سیاست

مہاداھویشن میں سیوا سنگھ اور سیوادل

ڈاکٹر سلیم خان

 کیشوراو بولا کیوں بھائی مادھوراو ’بی کے سی‘  چل رہے ہو نا؟

یار تم کو تو معلوم ہے ڈاکٹر نے مرغی کھانے سے منع کردیا ہے اس لیے میں دور سے ہی  ’کے ایف سی‘  کو دیکھ کر دل بہلا لیتا ہوں۔

میں ’کے ایف سی‘ چکن کی بات نہیں کررہا ہوں  بلکہ ’باندرہ کرلا کمپلکس ‘ میں ہونے والے بی جے پی مہا ادھویشن کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔

لیکن تجھے تو معلوم ہے کہ میں کانگریس سیوا دل کا آدمی ہوں۔

ارے ہاں بھائی لیکن تمہارا سیوا دل کہاں ہے ؟ کس کی سیوا کررہا ہے تمہارا سیوا دل ؟

مادھو راو بولا تمہارے راشٹر سیوک سنگھ کی طرح ملک کو لوٹ تو نہیں رہا ہے؟ اب سوسال کی عمر میں تم کس خدمت کی توقع کرتے ہو؟

سچ کہا تم نے اب ہمارا سنگھ بھی بوڑھا ہوچلا ہے۔ وہ خود خدمت کا محتاج ہوگیا ہے تو سیوا کیا کرے؟ لیکن تمہیں میرے ساتھ چلنا ہوگا۔

یار ہم لوگ بچپن سے دوست ہیں۔ اس سے قبل تم نے کبھی مجھ سے اصرار نہیں کیا۔ آج کیا بات ہے؟

بات یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کو پابند کیا گیا ہے کہ کم ازکم ایک آدمی کو اپنے ساتھ لے کر آئے ؟ ورنہ کارروائی ہوگی۔

لیکن  اگر  کسی کے ساتھ آنے کے لیے کوئی تیار  نہ ہو  تو ایسے  میں اس بیچارے کا کیا قصور ؟

پارٹی نے اس کو یہ سہولت دی ہے کہ وہ کرائے پر آدمی لے آئے۔ اس کے نقصان کی بھرپائی پارٹی کی طرف سےکر دی جائے گا۔

یہ ’ نقصان اور بھرپائی‘ والی منطق  سمجھ میں نہیں آئی  ؟ سنگھ نے کوئی نئی چانکیہ نیتی کھوج نکالی ہے کیا؟

ارے بھائی اب ہماری پارٹی براہمنوں کے نہیں  ایک بنیا کے ہاتھ میں ہے جو سارا کام روپیہ کے زور سے کرنے میں یقین رکھتا ہے۔ اب جو کوئی اپنی ملازمت سے چھٹی لے کریا دھندہ بند کر کے آئے گا اس  کا نقصان تو ہوگا ؟ اس نقصان کی بھرپائی پارٹی کردے گی۔ تم کانگریسی اتنا بھی نہیں سمجھتے ؟

ایسا ہے تو ممبئی میں بہت سارے بیروزگار مل جائیں گے ؟ کسی کو پکڑ کر لے جاو۔

جی ہاں لیکن اس سے  پارٹی میں رسوائی ہوتی ہے۔ مقامی دفتر میں نوجوانوں سے یہ رقم وصول کرتے ہوئے ہم پرانے لوگوں کو شرم محسوس ہوتی ہے۔

مادھو راو اپنے دوست کیشوراو کی تکلیف سمجھ گیا اس لیے کہ وہ خود اس کا مارا ہوا تھا۔ مادھو بولا یار میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں مگر ایک شرط پر؟

کیشوراو کی باچھیں کھل گئیں۔ وہ بولا تو جو بول میں کروں گا اگلے اتوار کو تیری من پسند دعوت کروں گا لیکن تو بس میرے ساتھ چل۔

جی نہیں  تیری دعوت تو میں اس اجتماع میں شرکت کے بغیر بھی لے سکتا ہوں لیکن میری شرط مختلف ہے؟

کیشو نے  چونک کے پوچھا  وہ کیا ہے؟

دو ماہ بعد ممبئی کے ریس کورس میدان میں کانگریس کا مہا ادھویشن ہونے والا ہے۔ اس میں تجھ کو میرے ساتھ چلنا ہوگا؟

