سیاست

مودی کا پاگل پن ہے یا بوکھلاہٹ؟

عبد العزیز

 ایسا لگتاہے کہ گجرات الیکشن میں بھاجپا کی نیّا ڈگمگا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی  کے سارے وزراء اور بی جے پی کے سارے بڑے لیڈر گجرات کی ہر گلی کوچے کی خاک چھانتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔ گھر گھر زعفرانی لیڈران اور کیڈرس رابطہ کر رہے ہیں کہ مودی کی سیاسی زندگی اور موت کا سوال ہے کیونکہ اگر یہاں مودی ہارے تو پھر دہلی کا تخت بھی ان سے چھن جائے گا۔ گجرات کے لوگ مودی اور بی جے پی سے اس قدر اوب چکے ہیں کہ ان کے کان سے یہ آواز ٹکراکر واپس ہو جارہی ہے۔ وہ راہل کے علاوہ ہاردک پٹیل، جگنیش میوانی، الپیش ٹھاکر جیسے نوجوان لیڈروں کی باتوں پر توجہ دینے لگے ہیں جس کی وجہ سے مودی اور ان کے لوگوں کی نیند حرام ہوگئی ہے۔

 گجرات میں مودی پہلے ہندو مسلمان کے نام پر ووٹ حاصل کرتے تھے۔ میاں مشرف، میاں نواز اور مسلمانوں کے دو اور ان کے پچیس جیسے الفاظ اور نعروں کے استعمال سے پولرائزیشن (Pularization) سے فرقہ پرستانہ ماحول تیار کرکے گجراتیوں کی آنکھ میں دھول جھونکتے رہے اور ووٹ لے کر کامیاب ہوجاتے تھے۔ اس بار ہندو، مسلمان کا نعرہ کامیاب ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ راہل گاندھی کا جادو سر چڑھ کے بول رہا ہے جس کی وجہ سے راہل گاندھی اور ان کے سارے خاندان کو ہندو خاندان یا ہندو بتانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

 گجرات کے لیڈرس خاص طور سے ان کے سرغنہ مودی جی راہل گاندھی کے سومناتھ مندر میں ماتھا ٹیکنے اور ان کے مندر میں جانے پر سوال کر رہے ہیں کہ راہل گاندھی تو ہندو نہیں ہیں پھر کیوں مندر کی زیارت (Visit) کرکے لوگوں کو بیوقوف بنارہے ہیں ۔ بی جے پی کے آئی ٹی چیف امیت مالویہ نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا ہے: ’’راہل گاندھی کو پہلے یہ وضاحت کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا وہ ہندو ہیں یا نہیں ؟کیونکہ سومناتھ مندر کی زیارت کے وقت مندر کے غیر ہندوؤں کے رجسٹر میں ان کا نام درج ہے، آخر کیوں وہ مندروں کی زیارت کرکے گجراتیوں یا ہندوؤں کو بیوقوف بنا رہے ہیں ‘‘۔

 کانگریس کے ترجمان نے کہا ہے کہ زائرین (Visiters) کیلئے ایک ہی رجسٹر کا استعمال ہوتا ہے۔ بعد میں اگر کوئی اور رجسٹر رکھوایا گیا ہے جو غیر ہندو کیلئے ہے تو یہ بی جے پی حکومت کی کارستانی ہے اور Fabricated (من گھڑت) ہے۔ بوکھلاہٹ میں بی جے پی یہ سب کچھ کرنے پر سازش رچ رہی ہے۔

 نریندر مودی کی بوکھلاہٹ کچھ اور زیادہ سے زیادہ تیر مارتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ لوگوں کو سومناتھ مندر کی یاد آج آرہی ہے۔ میں ایسے لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کیا تاریخ کو بھول گئے ہیں ۔ تمہارے پرنانا (یعنی جواہر لال نہرو) ہمارے پہلے وزیر اعظم سومناتھ کی تعمیر کے منصوبہ سے ناخوش تھے۔ اگر سردار پٹیل حرکت میں نہیں آتے تو مندر کی تعمیر نہیں ہوتی۔ پنڈت جی مندر کی تعمیر کیلئے سرکاری فنڈ کے استعمال کو غلط سمجھتے تھے۔ جب پٹیل نے اس وقت کے صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد کو مندر کے افتتاح کی دعوت دی گئی تو پنڈت جی نے پٹیل کے دعوت نامہ پر ناخوشی کا اظہار کیا۔

