سیاستہندوستان

مودی حکو مت اپنوں کے نشانے پر:  الٹی گنتی شروع

 ڈاکٹر سید احمد قادری

  بھارتیہ جنتا پارٹی کو 2014 ء کے عام انتخابات میں بلا شبہ بھاری اکثریت حاصل ہوئی تھی، اس لئے اس پارٹی اور اس پارٹی کی برسراقتدار آنے والی حکومت کی خوشی اور خوش فہمی بالکل فطری تھی۔لیکن یہ پارٹی اپنی اس بھاری اکثریت، خوشی اور خوش فہمی کے ساتھ ساتھ اگر اپنے ملک و قوم کی سا  لمیت، ترقی اورخوشحالی کی جانب مثبت سوچ، فکر اور عوامی مفادات کے لائحہ عمل کے ساتھ آگے بڑھتی، تو یقینی طور پر ملک کے عوام کے لئے ایک اہم اور مقبول پارٹی بن سکتی تھی، اور بہت ممکن تھا کہ کانگریس پارٹی، جو آزادی کے بعد سے تقریباََ مسلسل برسراقتدار رہی، اس کی متبادل بن کر ابھرتی اور برسہا برس اقتدار میں رہ کر کانگریس پارٹی کی کئی محاذ پر ناکامیوں خصوصاََ غربت، بے روزگاری، بدعنوانی، تعلیم، صحت اورجرائم جیسے بہت ہی اہم اور بنیادی مسائل پر خصوصی توجہ دے کر ان مسائل کو حل کرنے کی عملی کوشش کرتی، تو کوئی طاقت ایسی نہیں ہوتی، جو اس حکومت کی مخالفت کرتی۔ لیکن افسوس کہ بھاجپا کو ملنے والی بھاری اکثریت نے اسے اس قدر مغرور کر دیا اور حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے والوں میں اتنا تکبر پیدا ہو گیا کہ ان لوگوں نے عوام کے بنیادی مسائل کو پوری طرح فراموش کرتے ہوئے اپنے ایک مخصوص نظریہ ’ہندوتو‘ کو پہلے گھر گھر پہنچانے کے لئے رام مندر، لوجہاد، ، گھر واپسی، گؤ مانس، گؤ رکچھا، عدم رواداری، کنھیا، پاکستان بھیجو، بنگلہ دیش، وندے ماترم، عامر خان، سلمان خان، شاہ رخ خان، بھارت ماتا کی جئے، تین تلاق، پرسنل لأ وغیرہ جیسی بے فضول اور لا حاصل کوششیں ہونے لگیں تاکہ ماحول سازگار بنا کر اپنے ایجینڈے ’ہندوتو‘ کو نافذ کیا جا سکے۔ لیکن ہوا ٹھیک اس کے برعکس، ماحول سازگار کیا بنتا، بلکہ ان کوششوں میں حکومت اور پارٹی اس قدر منھمک ہو گئی کہ عوامی مسائل سے یہ پوری طرح غافل ہو گئی اور صرف جھوٹے وعدے، طرح طرح کے خو شنمأ خواب ساتھ ہی ساتھ حقیقت سے بہت دور دعوے کئے جاتے رہے۔

عوام نے جن امیدوں اور اعتماد کے ساتھ ان کے، کئے گئے وعدوں اور دعٰوں پر بھروسہ کر کے کانگریس (یوپی اے) کوشکست دے کر بھاجپا(این ڈی اے ) کو حکومت کی باگ ڈور سونپی تھی۔ وہ تمام امیدیں اور اعتماد ختم ہونے لگا، لوگ متنفر ہونے لگے۔ لوگ بھوک، غربت، بے روزگاری، مہنگائی، بدعنوانی، اور جرائم سے تو پریشان تھے ہی، ساتھ ہی ساتھ ان میں مذید اضافہ یہ ہوا کہ عوام کا سکون واطمینان کوختم کر دیا گیا۔ برسہا برس سے ایک ساتھ شیر و شکر کی رہنے والے مختلف ذات اور مذاہب کے لوگوں کے اندر طرح طرح سے منافرت، خوف ودہشت پیدا کرنے کی منظم کوششوں سے ملک کا سیکولر طبقہ، جو بلا شبہ اکثریت میں ہے، وہ بھی اس حکومت سے ناراض ہوتا چلا گیا۔ کلبرگی، دابھولکر، پنسارے اور گوری لنکیش جیسی شخصیات کا بے دردی اور بے رحمی سے قتل کئے جانے سے ایسے لوگوں کی ناراضگی میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ ملک کے اندر منافرت، خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرنے سے عدم رواداری بڑھتی چلی گئی، جس سے موجودہ حکومت کو سیاسی اور سماجی سطح پر فائدہ کم ، نقصان زیادہ ہوا ۔

