔ اس پر طبی افسر یہ کہتا ہے ڈاکٹر نے انہیں انتہائی نگہداشت میں رکھنے کا مشورہ دیا اور اس کے لیے جیل سے باہر لے جانا ضروری ہے۔  اس پر وکیل کہتا ہے  جیل کے ا ندر ہی ان کا علاج کرایا جائےباہر وہ محفوظ نہیں ہے۔ وہ صاف الفاظ میں کہتا ہے کہ باہر انہیں مار دیا گیا تو علاج کس کا کریں گے ؟ کیا لاش کا علاج کیا جائے گا ؟ اس لیے ان کا علاج جیل کے اندر ہی کرایا جائے۔ وکیل کا یہ خوف اور اندیشہ کس بات کی علامت ہے؟ اسے تو گویا یقین ہے کہ منا بجرنگی کو جیل کے باہر لے جانا گویا موت کے منہ میں جھونکنے کے مترادف ہے۔ جیل کے وکیل کے اعتراف کے باوجود  منابجرنگی کو جھانسی کی جیل سے باغپت لے جایا جانا  جبکہ اس وہاں پر تنہائی کے قیدی کے لیے ایک بھی کوٹھری خالی نہیں تھی سارے معاملے کو مشکوک بنادیتا ہے۔

منا بجرنگی کی آمد سے قبل سنیل راٹھی  کوروڈکی  جیل سے باغپت پہنچا دیا جاتا ہے کیونکہ وہ وہاں پر اپنے آپ کو غیر محفوظ ہونے کا احساس کرتا ہے۔ غور طلب یہ ہے کہ فی الحال اترپردیش اور اتراکھنڈ دونوں صوبوں میں کمل کھلا ہوا ہے۔ ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق واردات  کی رات دو گاڑیوں میں کچھ سفید پوش لوگوں نے راٹھی سے ملاقات کی اور قیاس یہ ہے اسی وقت اسے اسلحہ فراہم کردیا گیالیکن اس  ملاقات کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے اور یہ سوال صیغۂ راز میں ہے کہ وہ کون لوگ تھے؟   یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بجرنگی اور راٹھی کی گفتگو کے دوران راٹھی کو فون آیا۔ بات کرنے کے بعد اس نے بگڑ کر  بجرنگی  پر اس کی سپاری لینے کا الزام لگادیا۔ اس پر بجرنگی نے جوابی الزام لگایا اور پھر گولی چل گئی۔

 آج تک چینل کو منابجرنگی کے لاش کی دو مختلف تصاویردکھائی جاتی ہیں ۔   خون کی رنگت ان میں  پہلے والی  یا بعد والی  کا اندازہ بہ آسانی کیا جاسکتا ہے۔ دونوں میں منا کی لاش یکساں حالت میں ہے لیکن  پہلی تصویر  میں منا کے سینے پر گولی کا صرف ایک نشان ہے دوسری میں تین نشان ہیں۔  ان تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوسری تصویر کھینچنے سے قبل اس کو تین مزید گولیاں  نہایت قریب سےماری گئی تھیں اس لیے کہ بارود کا نشان بھی دکھائی دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ دو تصاویر کیوں نکالی گئیں اور کیا انہیں درمیان میں کسی کو بھیجا گیا اور اس کی ہدایت پر مزید گولیاں چلائی گئیں؟  اس طرح کے کئی سلگتے سوالات بی جے پی کے حامی سمجھے جانے والے روہت  سردھانا نے اٹھائے جن کا جواب بی جے پی کے ترجمان شلبھ منی ترپاٹھی  سے نہیں بن پڑا۔  سارا وقت وہ آئیں بائیں شائیں بکتا رہا۔ کبھی کہتا تھا حزب اختلاف  کو افسوس کیوں ہے؟ اوراس نے کس طرح اترپردیش میں جرائم کو فروغ دیا ہے۔