مودی نے اندرا گاندھی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’1979ء میں بچھو ڈیم سیلاب کے سانحہ کو یاد کرنا چاہئے جب آر ایس ایس اور جن سنگھ کے ورکر کام کر رہے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ اندر اگاندھی یہاں آئی تھیں ۔میگزین ’’چترلیکھا‘‘ نے اندرا گاندھی کی اس موقع کی ایک تصویر شائع کی تھی کہ وہ اپنی ناک پر رومال رکھے ہوئی تھیں ۔ وہ سڑی لاشوں سے بھننا رہی تھیں اور آر ایس ایس کے کارکن لاشیں اٹھا اٹھاکر لے جارہے تھے۔ جن لوگوں نے ہماری حالت ناگہانی میں مدد کی ہے انھیں یاد کرنا چاہئے‘‘۔

 مودی کی حالت غیر معلوم ہوتی ہے اور ان کے تضادات کا بھی عجیب و غریب حال ہے۔ ایک طرف مسلمانوں کو وہ اور ان کی جماعت گھر واپسی یعنی ہندو بنانے کی دعوت دے رہی ہے ، دوسری طرف جو ہندو خاندان میں پیدا ہوئے جن کا رنامہ ہندستان میں سنہرے حرفوں میں لکھا جاتا ہے، جنھوں نے بہادرانہ (Heroic) کارنامہ انجام دیا آزادی کی جنگ میں اور آزادی کے بعد ان پر لعن طعن کیا جارہا ہے۔

 مودی جی کو شاید یہ بھی یاد نہیں ہے کہ اٹل بہاری واجپئی نے اندرا گاندھی کی تعریف میں پارلیمنٹ میں اس وقت کیا کہا تھا جب وہ پاکستانی فوجوں کو مشرقی پاکستان میں مات دینے میں کامیاب ہوئی تھیں ۔ واجپئی جی نے اندرا گاندھی کو کہا تھا کہ وہ ہمارے لئے درگا مائی ہیں ۔ آج اسی پارٹی کے مودی جی درگا مائی کو ڈائن کہہ رہے ہیں اور ان کے سارے خاندان کو غیر ہندو بتاکر کانگریس کو ہرانے اور اپنی پارٹی کو یا اپنے آپ کو جیت دلانے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ سازش رچ رہے ہیں ۔

  یہ وہ لوگ ہیں جن کی پارٹی کے ’’ویروں ‘‘ نے انگریزوں سے وفاداری کی تھی اور آزادی ہند کے سپاہیوں اور سپہ سالاروں کے ساتھ غداری سے پیش آئے تھے۔ ان کی پارٹی ہی کے ناتھو رام گوڈسے تھے جو آزادی کے سب سے بڑے سپاہی کو دن کی روشنی میں قتل کرکے فرقہ پرستوں میں نیک نامی حاصل کی اور آج قاتل کی یاد میں مندر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ در اصل سنگھ پریوار یا مودی کو گوڈسے پسند ہیں نہ گاندھی نہ نہرو اور نہ اندرا گاندھی۔ کوئی بھی ان کے ان گروؤں کے برابر نہیں ہے جو ملک کے ساتھ بے وفائی میں پیش پیش تھے اور انگریزوں کے وفادار تھے۔

سابق وزیر اعلیٰ اتر پردیش اکھلیش یادو نے ایک موقع پر بالکل صحیح بات کہی تھی کہ ’’ووٹ سمجھانے سے نہیں بہکانے سے ملتا ہے‘‘۔ نریندر مودی کی پوری پارٹی ووٹروں کو بہکانے اور گمراہ کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ گجرات کے ووٹرس بہکتے ہیں یا مودی کو ان کے جھوٹ، فریب اور مکاری کا منہ توڑ جواب دیتے ہیں ؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close