  دلتوں اور مسلمانوں کے تئیں جس طرح گؤ مانس اور گؤ رکچھا کے نام پر جس طرح نفرت کا ماحول بنایا گیا۔ انھیں سر عام ذلیل و رسوا کیا  کیاجانے لگا۔ دہشت، خوف وہراس کا ماحول بنانے کے لئے انھیں سر عام ننگا کر نہ صرف زد وکوب کیا گیا  بلکہ حیوانیت کا ثبوت دیتے ہوئے اور انسانیت کو شرمسار کر تے ہوئے  بڑے ظالمانہ طریقے سے انھیں قتل تک کیا گیا۔اس سلسلے میں 2009 ء میں کیمیسٹری کا نوبل انعام پانے والے اور بھارتی نژاد جیسی اہم شخصیت وینکٹ رمن راما کرشنن نے بھارت میں مانس(گوشت)پر بحث چھوڑ کر تعلیم، خصوصی طور پر سائنس اور ریاضی پر توجہ دینے کا مشورہ دیا ہے۔ جس سے عالمی سطح پر تیزی سے پچھڑ رہے ملک کو اس سے بچایا جا سکے۔ملک میں بڑھتی غربت سے بھوکے رہنے والوں کے تعلق سے بھی ابھی حال ہی میں اقوام متحدہ کے Food and agriculture organization  کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کی موجودہ حقیقت یہ ہے کہ ملک کے 30 کروڑ لوگ ہر دن بھوکے پیٹ سونے پر مجبور ہیں۔ اس رپورٹ سے بھی حکومت کے جھوٹے دعوے کی پول کھلتی ہے۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے 2016 ء کے مطابق ہندوستان کی ہر تیسری عورت، خون کی کمی(انیمک)کی شکار ہے۔ بد عنوانی، جس کے خلاف ملک کے عوام نے کانگریس (یوپی اے) کے خلاف اپنے  شدید غصہ کا اظہار کرتے ہوئے، اس کے خلاف اوربھاجپا کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔ اسی بدعنوانی کو سشما سوراج، وسوندھرا راجے سندھیا، شیو راج سنگھ چوہان (بہت لمبی فہرست ہے) وغیرہ نے آسمان پر پہنچا دیا۔ جس کے خلاف سڑکوں سے پارلیامنٹ تک احتجاج اور مظاہرے ہوئے کہ ان بدعنوان لوگوں کو برطرف کیا جائے۔ لیکن حکومت عوام کے احساسات و جزبات اور غم و غصہ کو نظر انداز کرتے ہوئے، خاموش تماشائی بنی رہی کہ بد عنوانیوں میں ملوث ان وزرأ کو برخواست کئے جانے کا مطلب ان کی بدعنوانیوں کا اعتراف۔ اس لئے حکومت نے کسی طرح کی تادیبی کاروائی نہیں کی۔ بیرون ممالک کے بینکوں میں جمع کئے گئے کالا دھن کو واپس لائے جانے کا وعدہ وفا کیا ہوتا، بلکہ اربوں روپئے کا چونا لگا کر ملک کا گورا (سفید) دھن بھی وجئے مالیا جیسے لوگ لے اڑے اور ہماری حکومت دیکھتی رہ گئی۔

نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے خلاف مسلسل حزب اختلاف اور ماہرین اقتصادیات بول رہے تھے کہ یہ ملک کے بہتری اور حق میں نہیں ہے، اس سے بہت بھاری قیمت ملک کو چکانی پڑیگی، لیکن اس کے سد باب کی کوششوں کی بجائے، حکومت نے ایک خاص طبقہ کو صرف اس بات کے لئے  میڈیا پر بولنے کے لئے مامور کر دیا گیا کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے خلاف بولنے والوں کو جھوٹا اور ملک دشمن قرار دو، لیکن اب جبکہ بھاجپا کے ہی سابق وزیر مالیات یشونت سنہا نے جب ان دونوں محاذ پر حکومت کی زبردست ناکامی پر جواز کے ساتھ کھنچائی کی، تو حکومت بغلیں جھانک رہی ہے۔یشونت سنہا کے بعد ارون شوری نے بھی ’’ڈھائی آدمی ‘‘ کی حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا ہے، اور اب جبکہ پورے ملک میں زبردست احتجاج اور مطاہرے حکومت کے خلاف شروع ہو گئے، تب جی ایس ٹی میں رعایت دینے کی بات کہتے ہوئے، ایک طرح اعتراف جرم کر رہے ہیں، پہلے تو یہ عالم تھا کہ جو بھی ان دھائی آ دمی کے کسی فیصلے کے خلاف بولتا، وہ ملک دشمن قرار دے دیا جاتا۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا  ہے کہ وزارت کا محکمہ بہت ہی نازک اور اہم ہوتا ہے اور کسی بھی حال میں کل وقتی کی بجائے جز وقتی بنا کر نہیں چھوڑا جکا سکتا ہے، لیکن موجودہ حکومت کے سامنے ایسا لگتا ہے کہ قابل اور ذہین افراد کی بہت سخت کمی ہے، جس کے باعث مالیات جیسی اہم وزارت کے ساتھ کئی وزارت کو جُز وقتی وزرأ کے رحم  وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ نوٹ بندی کے سلسلے میں ہمارے جز وقتی  وزیر مالیات ارون جیٹلی کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر وہ عوامی طور پر نوٹ بندی سے ملک کی معیشت کو ہونے والے بھاری نقصان اور اقتصادی بحران کا  اعتراف کر لیں تو پھر ملک کے ہر چوراہے پر راتوں رات نوٹ بندی کا اعلان کرنے والے نریندر مودی کو بلایا جائے گا اور سزا کی تجویز تو نریندر مودی خود ہی کر چکے ہیں۔

جی ایس ٹی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، اسے بہت جلد بازی میں نا فذکئے جانے سے پورے ملک کا تجارتی طبقہ ہلکان اور پریشان ہے، بڑھے ٹیکس سے عوام کی جو پریشانی بڑھی ہے، اس کا اندازہ آئے دن بڑے پیمانے پر ہونے والے جلسہ جلوس اور احتجاج و مظاہروں سے لگایا جا سکتا ہے۔ ا ب جب کہ مالی بحران سے بد سے بد تر ہوتے حالات کے خلاف کسی دوسری پارٹی کے نہیں، بلکہ بھاجپا کے ہی ایک سینئیر رہنما  سبرامنئیم سوامی نے  یہ کہہ دیا کہ جی ایس ٹی نریندر مودی کے لئے واٹر لو ثابت ہوگا۔ سوامی کے اس ریمارکس پر جیسے سبھوں کو سکتہ لگ گیا ہے، بولیں تو کیا بولیں۔ حقیقت پوری طرح سامنے ہے، جنھیں جھٹلایا نہیں جا سکتا۔