اتر پردیش میں  وزارت جیل  خود وزیراعلیٰ کے زیر نگیں ہے۔ اس کے باوجود جیل کے پستول پہنچ جاتی ہے۔ موبائل کا زور و شور سے استعمال ہوتا ہے۔  انٹر نیٹ پر راٹھی اپنی  تازہ تصاویر چڑھاتا ہے۔ قتل کے بعد جیل میں جشن منایا جاتا ہے۔ پستول برآمد کرنے کے لیے جب گٹر کو صاف کیا جاتا ہے تو اس میں سے کثیر تعداد میں شراب کی بوتلیں ہاتھ آتی ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے جیلوں میں خطرناک قیدیوں کا کس قدر خیال رکھا جاتا ہے  یعنی وہاں پر وہ  سب ہوتا ہے جو نہیں ہونا چاہیے مگر جو ہونا چاہیے ان میں سے کچھ نہیں ہوتا۔ جامر کام نہیں کرتا۔ کیمرے لگانے کا کام مکمل نہیں ہوتا۔ واردات ایسے مقام پر ہوتی ہے جہاں کیمرہ موجود نہیں ہوتا۔ جب یہ سب ہوجاتا ہے تو تفتیش کا آغاز کیا جاتا ہے اورافسران کو معطل کرنے کا ناٹک کھیلا  جاتا ہے۔

ایسی خطرناک واردات کو انجام دینے  کے بعد سنیل راٹھی  اس آرام سے اپنا گناہ قبول کرلیتا ہے گویا اس کو یقین ہوکہ اس کا کچھ بھی نہیں بگڑے گا اور بہت جلد وہ رہا ہوکر آزاد ہوجائے  گا۔  ورنہ کوئی دیوانہ ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ مجھے موٹا کہنے پر طیش آیا  گیا اور میں نے  پستول چھین کرگولی چلا دی۔ اس بیان کو پڑھنے کے بعد ایسا لگتا گویا منا بجرنگی جیل کے اندر پستول کو ہاتھ میں تمغہ کی طرح لیے بیٹھا تھا۔   جس صوبے کے اندر سریندر سنگھ جیسے رکن اسمبلی  اقتدار میں ہوں وہاں سنیل راٹھی کو فکرمند ہونے کی  مطلق ضرورت نہیں۔ بی جے پی رکن اسمبلی سریندر سنگھ نے  منا بجرنگی کے قتل پر خوشی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے’’ پیسے کے بل پر جیل میں کیا نہیں ہوتا۔ پیسے کے بل پر ہی جیل کاعملہ کہیں نہ کہیں بکا ہوگا۔ تبھی تو مجرم کسی نہ کسی ذریعہ سے اسلحہ اندر لے گیا‘‘۔  سریندر سنگھ نے صاف گوئی سےاعتراف کیا  کہ ’’منا بجرنگی مرگیا یہ ایشوریہ ویوستھا  (مشیت ایزدی)مانیے۔ نیایہ  (انصاف )میں دیری ہوری تھی پرکرتی (قدرت) نے اچت(مناسب) دنڈ (سزا) دے دیا۔ جس سیاسی جماعت کے ارکان اس فکر کے حامل ہوں اس سے انصاف کی توقع  کیا معنیٰ؟

