سیاست

مودی جی اپنا نہیں تو ملک کی ہی عزت کا خیال کرلیجیے

حفیظ نعمانی

یہ ہماری پرانی شکایت ہے کہ ملک کے موجودہ وزیراعظم جب الیکشن کے میدان میں اترتے ہیں تو بہت نیچے اترکر تقریر کرنے لگتے ہیں۔ ہم نے تو پنڈت نہرو سے لے کر ڈاکٹر منموہن سنگھ تک ہر وزیراعظم کی تقریر سنی اور یہ کہتے ہوئے اچھا نہیں لگتا کہ اپنے منصب سے اتنا نیچے اترکر کسی کو بولتے ہوئے نہیں سنا۔ وزیراعظم نے تین مہینے پہلے ہی الیکشن لڑانا شروع کردیا جبکہ ملک کے ہر بڑے وزیراعظم کو دیکھا ہے کہ جب ٹکٹ تقسیم ہوگئے تب انہوں نے دورے کا پروگرام بنایا۔ مودی جی نے اگر 2014 ء میں کئی مہینے لئے تو وہ نئے آئے تھے آج وہ وزیراعظم ہیں۔

مسز اندرا گاندھی جب وزیراعظم تھیں تو وہ ایک ایک دن میں دس دس جلسوں سے خطاب کرتی تھیں۔ ہم خود گواہ ہیں کہ 1971 ء میں جب یونس سلیم صاحب علی گڑھ سے الیکشن لڑرہے تھے تو انہوں نے صبح سات بجے آنے کا وقت دیا تھا۔ ہم نے سلیم صاحب سے کہا کہ آپ معذرت کرلیجئے دسمبر کا مہینہ علی گڑھ کی سردی اور سات بجے صبح جبکہ صرف ایک اسمبلی سیٹ شہر کی ہے اور چار سیٹیں دیہات کی ہیں کون اتنا مجمع لائے گا جو آپ کی عزت بچالے۔ سلیم صاحب بھی پریشان تو بہت ہوئے مگر کسی کی ہمت نہیں تھی کہ معذرت کرلے۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ ہر طرف جیپیں دوڑا دی گئیں اور ایک ہفتہ تک صرف اندراجی کے آنے کے اعلانات ہوتے رہے۔ اب اسے اندرا گاندھی کا اقبال کہا جائے یا یونس سلیم صاحب کی تقدیر کہ جس میدان میں جلسہ ہونا تھا وہ رات کو ہی بیل تانگوں اور بیل گاڑیوں سے بھر گیا اور ہزاروں آدمی لحاف لئے ہوئے آئے اور رات وہیں بسر کرکے تقریر سنی۔ وہ ہیلی کاپٹر سے ٹھیک سات بجے اتریں پانچ منٹ نعرے لگے اور آدھا گھنٹہ تک صرف یہ بتایا کہ ہم کیا کررہے ہیں اور صرف ایک بار ریلوے کے نائب وزیر یونس سلیم صاحب کا نام لے کر کہا کہ علی گڑھ کی سیٹ یعنی آپ کی خدمت کا شوق انہیں حیدر آباد سے یہاں لایا ہے۔ اب آپ اپنا فرض ادا کیجئے۔ نہ گھونسہ نہ تالی نہ کسی مخالف کا نام نہ کسی پر تنقید صرف 30  منٹ کی ایسی آواز میں تقریر جس سے نہ حلق پر زور پڑا نہ بار بار پانی پیا اور جے ہند کہہ کر روانہ ہوگئیں۔

آگرہ میں وزیراعظم نریندر مودی نے مہابھارت شروع کردی، اپنی باتیں کم اور سارا زور اس پر کہ ملک یا اترپردیش میں جو اتحاد ہورہا ہے وہ ملک کے چوکیدار کو ہٹانے کے لئے ہورہا ہے۔ مودی جی کیوں بھول گئے کہ انہوں نے جب 2014 ء کے الیکشن میں انتخابی مہم شروع کی تھی تو صرف اور صرف کانگریس کو ہٹانے سے بات شروع کی تھی۔ پہلا نعرہ کانگریس مکت بھارت اور بھرشٹاچار مکت بھارت بنانے پر سارا زور دیا تھا۔ اور اپنے بارے میں جو کہا وہ صرف بے وقوف بنانے کیلئے کہا وہ پندرہ لاکھ روپئے ہوں، نوجوانوں کی نوکریاں ہوں، مہنگائی کا ختم کرنا ہو، پورے ملک کو گجرات ماڈل بنانا ہو اور ان جیسے ہی کھوکھلے دعوئوں کے ساتھ سب کا ساتھ اور سب کا وکاس۔

