سیاستطنزو مزاح

مودی جی کے اچھے دن

ڈاکٹر سلیم خان

للن بجرنگی  نے کلن  ترنگی سے کہا بھائی  یہ سیاستداں  جھوٹ بہت  بولتے ہیں۔

کلن نے جواب دیا یہ غلط بات ہے۔  میں آپ سے اتفاق نہیں کرسکتا۔

اچھا تو کیا تمہارا مطلب ہے یہ لوگ جھوٹ نہیں بولتے؟

جی نہیں جب  تم کہتے ہو کہ یہ جھوٹ بہت بولتے ہیں یعنی  تھوڑا بہت سچ بھی بولتے ہیں۔ میری رائے  تویہ ہے کہ یہ صرف جھوٹ ہی بولتے ہیں۔

للن نے پوچھا یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو ؟

بھئی مودی جی کو لے لو۔ دن رات اخبارات میں ٹیلی ویژن  اور ریڈیو پر اشتہار بازی ہو رہی ہے اچھے دن آگئے ہیں۔    اب بتاو کہاں ہیں اچھے دن ؟

اپوزیشن کا تو کام ہی سرکار کو بدنام کرنا ہے لگتا ہے تم اس کے پروپگنڈے کا شکار ہوگئے ہو۔ ویسے اچھے دنوں کی تو ناپ تول  بھی کر نہیں  سکتے۔

ایسی بات نہیں للن بھیا   اقوام متحدہ نے عالمی  سطح پر خوش و خرم ممالک کا موازنہ شائع کیا ہے۔

للن نے پھر سوال کیا لیکن اس کا ہمارے اچھے دنوں سے کیا لینا دینا ؟

ارے بھائی  اچھے دنوں کا یہی تو مطلب ہے نا ہم لوگ خوش  و خرم رہیں۔ ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ ملک میں اچھے دن آئیں اورعوام  مغموم ہوجائیں ۔

جی ہاں یہ درست ہے للن نے تائید کی۔ اچھا تو اس جائزے میں  کیا بات سامنے آئی ؟

کلن بولا بھائی اس رپورٹ کے مطابق تو ہمارے اچھے دن جارہے ہیں۔

یہ کیسے ہوسکتا ہے؟

کیوں نہیں آسکتا ؟ جو چیز آسکتی ہے وہ جا کیوں نہیں سکتی؟ بھئی تم ہی بتاو کہ مہنگائی اور بیروزگاری بڑھ رہی ہے یا نہیں؟

بھائی ایسا ہے کہ  کانگریس نے اپنے دور حکومت میں ملک کو بہت  تباہ و برباد  کردیا ہے۔ اس کو سدھارنے میں اپنے چوکیدار  کو وقت تو لگے گا نا؟  اچھا یہ تو بتاو کہ وہ اچھے دنوں والی،  میرا مطلب خوش ہونے والی رپورٹ کا کیا حال ہے؟

وہ تو ایسا ہے بھائی کہ    ۲۰۱۳ ؁ کی  عالمی فہرست میں ہم لوگ   ۱۱۱  نمبر پرتھے اور اب ۲۰۱۹ ؁ میں ۱۴۰ پر پہنچ گئے ہیں۔

للن چہک کر بولا ارے بھائی یہ تو ترقی ہے مودی راج میں ہم لوگ ۱۱۱سے ۱۴۰ پر پہنچ گئے۔

جی نہیں  جیسے کلاس میں اول آنے والا سب سے بہتر ہوتا ہے اسی طرح یہاں بھی پہلے نمبر  پر مسرور ترین  ملک ہے اورہم  مغموم تر ہوتے جارہے ہیں۔

لیکن یہ کیسے ہوگیا۔ کانگریس کے زمانے سے بھی بری حالت کیونکر ہوگئی؟

یہ بہت آسان ہے ۱۱۱ سے دوسال بعد یعنی،  ۲۰۱۵؁ میں ہم لوگ  ۱۱۷ پر پہنچے، ۲۰۱۶ ؁ میں تھوڑا سا سرک کر ۱۱۸ پر،  ۲۰۱۷ ؁ میں ۱۲۲، ۲۰۱۸ ؁ میں ۱۳۳ تک جاپہنچے۔ اب اگر انتخابی سال میں ۱۴۰ تک پہنچنے پر تمہیں حیرت کیوں ہے؟

