سیاستہندوستان

مودی اپنے آپ کو کب اور کیسے سزا دیں گے؟

 جب کسی ملک، قوم، فرد یا جماعت میں وعدہ اور سچائی کی قیمت اور اہمیت ختم ہوجاتی ہے تو اس کے زوال کے دن بالکل قریب آجاتے ہیں۔ مودی جی ملک کے وزیر اعظم ہیں اور ان کی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی ملک کی حکمراں جماعت ہے۔ مودی جی نے وزیر اعظم کی حیثیت سے 8نومبر کو نوٹ بندی کا اعلان کیا اور کہاکہ چند دن میں حالات معمول پر آجائیں گے۔ لوگوں کو قطاروں میں کھڑے ہوکر جو تکلیف اٹھانی پڑ رہی ہے وہ ختم ہوجائے گی۔ اپنی گاڑھی کمائی کی جو رقمیں بینکوں میں لوگوں نے جمع کر رکھی ہیں ان پر سے بھی پابندی جلد اٹھالی جائے گی۔ کام کاج ٹھپ ہوگئے ہیں اور لوگ بے روزگار ہوتے جارہے ہیں ان کو ابھی روزگار سے لگا دیا جائے گا صرف یہ نہیں کہا تھا کہ جو لوگ قطاروں میں مر رہے ہیں انھیں بھی زندہ کر دیا جائے گا۔ معمول یا Normaley کی جتنی اور جس قدر ایک باتونی کی باتیں ہوسکتی ہیں۔ وہ سب باتیں اپنی عادتِ سابقہ کے مطابق کیں۔ ان کی پارٹی نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملایا جب حالات مزید خراب ہونے لگے، لوگوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہونے لگا، بینکوں کی قطاروں میں لوگوں کے مرنے کی تعداد بھی بڑھنے لگی، ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں، ایک سروے کے مطابق چار لاکھ افراد بے روزگار ہوگئے، کئی کارخانے بند ہوگئے، متعدد علاقوں کے کاروبار ٹھپ ہوگئے تو مودی جی نے ایک Deadline طے کی کہ 50 دن میں نارمل حالات ہوجائیں گے۔ لوگوں کا درد ختم ہوجائے گا۔ 30 دسمبر کا بے تابی سے لو گ انتظار کر رہے تھے۔ بھاجپا والے مودی کے 50دن کا خوب چرچا کر رہے تھے کہ بس پچاس دن آتے ہی معاملہ ٹھیک ٹھاک ہوجائے گا، جیسے دو تین دن30 دسمبر میں باقی تھے۔ مودی کے وکیلوں، دلالوں اور حاشیہ برداروں کے لب و لہجہ میں یکلخت تبدیلی ہونے لگی۔

  ایک پارٹی ترجمان مہاپاترا نے ٹی وی نیوز چینل پر بیٹھ کر کہا کہ مودی جی نے یہ نہیں کہا تھا کہ 50دن میں درد ختم ہوجائے گا بلکہ یہ کہا تھا کہ درد کم ہوجائے گا پھر دھیرے دھیرے ختم ہوجائے گا۔ جو لوگ مودی کے ماہرین اقتصادیات تھے ان کے بھی اندازِ گفتگو میں تبدیلی آگئی۔ وہ کہنے لگے معاشی محاذ کی متعین مدت (Deadline) دینا مشکل ہے۔ ہاں فوجی اقدام یا فوجی کارروائی کی بھی Deadline ہوتی ہے۔ مودی نے جس روز پچاس دن کی بات کہی تھی۔ اس روز یہ بات بھی کہی تھی کہ اگر پچاس دن میں حالات نارمل نہیں ہوئے تو پھر جو سزا مجھے آپ دینا چاہیں گے شوق سے دے سکتے ہیں۔ 50 دن پورے ہوگئے۔ مودی کی طرف سے اعلان ہوا کہ 31دسمبر کو ملک کے عوام سے خطاب کریں گے۔ لوگوں نے سمجھا کہ مودی اس دن بہت کچھ بیان کریں گے مگر اس دن بھی اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے اور اپنی سخن سازی اور اداکاری سے لوگوں کے دل ایک فلمی ایکٹر کی طرح بہلاتے رہے۔ لوگ حد سے زیادہ مایوس ہوئے کہ کھودا پہاڑا نکلا چوہا۔

 پھر بھاجپا کی طرف سے اعلان ہوا کہ 2جنوری کو مودی جی لکھنؤ میں ایک جلسہ عام کو خطاب کریں گے پھر لوگوں کی امیدیں بندھیں کہ اب مودی جی اس میں بہت کچھ اعلان کریں گے اور کچھ حل نکالیں گے مگر اس میں حاملہ عورتوں کے درد کو کم کرنے کی اسکیم پیش کی گئی۔ سینئر شہریوں کی راحت کی بات بتائی گئی، کسانوں کے دکھ کو کم کرنے کی اسکیم پیش کی گئی۔ اللہ اللہ خیر صلّا۔ نوٹ بندی کی پریشانیوں، 50دن کا وعدہ اور اپنی سزا کی تجویز جیسی کوئی بات ہی نہیں۔ بس اپوزیشن پارٹیوں کی بے ایمانی اور اپنی پارٹی کی ایمانداری کے گن گاتے رہے۔ ادھر ادھر لوگوں کا ذہن Divert کرتے رہے۔ اب ہندستانی عوام ان سے صاف صاف کہہ رہے ہیں کہ ؎