لیکن میں وہاں جاکر کیا کروں گا ؟میری سمجھ میں نہیں آتا ؟

وہی جو میں ’بی کے سی‘ میں   کروں گا۔ تمہاری اے سی گاڑی میں جاوں گا۔ کھاوں گا پیوں گا اور واٹس ایپ و فیس بک دیکھوں گا بلکہ موبائل میں پسندیدہ فلمیں بھی ڈوان لوڈ کرکے لے جاوں گا اور تجھے نہیں  معلوم تقریر  تو میرے لیے لوری ہے۔ بھاشن شروع اوریہاں میں نیند  کی آغوش میں گم۔

کیشو بولا یار مان گئے تم سیوا دل  والوں کو۔ ہم لوگ تمہاری غفلت کا فائدہ تو اٹھا سکتے ہیں لیکن تم کو ہرا نہیں سکتے۔

کیشوراو  بولا یار مادھوراو گاڑی سے جانے میں دقت پارکنگ بہت دور ملے گی اور ٹرافک الگ۔ ہم لوگ ٹرین سے چلتے ہیں وہاں خصوصی بسوں سے سیدھے مہاادھیویشن کے دروازے پر پہنچ جائیں گے وہاں زعفرانی غالیچے پر ہمارا سواگت ہوگا۔  نہ سڑک کی بھیڑ اور نہ گاڑی کا جھنجھٹ۔

مادھو بولا یا ر تم آخر بھٹ ہو کنجوس مکھی چوس ۔ یہ کیوں نہیں کہتے کہ مودی جی نے پٹرول کا بھاو اتنا بڑھا دیا ہے کہ گاڑی لے جانے کی ہمت نہیں ہوتی۔

نہیں بھائی میں تو وقت اور زحمت کے پیش نظر کہہ رہا تھا تم چاہو تو گاڑی نکال لوں۔

 مادھو نے نفی میں سرہلایا تو دونوں ریلوےئ اسٹیشن کی جانب بڑھ گئےلیکن  ’بی کے سی‘جانے کے لیے باندرہ  اترے تو وہاں ہنگامہ برپا تھا۔

 کیشو نے کہا یار تم  لوگوں کے پاس  کوئی کام نہیں رہ گیا ہماری  کانفرنس میں روڑے اٹکانے آگئے۔ اب پولس کے ڈنڈوں سے عقل ٹھکانے آئے گی

مادھو نے کہا یہ کانگریسی  مظاہرہ  نہیں ہے یہ تو بی کے سی میں کام کرنے والے عام لوگ ہیں۔

اچھا ان کو کس نے ہمارے خلاف ورغلا دیا ؟

ارے بھائی ان کی  شکایت ہے، بی جے پی کی  خصوصی بسیں تو ادھویشن میں جارہی ہیں مگر بسوں کا نظام درہم برہم ہے۔ راستے بند اور زبردست جام ہے۔

تب تو ٹھیک ہے لیکن چلو ہم ائیر کنڈیشنڈ بس میں اپنی جگہ پکڑیں۔ بھاڑ میں جائیں یہ لوگ پولس ان کا دماغ درست کردے گی۔

وہ تو ٹھیک ہے اگر ان کا دماغ خراب ہوگیا تو انتخاب میں تمہارا کیا ہوگا ؟

اسی کے لیے یہ طاقت کا مظاہرہ ہورہا ہے اور تم تو جانتے ہی ہو ہمارے دیش میں طاقتور درگا کو پوجا جاتا ہے۔

بس میں چند سیٹیں خالی تھیں اس لیے مادھو کو  پہلے سے موجود ایک  مندوب کے پاس بیٹھنا پڑا۔ اس نےمراٹھی میں  پوچھا بھائی تم کہا ں سے آرہے ہو؟

وہ بولا گجراتی یا ہندی میں پوچھو مجھے مراٹھی نہیں آتی۔

مراٹھی نہیں آتی ؟ تو پھر تم کیوں یہاں مہاراشٹر کے ادھویشن میں کیوں آئے؟

ہمیں بتایا گیا کہ ممبئی پہلے گجرات کا حصہ تھی اور بولیٹ ٹرین کے بعد پھر سے ہوجائیگی اس لیے ہم لوگ اپنے ہی صوبے میں جارہے ہیں۔

