سیاست

نسیم الدین صدیقی دلالوں  کے چکر میں  پھنس گئے!

کل ہر اردو اخبار نے یہ خبر بڑے اہتمام سے چھاپی کہ راشٹریہ علماء کونسل کے قومی صدر مولوی عامر رشادی نے اپنے 84 امیدوار مایاوتی کی حمایت میں  واپس لے لیے، اب وہ سب خود لڑنے کے بجائے بی ایس پی کے ہاتھی کو ووٹ دیں گے۔ مولوی رشادی نے الیکشن کے ا علان سے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ سو امیدوار کھڑے کریں گے جن میں  84 کا فیصلہ ہی ہوا تھا کہ ان کے سامنے دانہ ڈال دیا گیا اور وہ اس پر تیار ہوگئے کہ اب وہ اس بی ایس پی کی حمایت کریں گے جس نے اسے بنایا تھا اور جس کے طفیل میں  مایاوتی کی حکومت میں  آئے دن سہارا اردو کے پہلے صفحہ پر آدھے آدھے صفحے کے اشتہار چھپتے تھے جو ان کی اور ان کے ساتھی مدنی صاحب کی تقریر اور جلسوں  کی کارروائی ہوتی تھی، لیکن جب سے مایاوتی نے آنکھیں  پھیری تھیں  دال روٹی پر گذرتھا۔

ہمارا اندازہ ہے کہ اس مرتبہ نسیم الدین صدیقی صاحب نے سودا کرایا ہے۔ صدیقی صاحب کو اس مرتبہ مایاوتی نے مسلمان ووٹ خریدنے کی ذمہ داری دی ہے۔ اب سے پہلے وہ کسی بھی الیکشن میں  میدان میں  نہیں  آئے تھے اور نہ ان پینتروں  سے واقف ہیں،  جو ووٹوں  کے دلال ہر الیکشن کے موقع پر دکھاتے ہیں،  جب وزیر اعظم بننے کے بعد پہلی مرتبہ اندراگاندھی رائے بریلی الیکشن لڑنے کے لیے آئیں  تو ہمارے ایک دوست صحافی جو ایک ہفتہ وار اخبار نکالتے تھے اس موقع سے فائدہ اٹھانے پر تیار ہوئے۔ انھوں  نے ایک پوسٹر چھپوایا جس میں  مسلمانوں  کے مسائل اور اردو کے لیے رائے بریلی سے الیکشن لڑنے کا ا علان تھااور وہ اسی دن نامزدگی کرنے کے لیے رائے بریلی گئے جس دن اندرا جی کرنے والی تھیں۔  اور نامزدگی سے پہلے وہ پوسٹر کچہری کے چاروں  طرف لگوادئے۔ اندرا جی کے ساتھ یوپی کی کانگریس تھی سب نے وہ دیکھے اور صحافی صاحب نامزدگی کراکے واپس آگئے۔

ابتدائی دور میں  اندرا جی کے سیاسی معاملات یشپال کپور دیکھتے تھے۔ وہ اندراجی کے ساتھ دہلی نہیں  گئے اور لکھنؤ میں  رک گئے کہ رائے بریلی کے معاملات کو ٹھیک کریں گے۔ نامزدگی کے چار پانچ دن کے بعد یشپال کپور اس صحافی کاپتہ معلوم کرکے ان کے گھر آئے اور ان سے معلوم کیا کہ آپ کیاچاہتے ہیں ؟ صحافی طبیعت کے بہت شریف اور بے ضرر آدمی تھے انھوں  نے دو چار ضروری باتوں  کے بعد کہہ دیا کہ ا نھیں  ایک ٹیلی فون اور اخبار کے لیے اتنی آمدنی کہ وہ نکلتا رہے اور وغیرہ وغیرہ۔

یشپال کپور نے کہا کہ آپ نام واپس لے لیں۔  آپ کا ہر کام ہوجائے گا اور یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں  ہے کہ یشپال کپور نے وہ سب کردیا جو انھوں  نے کہا اور وہ بھی کردیا جو نہیں کہا۔