آج وہ میدان میں ہٹانے کیلئے نہیں اپنے کو روکنے کیلئے اترے ہیں اور خالی جھولی میں ایک سفید کبوتر ٹانگے ہوئے ہیں کہ برہمن سے لے کر ہر اس ہندو کو جسے ریزرویشن کا فائدہ نہیں ملتا اب اسے بھی ملے گا۔ کبوتر باز جانتے ہیں کہ سب سے قیمتی اور اچھا کبوتر شام کی اُڑان کا ہوتا ہے جو صبح اُڑتا ہے اور دن بھر بھوکا پیاسا اُڑکر شام کو اپنے گھر آجاتا ہے۔ ایک لقّا کبوتر ہوتا ہے جس کی گردن ٹیڑھی ہوتی ہے اور وہ صرف گھر کی رونق کے لئے ہوتا ہے۔ مودی جی کے پاس وقت نہیں تھا انہوں نے لقّا کبوتر سے ہی کام نکالنا چاہا ہے کیونکہ صرف پولنگ کے وقت تک بے وقوف بنانا ہے۔ مودی جی کے اس کھیل کو سب نے سمجھ لیا اور سب شریک ہوگئے اور جس راجیہ سبھا میں مودی جی اپنی مرضی کا کوئی بل پاس نہ کراسکے۔ انتہا یہ ہے کہ تین طلاق بل جس کی محبت میں آرڈی نینس لے آئے وہ بھی راجیہ سبھا کے کڑے تیوروں سے ناکارہ ہوگیا، وہی راجیہ سبھا چھ گھنٹے لقّا کبوتر سے کھیلنے کے بعد چاروں خانے چت لیٹ گئی اور بل کی مخالفت میں نہ جانے کس نے سات ووٹ ڈال دیئے۔ اس طرح وزیراعظم کا کھیل ختم ہوگیا۔

وزیراعظم کو سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہے کہ لوگ گیسٹ ہائوس کا واقعہ بھی بھول گئے مغربی یوپی میں مظفرنگر کے واقعہ کو بھی بھول گئے۔ مودی جی کو معلوم ہونا چاہئے کہ بھولنا انسان کی فطرت ہے وہ گجرات کے 2002 ء کے اس واقعہ کو بھی بھول گئے جسے دیکھ کر اٹل جی نے کہا تھا کہ آپ راج دھرم نہیں نبھا سکے اور اڈوانی جی سے کہا کہ گجرات سے مودی کو ہٹادو۔ اور صرف اڈوانی جی کی بدولت وہ وزیراعلیٰ بنے رہے مگر جب وزیراعظم بنے تو وہ بھول گئے کہ ایل کے اڈوانی کون ہیں؟ یہ بات تو وزیراعظم کو سوچنا چاہئے کہ پورے ملک میں جگہ جگہ صرف اس پر غور ہورہا ہے کہ مودی کو کیسے ہٹایا جائے لوگ بی جے پی کی حکومت ختم کرنے کی کم بات کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت صرف وزیراعظم کی ہے اور انہوں نے سب کو مایوس کیا ہے۔ یہ ان کی من مانی ہے جس کا دوسرا نام نوٹ بندی اور جی ایس ٹی ہے صرف ان دو غلطیوں نے کروڑوں لوگوں کو نچوڑ ڈالا ہم دوسرے کو دیکھ رہے ہیں اور اپنے گھر میں بھی دیکھ رہے ہیں کہ آمدنی اور کام آدھا رہ گیا۔

اور یہ تو ان کو بھی معلوم ہوگا کہ جس یوگی کو مودی کے نقش قدم پر چلنے کا شوق ہے انہوں نے دو سال میں صوبہ کو وہاں پہونچا دیا کہ باوردی پولیس افسر اور سپاہی سب پاگلوں کی طرح آوارہ جانوروں کے پیچھے دوڑ رہے ہیں اور بارہ بنکی ہو، ایٹا، اٹاوہ، متھرا ہو، یا بنارس ہر جگہ کا کسان گالیاں دے رہا ہے گیہوں، مٹر، چنا اور سرسوں یہ جانور بڑے شوق سے کھاتے ہیں اور ہر کھیت کے چاروں طرف ٹارچ اور لاٹھی لئے کھیت کے چاروں طرف تار باندھ رہا ہے۔ اپنی گھر والوں کی ساڑیاں ٹانگ رہا ہے وہ موٹی موٹی زنجیروں کا پھندہ بناکر جس بیدردی سے گلے اور سینگوں میں پھانس کر ان کو کھینچ رہا ہے اگر اس منظر کو مودی اور یوگی دیکھ لیں تو کہنے پر مجبور ہوں گے کہ وہی کرو جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ اگر حالات یہی رہے تو الیکشن آتے آتے کسان لاٹھی پھینک کر چھری لے لے گا اور جب اسے یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ گھر کے بچوں کی روٹی یا دمدار فصل چرنے والی ماتا میں سے ایک کا انتخاب کرلو تو وہ جو کرے گا وہ یوگی سے سنا نہ جائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں
Close