 یہ تو بہت بری بات ہے۔ تب تو اس فہرست میں سب سے اوپر امریکہ ہوگا ؟ کیونکہ اس کے پاس بہت طاقت ہے ؟

جی نہیں امریکہ ۱۹ ویں نمبر پر ہے۔ پچھلے سال کے مقابلے وہ بھی ایک پائیدان نیچے گیا ہے۔

اور ہمارے پرانے مائی باپ برطانیہ کا کیا حال ہے۔ وہ تو ہم سے بچھڑ کے بہت مغموم ہوگا ؟

نہیں اس کی حالت تو امریکہ سے بہتر ہے۔ وہ ۱۵ ویں نمبر ہے۔

للن بولا اچھا ! خیر چھوڑو اُس سے اب اپنا کیا لینا دینا۔ یہ بتاو کہ پاکستان کا حال ہے۔ ہم نے سرجیکل اسٹرائیک کر کے اس کو بہت دکھ دیا ہے۔

جی نہیں پاکستان ۶۷ ویں نمبر پر ہے اور پچھلے سال کے مقابلے اس نے اپنی حالت سدھاری ہے۔

یہ تو بہت برا ہوا  خیر اس کی پشت پناہی کرنے والا چین کہاں کھڑا ہے؟

چین ۹۳ پر ہے یعنی  ہندوستان اور پاکستان کے درمیان میں۔ کیا بتائیں للن  ہماری حالت تو بنگلادیش،  نیپال،  سری لنکا اور برما سے بھی بدتر ہوگئی  ہے۔

وہ تو اچھا ہوا جو نیپال نے چین سے دوستی کرلی اور ۱۰۰ پر پہنچ گیا۔ اگر ہمارے ساتھ رہتا تو وہ بھی  بنگلادیش ۱۲۵ اور سری لنکا  ۱۳۰ کی طرح پچھڑ جاتا۔

اچھا تو ہمارے پڑوسیوں میں ہم  لوگوں سے سب سے زیادہ قریب کون سا ملک ہے ؟

برما ہم سے بہت قریب ہے اس لیے کہ  وہ ۱۳۳ نمبر پر ہے۔

ارے روہنگیا مسلمانوں کو دکھ دینے والوں کی ایسی بری حالت؟  تعجب ہے!

اس میں حیرت کی کیا بات ؟ جو دوسروں کو تکلیف دیں وہ خوش کیونکر رہ سکتا ہے؟

جی ہاں کلن تمہاری بات کچھ کچھ سمجھ میں آرہی ہے۔

اور یہ بھی   سمجھ لو کہ  میامنار  نے ہمارے ساتھ مل کر  جوائنٹ آپریشن میں دہشت گرد کیمپوں کا خاتمہ کیوں کیا ؟  شاید خوشی کی تلاش میں؟

کیا بات کرتے ہو یقین نہیں آتا   بھائی کلن۔ یہ بتاو کہ کہیں اس مودی راج میں  ہمارا دیش  دنیا میں سب سے پیچھے تو نہیں ہوگیاہے ؟

نہیں بھائی ایسی بات نہیں  ۱۵۵ ممالک کی اس فہرست میں ۱۵ کی حالت ہم سے بھی بدتر ہے۔

اچھا  تب تو ان میں  فلسطین ضرور ہوگا ؟ اسرائیل     وہاں کے لوگوں پر بہت ظلم کرتا ہے۔

جی نہیں فلسطین کی حالت ہم سے بہت بہتر ہے۔ وہ ۱۱۰ پر ہے ؟

اچھا تو ہم پر کون ظلم کرتا ہے؟

بھائی ایسا ہے۔ جبر و استحصال کے لیے کسی غیر کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ اپنے بھی یہ کام خوب اچھی طرح  کرسکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close