لیکن ہمارے مراٹھی رہنماوں کی تقریر تمہاری سمجھ میں کیسے آئے گی ؟

ارے بھائی اس میں سمجھنے سمجھانے کا کیا ہے؟ میں تو اپنا نام لکھانے کے بعد چائے ناشتہ کرکے اپنے ماما کے گھر چلا جاوں گا اور واپسی میں بلا ٹکٹ  اسی خصوصی ریل سے اپنے گاوں  لوٹ جاوں گا۔

مادھو کو کیشو کی بات یاد آگئی۔ اس نے پوچھا اور لفافے کا کیا؟

وہ دیہاتی مسکرا کر بولا وہ تو میں پیشگی لے لیا۔ ان سیاستدانوں کا کیا بھروسا بعد میں سیاسی جملہ کہہ کر مکر جائیں تو آنا جانا بیکار ہوجائے۔

بس ادھویشن کے دروازے تک پہنچ گئی مادھو نے کیشو کے پاس آکر پوچھا یار تمہیں گجرات سے خصوصی گاڑیاں منگوانی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

یار مادھو اگر میدان خالی رہ گیا تواپنی  بے عزتی اور میڈیا کو پریشانی  ہوتی ہے۔ ایک بار بھر گیا  تو کون جانتا ہے کہ  لوگ کہاں سے؟ کیوں؟ اور کیسے آئے؟

جی ہاں اسی لیے اردو کے شاعر علامہ اقبال نے جمہوریت کے بارے میں کیا خوب کہا ہے ؎

جمہوریت و طرز حکومت ہے کہ جس میں   

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

چائے ناشتے کے منڈپ میں مادھوراو  نے اندر کیشوراو سے پوچھا یار ایک بات سمجھ میں نہیں آئی یہ ادھویشن احمدآباد کے بجائے ممبئی میں کیوں ؟

کیسی باتیں کرتے ہو مادھو احمدآباد سے اس کا کیا تعلق ہے؟

ارے تمہیں نہیں پتہ کہ احمدآباد سے بھارت کی دوسرا بلکہ پہلادا رالخلافہ  بن گیا ہے ؟

لیکن ہمارے لیے تو بھارت کی پہلی اور آخری راجدھانی ناگپور ہے۔ تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو؟

مادھو بولا میرے بھولے دوست یہ اس وقت کی بات ہے جب ہندوستان کے  سیاسی افق پر مودی نام کا سورج طلوع  نہیں ہوا تھا لیکن اب تو دن  میں مودی  اور رات میں ان کا چاند  امیت شاہ جگمگاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بین الاقوامی مہمان کسی اور شہر میں جائے نہ جائے احمدآباد ضرور جاتا ہے۔

کیشو بولا یار لیکن یہ مہاراشٹر کا کنونشن ہے اور تم بھول گئے  پارٹی کی سالگرہ منانے کے لیے  اس کے جنم استھان ممبئی سے بہتر شہر کون سا ہوسکتا ہے؟

اچھا اگر جنم دن منایا جارہا ہے تو اس کے جنم داتاوں کو بھی بلا لیتے۔ مجھے تو نہ لال پیلے  اڈوانی نظر آرہے ہیں اور نہ موگلی منوہرجوشی۔

یار تم ہمارے رہنماوں کا نام نہ بگاڑا کرو۔ وہ ہمارے مارگ درشک (سرپرست و رہنما) ہیں۔

ہاں ہاں وہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ مارگ درشن (رہنمائی)  کے لیے بلالیتے۔ وہ پڑے پڑے بور ہورہے ہیں  ان بیچاروں کے پاس کوئی کام تو ہے نہیں؟

ارے بھائی  ابھی حال میں تریپورہ کے اندر  تو بلایا تھا۔

وہ تو بے عزتی کرنے کے لیے دعوت دی گئی تھی کہ دیکھو جو تم نہ کرسکے ہم نے کردیا اور مودی جی نے تو اڈوانی جی کو بھری بزم رسوا بھی کردیا۔

مودی جی تو بھوپال کا بدلہ لے رہے تھے جہاں  اڈوانی نے مودی کے ساتھ یہی کیا تھا۔ ہوسکتا ہے  وہ بوڑھے لوگ اتنا لمبا سفر کرکے تھک گئے ہوں ؟

