سیاست

مودی 2014  کے ہتھیاروں سے ہی 2019  لڑیں گے

حفیظ نعمانی

وزیراعظم نے 8  مارچ کا ایک ایک گھنٹہ وصول کرتے ہوئے وارانسی، کان پور اور غازی پور کے اضلاع میں الیکشن کا ماحول بنا دیا۔ وارانسی میں اس بار انہوں نے اپنی ماں گنگا کی طرف دیکھا بھی نہیں اس کے بجائے بھولے بابا کا قصیدہ پڑھا جنہوں نے انہیں پرانے بنارس میں 40  مندر اور مورتیوں کا تحفہ دیا۔ اب وہ برسہابرس پرانے تاریخی مندروں کے بارے میں ہر وہ منصوبہ بنا رہے ہیں جو کسی کے خیال میں آسکتا ہے۔ وارانسی میں انہوں نے شلانیاس کے لئے خود کدال چلایا اور اپنے ہاتھ میں کرنی لے کر خود مسالہ رکھا۔

وزیراعظم نے اسی ہفتہ میں لاکھوں کروڑ کے سنگ بنیاد رکھے ہیں اور آنے والی حکومت کو آزمائش میں مبتلا کردیا ہے۔ کان پور سے ہی انہوں نے لکھنؤ میٹرو کو ہری جھنڈی دکھائی اور اکھلیش یادو کے لگائے ہوئے پیڑ کے پھل توڑکر کھائے بھی اور بانٹے بھی۔ کان پور کی ریلی میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ فضائیہ کے اسٹرائک کو کمتر دکھانے کیلئے دن رات کوشش کررہے ہیں۔ سیاسی مفاد کے لئے ایسی بیان بازی کی جارہی ہے جس سے دشمن کو طاقت مل رہی ہے ایسی باتیں کرنے والوں کو شرم آنا چاہئے۔ وزیراعظم کا اشارہ ان سب کی طرف ہے جو انٹرنیشنل میڈیا کے ان بیانات کی بنیاد پر جس میں سب نے کہا ہے کہ بالاکوٹ میں ہندوستان کی فضائیہ نے کسی قسم کا نہ جانی نقصان کیا نہ عمارتیں گرائیں۔ ان کے علاوہ مرکزی وزیر سردار اہلووالیہ نے بیان دیا ہے کہ حملہ کا مقصد انسانی ہلاکتیں نہیں تھا بلکہ پاکستان کو یہ دکھانا تھا کہ ہندوستان تمہارے ملک کے اندر گھس کر بھی مار سکتا ہے۔ مرکزی وزیر نے یہ بھی کہا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا اس معاملہ میں غیرمصدقہ اعداد و شمار پھیلا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے بین الاقوامی رپورٹیں دیکھی ہیں اور یہ بھی دیکھا ہے کہ وزیراعظم نے کیا کہا ہے۔

سردار اہلووالیہ سے زیادہ اہم وزیردفاع کا بیان ہے کہ ہوائی حملہ تباہی کے لئے کیا ہی نہیں گیا تھا  ایئرفورس کے وائس ایئر مارشل نے ہلاک ہونے والوں پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ کانگریس کے کپل سبل نے وزیراعظم سے دریافت کیا ہے کہ جب انٹرنیشنل میڈیا آپ کی تعریف کرتا ہے تو آپ کو بہت اچھا لگتا ہے۔ اب وہ سچ بتا رہا ہے تو آپ کو برا لگنے لگا؟

ایک اتنے بڑے ملک کے وزیراعظم کے لئے کیا یہ توہین کی بات نہیں ہے کہ اس پر جھوٹ بولنے کا الزام لگے ان کی وزارت کے وزیر ان کی فوج کے بہت بڑے افسر اُن کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا جائے کہ کوئی بھی شہری یا فوجی ہلاک نہیں ہوا۔ اور حکمراں پارٹی بی جے پی کے صدر گجرات میں بیان دیں کہ بالاکوٹ میں ہماری فوج نے 250  دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ اور وزیراعظم اپنی کان پور اور غازی آباد کی تقریروں میں نہ تو یہ کہیں کہ ہماری فوج نے مار دیئے نہ یہ کہیں کہ ہم نے مارنا مناسب نہیں سمجھا بلکہ ایسی گول مول باتیں کریں جن سے سننے والوں کو یقین ہوجائے کہ مارا تو ہے مگر زبان سے نہیں کہہ رہے ہیں۔

