سیاستہندوستان

مودی جی بتایئے اب کیا کیا جائے؟

حفیظ نعمانی

اُترپردیش کے 2017 ء کے الیکشن میں وزیر اعظم مودی نے ہر تقریر میں کہا تھا کہ جیتنے کے بعد ہم اُترپردیش کو ایک مثالی پردیش بنائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اُترپردیش نے مجھے گود لے لیا ہے اور اب میں اُترپردیش کا بیٹا ہوں ۔ الیکشن میں کیا ہوا یا کیا نہیں ہوا؟ یہ تو ایک نہ ایک دن سامنے آجائے گا لیکن جب وزیر اعلیٰ بنانے کی بات آئی تو یہ سن کر سب حیران رہ گئے کہ ایک سنیاسی اب تک جو بابا گورکھ ناتھ کے مندر کو سنبھالے ہوئے تھے وہ اب اُترپردیش کو سنبھالیں گے۔

حلف برداری کی تقریب اتنی ہی شان و شوکت کے ساتھ ہوئی جیسی اتنی بڑی کامیابی کے بعد ہونا چاہئے تھی۔ اور وزیر اعلیٰ نے حلف لینے کے بعد سب سے زیادہ زور اس پر دیا کہ وہ اُترپردیش کو وزیر اعظم مودی کے سپنوں کا پردیش بنائیں گے۔ ایسا پردیس جہاں کوڑے کا ایک تنکا نہیں ہوگا، جہاں  قانون کا راج ہوگا، جہاں نہ کوئی چھوٹا ہوگا نہ بڑا۔ جہاں شہروں میں 24  گھنٹے، تحصیل میں 20  گھنٹے اور گائوں میں 18  گھنٹے بجلی آئے گی۔ رات کے دس بجے بھی اگر کوئی لڑکی اکیلی ایک محلہ سے دوسرے محلہ جائے گی تو کوئی سیٹی نہیں بجائے گا۔ اُترپردیش میں نہ کوئی بھوکا سوئے گا اور نہ چوری کے لئے سوچے گا۔ پورے اُترپردیش میں سرکاری اسکولوں میں غریب بچے بھی یونیفارم پہن کر اسکول جائیں گے اور ہر بچہ کو تعلیم دی جائے گی۔

سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ہر طرف صرف قانون کی حکمرانی ہوگی۔ ہر گھر میں فلش لگے گا اور کوئی کھیت میں نہیں جائے گا۔ اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد وہ چند وزیروں کے ساتھ جب معائنہ کرنے نکلے تو انہیں جگہ جگہ پانی مسالے کی پیک کے دھبّے نظر آئے۔ یہ دیکھ کر وہ حیران رہ گئے کہ سامنے ایک ٹوٹی ہوئی کرسی نے اپنی غربت کی کہانی سنادی۔ وزیر اعلیٰ نے اسی وقت فرمان جاری کردیا کہ کسی بھی سرکاری دفتر، اسپتال اور کچہری میں کوئی پان، سگریٹ یا پان مسالہ کھاکر نہیں آئے گا۔ اور کسی سرکاری دفتر کے باہر ان چیزوں کی کوئی دُکان نہیں لگے گی۔

وزیر اعلیٰ یوگی جی اچانک ایک کوتوالی کا معائنہ کرنے چلے گئے۔ وہاں ہر طرف کوڑا گندگی دیکھ کر ان کا پارہ چڑھ گیا۔ جب معلوم کیا تو جواب ملا کہ ابھی صفائی کرنے والا نہیں آیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے جھاڑو اٹھائی اور معلوم کیا کہ یہ کام آپ لوگوں سے نہیں آتا؟ اور پھر سپاہی ہو یا ہیڈ سب انسپکٹر ہو یا انسپکٹر سب کے ہاتھ میں جھاڑو تھی اور زمین کا ہی نہیں دیواروں اور چھتوں کا بھی کوڑا صاف ہوگیا۔ اور یقین ہوگیا کہ اب یہ مودی کے سپنوں کا پردیش بنے گا۔ وزیروں اور سرکاری ملازمین کے لئے حکم ہوا کہ 9:30  بجے ہر آدمی دفتر آجائے گا اور ہر وزیر پارٹی دفتر میں ایک ایک دن آکر بیٹھے گا تاکہ ہر ضرورت مند کو اس دفتر سے دوسرے دفتر تک بھٹکنا نہ پڑے۔