اتر پردیش کو اتم پردیش بنانے  کا دعویٰ کرنے والے وزیراعلیٰ  اپنے تحت چلنے والی جیل کو تو سدھار نہیں سکے پورے صوبے کو کیا سدھاریں گے؟ اترپردیش کی ۷۱ جیلوں میں ۵۶ ہزارقیدیوں کی گنجائش ہے جبکہ ۹۶ ہزار قیدی ہیں۔ ایسے میں چاہیے تو یہ  تھا کہ ان کی دیکھ بھال کے لیے عملہ دوگنا کردیا جاتا لیکن وہ نوہزار دو سو کے بجائے چار ہزار نو سو ہے۔  یعنی طلب اور رسد کے درمیان چارگنا کا فرق۔ ۲۵ فیصد عملہ سے کیا صدفیصد کارکردگی کی توقع ممکن ہے اور اگر وہ بدعنوان  بھی تو ہو  صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ باغپت جیل کی مثال لیں تو اس میں ۱۱۹ کا عملہ ہونا چاہیے جبکہ صرف ۳۶ سے کام چلایا جارہا ہے۔ یہی حال دیگر سہولیات کا ہے مثلاً کیمرے کی تنصیب کا ہے۔  ۳۰ مارچ تک باغپت جیل میں ۳۰ کیمرے لگائے جانے تھے لیکن ایک بھی نہیں لگا ورنہ جس جگہ یہ قتل ہو ا وہ کیمرے میں قید ہوجاتا۔   ایسے جیل کے عملے پر کارروائی ہونی چاہیے یا اس وزیر پر جو ان ضروریات کی فراہمی  میں ناکام رہا ہے، لیکن جس طرح قومی سطح پر مودی جی  سے سوال پوچھنا مہاپاپ ہے ویسے ہی یوگی  جی پر تنقید بھی   گناہ عظیم سے کم نہیں ہے۔

اس قتل کے کئی سیاسی زاویئے بھی  ہیں۔ پوروانچل سے بجرنگی اور مختار کا پرانا حریف  برجیش سنگھ اپنی  شکست تسلیم کرکے قسمت آزمائی  کے لیے  مغربی یوپی پہنچ کر بی جے پی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوگیا۔  مغربی اترپردیش اور اترانچل میں اس وقت سنیل راٹھی کا بول بالہ ہے۔ مرزا پور کے جیل میں قیدسنیل راٹھی  کا رشتے دار راجیو راٹھی  کی  بجرنگی کے گرگوں   پٹائی کردی تو برجیش کے لوگوں نے اس کو بچایا۔ اس طرح مشرقی و مغربی اترپردیش کے  دو مافیا ساتھ ہوئے اور انہوں نے تیسرے کا کانٹا نکال دیا۔ ویسے سنیل راٹھی کے رگ رگ میں سیاست دوڑ رہی ہے۔ اس کے والد نریش راٹھی میرٹھ کے ٹکری نگر پنچایت کے سربراہ تھے۔ ان کے حریفوں نریش راٹھی کا قتل کردیا۔ اس کے بعد سنیل کی والدہ سرپنچ بنیں۔ اپنے والد کی موت کا بدلہ لینے کے لیے سنیل راٹھی نے اسلحہ اٹھایا تو جرم کی دنیا میں آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔سنیل نے اپنی والدہ کے لیے بہوجن سماج پارٹی کا ٹکٹ بھی حاصل کرلیا لیکن وہ انتخاب میں ہار گئیں۔ ان واقعات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں سیاست اور جرائم کے درمیان کیسا چولی دامن کا ساتھ ہے اور اس بابت کوئی بھی جماعت دودھ کی دھلی نہیں ہے۔

مشرقی اترپردیش میں منظم جرائم کا آغاز ۷۰ کی دہائی کے آغاز میں ہوا جب حکومت نے اس پسماندہ علاقہ کی ترقی کے لیے کروڈوں روپئے مختص کیے۔ اس وقت ریلوے اور پی ڈبلیوڈی کے ٹھیکے لینے کے لیے ہری شنکر تیواری نامی براہمن اور ویریندر پرتاپ ساہی نامی ٹھاکر نے ذات پات کی بنیاد پر اپنے اپنے گروہ بنائے۔ آگے چل کر  سڑک، بی ایس این ایل کے کیبل بچھانے والے، کوئلہ کی فراہمی کرنے والے اور دیگر تعمیراتی ٹھیکوں کے سبب ہےاس کاروبار میں روزآنہ کی آمدنی کروڈوں میں پہنچ گئی۔ دولت کی ریل پیل کے سبب  علاقہ کے بیروزگار نوجوان ان غنڈوں کے لیے نرم چارہ بن گئے اور یہ کاروبار خوب پھلنے پھولنے لگا۔ یہ آپسی جنگ تیز ہوئی تو تیواری نے ساہی کا کانٹا نکال دیا۔