تو اِدھر اُدھر کی نہ بات کر … یہ بتا کہ قافلہ لٹا ہے کیوں ؟

  بتانا تو یہ ہے کہ یہ سارا ملک جو نوٹ بندی کی پریشانیوں میں مبتلا ہوگیا ہے۔ چند امیر خاندانوں کو چھوڑ کر سب کی پریشانیاں کب اور کیسے ختم ہوں گی؟ لوگوں کو اپنی رقم لینے کی پابندی سے جو قانون شکنی ہورہی ہے اس کا خاتمہ کب ہوگا؟ جو لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں انھیں روزی روٹی سے کیسے جوڑا جائے گا جس کے گھر کا ایک فرد کمانے والا تھا اور بینک کی قطار میں کھڑا کھڑا دم توڑ دیا اس کے گھر کا چولھا کیسے جلے گا؟ جو روپیسے بینک سے نہ ملنے پر ڈاکٹروں یا اسپتالوں کو نہ دے سکے ان کے لواحقین جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ان کا کیا ہوگا؟ جن کل کارخانے میں تالے لگ گئے ان کے تالے کب اور کیسے کھلیں گے؟ اس طرح کے ڈھیر سارے سوالات ہیں جن کا جواب دینا وزیر اعظم نریندری مودی کیلئے ضروری ہے۔ باتونی بکواس کرکے دوسروں کو زیادہ دیر تک بہلا پھسلا نہیں سکتے۔ اس سے آواز میں دھند پیدا ہوجاتی ہے اور فضا میں الجھنوں کا کہرہ چھاجاتا ہے۔ یہ بات واقعی افسوس ناک ہے کہ لکھنؤ جیسے شہر میں لاکھوں لوگ مودی کی ادھر ادھر کی باتیں سننے اور ان کا سیاسی کرتب دیکھنے چلے آئے مگر اتنے بڑے مجمع سے احتجاج یا اختلاف کی ایک آواز نہیں اٹھی ؎ ’’اللہ رے یہ سناٹا آواز نہیں آتی‘‘ کی کیفیت شروع سے آخر تک چھائی رہی۔

اسی دوران ملائم سنگھ یادو کے کنبہ کی لڑائی اتر پردیش میں موضوع بحث بن گئی، جس کی وجہ سے ہر پارٹی کے ورکر اور شیدائی نریندر مودی کا کرتب دیکھنے اور ادھر ادھر کی باتیں سننے کیلئے جمع ہوگئے۔ بھاجپا کے لوگ بہت خوش ہوئے مگر اس خوشی سے پھولے نہیں سمانا چاہئے کیونکہ بیکاری جب بڑھ جاتی ہے تو مشاعرہ، قوالی، ناٹک اور مودی جیسے سیاسی سخن ساز کی باتیں سننے اور کرتب دیکھنے کیلئے لوگ جمع ہوجاتے ہیں۔ اس وقت بھیڑ اور بھی بڑھ جاتی ہے جب لوگوں کے اندر بیکاری ہوتی ہے۔ کوئی کام کاج نہیں ہوتا۔ بھاجپا اور مودی نے مل کر لاکھوں لوگوں کو کام کاج سے محروم کر دیا ہے۔ دراصل نریندر مودی اور حاشیہ برداروں کو یہ بتانا ہوگا کہ مودی نے جو وعدہ کیا تھا اگر 50 دنوں میں حالات معمول (Normal) پر نہیں آئے تو ان کی جو سزا دینی ہے عوام ہی دے سکتے ہیں۔  کیونکہ موصوف عوام ہی سے مخاطب تھے تو اب وہ اتر پردیش اور دیگر کئی ریاستوں میں اسمبلی الیکشن ہونے والے ہیں۔ میرے خیال سے ان کی سزا اب عوام کو تجویز کرنی ہوگی۔ اس کے سوا اور کیا تجویز ہوسکتی ہے کہ جن جن ریاستوں میں الیکشن ہونے والا ہے وہاں مودی کی بھاجپا کو ووٹرس شکست فاش دیں تاکہ بھاجپا اور نریندر مودی کے ہوش ٹھکانے آجائیں۔ اس کے سوا کوئی صورت نظر نہیں آتی کیونکہ ملک کا قانون کچھ ایسا ہے کہ بڑے عہدیداروں پر منصب کی وجہ سے مقدمہ آسانی سے نہیں دائر کیا جاسکتا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close