اور یہ انداز ان کا پہلی بار نہیں ہے وہ ہر مسئلہ میں گول مول طریقہ اپناتے ہیں سات مارچ کو بھگوا دھاریوں کو جوش سوار ہوا تو انہوں نے ان کشمیریوں پر حملہ کردیا جو خشک میوہ ہر سردی کے موسم میں کشمیر سے لاکر کم قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ بھگوا پوشاک ہر اس صوبہ میں نیم سرکاری وردی ہے جہاں بی جے پی کی حکومت ہے مارپیٹ کرنے اور گندی گالیاں بکنے والے اپنے کو وشوہندو پریشد یا بجرنگ دَل کے کارکن بتا رہے تھے ان غنڈوں کے سردار سے ایک رپورٹر نے معلوم کیا کہ تم کون ہوتے ہو؟ تو اس کا جواب تھا کہ یہ ملک ہمارا ہے اور ہم یہ برداشت نہیں کرسکتے کہ یہ کشمیری ہمارے ملک سے کماکر روپیہ لے جائیں اور بم بناکر بسیں اُڑائیں۔ یہ کشمیری برسوں سے گرم کپڑے اور خشک پھل لکھنؤ لاتے اور فروخت کرتے ہیں۔ جن لوگوں نے ان کو مارا ہے اگر وہ کہیں کشمیر یا دوسرے ملک میں ہوتے تو یہی کشمیری ان کا بھرتہ بنا دیتے۔ اگر ان بھگوا دھاریوں کی بہادری دیکھنا ہو تو راجستھان میں جاکر دیکھ لو۔ الیکشن سے پہلے سیکڑوں بھگوا دھاری گئورکشک تھے اور جس دن سے رانی ہاری ہے ہر گئو رکشک اپنی ماں کو لے کر غائب ہوگیا۔ یہ کشمیری فولاد کے بنے ہوئے ہیں یہ جواہر لعل نہرو کے زمانہ سے اب تک ہر حکومت سے لڑتے رہے ہیں۔ یہ نہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں نہ ہندوستان کے بلکہ آزادی ان کا نعرہ ہے اور یہ 1947 ء سے ہر دن آزادی کیلئے لڑرہے ہیں۔

ان کشمیری لڑکوں کے ساتھ بدتمیزی کی خبر عام ہوئی تو وزیراعظم نے ہمیشہ کی طرح کہہ دیا کہ سماج دشمن عناصر نے کشمیریوں کے ساتھ بدتمیزی کی اور جس یوگی حکومت کی سرپرستی کے بل پر انہوں نے غنڈہ گردی کی ہے وہ ہمیشہ کی طرح خاموش رہی لیکن ہر لکھنوی کو فخر ہونا چاہئے سماجی تنظیموں پر جو کھل کر سامنے آئیں اور لکھنؤ کے ہندو اور مسلمان سو فیصدی ان کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور لکھنوی تہذیب کو زخمی ہوتا دیکھ کر ہر کسی نے ان سے میوہ خریدا اور سب نے اصرار کیا کہ وہ جیسے کاروبار کرتے تھے اسی طرح کریں۔

ضلع مجسٹریٹ کا رویہ انتہائی تعریف کے قابل رہا انہوں نے حفاظت کا یقین دلایا اور 20  ہزار روپئے علاج اور نقصان کی تلافی کیلئے دیئے اور پولیس جو بھگوا کپڑوں سے ڈرکر ہلکی دفعات لگاکر بند کرنے جارہی تھی اسے حکم دیا کہ وہ دفعات لگائو کہ چھ مہینے تک ضمانت نہ ہوسکے۔ کشمیر کے مسئلہ میں جو کچھ اٹل جی نے کیا ہے وہ چھپا ہوا نہیں ہے اور یہ بات مودی جی بھی تسلیم کریں گے کہ بی جے پی اٹل جی کی بنائی ہوئی پارٹی ہے۔ اب اگر وہ ان کے نقش قدم پر نہیں چل سکتے تو یا استعفیٰ دے دیں یا پارٹی کا نام بدل دیں۔ یہ کتنا بڑا مذاق ہے کہ جھنڈے میں ہری پٹی ہے اور پارلیمنٹ سے اسمبلیوں تک ہزاروں ٹکٹ دیئے جاتے ہیں جن میں مسلمان کے لئے ایک ٹکٹ نہیں نکلتا اور ہر مسلم ملک اور مسلم تنظیموں سے ہر وہ فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں جو 18  کروڑ مسلمانوں کا حق بنتا ہے۔

اٹل جی کے زمانہ میں شاہ نواز حسین جیت کر آئے انہیں فروغ انسانی وسائل کے وزیر مرلی منوہر جوشی کا نائب بنا دیا 15  دن کے بعد شاہ نواز نے کہا کہ منتری جی کام تو کیا دیتے انہوں نے ملاقات کے لئے بھی نہیں بلایا۔ اٹل جی جوشی جی کی ذہنیت سے واقف تھے انہوں نے شاہ نواز کو کوئلہ کا کابینی وزیر بنا دیا ان کی یہی ذہنیت تھی جو کشمیر والوں نے دیکھی اور ہر کشمیری کی زبان پر اٹل جی ہے۔ اگر کشمیری لڑکوں کے ساتھ ان کے زمانہ میں ایسا ہوا ہوتا تو وہ وزیراعلیٰ کا کان پکڑکر نکال دیتے۔ جبکہ مودی جی ٹھیک نہیں ہوا اور ہونا نہیں چاہئے تھا اور جو ہوا جس وجہ سے ہوا اس پر خاک ڈالو کہہ کر زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close