    ادھر سپریم کورٹ نے کچھ ایسے فیصلے سنائے ہیں، جو حکومت کو بہت نا گوار گزرا ہے، لیکن عوام کو یقینی طور پر فرقہ واریت، تشدد، منافرت، عدم رواداری سے کسی حد تک نجات دلانے والا ہے۔ مثال کے طور پر پرائیویسی کے حق کو عدالت نے عوام کا بنیادی حق تسلیم کیا ہے۔ یعنی کون کیا کھاتا ہے، کون سا مذہب اختیار کرتا ہے، کس سے شادی کرتا ہے۔ یہ سب عوام کا ذاتی فعل اور عمل ہے، جن  پرحکومت قد غن نہیں لگا سکتی ہے۔ اسی طرح گائے کی حفاظت اور گائے کے گوشت کے نام پر نام نہاد گؤ رکشکوں کے ذریعہ ظلم و تشدد کئے جانے اور سینکڑوں معصوم اور بے گناہ افراد کے  زخمی اور قتل کئے جانے پر بھی سپریم کورٹ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے، مختلف ریاستوں کو ایسے لوگوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اسی طرح ایک دوسرے اہم معاملے میں بھی سپریم کورٹ نے کچھ سیاسی لیڈران کی بہت کم مدت میں بڑھتی جانے والی جائداد اور آمدنی پر بھی سخت نوٹس لیتے ہوئے ملک کے 289 لیڈران کے املاک سے متعلق حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔

سپریم کورٹ کی ان ہدایتوں سے حکومت کی پریشانی اور پشیمانی دونوں کافی بڑھ گئی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ اپنی ان کمیوں کا حکومت اعتراف کرے تو کیسے کرے، اعتراف کرنے کا مطلب اپنی شدید ناکامیوں کا اعتراف۔ پھر وہ کس مُنھ سے عوام کے سامنے ووٹ مانگنے جائینگے۔ حکومت کے وزرا ٔ تو اپنی شدید ناکامیوں کو بھی شاندار کامیابی ہی بتانے پر نہیں تھک رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے جب انھیں آئینہ دکھایا تو انھیں بہت برا لگا اور حکومت کے بوکھلائے و زیر قانون روی شنکر نے اپنی حد پار کرتے ہوئے، عدالت کو ہی نصیحت  کے ساتھ ساتھ دھمکی بھی دے ڈالی اور کہا کہ ’ میں کچھ عدالتوں میں سرکار کی ذمہ داری سنبھالنے کا رویۂ دیکھ رہا ہوں، اس پر فکر کی ضرورت ہے۔ ‘  عدالتوں کو دئے جانے والی وزیر قانون کی نصیحت کے جواب میں ممبئی ہائی کورٹ کے جسٹس ابھئے اوکا  نے بہت ہی مہذب انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ’ عدالتوں کے فیصلے پر اظہار رائے کا ہر شہری کا حق ہے، لیکن ان فیصلوں کی تنقید مثبت اور صحیح جواز پر منحصر ہونا چاہئے اور فیصلے پرگہرے مطالعے کے بعد ہی رائے زنی ہو‘۔

      اس پورے پس منظر کو دیکھتے ہوئے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ موجودہ حکومت نہ صرف عوام کے، حذب اختلاف کے، بلکہ اپنے سینئر رہنماؤں کے اختلافی بیان پر بھی سخت معترض ہے۔ لیکن جس طرح  اب حکومت مخالف آوازیں اٹھ رہی ہیں، وہ یقینی طور پر مودی حکومت کے لئے کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ بھاجپا کے سینئیر رہنمأ شتروگھن سنہا نے بھی یشونت سنہا کی نوٹ بندی اورجی ایس ٹی کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ اب بہت ہو چکا، یہ بالکل صحیح وقت ہے کہ وزیراعظم جنتا اور پریس کے سامنے آئیں اور سوالوں کا جواب دیں ‘۔ شتروگھن سنہا کے اس مطالبے پر بھی حکومت نے چپی سادھ لی ہے۔ دراصل مشکل یہ ہے کہ اس وقت مودی حکومت پر ہر چہار جانب سے ان کے ہمنوا  ہی بہت ہی جارہانہ حملے کر رہے ہیں اور حکومت کو ہدف تنقید بنائے ہوئے ہیں۔ نو نرمان سینا کے صدرراج ٹھاکرے نے مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس سوشل میڈیا کی مدد سے نریندر مودی نے 2014 ء میں اقتدار حاصل کیا تھا، وہی سوشل میڈیا مودی اور بھاجپا پر بھاری پڑ رہا ہے۔ جیسا بوتے ہیں، ویسا ہی کاٹتے ہیں ‘۔ مہاراشٹر حکومت میں شامل شیو سینا کے رہنما نے بھی مودی حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بی جے پی کے رہنما معاشی بحران کے خلاف بات کرنے سے ڈرتے ہیں ‘۔ ایسا لگتا ہے کہ اس وقت  پورے ملک میں مودی مخالف ہوا چل رہی ہے اور یہ مخالف ہوا کسی بھی بھاجپا مخالف سیاسی پارٹی کا لایا ہوا نہیں ہے، بلکہ عوام اور بھاجپا  کے ہمنواؤں کا ہی لایا ہوا ہے۔