تیواری کو وقت کے ساتھ احساس ہوگیا کہ اپنا سامراج  برقرار رکھنے کے لیے  سیاسی پناہ لازمی ہے۔ وہ سیاست میں چلا آیا اور ۶ مرتبہ رکن اسمبلی بنا۔ اس مافیا ڈان کو ملائم سنگھ کی سماجوادی پارٹی اور کلیان سنگھ کی بی جے پی  کابینہ میں  وزیر کے عہدے سے نوازہ گیا۔ ویریندر پرتاپ ساہی  کے خلاء کو ایک اور دبنگ ٹھاکر  برجیش سنگھ نے پر کیا۔ وہ بھی راٹھی کی طرح  اپنے والد کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے جرائم کی دنیا میں آیا  تھا۔ اس نے داود سے تعلقات استوار کیے اور ڈی کمپنی کے اشارے پر ارون گوولی کے آدمی کو مارنے کے لیے جے جے اسپتال پہنچ گیا۔ برجیش سنگھ نے بی جے پی کے کرشنانندرائے کو آگے بڑھا کر مختار انصاری کے بھائی افضل انصاری کو دھول چٹا دی۔ اس شکست کا بدلہ لینے کے لیے مختار نے   منا بجرنگی سے کرشنانند کا قتل کروایا۔ دلچسپ بات یہ ہے بجرنگی اور  کرشنانند دونوں بھومی ہار براہمن تھے۔

اس سیاست میں ایک ذات پات کا زاویہ بھی بنتا ہے۔  بھومی ہار دانشوروں کے مطابق اتر پردیش  صوبائی انتخاب کے بعد وزیراعلیٰ کی کرسی کے لیے جن لوگوں کا نام سرِ فہرست تھا ان میں منوج سنہا نامی  بھومی ہار براہمن بھی  شامل تھے۔ آج تک چینل ، انڈیا ٹی وی اور اے بی پی  وغیرہ  نے تو سنہا  کی پیشنگوئی  تک کردی تھی   لیکن آخری وقت میں ان کے خلاف  راجپوت اور دیگر پسماندہ طبقات کے رہنما کیشو پرشاد موریہ متحد ہوگئے۔ ان لوگوں نے  ایسی مہم چلائی کہ راجپوت یوگی  اویدیہ ناتھ وزیراعلیٰ، موریہ اور شرما نائب وزیراعلیٰ بن گئے نیز بھومی ہار ہاتھ ملتے  رہ گئے۔ سیاست کے بعد جرائم کی دنیا میں بھی وہی کہانی دوہرائی گئی۔ بھومی ہار ڈان منا بجرنگی ایک طرف ہے اور دوسری جانب  سنیل راٹھی اوربرجیش سنگھ راجپوت ہیں۔ ان کے حوصلے اس لیے بھی بلند ہیں کہ صوبے کا وزیراعلیٰ ٹھاکر  ہے۔ اس قتل کے نتیجے میں اگر بھومی ہار براہمن بی جے پی سے بددل ہوکر بی ایس پی کی جانب نکل جا تے ہیں تو یہ اس کے لیے بہت مہنگا سودہ ثابت ہوگا۔ سیاست کی بساط پر کیا ہوگا اور کیا نہیں یہ کوئی نہیں جانتا لیکن یہ بساط حرص و ہوس اور قتل وغارتگری سے لت پت ہے یہ سب جانتے ہیں۔ اس صورتحال پر  شاد عارفی کا شعر دوسرے مصرع کی تبدیلی کے ساتھ صادق آتا ہے؎

ہمارے ہاں کی سیاست کا حال مت پوچھو  

  لہولہان پرندہ ، شکستہ حال قفس

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close