میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے!

 تسنیم کوثر سعید

گوری کو مار دیا ، 5 ستمبر کی اس رات کو یہ خبر سن کر ایسا لگا جیسے کسی نے میرے اندر بھی کسی کو مار دیا، قاتل کامیاب ہو جاتے اگر میں اپنے اندر کی مرتی تسنیم کو مرنے دیتی  اگلے دن پریس کلب کی ہنگامی میٹنگ میں پہنچی تو حبیب جالب کا یہ شعر جو کسی اور تناظر میں لکھا گیا تھا یاد آگیا۔ کچھ انجانے کچھ پہچانے چہروں پر لکھا تھا:

جو نہ ہوسکی بات وہ چہروں سے عیاں تھی

حالات کا ماتم تھا ملاقات کہاں تھی

کیا  اتفاق ہے  دیکھئے کہ سشما  سواراج  :وزارت خارجہ ،  نرملا  سیتھا رمن : وزارت  دفاع ، اسمرتی ایرانی : وزارت اطلاعات و نشریات۔ ہندوستان کی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع ہے  جب  ملک  کی تین اہم وزارتیں  خواتین کے حوالے ہیں۔  ہونا تو یہ چاہئے کہ ہندوستانی خواتین کے حوصلے بلند ہوتے  اور ہر شعبے میں خواتین زیادہ خود اعتمادی سے کام کر تیں لیکن عجیب بات  یہ ہے کہ ایک  موت آمیز حوصلہ شکن  فضا  طاری ہے۔ کیونکہ  ان عورتوں کا صاحب رائے  ہونا مشکوک ہے  ایسا لگتا ہے انکا وزارتیں سنبھالنا محض دکھاوہ ہے، کیونکہ آر ایس ایس جس نظریہ کی  حامل تنظیم  ہے وہاں عورت  ایک کموڈٹی  ہے  دوئم  درجے کی مخلوق  ہے اور برہمچریہ کا مکھوٹا  لگائے یہ تنظیم  مہذب سماج  کے منافی ہے۔ اس سلسلے میں اٹل بہاری باجپئی کا وہ بیان قابل ذکر ہے جو انہوں نے  اپنے  برہم چاریہ کے بارے میں پارلیامنٹ میں دیا تھا ’’میں  شادی شدہ نہیں ہوں مگر کنوارہ  بھی نہیں‘‘۔

اب بات کرتے ہیں  گوری  لنکیش کی ،بوسی بسیا   ( جب  منہہ کھولے جھوٹ ہی  بولے) گوری  لنکیش  وزیر اعظم مودی کو  اسی جملے سے مخاطب کیا کرتی تھیں۔ ہفت روزہ لنکیش پتریکے  16 صفحات پر مبنی ایک تحریک تھی جس کی  قائد گوری  لنکیش تھیں  یہ وراثت انہیں اپنے والد سے ملی تھی۔ ‘ـــ  ’’ جیسا  میں نے دیکھا  ‘‘عنوان سے ہر ہفتے ایک کالم  ہوتا  تھا۔ 13 ستمبر  کا ایشو تیار  تھا  اور اس بار موضوع تھا ‘  فیک  نیوز  کے زمانے میں۔ جی ہاں یہ زمانہ  جھوٹی  خبروں  کا زمانہ ہے  اور اس سے بھی بڑھ کے ہمارے  اور آپکے یقین کے تزلزل  کا زمانہ ہے۔ ہم نے  بھی یہ وطیرہ اپنا رکھا ہے کہ جھوٹی سچی خبروں کو من وعن  کاپی پیسٹ کر دیتے ہیں ہم  میں سے کئی  جھنڈا بردار  میڈیائی  سپہ سالار  روز  رات کوکسی نہ کسی چینل  پہ  رانا پرتا پ  بنام  جلال الدین  بننے کی ناکا م کوشش کر رہے ہوتے  ہیں اور  وقتِ  شہادت  پالا بدلنے میں دیر نہیں لگاتے۔ کئی  نیم حکیم   ڈیجٹل صحافت  کی بیماری پال  بیٹھے ہیں جس سے فائدہ کم نقصان زیادہ ہو رہا ہے۔

گوری  نے  اس ہفتے  کے لئے جو لکھا تھا وہ  اس بات کا ثبوت ہے کہ کس کس نے اسکو ہدف بنا رکھا تھا۔ وہ کنڑ میں ہے جسے  دا وائر ڈاٹ کام  (اردو  یا ہندی )  پہ پڑھا جا سکتا ہے۔ لیکن کیا  صرف یہی  وجہ ہے گوری کے قتل کی ؟