 وزیر اعظم کی لوک سبھا سیٹ والے شہر بنارس میں لڑکیوں کے ساتھ یونیورسٹی انتظامیہ کا جو سلوک رہا، اس نے مودی کے’ بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ کے نعرہ کو کھوکھلا بنا دیا ہے اور ان طالبات کی حمایت میں جس طرح ملک بھر میں احتجاج اور مظاہرے ہو رہے ہیں، اس نے بھی حکومت کی نیند اڑا دی ہے۔ ایک تو ایسے ہی جے این یو، دلی یونیورسٹی، حیدرآباد یونیورسٹی، جئے پور یونیورسٹی وغیرہ میں اے بی وی پی کی بھاری شکست نے پہلے ہی یہ سوچ کر نیند حرام کر رکھی تھی کہ ملک کے طلبا حکومت مخالف ہو گئے ہیں۔ ملک کے نوجوان اپنی بے کاری سے پریشان اور خوف زدہ ہیں، ملک میں نوکریوں کی تعداد بڑھتی کیا، دن بدن گھٹتی ہی جا رہی ہے، آئی ٹی سیکٹر میں زبردست مندی نے نوجوانوں کے ہوش اڑا دئے ہیں اور انھیں اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا ہے۔ جی ڈی پی (مجموئی قومی پیداوار) لگاتار گرتے ہوئے 3.7 فی صد پر پہنچ گیا ہے۔ ملک کا شیئیر بازار اس وقت سب سے بڑی گراوٹ جھیلتے ہوئے اس بازار کا 6.10  لاکھ کروڑ ڈوب گیا ہے۔ ملک کے تمام بینک زبردست خسارے میں چل رہے ہیں۔ ADB  نے بھی نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے ہونے والے بھاری نقصان کو وجہ بتاتے ہوئے بھارت کا ترقیاتی درجہ گھٹا دیا ہے۔

 ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے یہ خیال شائد غلط نہیں کہ اس وقت ملک بہت ہی نازک اور خطرناک حالات سے گزر رہا ہے۔ حکومت اور بھاجپا دونوں ہی کی بہت تیزی سے گرتے گراف سے  یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مودی حکومت کی اب یقینی طور پر الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھاجپا کی کوشش ہے کہ اس سے قبل کے گراف مذید گرتا چلا جائے، 2019 ء کی بجائے 2018ء کے اواخر میں ہی عام انتخاب کرا  لیا جائے۔بہت ہی مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ گزشتہ ہفتے بھاجپا کی ایک بہت ہی اہم میٹنگ میں یہ طئے کیا گیا ہے کہ بھاجپا اب نئے بھارت کی تھیم پر انتخاب لڑے گی اور عوام کو یہ پیغام دے گی کہ ان کی حکومت اب غریبی، دہشت گردی، فرقہ واریت، بد عنوانی سے پاک اور سوکچھ بھارت بنانے کے لئے کام کریگی، یعنی اس حکومت نے جو کام اب تک نہیں کیا، وہ اب اگلے انتخابات میں کامیاب ہو کر کرے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سیّد احمد قادری

ڈاکٹرسیّد احمد قادری معروف کالم نویس ہیں۔

متعلقہ

Close