سیاستہندوستان

مودی کے منہ سے ’’تین طلاق‘‘ کی باتیں!

عبدالعزیز

 کون نہیں جانتا ہے کہ ہمارے ملک کے پردھان منتری نریندر مودی اپنی بیوی  کو سات روزمشکل سے اپنے گھر میں رکھ سکے۔ جب سے وہ گھر سے باہر کی گئی مودی جی نے نہ اس کو پلٹ کر دیکھا اور نہ ہی کسی سے اس کا حال چال معلوم کیا۔ جب وہ بیچاری غم کی ماری نے مودی جی کے وزیر اعظم ہونے پر خوشیوں کا چراغ جلایا اور برسوں بعد اس کی آرزوؤں کا پھول کھلا کہ اس کے شوہر نامدار اسے صدارتی محل میں حلف وفاداری کے موقع پر تقریب میں شرکت کی دعوت دیں گے تو پردھان منتری نے گھر سے نکالی ہوئی بیوی کو یہ کہہ کر مایوس کر دیا کہ ’’یہ منہ اور مسور کی دال‘‘۔

مودی جی کے راج میں 2002ء کے گجرات فسادات میں ہزاروں مسلم عورتوں پر ظلم ہوا۔ سیکڑوں مسلم عورتیں زندہ جلا دی گئیں ۔ ایک مسلم عورت کے پیٹ سے بچہ نکال کر اسے دو ٹکڑے کر دیا گیا۔ سورت شہر میں سو سے زائد مسلم عورتوں کو برہنہ کرکے سڑکوں پر مارچ کرایا گیا۔ سابق ایم سید احسان جعفری کو اور ان کی کالونی کے مرد اور عورتوں کو بلوائیوں نے زندہ جلا دیا۔ آج تک سید جعفری کی بیوہ اپنے شوہر کیلئے قانونی لڑائی لڑ رہی ہیں ۔ مودی جی اپنی ریاست کے فسادیوں اور مجرموں کو بچانے میں آج تک لگے ہوئے ہیں ۔ جب سے مودی جی کا پورے ملک میں راج ہوا کئی مسلمانوں کو گئو رکشکوں (گائے کے محافظوں ) نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ رانچی کے ایک تاجر مسلم نوجوان کی مار کر اس کی لاش پٹری پیڑ کی شاخوں میں باندھ کر لٹکا دیاگیا۔

دادری کے محمد اخلاق کو فریج میں گائے کے گوشت کے شبہ میں گھر سے نکال کر گائے کے نام پر نہاد محافظوں نے شہید کر ڈالا۔ مودی جی کی پارٹی کے بدمعاش عناصر کے ہاتھوں جن کے شوہر اور لڑکے مارے گئے۔ مودی کے منہ سے ہمدردی کا ایک لفظ بھی نہیں نکلا مگر مودی جی آج ’’تین طلاق‘‘ کی باتیں کر رہے ہیں کہ اس کی وجہ سے مسلم عورتوں کو بچانا چاہتے ہیں ۔ مودی جی کو خوب معلوم ہے کہ ہندو سماج میں مسلم سماج سے کئی گنا ہندو عورتوں پر جبر و ظلم ہورہا ہے۔ جہیز و تلک کے نام پر ہندو خواتین کو بڑی تعداد میں جلا بھی دیا جاتا ہے۔ طلاق کی شرح بھی مسلم سماج سے ہندو سماج 4 فیصد زیادہ ہے اور تعدد ازدواج کی شرح بھی ہندو سماج میں مسلم سماج سے 5 فیصد زیادہ ہے۔ (بحوالہ: مردم شماری 2011ء)

 گزشتہ روز مودی جی نے بسوا کمیٹی کے بسوا اچاریہ جینتی پروگرام کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تین طلاق سیاسی موضوع نہیں ہے۔ اسے سیاسی رنگ نہیں دینا چاہئے۔ مسلم سماج کے روشن خیال لوگوں کو آگے آکر اس مسئلہ کو حل کرنا چاہئے۔ مودی جی اور یوگی جی نے ہندو سماج کے سب سے زیادہ روشن خیال لوگوں میں سے ہیں ۔ ایک نے اپنی بیوی کا خیال نہیں رکھا۔ زندگی بھر کیلئے اس سے منہ پھیر لیا اور دوسرے نے اپنے بھائی بہن ماں باپ کو روتے بلکتے چھوڑ کر اترا کھنڈسے گورکھپور کے مٹھ میں چلا آیا۔ ظاہر ہے دونوں کو مسلم سماج میں ایسے ہی عناصر کی تلاش ہوگی جو مسلم مردوں کی نصیحت کریں گے اور مودی اور یوگی کی طرح خود کو فضیحت کرکے شرمندہ نہیں ہوں گے۔ کل ہند مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے سچ کہا ہے کہ مودی جی بار بار تین طلاق کے مسئلہ کو چھیڑ کر خود سیاسی رنگ دے رہے ہیں اور دوسروں کو نصیحت کر رہے ہیں کہ اسے سیاسی موضوع نہ بنائیں ۔ جماعت اسلامی ہندکے جنرل سکریٹری انجینئر محمد سلیم کی یہ بات سو فیصدی صحیح ہے کہ روشن خیال مسلمانوں کی بات کرکے مودی جی مسلمانوں کے اندر انتشار و افتراق پیدا کرنا چاہتے ہیں اور مسلم پرسنل لاء بورڈ اور دیگر مسلم تنظیموں کو بدنام (Discredit) کرکے مسلمانوں کے اندر سے ان کا اعتماد اور اعتبار ختم کرنا چاہتے ہیں اور مٹھی بھر اخلاق باختہ مرد اور عورتوں کو شریعت یا مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں ۔

 مسلمان مودی اور ان کی پارٹی کی دشمنی اور عداوت کے جذبہ سے بخوبی واقف ہیں ۔امید ہے کہ چند اخلاق باختہ خواتین اور مردکے سوا جسے مسلمان اپنی کمیونٹی یا ملت کا حصہ بھی نہیں سمجھتے وہی مودی اور یوگی کے بہلاوے یا بہکاوے میں جان بوجھ کر آسکتے ہیں ۔

 جو لوگ نام نہاد ہی قسم کے مسلمان مودی کے قریب ہیں ان کو مودی جی کو بتانا چاہئے کہ مسلمانوں میں ایسی تنظیمیں اور جماعتیں ہیں جو مسلمانوں کے اندر اصلاح کیلئے کوشاں ہیں ۔ تین طلاق کو نہ کوئی فرد نہ جماعت پسند کرتی ہے اور نہ ہی تین طلاق کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے بلکہ اسے اسلام اور قرآن کے منافی بتایا جاتا ہے اور مسلمانوں ہی میں ایک ایسا مکتبہ فکر ہے جو اکٹھی تین طلاق کو تین کے بجائے ایک ہی قرار دیتا ہے۔ شاید یہ بات مودی جی کی پارٹی اور ان کے حاشیہ برداروں کو معلوم نہیں ہے۔ اگر یہ حقیقت ان کے کان میں ڈال دی جاتی تو شاید مودی یا یوگی مسلم خواتین کیلئے مگر مچھ کے آنسو بہانے سے باز آجاتے اور تین طلاق کو سیاسی رنگ دینے کی جسارت نہیں کرتے۔ مسلمانوں میں جو مسلکی جھگڑے کی وجہ سے تنگ دلی پائی جاتی ہے اسے ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے  ؎

دشمن کے سامنے بھی ہیں ہم جدا جدا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close