آئیے اسکو ذرا  دوسرے اینگل سے دیکھیں۔ آپ اس  بات سے اختلاف  کر سکتے ہیں  لیکن میں اسے ایک سیاسی قتل مانتی ہوں یہ مجھے نکسل یا بھگوا  بریگیڈ سے زیادہ  دونوں قومی سیاسی پارٹیوں کی پولرائزیشن پالیٹکس لگتی ہے۔ ابھی کانگریس  کی حکومت  ہے سدہ رمیا  وزیر اعلی  ہیں جے  ڈی ایس  سے نکالے جانے کے بعد 2006 میں انہوں نے  یہ کہہ کر کانگریس جوائن کی کہ وہ بی جے پی کی آیڈیالوجی سے متفق نہیں ہیں۔ کوربا کاسٹ سے ہیں  اور یہ  بیکورڈ کلاس ہے  سدہ رمییاـ’  اہندہ  ‘  یعنی  اقلیتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ گوری لنکیش انگریزی صحافت سے کنڑ میں آئی تھیں اور ایک مضبوط آواز بن گئی تھیں  کنڑ زبان  نے انہیں  اقلیتوں دبے کچلوں پچھڑوں سے جوڑ دیا تھا ساتھ ہی انکا اسٹیٹ کی طرف جھکاو بھی کئی لوگوں کو کھل رہا تھا۔ کنڑ زبان کی بات آئی ہے تو ایک اہم بات بتا دوں کہ کنڑ کو کرناٹک کی سرکاری زبان بنانے کے لئے جو  پہلی کمیٹی بنی تھی  ’کنڑ کوالو سمیتیـ ‘ کے پہلے  چیر پرسن سدہ رمییا ہی تھے ۔

اگر آپکو یاد ہو تو  ابھی گزرے جولائی کے  آخری ہفتے میں لوگوں کے  احتجاج  اور سدہ رمیا کے دخل کے بعد کرناٹک کی  نمّا  میٹرو ریل سے ہندی کو بے دخل کر دیا گیا ہے۔گوری اور اسٹیٹ  کے بیچ کسی حد تک حمایت کے لئے کنڑ  ایک بائنڈگ  ایجنٹ ہو سکتی ہے۔ ایک کامیاب الیکشن کے لئے جو کمپوننٹ درکار ہیں انمیں سے کئی سدہ رمییا کے پاس ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ لنگائیت  بی جے پی کے روائیتی ووٹر ہیں۔ اور نتیجوں کو پلٹنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ کرناٹک میں ٹھیک 9 مہینے بعد الیکشن ہونگے۔ بی جے پی  یدو رپا کو  سی ایم  چہرہ  بنا چکی ہے  جو لنگائیت ہیں۔ 2 فیصد  برہمنوں  کا مسئلہ یہ ہے کہ  ہندو احیا پرستی کے جس مفروضے  کا غبارہ  پھلا کر اسنے  اقتدار حاصل کیا ہے  اسکی ہوا اب نکلنے لگی ہے بھلے دس سال لگ جائیں لیکن اسکو پُھس  ہونا ہی ہے۔ آر ایس ایس مسلمانوں کے علاوہ ہرذی روح کو ہندو  فولڈ میں رکھنا چاہتی ہے  یہ لوگ  اپنی  گھٹتی آبادی سے فکر مند ہیں۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسف نے اپنی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا تھا کہ گزشتہ ۶60برسوں میں بھارت میں ۵۰ ملین یعنی ۵کروڑ بچیوں کو پیدا ہونے سے قبل قتل کردیا گیاجگ ظاہر ہے کہ یہ ہندو خاندانوں میں زیادہ ہوتا ہے۔( انکے یہاں لڑکی رحمت نہیں زحمت ہے) ایک اور اہم قابل غور نکتہ یہ ہے کہ دلتوں اور قبائلیوں کے متعدد افراد اعلانیہ طور پر کہتے ہیں کہ وہ ہندو نہیں ہیں۔ مردم شماری میں ان میں سے متعدد افراد نے اپنی مذہبی شناخت ہندو نہیں بتائی ہے۔