عامر رشادی نے بھی اپنے ۸۴ امیدواروں  کے نام پر ظاہر ہے کہ نسیم صدیقی سے کیا کیا نہ لے لیا ہوگا؟ اور اس کے بعد انھوں  نے دس کام بھی گنادئے جو ان کی بہن جی نے کیے اور وہ بھی ان کے کھاتے میں  ڈال دئے جو نہیں  کیے۔ مولوی صاحب کو صرف نوٹ نظر آتے ہیں  اس کے بعد وہ بھول جاتے ہیں کہ ڈاکٹر طار ق اور مولوی خالد مجاہد سب اس زمانہ میں  گرفتار ہوئے تھے جب 2006کے بعد مایاوتی کی حکومت تھی اور اس وقت ہم نے لکھا تھا کہ گرفتاری دکھانے اور غائب ہونے میں ۵ دن کا فرق ہے۔ وزیر اعلیٰ کو معلوم کرنا چاہیے تھا کہ انہیں  ۵ دن کہاں  رکھا؟ اور ان کے پاس RDXکہاں  سے آگیا؟ اکھلیش کی حکومت میں  ایک بھی گرفتاری نہیں  ہوئی، اس لیے کہ ملائم سنگھ کے زمانہ میں  کسی ایجنسی نے ندوہ پر چھاپہ مارا تھا، مولانا علی میاں  نے ملائم سنگھ کو فون کیا انھوں  نے DGPکو حکم دیا کہ ہر طرف تلاش کرو کہ وہ کون ہیں ؟ اور انہیں  بند کردو، ہم بعد میں  دیکھیں گے۔ مولوی رشادی کو کیوں  یاد نہیں کہ مایاوتی نے اردو اکادمی کا چیرمین اعظم قریشی کو بنایا تھا جس نے اکادمی میں  آکر کہا کہ ہم اردو پڑھ تو لیتے ہیں  لکھ نہیں  پاتے۔ اور فخر الدین علی احمد کمیٹی کا چیرمین بھی اتنے ہی قابل کو بنایا تھا۔ انھوں  نے اردو عربی فارسی یونیورسٹی بنائی لیکن اس کا نام کانشی رام یونیورسٹی رکھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مایاوتی صرف ایک مسلمان کو جانتی ہیں  اس کا نام نسیم الدین صدیقی ہے باقی مسلمانوں کو وہ وہی سمجھتی ہیں  جو اپنے دلتوں  کو سمجھتی ہیں۔

اس مسئلہ میں  بہت کچھ لکھنا ہے لیکن کل ہی اعلان آگیا تھا کہ دہلی کی جامع مسجد کے امام شام کو اترپردیش کے مسلمانوں  کو بتائیں گے کہ وہ کسے ووٹ دیں  اور کسے نہ دیں۔ کل رات ہم نے ان کی زبان سے سن بھی لیا کہ ملائم سنگھ نے 2012ء میں  مسلمانوں  سے جتنے وعدے کیے تھے ان میں  ایک بھی پورا نہیں  کیا اس لیے مسلمانوں  کو اس کے متبادل کو ووٹ دینا چاہیے اور متبادل بی ایس پی ہے۔ ملک میں  ایسے لوگوں  کی تعداد کم نہیں  ہے جو ہر الیکشن کے وقت کمانے کے لیے سامنے آتے ہیں  اور سب جانتے ہیں  کہ ان کے کہنے سے 10 مسلمان بھی ووٹ نہیں  دیتے اس لیے کہ مسلمان ان سے نفرت کرتے ہیں۔  مولوی احمد بخاری جامع مسجد میں  نماز پڑھانے کے امام ہیں  ان سے پہلے ان کے والد تھے اور انھوں  نے اپنے بعد اپنے اس بیٹے کو جانشین بنادیا جو نوئیڈا میں  ایک کالج میں  پڑھتا تھا اور جس کے ایک ہندو لڑکی کے ساتھ آئے دن اخباروں  میں  فوٹو آتے تھے کہ یہ دہلی کے شاہی امام کے بیٹے ہیں۔  اور اب وہ لڑکی امام صاحب کی بہو ہے۔

2004ء میں  دہلی اور جامع مسجد کے علاقہ کے ہر مسلمان نے دیکھا تھا کی شاہی امام بی جے پی ا میدوار اسمرتی ایرانی کے ساتھ گھوم گھوم کر مسلمانوں  سے ووٹ مانگ رہے ہیں  اور اٹل جی کی تعریف کررہے ہیں۔  2014ء میں  بی جے پی نے منہ نہیں  لگایا تو سونیا گاندھی سے سودا کرلیا اور باقاعدہ کانگریس کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔ 2012ء میں  وہ ملائم سنگھ کے ساتھ تھے انھوں  نے اپنے داماد کو سہارنپور سے ٹکٹ دلایا لیکن جو امام پورے ملک کے مسلمانوں  کو حکم دیتا ہے وہ اپنے داماد کو کامیاب نہ کراسکا۔ اس کے بعد وہ ڈیرہ ڈال کر لکھنؤ میں  بیٹھ گئے کہ میرے داماد کو ایم ایل سی بنائو۔ ظاہر ہے کہ ایم ایل سی اس وقت بنتا ہے جب اس کے الیکشن ہوں۔  جامع مسجد کا امام سب نمازیں  چھوڑے ہوئے لکھنؤ میں  اس وقت تک پڑا رہا جب تک داماد کو ایم ایل سی نہ بنوالیا۔ اس درمیان میں  اعظم خاں  نے بار بار کہا کہ اس امام کے پاس سو ووٹ بھی نہیں  ہیں  لیکن ملائم سنگھ بہت مروّت کے آدمی ہیں انھوں  نے ایک نہیں  سنی، اس کے بعد وہ اسے وزیر بنوانا چاہتے تھے جو ایک مذاق تھا، اس لیے ناراض ہیں۔

عامر رشادی ہوں  یا احمد بخاری ہماراکسی سے کچھ لینا دینا نہیں  ہے۔ ہم عامررشادی کے والد حضرت مولانا مجیب اللہ ندوی کے معتقد ہیں، وہ بہت بڑے عالم تھے اور بزرگ تھے۔ ہمارے ایک چچا زاد بھائی مولوی عارف نے ان کے مدرسہ میں  برسوں  تفسیر پڑھائی ہے۔ اعظم گڑھ میں  ہی نہیں پورے پورب میں  ہر آدمی ان کی عظمت کا قائل تھا۔ انھوں  نے اپنا مدرسہ بنانے کے لیے جیسی قربانیاں  دی ہیں  یہ پورے اعظم گڑھ کو معلوم ہے۔ ہمیں  عامر رشادی سے یہی شکایت ہے کہ وہ اس جامعۃ الرشاد کو سیاسی دکان بنائے ہوئے ہیں  جسے مولانا ندوی علم اور دین کا مرکز بنانا چاہتے تھے اور انھوں  نے اپنا اور عامر کی والدہ کاسب کچھ قربان کرکے اس ادارہ کو ایک قابل ذکر ادارہ بنایا تھا اور صرف اپنے دم پر عالیشان مسجد بنا کر کھڑی کردی تھی۔ وہ اگر ان کے جانشین بن کر مدرسہ میں  نہیں  بیٹھنا چاہتے تھے تو وہ کوئی دوسرا باعزت کاروبار کرتے۔ آج کے زمانہ میں  جو ووٹوں  کی دکان اور ووٹوں  کی دلالی کا کاروبار کرتا ہے اس سے زیادہ شرم ناک دوسرا کام نہیں  ہے۔ ان کی یہ حیثیت تو ہے کہ وہ الیکشن لڑنے کے شوقینوں  کو 84 ٹکٹ دے دیں۔  لیکن کیا وہ چار آدمیوں  کو بھی جتاسکتے ہیں ؟اور کیا 82 ایسے باحیثیت مسلمان انہیں  مل سکتے ہیں  جو لاکھوں  روپے خرچ کرکے الیکشن لڑنے کی حیثیت کے ہوں  اور وہ ان کے کہنے سے کھڑے ہوجائیں  اور ان کے کہنے سے بیٹھ جائیں ؟ الیکشن لڑنے کے لیے کھڑا ہوجانا اور کسی سیاسی پارٹی کے حق میں  دست بردار ہونا وہی کرسکتا ہے جسکی عزت ہو نہ ذلت بس اسے دو چار نوٹ مل جائیں  چاہے وہ کتنے ہی چھوٹے ہوں۔

ہمیں  تو اپنی اخباری برادری اور اپنے صحافی بھائیوں  سے بھی شکایت ہے کہ 20 کروڑ مسلمانوں  میں  جو سب سے گھٹیا کردار والے ہیں  اور جن کا ہر الیکشن میں  مسلمانوں  کا ان پارٹیوں  سے سودا کرنا پیشہ ہے جو مسلمانوں  کو نہ جانتی ہیں  اور نہ جاننے کی کوشش کرتی ہیں۔  ہندو لیڈر بس یہ دیکھتے ہیں  کہ جسے وہ سب سے بڑے مندر اور اس کے پجاری کو سب سے بڑا سمجھتے ہیں  ایسے ہی مسلمان دہلی کی شاہ جہانی مسجد کے امام کو سب سے بڑا مانتے ہوں گے۔ ملائم سنگھ ہوں  یا مایاوتی یا راہل گاندھی وہ نوٹوں  کی گڈیاں  دینے سے پہلے دہلی جا کر جامع مسجد کے چاروں  طرف کے مسلمان دکانداروں  سے معلوم تو کریں  کہ وہ امام کو کیا سمجھتے ہیں ؟ آج تک احمد بخاری کسی بھی پارٹی کے ایک امیدوار کو بھی نہیں  جتا سکے حد یہ ہے کہ اپنے داماد کو بھی نہیں۔  کسی اخبار نے شہ سرخی بناتے وقت تو یہ سوچا ہوتا کہ مولوی احمد بخاری صرف اتنی سی بات دہلی میں  پریس کانفرنس کرکے بھی کہہ سکتے تھے کہ اب مسلمان مایاوتی کو ووٹ دیں۔  اس کے لیے لکھنؤ آنا کلارک اودھ ہوٹل میں  ٹھہرنا اور سودا کرنے اور وصول کرنے کے بعد بیان دینا تھا،  اس لیے لکھنؤ آئے۔ ۹؍ فروری کو اعلان اسی لیے کیا تھا کہ اگر اکھلیش نوٹوں  کا بکس بھیج دیں  تو ان کے حق میں  اپیل کردوں  مگر اکھلیش کو اعظم خاں  نے سب کی حیثیت بتادی ہے،اخبارات نسیم الدین صدیقی کو مبارک دے رہے ہیں  اور نسیم الدین صدیقی نہیں جانتے کہ وہ کن پیشہ ور دلالوں  کے پیٹ بھر رہے ہیں۔  اس کا نتیجہ ا نہیں  11؍ مارچ کو معلوم ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close