ہر نئی حکومت کی طرح احکامات کی جھڑی لگادی گئی اور ہر حکومت کی طرح صرف پچاس دن میں ہی وہ سب ہونے لگا جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔ ایک عزیز ایک کام سے جواہر بھون گئے۔ وہاں کئی گھنٹے انہیں رہنا پڑا۔ انہوں نے آکر بتایا کہ ہر کسی کی جیب میں پان مسالہ تھا اور ہر منھ مسالے سے بھرا ہوا تھا۔ ان احکامات کے صرف بارہ دن کے بعد میرٹھ کے ایک چھوٹے سے گائوں میں بی جے پی لیڈر کی ایک گوشت فیکٹری پکڑی گئی جہاں 20  کنتل گائے کا گوشت موجود تھا۔ 20  اپریل کو سہارن پور میں بی جے پی کے ایم پی اور سابق ایم ایل اے ایک شوبھا یاترا نکالنے کے خلاف سو سے زیادہ غنڈوں کی قیادت کررہے تھے اور ایس ایس پی کے گھر پر انہوں نے حملہ کیا اور پانچ گھنٹے تک ہر چیز توڑتے رہے۔ جبکہ گھر میں صرف ان کی بیوی اور دو معصوم بچے تھے اور ایک مہینہ کے بعد پھر کل سہارن پور میں جگہ جگہ شعلے بھڑک رہے ہیں ، درجن بھر موٹر سائیکلیں ، کاریں اور پولیس چوکی بھی جلاکر راکھ کردی۔ کہنے کے لئے مقدمہ قائم تو کردیا لیکن گناہگار مسلمان نہیں ہیں بلکہ ایک طرف ٹھاکر ہیں جو بی جے پی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور دوسری طرف دلت ہیں جنہوں نے ووٹ دیئے بھی ہیں اور مودی جی کو 2019 ء میں اُن کے ووٹ لینا ہیں ۔ اس لئے قانون ہاتھ میں لینا بھی برداشت کیا جارہا ہے، ایس پی، تھانیدار اور سپاہیوں کا زخمی ہونا اور پولیس چوکی کا جلنا بھی برداشت کیا جارہا ہے اور وزیر اعلیٰ حیران ہیں کہ سپنوں کا پردیش بنائوں یا 2019 ء جتائوں ؟

قانون کی حکمرانی کا یہ حال ہے کہ ایک ریٹائرڈ فوجی آفیسر کی دو جوان لڑکیوں کو دن میں بکریوں کی طرح کاٹ دیا جاتا ہے اور قتل کرنے والوں کو کوئی ڈر نہیں ہے کہ اب راج یوگی جی کا ہے۔ یعنی بی جے پی کا یعنی ہمارا ہے۔ پولیس کا راج پہلے بھی تھا آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ لکھنؤ کا بازار امین آباد اب پنجابیوں اور سندھیوں کا بازار ہے۔ موہن مارکیٹ کے تین طرف برآمدے، فٹ پاتھ، نالی اور سڑک سب پر پولیس نے دکانیں رکھوادی ہیں ۔ امین آباد کی بغل میں باغ گونگے نواب ہے جہاں پرتاپ مارکیٹ سب سے بڑی ہے اور چھوٹی مارکیٹ کئی ہیں ۔ وہاں جب ہم تھے تو پنجاب مائونٹ گمری ٹرانسپورٹ کا دفتر اور گودام ہوا کرتے تھے اور ٹرک آیا کرتے تھے۔ اب سنا ہے پیدل بھی جانا مشکل ہے۔ امین آباد کوتوالی کی آمدنی لاکھوں روپئے مہینہ ہوگی۔ قانون اس لئے چپ ہے کہ ہزاروں ووٹ ہیں اور سب بی جے پی کے ہیں ۔ اگر قانون کا راج کردیا جائے تو ووٹ چلے جائیں گے۔ شہر کے ٹریفک کا اب وزیروں کو بھی اندازہ ہو جائے گا کہ گاڑی کے اوپر سے لال بتی ہٹ گئی اور اندر وی آئی پی کلچر سمٹا بیٹھا ہے۔ حضرت گنج کے علاقے کی آدھی آدھی سڑکیں میٹرو کی وجہ سے کاٹ دی ہیں ۔ جس کی وجہ سے 10  منٹ کا فاصلہ 30  منٹ میں طے ہورہا ہے۔ اکھلیش یادو کے بعد یوگی کے آنے سے اگر فرق نہ پڑا تو کون یاد رکھے گا کہ تبدیلی ہوئی ہے۔

وزیر اعلیٰ کو سب سے پہلے سہارن پور کی آگ بجھانا چاہئے اور ٹی وی کے ذریعے سب نے دیکھا ہے ممبر پارلیمنٹ نے آگ بھڑکانے میں سب سے زیادہ حصہ لیا ہے۔ ان کی تقریر کے ہر جملہ پر غنڈے تالیاں  بجا رہے تھے۔ اب بھی اگر اس ایم پی کو گرفتار نہ کیا اور سخت دفعات نہ لگائیں تو یوگی جی کے سارے وعدے کھوکھلے ہوجائیں گے۔ پھر وہ مودی کے سپنوں کا پردیش چاہے جتنی زور سے کہیں کوئی یقین نہیں کرے گا۔ ہمارا مشورہ یہ ہے کہ وزیراعلیٰ جو بھی ہو اُسے پہلے پورے اُترپردیش کو غور سے دیکھنا چاہئے اس کے بعد اپنے پروگرام سامنے رکھنا چاہئیں ۔ گھر گھر فلش بنانے کی بات کرنا اور ان کے لئے پیسے دینا بہت آسان ہے۔ لیکن جس کے لئے اب تک ایک لٹیا پانی خرچ ہوتا تھا اس کے لئے ایک بالٹی پانی لانا اور خرچ کرنا پڑے گا تب معلوم ہوگا کہ کتنے لوگ گھروں میں بیٹھے ہیں اور کتنے پھر کھیت میں جا بیٹھے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close