اسی طرح شمالی کرناٹک اور اس کے اطراف میں واقع لنگائیت آبادی خود کو ہندوئوں سے الگ مذہبی فرقہ قرار دیتی ہے۔ ان کا فرقہ ایک عرصہ سے مطالبہ کررہا ہے کہ اُنہیں ہندو دھرم سے ایک علیحدہ دھرم تسلیم کیا جائے، جیسا کہ انگریز حکومت نے آزادی سے پہلے کیا تھا۔ اسی طرح مہاراشٹر میں شیو دھرم کے، جسے وہ شیواجی مہارج سے منسوب کرتے ہیں ، ماننے والوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہور ہا ہے، جو خود کو ہندو دھرم کا حصہ نہیں مانتے۔ یہی مطالبہ اب کچھ عرصے سے پاکستان سے منتقل ہوئے سندھی بھی کرتے ہیں۔ سندھی سماج کا کہنا ہے، کہ ان کا ہندو دھرم یا برہمن ازم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھی، بھگوان رام نہ ہی بھگوان شیو کے پیروکار ہیں۔ ان کے پیر و مرشد جھولے لال ہیں ، جو اعلیٰ ہندو ذاتوں کی برتری کے مخالفین میں سے ہیں۔

غور طلب ہے کہ  ہندو انتہا پسندوں کی مربی تنظیم آر ایس ایس کی ’’گھر واپسی مہم‘‘ کے ردِعمل میں کئی سماجی تنظیموں نے جوابی مہم شروع کی ہے۔ دلتوں اور قبائلیوں کے کئی طبقات ایسے ہیں ، جو خود کو ہندو کہلانا پسند نہیں کرتے۔ سرکاری مراعات جیسے سرکاری ملازمتوں ، تعلیم اور سیاسی میدان میں ریزرویشن کے لالچ کے ذریعہ اُنہیں ہندو دھرم میں باندھ کر رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ قبائلیوں نے تو اپنا پرسنل لا بھی تیار کرلیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم علیحدہ فرقہ ہیں جن کا ہندو دھرم سے کوئی تعلق نہیں ، مگر انہیں مذہب کے خانہ میں ہندو زمرہ میں ڈالا جاتا ہے۔ زبان بھی ایک جزباتی مسئلہ ہے۔ کیوں نہ ہو ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح اردو  اور بنگلہ کی لڑائی نے ایک پورا  نیا ملک بنگلہ دیش ہی بنوا دیا۔کرناٹک بھی اس سے اچھوتا نہیں ہے۔

ادھر حالیہ  پے در پے  واقعات نے  یہ ظاہر کر دیا ہے کہ لنگائیت  روایتی ووٹنگ سے ہٹنے کا من بنا چکے ہیں۔ کانگریس  لنگائیت کو  الگ  دھرم کا  درجہ  دینے کی تياري کر چکی ہے۔ یہ سیاسی شطرنج  ہے  بساط  بچھ  گئی ہے  کانگریس نے  یہ بھروسہ دے کر شہ دی ہوئی ہے اب دیکھنا ہوگا بی جے پی اس کومات دے پاتی ہے یا نہیں۔ یاد رہے کہ پروفیسر ایم ایم کلبرگی کے قاتل آج تک نہیں پکڑے گئے وہ بھی لنگائتتھے اور آر ایس ایس کے سخت مخالف۔ گوری بھی لنگایت  تھیں دونوں قتل ہوئے  اب امید کی جانی چائیے کہ الیکشن سے پہلے دونوں کے قاتل پکڑ لئے جائیں  گے۔ یہ بھی نہ ہوا تو قاتلوں کو پکڑنے والا  معاملہ اگلے وقتوں میں کام میں لانے کے لئے  طوطے کے حوالے کر دیا جائے گا۔

لنگائیت کو الگ  مذہب  ماننا ،یہ براہ راست برہمن واد کو چیلینج ہے اوپر سے ایک ايشور واد اور نعش کو دفن کرنے کی روایت، شمشان اور قبرستان کے نعرہ کودھول  چٹاتی  دکھتی ہے، اس کا اثر باقی ریاستوں پر بھی پڑنے کاغالب امکان ہے۔ گوری لنکیش نہ صرف حکومت کے ساتھ مل کر نكسليوں کو مین سٹریم میں لانے کا کام کر رہی تھیں بلکہ ایک بڑا ووٹ بینک تيار کرنے میں کامیاب ہو رہی تھیں ساتھ ہی كنڑ زبان میں اپنی  ہفت روزہ میگزین کے ذریعے ایک مختلف سوچ کی پرورش کرنے میں کامیاب تھیں جو ان کو اپنے والدسے وراثت میں ملی تھی، جو سراسر آر ایس ایس کے خلاف ہے۔

