سیاست

مودی جی نے کانگریس کو غلطی سے زندگی کی دوا دے دی

حفیظ نعمانی

جن لوگوں نے اپنے کہنے کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی پارٹی بی جے پی کا صدر امت شاہ کو بنایا اس کی مصلحت تو وہی جانتے ہوں گے اس لئے کہ جس وقت ان کو صدر بنایا گیا وہ سہراب الدین نام کے ایک نوجوان کے فرضی انکائونٹر کی سازش میں جیل سے ضمانت پر آئے ہوئے تھے۔ اور یہ ضمانت بھی بمشکل تمام سپریم کورٹ نے اس شرط کے ساتھ دی تھی کہ وہ گجرات میں داخل نہیں ہوں گے۔ ہمارے نزدیک تو ضمانت کوئی شرمسار کرنے والی چیز نہیں ہے اس لئے کہ ہم حکومت کی طرف سے دائر کئے گئے دس مقدموں کی ضمانت پر تین تین برس سے زیادہ رہے اور ایک مقدمہ میں تو 20  سال ضمانت پر رہے لیکن کسی قسم کی شرمندگی کا احساس نہیں ہوا اس لئے کہ مقدمے چوری چکاری کے نہیں سچ لکھنے پر تھے۔ یہ تو اب وزیراعظم کے منھ سے ہم نے سنا کہ ضمانت کے بعد آدمی حقیر ہوجاتا ہے جب انہوں نے ہیرالڈ ہائوس مقدمہ میں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو ’’ماں بیٹے ضمانت کرائے گھوم رہے ہیں‘‘ ایسے کہا جیسے وہ کوئی پاپ کرکے بھاگے بھاگے پھر رہے ہیں۔

اب امت شاہ کی ضمانت ختم ہوگئی انہوں نے اپنے منصب اور حکومت کے اثرات سے کلین چٹ لے لی اب وہ راجیہ سبھا کے ممبر بھی ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ وزیراعظم کے انداز میں ہاتھوں اور بانہوں کے زور پر تقریر کی نقل کریں۔ ایسی ہی ایک تقریر میں انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی آج کل بہت جلسے کررہے ہیں ان جلسوں میں وہ 22  منٹ کی تقریر میں 44  مرتبہ وزیراعظم نریندر مودی کا نام لیتے ہیں۔ ان کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ وہ مودی جی یا بی جے پی کے لئے انتخابی مہم چلا رہے ہیں یا کانگریس کیلئے۔ کانگریس صدر کو مودی فوبیا ہوگیا ہے۔

ہم نہ کانگریس کے ترجمان ہیں نہ جن اخباروں کے لئے ہم لکھتے ہیں ان کا کانگریس سے کوئی تعلق ہے؟ ایک اخباری کالم نگار کی حیثیت سے ہم ہر پارٹی کی مہم کو دیکھتے بھی ہیں اور پڑھتے بھی ہیں۔ حقیقت اس کے برعکس ہے جو امت شاہ نے بتائی ہے۔ راہل گاندھی کو مودی فوبیا نہیں ہوا ہے بلکہ وزیراعظم کو نہرو گاندھی فوبیا ہوگیا ہے وہ ساڑھے چار سال سے بااختیار تن تنہا وزیراعظم ہیں ان کی اپنی پارٹی کے ہی اتنے ممبر ہیں کہ وہ ملک کو جدھر لے جانا چاہیں لے جاسکتے ہیں اور وہ لے جاکر دکھا رہے ہیں۔ اتنا لمبا اور آزاد عرصہ اندرا گاندھی کے بعد کسی کو نصیب نہیں ہوا۔ وہ اتنے زمانہ میں ایسے ایسے کارنامے کرسکتے تھے کہ جس صوبہ جس شہر اور جس حلقہ میں تقریر کرنے کھڑے ہوتے ایک گھنٹہ تک اپنے کارنامے گناتے رہتے تب بھی ختم نہ ہوتے لیکن حالت یہ ہے کہ ان کی ہر تقریر نہرو گاندھی پریوار اور ماں بیٹے سے شروع ہوتی ہے اور سونیا اور راہل پر ختم ہوجاتی ہے۔

