سیاست

مودی جی اندراجی کے نقش قدم پر

وزیراعظم نریندر مودی صرف اپنے اقتدار کے لیے یہ منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

حفیظ نعمانی

وزیراعظم شری مودی نے بہت پہلے اشارہ دیا تھا کہ ’’ایک ملک ایک الیکشن‘‘ ان کا کہنا ہے کہ پانچ سال میں کوئی سال ایسا نہیں ہوتا جس میں کسی نہ کسی ریاست میں الیکشن نہ ہورہا ہو۔ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ جیسے 1952 ء سے 1967 ء تک چار جنرل الیکشن ہوئے اسی طرح اب ہر پانچ سال کے بعد جنرل الیکشن ہوں جس میں پارلیمنٹ اور صوبوں کے الیکشن ساتھ ساتھ ہوں۔ مسز اندرا گاندھی کا یہ منصوبہ یا شوق نہیں تھا بلکہ 1967 ء کے الیکشن میں کانگریس پھٹ چکی تھی اس کا ایک حصہ وہ تھا جس میں بزرگ کانگریسی تھے اور جس کے صدر اے کامراج تھے اور دوسرا کچھ دن کانگریس ایس کہلایا پھر اندرا کانگریس ہوگیا اور صوبائی الیکشن بھی دونوں کانگریس نے الگ الگ لڑے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کئی صوبوں میں کمزور حکومتیں بنیں۔

دوسرے صوبوں کی تفصیل تو یاد نہیں اُترپردیش کی  یاد ہے کہ بوڑھی کانگریس کے لیڈر سی بی گپتا تھے اور اندرا کانگریس کے کملاپتی ترپاٹھی اس الیکشن میں 198  سیٹیں گپتا جی کو ملی تھیں اور یہ سب سے زیادہ تھیں گپتا جی نے آزاد ممبروں اور چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کو ملاکر اکثریت بنالی اور حکومت کا دعویٰ پیش کردیا۔ حکومت سازی کے معاملہ میں چودھری چرن سنگھ سے گپتا جی کا اختلاف ہوگیا اور چودھری صاحب نے حکومت گرادی۔

کمزور حکومتوں کے گرنے کا سلسلہ شروع ہوا تو 9 صوبوں میں حکومت گری اور ہر جگہ باغی کانگریسیوں نے جن کانگریس بنائی اور سنیوکت وِدھائک دَل (la;qDr fo/kk;d ny)  بنالیا جس میں اندرا کانگریس سوشلسٹ پارٹی جن سنگھ کمیونسٹ پارٹی سوتنتر پارٹی اور ریپبلکن پارٹی سب شامل ہوگئے اور پھر رفتہ رفتہ 9 کے 9 صوبوں میں ایسا صدر راج ہوا کہ پھر الیکشن کرانے پڑے اور پارلیمنٹ اور ریاستوں کے الیکشن الگ الگ ہوگئے۔

وزیراعظم کو معلوم ہونا چاہئے کہ جتنی پارٹیاں اس وقت تھیں آج اس سے کہیں زیادہ پارٹیاں ہیں اور اس زمانہ میں الیکشن ہزاروں میں ہوجاتا تھا اب لاکھوں میں ہونا تو عام بات ہے ورنہ کروڑوں میں بھی ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ سوچنا کہ پارلیمنٹ میں بھی 280  سیٹیں آجائیں گی اور اُترپردیش میں بھی 325  سیٹیں مل جائیں گی دیوانوں کا خواب سے زیادہ نہیں ہے۔

وزیراعظم نے جنرل الیکشن دیکھے ہیں یا نہیں یہ وہ جانیں لیکن ہم نے دیکھے ہیں اور یہ بھی دیکھا ہے کہ اسمبلی کے الیکشن لڑانے والوں پر ہی پارلیمنٹ کے اُمیدوار کا بوجھ ہوتا تھا اور کوئی ورکر پارلیمنٹ کے اُمیدوار کو ایک پیالی چائے پلانے پر بھی آمادہ نہیں تھا۔ اس زمانہ میں اسمبلی کے اُمیدوار کے جگہ جگہ دفتر ہوتے تھے اور ان کی ہی ذمہ داری تھی کہ وہ ایم پی کا نام بھی ووٹروں کو بتائیں۔ آج صورت حال بالکل بدل گئی ہے اب اگر جنرل الیکشن ہوتے ہیں تو جتنے دفتر اسمبلی کے اُمیدوار کے ہوں گے اس سے زیادہ دفتر پارلیمنٹ کے اُمیدوار کے ہوں گے ہم جس زمانہ کی بات کررہے ہیں اس زمانہ میں پارلیمنٹ کا الیکشن ہر پارٹی نہیں لڑتی تھی آج پارٹی چھوٹی ہو یا بڑی وہ دونوں الیکشن لڑے گی اور الیکشن کے دفتروں اور ورکروں کے علاوہ کچھ نظر نہ آئے گا۔