 یہ وہ زخم تھا جو ناسور بن رہا تھا یہی  موہن بھگوت جی کا درد ِ سر ہے۔ 22 اگست 2017 کوبیلگاوی کے لنگ راج کالج گراؤنڈ پہ کرناٹک، مہارا،شٹر، آندھرا اور کیرالا کےلنگائیتوں نے  ایک بڑی ریلی کی تھی  جسمیں انکے رہنماوں نے کھل کر بی جے پی آر ایس ایس  اور ہندو مذہب  کی کھلّی اڑائی تھی۔ جسکے فورا بعد25 اگست کو هبلي کی  ریلی  میں موہن بھگوت کو دو ٹوک کہنا پڑا کہ لگايت کمیونٹی کے رہنما اس بات کا یقیندلائیں کہ  لنگائیت ہندو سماج سے باہر نہ  جائیں۔ تابوت میں آخری کیل ٹھونکی  لنگائیت کمیونٹی کی پہلی خاتون  دھرم گرو  جگت گرو ماتے مہا دیوی   نے  انہوں نے ایک انٹرویو میں  صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ  ’میں بھاگوت  جی سے کہنا چاہوں گی کہ لنگايت ہندوؤں میں کوئی ذات نہیں ہے۔ یہ ایک مختلف مذہب ہے جسے ہم آئینی حیثیت دلانے کے خواہاں ہیں۔ اگر اس کو تسلیم کیا جاتا ہے تو  بھاگوت جی کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم ہندو ثقافت اور ورثے کے خلاف نہیں ہیں ‘ گویا انھوں نے  یہ شرط اپنی حمایت کے لئے سیاسی بساط پر رکھ دی۔ اب "بھگوت جی کی حالت سانپ چھچھوندر کی ہے نگلے تو کوڑھی اُگلے تو اندھے۔

بوکھلاہٹ عروج پر ہے  اوپر سے میڈیا کی پول کھولنے والے  فراڈ  اور فیک نیوز والے روز بروز بے نقاب ہوتے جا رہے ہیں۔ لوگ مین اسٹریم میڈیا کو چھوڑ الٹر نیٹو  میڈیا کو تیزی سے اپنا رہے ہیں۔ انکا پانسہ  الٹا پڑتا جا رہا ہے۔ گوری نے  اپنا آخری  اداریہ  فیک نیوز پر لکھ کر  اس پروپیگنڈہ مشنری کو  علاقائی زبان کنڑ میں  بے نقاب کر دیا ہے جو دیر یا سویر اپنا کام کر ہی دے گا۔ سچ یہی ہے کہ آج  کے دور میں کیمیکل اسلحوں سے زیادہ  مہلک  فیک نیوز  اور  پیڈ  نیوز کا  بازار ہے جو  پوری قوم میں سرائیت کر دیا گیا ہے۔ اسی کا   شاخسانہ ہےکہ 2  فیصد  اقتداری کنبہ 18 فیصد بنا  ریڑھ  والوں کا خوف  دکھا کر  80 فیصد موم کی ناک  والوں کو قابو میں کرنے میں لگا ہے۔

لیکن ہندوستان میں  مولوی محمد  باقر اور گنیش شنکر ودیارتھی  نے  اصول پسند ، امن پسند آزاد منش  بے باک  قلم برداروں کی جو نسل تیار کی ہے   اسمیں  سوچ  یا نظریہ  نہیں مرتا  اسمیں قلم  بردارمارا جا سکتا ہے قلم نہیں، سوچ نہیں  نظریہ  نہیں۔ گوری زندہ ہے اور رہے گی۔ بڑے کہہ گئے ہیں کہ جو شاعر، ادیب اور صحافی  انسانی جذبات ، عوامی مسائل، آفاقی نظریات، ظلم، نا انصافی، استحصال، آمریت ،انسانی حقوق اور انسانیت کو  موضوع بنا  کراپنے قلم  کے توسط سے دنیا کو   مخاطب کرتے  ہیں وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔



⋆ تسنیم کوثر

تسنیم کوثر
تسنیم کوثر روزنامہ ایشین رپورٹر کی اڈیٹر ہیں۔ آپ نے آل انڈیا ریڈیو اور دور درشن کو بھی اپنی خدمات دی ہیں۔ آپ کا آبائی وطن ضلع پورنیہ بہار ہے۔ پٹنہ یونیورسٹی سے تاریخ اور اردو میں ماسٹرز کیا ہے۔ سماجی اور علمی خدمات میں پیش پیش رہی ہیں۔ ان کے 17 افسانوں کا مجموعہ ''بونسائی'' زیور طبع سے آراستہ ہو چکا ہے۔ دوسرا مضامین کا مجموعہ ''خدا جھوٹ نہ بلوائے" زیر طبع ہے۔ asianreporter.in@gmail.com

ایک تبصرہ

  1. مولوی اقبال

    چشم کشا تجزیہ!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے