سیاست

نام میں بہت کچھ رکھا ہے!

 ملک کو مکمل ہندو راشٹر بنانے کی مبینہ سازشیں مسلسل کی جا رہی ہیں۔

فیصل فاروق

 ملک کو مکمل ہندو راشٹر بنانے کی مبینہ سازشیں مسلسل کی جا رہی ہیں۔ مودی حکومت ملک کے سب سے زیادہ مصروف اور تاریخی ریلوے اسٹیشنوں میں سے ایک کے نام پر مسلم حوالہ سے ناخوش تھی۔ اسی سلسلے میں ملک کے سب سے زیادہ قابل قدر اور معزز مورخین میں سے ایک یوگی آدتیہ ناتھ ہیں جو یوپی کے وزیراعلیٰ بھی ہیں۔ انہوں نے ایک حکم نامہ جاری کر کے اتر پردیش کے قدیم مغل سرائے ریلوے اسٹیشن کا نام بدل کر اسے آر ایس ایس کے نظریہ ساز دین دیال اُپادھیائے سے منسوب کر دیا۔ اب اس کا نام پنڈت دین دیال اپادھیائے جنکشن کر دیا گیا ہے۔

مغلیہ سلطنت، قرون وسطی کے بھارت کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ جس پر اب بھی "حملہ” ہو رہا ہے لیکن یہ غیر متوقع نہیں ہے۔ ٢٠١٤ء سے ہی مغلوں کی ناپسندی ہندوتوا سیاستدانوں کیلئے ایک رجحان کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ مودی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مغلیہ دور کی تاریخ، ان کی یادگاریں اور عمارتیں مسلسل تنقید کی زد میں ہیں۔ حکومت میں بیٹھے اور پیچھے کھڑے لوگوں کی ایماء پر سخت گیر ہندو لیڈران کی جانب سے پوری قوت کے ساتھ یہ باور کرانے کی کوشش ہو رہی ہے کہ مسلم حکمراں بالخصوص مغلوں نے ہندوستان کی تہذیبی قدروں کو نقصان پہنچایا تھا۔

یاد رہے کہ مودی حکومت نے سب سے پہلے دہلی کے مشہور اورنگ زیب روڈ کا نام بدل کر مذہبی منافرت پر مبنی اس مہم کی ابتدا کی تھی، ٢٠١٦ء میں مرکزی وزیر جنرل وی کے سنگھ نے یہ تک مطالبہ کیا تھا کہ دارالحکومت دہلی کے مشہور زمانہ اکبر روڈ کا نام بدل کر مہارانا پرتاپ سنگھ روڈ رکھا جائے۔ بر صغیر کی تاریخ سے متعلق اب تک تمام مستند تاریخی کتابوں میں یہی درج ہے کہ ہلدی گھاٹی کی جنگ میں مغل بادشاہ اکبر کی فوج نے میواڑ کے مہارانا پرتاپ کو شکست دی تھی۔

حیرت ہے کہ کیوں مغل سرائے کا نام لال بہادر شاستری سے نہیں منسوب کیا گیا جو ہندوستان کے دوسرے وزیر اعظم تھے اور یوپی کے مغل سرائے میں ہی پیدا ہوئے تھے۔ جبکہ پنڈت دین دیال اپادھیائے کی حیثیت ایک مسلم مخالف ذہنیت رکھنے والے آر ایس ایس کے ترجمان اور انگریزوں کے مخبر سے زیادہ کی نہیں ہے۔

اس وقت کی رپورٹس تجویز کرتی ہیں کہ دین دیال اپادھیائے کو دو چوروں نے چلتی ٹرین سے دھکیل دیا تھا جب چور ان کا سامان چھین کر بھاگنے کی کوشش میں ناکام ہو گئے تھے۔ بعد میں، دو افراد کو گرفتار کیا گیا لیکن ثبوتوں کی کمی کی بنیاد پر دونوں کو چھوڑ دیا گیا تھا۔ ١٩٦٨ء میں اسی مغل سرائے اسٹیشن پر پنڈت دین دیال اپادھیائے مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔

دراصل موجودہ حکومت بڑھتی مہنگائی، معاشی ترقی اور روزگار جیسے مسائل سے نمٹنے میں بری طرح ناکام رہی ہے اور اسی سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے ایسے جذباتی مسائل ابھارے جا رہے ہیں۔ اسی لئے ایک مسلم مخالف ذہنیت اور آر ایس ایس کے ترجمان کو اتنی اہمیت دی جا رہی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

فیصل فاروق

فیصل فاروق کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Back to top button
Close