وزیراعظم نریندر مودی صرف اپنے اقتدار کے لئے یہ منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ ان کا مزاج ہے کہ وہ اچانک دھماکہ کرتے ہیں جیسے نوٹ بندی کا کیا یا جی ایس ٹی کا ڈرامہ کیا اور ہر آدمی کی زبان پر ہے کہ مودی نے مارڈالا۔ ان سے یہ اُمید کرنا کہ وہ سب سے مشورہ کریں گے غلط ہے انہوں نے ملک کی صدارت ایسے انسان کے سپرد کی ہے جو مودی جی کے اشارہ پر ہر کاغذ پر پڑھے بغیر دستخط کردیں گے۔ اب ملک کسی دن بھی یہ سن سکتا ہے کہ فلاں فلاں صوبوں کی حکومت تحلیل کی جاتی ہے اور اس کا الیکشن پارلیمنٹ کے الیکشن کے ساتھ ہوگا۔ اگر اس فیصلہ کے خلاف کوئی روتا پیٹتا سپریم کورٹ گیا بھی تو وہاں اسے جو ملے گا اس کے بارے میں ہر دن کسی نہ کسی محترم جج کے بیانات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے؟ وزیراعظم کو لاء کمیشن پہلے ہی ہری جھنڈی دے چکا ہے۔ رہا الیکشن کمیشن تو اس نے کہا ہے آپ اسے بورے بھرکے ڈالر دیجئے وہ ووٹنگ مشینیں خریدکر ڈھیر لگا دے گا۔ اسے فکر اس لئے نہیں ہے کہ عوام صبر و شکر کے عادی ہیں اگر مشین خراب ہو تو شام تک لائن میں کھڑے رہیں گے۔

اُترپردیش کے وزیراعلیٰ نے بھی ہر الیکشن ایک ساتھ کرانے کے مسئلے پر غور کرنے کیلئے ایک کمیٹی بنائی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایک ووٹر لسٹ ہونا چاہئے اور اسے آدھار کارڈ سے منسلک ہونا چاہئے۔ ہر الیکشن ایک ساتھ ہو نہ ہو اور ہو تو ایک ہو سب سے اہم بات ووٹر لسٹ کی ہے کہ پارلیمنٹ کی الگ ہے اسمبلی کی الگ ہے اور کارپوریشن کی الگ کسی ملک کے لئے کتنی شرم کی بات ہے کہ اسمبلی کے الیکشن میں ووٹ دینے کے بعد جب کارپوریشن کے الیکشن میں ووٹ دینے جائو تو کہا جاتا ہے کہ آپ کا نام ووٹر لسٹ میں نہیں ہے۔ اور ووٹ دینے والا اپنا ووٹر شناختی کارڈ دکھا رہا ہے اسے جواب ملتا ہے کہ ہم اپنی لسٹ کے پابند ہیں۔ یعنی کاغذ کے وہ 50  پیسے کے ٹکڑے کی حیثیت ایک باعزت شہری اور اس کے شناختی کارڈ سے زیادہ ہے اس کے بعد بھی گورنر صاحب فرماتے ہیں کہ تعلیم یافتہ لوگوں کو ووٹ ضرور دینا چاہئے انہوں نے بھی نہیں کہا کہ ہر کام سے پہلے ایسی ووٹرلسٹ جس میں ہر بالغ کا نام ہو اور شناختی کارڈ یا آدھار کارڈ اگر ہو تو وہ ہر حال میں ووٹ دے گا۔ اور اگر لسٹ میں نام نہیں ہے تو نام درج کیا جائے گا۔

مسز اندرا گاندھی نے یہ دیکھا کہ صوبے ان کے مخالف ہوگئے ہیں تو انہوں نے اپنے اقتدار کے لئے پارلیمنٹ کا الیکشن الگ کرلیا اور مودی جی یہ دیکھ رہے ہیں کہ صوبوں کی اکثریت ان کے ساتھ ہے تو وہ دونوں کے الیکشن ساتھ کرانا چاہتے ہیں مقصد صرف اپنا اقتدار ہے ملک اور قوم کا بھلا کس میں ہے یہ سوچنا سیاست داں کا کام نہیں ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close