تو کیا تم لوگوں نے انہیں بیل گاڑی یا ٹرین میں بھیجا تھا  جو تھک گئے ہوں گے۔ خود تو نجی ہوائی جہاز سے چلتے ہیں اور بزرگوں کے ساتھ یہ سلوک ؟

نہیں بھائی میں تو پہلے ہی کہا کہ اب وہ مارگ درشک ہیں یعنی انہیں راستہ دکھا دیا گیا ہے اور وہ راہ دیکھتے رہتے ہیں۔

اس دوران پنڈال کے ایک کونے سے نعرے بازی  ہونے لگی  کچھ  لوگ گوپی ناتھ منڈے زندہ باد۔ گوپی ناتھ امررہے    کا شور کررہے تھے۔

مادھو نے پوچھا یار یہ کیا ہورہا ہے تمہارا نظم و ضبط کہاں چلا گیا؟

یار میں نے تو سمجھایا تھا کہ کم ازکم منڈے کی بھی ایک تصویر لگادیں ورنہ کھڑسے کے حامی اس کی آڑ میں ہنگامہ کریں گے لیکن نہیں مانتے اب بھگتیں

پنکجا منڈے  کے سمجھانے   پر بڑی مشکل سے شور تھما تو گیٹ کے پاس ایک اور ہنگامہ ہوگیا۔ کسی علاقہ  کی کسان خواتین دھرنے پر بیٹھ گئی تھیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ اس کنونشن پر بے دریغ روپیہ خرچ کرنے کے بجائے اگر کسانوں کا قرض چکایا جائے تو وہ خودکشی نہیں کریں گے۔

مادھو بولا یار کیشو مجھے تو ان کا مطالبہ درست معلوم ہوتا ہے۔

کیشو نے کہا مجھے پتہ تھا۔ میں تو کہتا ہوں کہ یہ بھی تمہاری طرح اندر سے کانگریسی اور اوپر سے زعفرانی ہیں

یار کچھ بھی بولتے ہو۔ یہ کسی گاوں سے پارٹی کی بس میں بیٹھ کر آئی  ہیں۔ کیاگاوں میں بھی  تمہارے لوگ یہ نہیں جانتے  کہ کون کس جماعت کا ہے؟

کیشو نے بات کو ٹالتے ہوئے کہا یار دیکھو بڑے بڑے ادھویشن میں چھوٹی موٹی باتیں ہوتی ہی رہتی ہیں۔

مادھو خوش ہوکر بولا اسٹیشن اور سڑکوں پر  شہریوں  کا غم و غصہ، کسانوں اور پسماندہ طبقات کی ناراضگی چھوٹی ہے یا بڑی اس کا اندازہ  الیکشن میں ہوجائیگا۔

کیشو بولا اتنا خوش ہونے ضرورت نہیں مودی جی میدان میں اتریں گے تو تم سب کا دماغ درست ہوجائیگا۔

مادھو بولا اچھا یاد آیا۔ اس سالگرہ کے موقع پر تمہارے پردھان سیوک کہاں چھپے بیٹھے ہیں ؟

ارے بھائی وہ ہر چھوٹے بڑے پروگرام میں کیسے آسکتے ہیں؟

کیوں نہیں آسکتے ؟ ایک زمانے میں تو وہ امبانی کے اسپتال کا افتتاح کرنے کے لیے بھی ممبئی آجایا کرتے تھے  اب کیا ہوگیا ؟ کہیں وہ بھی تو بوڑھے نہیں ہوگئے؟ ہمارا راہل کرناٹک میں دہاڑتا پھر رہا ہے اور تمہارے مودی اپنے بل سے باہر نہیں آتے۔

کیشو بولا یار مجھے تو لگتا ہے تم کو ساتھ لاکر میں نے غلطی کی۔ ہر بات میں خامی نکالتے ہو۔ اب نہیں آئے تو نہیں جو کرنا کرلو۔

مادھو بولا اس طرح بگڑنے سے بات نہیں بنے گی دوست۔ ایک طرف تو ممبئی  کو پلاسٹک فری بنانے کے ہر پوسٹر میں مودی جی کی تصویر اور دوسری جانب اتنے بڑے ادھویشن سے ان کا غائب رہنا اچھی علامت نہیں ہے۔ لگتا ہے مودی جی پر ابھی سے ؁۲۰۱۹ کی شکست کا خوف طاری ہوگیا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close