ملک کی صورت حال اتنی بگڑ چکی ہے کہ اب دماغ بھی ان کا ساتھ نہیں دے رہا وہ چھتیس گڑھ میں راہل سے 50  سال کا حساب مانگتے ہیں جبکہ اس صوبہ کی عمر بھی 50  سال نہیں ہے اور 15  سال سے بی جے پی کا قبضہ ہے۔ انہوں نے دو سال پہلے نوٹ بندی کرکے خودکشی کی پہلی گولی اپنے سینے پر ماری ان آوازوں کو سب نے سنا ہے کہ ہم نے منع کیا تھا کہ یہ غضب نہ کیجئے گا لیکن وہ نہیں مانے اور دو سال میں ملک میں جتنے روزگار بند ہوئے اور جتنے انسان بے روزگار ہوئے اتنے 70  برس میں بھی نہیں ہوئے تھے اس وقت مودی جی نے جو جو کہا تھا پورے ملک کو یاد ہوگا۔ ہم نے کم از کم 25  مرتبہ لکھا ہوگا کہ مقصد صرف اور صرف کانگریس سپا بی ایس پی اور اپنے علاوہ ہر سیاسی پارٹی کو دیوالیہ کرکے الیکشن لڑنا اور اپنے پیسوں کے بل پر جیتنا تھا اور اس میں وہ کامیاب ہوگئے لیکن صرف پارٹیاں ہی دیوالیہ نہیں ہوئیں ہر ایک کا دیوالہ نکل گیا اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ نہ بڑے کاروباری تھے نہ بڑے افسر وہ نہیں جانتے تھے کہ کاروبار میں جو روپیہ گھوم رہا ہے وہ بینک سے نہیں آیا ہے۔ اور جب ان کے فیصلہ کی وجہ سے ہر روپیہ بینک کے ظالم ہاتھوں میں جاکر باہر آیا تو اس کا دم نکل چکا تھا یہ بات صرف چائے یا پکوڑے یا پان بیچنے والے نہیں سمجھ سکتے۔ اور یہ ان کی ہی پیدا کی ہوئی بھیانک صورت حال ہے جس نے انہیں بھی ریزرو بینک کے سامنے جھولی پھیلانے پر مجبور کردیا۔

اگر نوٹ بندی سے مرنے والے 100  گھرانوں میں ہاتھ اُٹھا اُٹھاکر بددعا اور فریاد نہ کی جارہی ہوتی تو کون سوچ سکتا تھا کہ وہ کانگریس جو 44  سیٹوں پر سمٹ گئی تھی اور مودی کانگریس مکت بھارت بنانے کا دعویٰ کررہے تھے وہی کانگریس میدان میں بی جے پی کے مقابلہ پر اکیلی لڑرہی ہے اور قیاس آرائی کرنے والے یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ دونوں میں اتنی برابر کی ٹکر ہے کہ فیصلہ مشکل ہے۔ اور وہ راہل گاندھی جن کو گود میں لینے کیلئے پپو کہا جاتا تھا وہ تال ٹھونک کر کہہ رہے ہیں کہ مودی جی کہیں بھی 15  منٹ سامنے آکر بات کرلیں۔ اور یہ مودی جی کا احساس شکست ہے کہ وہ نوٹ بندی کا قصیدہ پڑھنے کے بجائے اور کامرانیوں پر رقص کرنے کے بجائے یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ کانگریس کی بدعنوانیوں کو ختم کرنے کیلئے نوٹ بندی نام کی تیز دوا ڈالی تھی۔ یہ وہ بات ہے جو دو سال میں ایک بار بھی پہلے نہیں کہی تھی۔

اور یہ بھی پسپائی کی باتیں ہیں کہ چوتھی پشت کبھی حکمراں نہیں ہوتی مغل دَور میں بھی کوئی چوتھی پشت میں کامیاب نہیں ہوا ہم کہہ چکے ہیں کہ ہم تاریخ کے آدمی نہیں ہیں ہم حساب لگانے کے بجائے صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ وزیراعظم مودی راہل گاندھی کو بھوت کی طرح اپنی کرسی کی طرف آتا ہوا دیکھ رہے ہیں اور اسی لئے وہ پشتوں کا حساب لگاکر اور اپنے کو تسلی دے کر بہلا رہے ہیں۔ اور ہمارا ایمان وہ ہے جو قرآن عظیم میں کہہ دیا گیا ہے کہ تمام ملک اللہ کے ہیں وہ جس کو ملک دینا چاہتا ہے اسے دے دیتا ہے اور جس سے لینا چاہتا ہے اس سے لے لیتا ہے اور وہی جس کو چاہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے اس لئے کہ وہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ (آزاد ترجمہ)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close