سیاستہندوستان

نربھیا کے بعد بلقیس کو بھی ایسا ہی انصاف ملے!

حفیظ نعمانی

یہ وقت کی بات ہے یا اپنا اپنا نصیب کہ ایک 23  سالہ طالبہ کو بس میں سفر کے دوران وہ سب جھیلنا پڑا جو خدا کسی کو نہ دکھائے۔ اور اس دردناک اور شرمناک واقعہ کے ردّعمل میں ہزاروں لڑکیاں جلتی ہوئی شمع لے کر سڑکوں پر آگئیں ، پورا سیاسی سماج انگشت بدنداں رہ گیا لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی خواتین ممبروں نے ہائوس کو سر پر اٹھا لیا اور میڈیا وہ ٹی وی ہو یا اخبار خبروں سے رنگ گئے۔ اور حکومت نے دہلی ہی نہیں سنگاپور تک کے اسپتالوں میں علاج کے ذریعہ اسے بچانا چاہا اور جب وہ جانبر نہ ہوسکی تو اس کے تابوت کو لینے کے لئے خود وزیر اعظم ایئرپورٹ پر کھڑے نظر آئے۔

اور اس کے لئے خصوصی عدالت بنائی گئی جس نے ہر دن سماعت کرکے مجرموں کو پھانسی کی سزا تجویز کی جسے ہائی کورٹ نے بحال رکھا اور آخری عدالت کے تین فاضل ججوں نے بھی پھانسی کی سزا پر مہر لگادی اور ساڑھے پانچ سال میں انصاف کی لڑائی ختم ہوگئی۔ اور تاریخ میں یہ بھی پہلی بار ہوا کہ سپریم کورٹ جیسی عظیم عدالت میں فیصلہ سن کر لوگوں نے جوش میں تالیاں بجادیں اور اس فیصلہ پر مینکا گاندھی سونیا گاندھی اور حلقہ کے لوگوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ خدا کرے اب رحم کی اپیل کے ناٹک میں حکومت کے وزیر وہ نہ کریں جو اب تک کرتے آئے ہیں ؟ کہ پھانسی کی سزا کو عمرقید میں بدل کر صدر کے سر پر ٹھیکرا پھوڑ دیں جبکہ صدر کے اختیارات کی تفصیل کل ہی ہم لکھ چکے ہیں ۔

ایک لڑکی جس کا نام بلقیس بانو ہے اور جس کا تعلق گجرات سے ہے اس کی کہانی نربھیا سے بھی زیادہ دردناک ہے۔ لیکن وہ مسلمان ہے اس لئے پندرہ برس سے زیادہ ہوجانے کے بعد صرف اپنے بل بوتے پر وہ جہاں تک پہونچی ہے کہ اس کے 14  رشتہ داروں کو قتل کرنے اور اس کی عصمت کو اس حالت میں تار تار کرنے والے کہ اس کے پیٹ میں پانچ مہینے کا حمل تھا 41  قاتلوں کو ہائی کورٹ سے عمرقید کی سزا دی گئی ہے۔ اور ان پانچ پولیس اہلکاروں کو چھوڑ دیا ہے جو خود اس خونی ڈرامہ میں شریک تھے۔ اور ان کے ساتھ سفید کوٹ پہنے ہوئے دو ڈاکٹر بھی تھے۔ جن کے بارے میں ہائی کورٹ نے پھر سے سی بی آئی کو جانچ کرنے کا حکم دیا ہے۔

بیٹی جیسی ہماری نربھیا بھی ہے اور بلقیس بھی۔ بلقیس مسلمان ہی نہیں وہ شیرنی ہے جو وزیر اعظم کی فوج سے لڑکر اور انہیں مات دے کر یہاں تک آئی ہے۔ بلقیس کے لئے صرف ہم جیسے چند اخبار والے لکھتے رہے اور اتنے بڑے گجرات میں کسی نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ وہ لاشوں کے ڈھیر میں جب ہوش میں آئی تو بے لباس تھی۔ یہ 2002 ء کا واقعہ ہے جب گجرات میں ہر ہندو خونی ہوگیا تھا اور حکومت کی طرف سے پولیس کو حکم تھا کہ وہ ہندو کا ہاتھ نہ روکے۔ بلقیس کی تو ایف آئی آر بھی سپریم کورٹ کے حکم سے سی بی آئی نے لکھی ہے۔ گجرات کے تھانوں میں تو اسے جواب دیا گیا کہ ہم رپورٹ بعد میں لکھیں گے پہلے اسپتال میں معائنہ ہوگا اور وہاں زہریلی سوئی لگادی جائے گی تو کہاں رپورت لکھائوگی؟ جائو کہیں جابسو۔

اس کی ہمت کو سلام، اس کی جرأت کو سلام، اس کی بہادری کو سلام کہ وہ واقعی شیردل ہے۔ کاش میں سفر کے قابل ہوتا تو وہ ملک کے کسی شہر اور کسی گوشہ میں ہوتی اسے مبارکباد دینے جاتا اور اس کی ہر طرح کی مدد خود بھی کرتا اور دوستوں سے کراتا۔ نربھیا بیٹی کی لڑائی سارے ملک نے لڑی ہے اور بلقیس نے صرف اپنے کمزور ہاتھوں سے 2002 ء سے 2014 ء تک نریندر مودی وزیر اعلیٰ اور امت شاہ وزیر داخلہ اور ان کی پوری حکومت سے لڑی ہے۔ ہم پورے ملک سے معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ کوئی بیگم حضرت محل اور جھانسی کی رانی جیسی اور ہے جس کا مقابلہ بلقیس سے کیا جاسکے؟ جس کا نہ کوئی رشتہ دار نہ دوست نہ من حیث القوم مسلمان اور نہ پارلیمنٹ کا ممبر۔ اور اس نے ہائی کورٹ تک لڑکر گیارہ گجراتی فسادیوں کو عمرقید کی سزا تک پہونچا دیا؟ کیا اب یہ ہم سب کا فرض نہیں ہے کہ آگے کی لڑائی ہم لڑیں اور سپریم کورٹ کے ان تین محترم ججوں سے ان گیارہ درندوں اور پانچ پولیس والوں کو بھی پھانسی دلادیں ؟ یہ تو سب کے منھ سے نکل رہا ہے کہ کوئی گینگ ریپ کرکے قتل نہ کرسکے اس لئے پھانسی ضروری ہے۔ تو یہ کیوں نہیں ضروری ہے کہ فساد کے بہانے پورے ایک خاندان کا صفایا کرنے والے تین مہینے کے بچہ کو پٹخ کر مارنے والے اور ایک حاملہ لڑکی سے منھ کالا کرنے والوں کو پھانسی دے کر ایسے واقعات پر روک لگائی جائے؟

جی تو نہیں چاہتا کہ وزیراعظم سے کچھ کہا جائے۔ نہیں معلوم کہ اس خبر کا ان پر کیا اثر ہوا؟ کیونکہ اب تک کئی ایسے فسادیوں کو سزا ہوچکی ہے جنہوں نے صرف مودی جی کی ہری جھنڈی کے بعد تلوار اٹھائی تھی۔ وہ کم از کم ان پانچ پولیس والوں کو تو پھانسی کی سزا دلوانے میں مدد کریں ۔ سونیا گاندھی نے نربھیا کیس کو روح کو جھنجھوڑ دینے والا واقعہ کہا ہے اور اپنی ساری ہمدردی اپنی بہادر بیٹی اور گھر والوں کے ساتھ بتائی ہے۔ انہیں کبھی وہ بہادر بیٹی بلقیس یاد نہیں آئی جس کی جیسی بہادری کے لئے صدیوں  کی تاریخ کھنگالنا پڑے گی۔ سونیا اب کم از کم سپریم کورٹ کے لئے کپل سبل صاحب کی خدمات بلقیس کو دے دیں ۔ کانگریس کے صرف ایک لیڈر شرمشٹھا مکھرجی اکیلے ایسے لیڈر ہیں جنہوں نے پھانسی کی سزا پرمسرت ظاہر کرنے کے بعد کہا ہے کہ بلقیس بانو کی آبروریزی اور اس کے خاندان کے 14  آدمیوں کو قتل کرنے والوں کو پھانسی کی سزا دلوانے میں اس کی پوری مدد کرنا چاہئے۔ ان کے علاوہ سب خاموش ہیں ۔

آج کا انسان کتوں سے زیادہ ذلیل ہوگیا ہے شہر ہو یا گائوں ہر جگہ یہ منظر نظر آتا ہے کہ ایک کتیا کے پیچھے دس کتے دوڑتے رہتے ہیں زوریا زبردستی کوئی نہیں کرتا۔ کتیا ہی جب اجازت دیتی ہے تو کوئی ایک اس سے رشتہ بنا لیتا ہے۔ اور تمام کتے کسی اور کتیا کی تلاش میں چلے جاتے ہیں ۔ یہ اشرف المخلوقات انسان ہیں جو بیہوش لڑکی کے ساتھ وہ کرتے ہیں جو سڑک کے کنارے بنے پیشاب گھروں میں لوگ لائن لگاکر پیش کرتے ہیں ۔ عدالت بہرحال عدالت ہے کاش بلقیس کو بھی انصاف ملے اور گیارہ کو پھانسی دے دی جائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close