سیاست

مودی من کی باتیں بہت کرچکے ’کام کی باتیں‘ کریں

 لکھنؤ میں  سماج وادی پارٹی کے سربراہ اور اترپردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو اور کانگریس پارٹی کے نائب صدر راجیو گاندھی نے اتحاد کے دس نکاتی مشترکہ پروگرام کے اعلان و تشہیر کے موقع پر پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے دونوں نے نریندر مودی سے کئی سوالات کئے اور کئی ایسی باتیں دونوں نے کہیں جو حقیقت میں لاجواب ہیں۔ اکھلیش نے کہاکہ الیکشن کے موقع پر زیادہ جذباتی یا غصہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ پی ایم مودی جب اتر پردیش آئیں تو کام کی بات کریں کہ اس ریاست میں کیا ترقیاتی کام ہوئے ہیں۔ کسانوں اور نوجوانوں کو کیا ملا ہے۔ ان کو ’من کی باتیں‘ کرنی بہت آتی ہیں مگر کام کی بات آخر وہ کب کریں گے۔ اس سے ملتی جلتی باتیں راہل گاندھی نے بھی کہی ہیں۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ان کو غسل خانہ میں جھانکنے کی بہت عادت ہے۔ گوگل دیکھنے کا مشغلہ ہے۔ جنم پتری کو جانچنے اور پرکھنے کا بھی شوق ہے۔ یہ سب کچھ کریں لیکن شام کو جب ان کو فرصت ہو۔ ضرورت ہے کہ وہ کام کی بات کریں کہ انھوں نے ایک سال میں دو کروڑ نوجوانوں کو کام دینے کی بات کہی تھی، صرف ڈھائی تین سال میں ایک لاکھ نوجوان کو کام دے سکے ہیں۔ 15 لاکھ ہر ایک شہری کے اکاؤنٹ میں ڈالنے کی بات کہی تھی، کسی کے اکاؤنٹ میں ایک روپیہ بھی نہیں ڈال سکے۔ اس کے برعکس جن غریب لوگوں کی جیبوں میں پرانی نوٹیں تھیں اسے بھی رد کرکے پورے ملک کے لوگوں کو اپنی کمائی کی رقم لینے کیلئے بینک کی قطار میں کھڑا کردیا۔ ان کی سرکار سوٹیڈ بوٹیڈ (Suited and Booted) کی سرکار ہے۔ اس قطار میں ایک شخص بھی سوٹیڈ بوٹیڈ کھڑا نظر نہیں آیا۔ کتنے لوگ ایسے بھی تھے جو رقم حاصل کرنا تو دور کی بات ہے۔ انھیں اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔

راہل گاندھی نے ایک نامہ نگار سے سوال کیا کہ آپ بتائیں نریندر مودی نے اتر پردیش کیلئے تین سال میں کیا کام کئے۔ اکھلیش نے کہاکہ اتر پردیش سے بی جے پی کے 70 ایم پی ہیں۔  اسی پردیش سے وزیر داخلہ ہیں اور کئی ایم پی وزیر بھی بنا دیئے گئے ہیں مگر ان لوگوں نے سب مل کر کوئی کام نہیں کیا۔ آخر وہ کس منہ سے اتر پردیش کے عوام سے ووٹ مانگنے آئے ہیں۔ اکھلیش یادو نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بی جے پی والے اور ان کے لیڈران دو نوجوانوں کے اتحاد کو موقع پرستوں کا اتحاد کہہ رہے ہیں وہ کہہ سکتے ہیں۔ ان کو کہنے کا حق ہے مگر یہ دو ایسے نوجوانوں کا اتحاد ہے جو آج کے حالات کو انٹرنیٹ کا زمانہ زیادہ سمجھتے ہیں اور نوجوانوں کو جوڑنے اور روزگار سے لگانے کا زیادہ کام کرسکتے ہیں۔ راہل گاندھی نے سوالوں کا نہایت جچے تلے انداز میں جواب دیا اس سے ان کی تجربہ کاری اور ذہن کی پختگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اکھلیش نے ہر ایک سوال کا غیر جذباتی انداز سے جواب دیا۔ سنجیدگی، متانت اور مستقل مزاجی کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ اکھلیش نے اپنے حریفوں کو بھی کہاکہ وہ الیکشن جیسے ماحول میں غصے اور بے جا جذبات کا مظاہرہ نہ کریں یہ جو زیادہ غصے اور جذبات سے کام کرتے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے نیچے سے زمین سرکتی نظر آرہی ہے۔ اس لئے وہ غصے اور جذبات کا بے جا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

 مسلمانوں کے متعلق کلب صادق اور امام بخاری کی طرف سے مایا وتی کی حمایت پر اکھلیش یادو نے کہاکہ مولانا کلب صادق بہت بڑے مولانا ہیں مگر وہ کل تک بی جے پی کیلئے ووٹ مانگ رہے تھے اور آج بی ایس پی کیلئے ووٹ مانگ رہے ہیں مگر کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ دونوں پارٹیوں بی ایس پی اور بی جے پی کو ملانا تو نہیں چاہتے ہیں۔ امام بخاری کے بارے میں اکھلیش نے کہاکہ وہ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں مگر ان کی دعائیں ہم لوگوں کے شامل حال ہیں۔ اس طرح ٹھنڈے دل و دماغ سے دونوں نے کام لیا اور بی جے پی کی فرقہ پرستی اور نسل پرستی پر سیدھے سادے انداز سے حملہ کیا۔

اتر پردیش میں آج (11فروری) سے الیکشن شروع ہوگیا۔ مغربی یوپی میں 73 اسمبلی سیٹوں کیلئے ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ دو بجے تک 50 فیصد ووٹ ڈالے بھی جاچکے ہیں۔ مسلمانوں کے ووٹ تقسیم ہوں، بی جے پی اس کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ بھاجپا کی حکمت عملی یہی ہے کہ اگر مسلمانوں کا ووٹ تقسیم ہوگیا تو اس کے امیدوار آسانی سے جیت جائیں گے۔ اس وقت اندازہ ہورہا ہے کہ بی جے پی کو اتحاد سے زیادہ ڈر نظر آرہا ہے۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اتحاد کی قوت اور طاقت بڑھی ہے۔ اس زمینی حقیقت کو سمجھتے ہوئے مسلمانوں کو بی جے پی کو شکست فاش دینے کیلئے اتحاد کو ترجیح دیں اور جہاں بی ایس پی بی جے پی کے امیدوار کو ہرا سکتی ہو وہاں بی ایس پی کو ووٹ دیں۔ اسی حکمت عملی سے اگر مسلمان کام کرتے ہیں تو مسلمانوں کے ووٹوں کا صحیح مصرف ہوگا۔ اگر بغیر سوچے سمجھے ووٹ دیتے ہیں تو فرقہ پرست پارٹی بی جے پی اور آرایس ایس کا فائدہ ہوسکتا ہے اور اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔ فرقہ پرستوں کا حوصلہ بڑھ سکتا ہے۔ ان کا جو جبر و ظلم ہے وہ بڑھ سکتا ہے اور 2019ء کے لوک سبھا کے الیکشن میں ان کی کامیابی کے آثار دکھائی دے سکتے ہیں۔ ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ہوش و حواس کے ساتھ اپنے ووٹوں کا استعمال کریں۔ یہی چیز ملک و ملت کے مفاد میں ہوگی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close