سیاست

نصرت جہاں: ہنگامہ ہے کیوں برپا

مسعود جاوید

29 سالہ فلمی اداکارہ نصرت جہاں کی پیدائش ایک بنگالی مسلم خاندان میں ہوئی. 2019 کے انتخابات عامہ میں ترنمول کانگریس کی سپریمو اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اسے اپنی پارٹی کی امیدوار بنایا اور اس طرح نصرت جہاں نے بشیر ہاٹ حلقہ انتخاب سے بی جے پی کے امیدوار کو ہرا کر ساڑهے تین لاکھ ووٹ سے جیت کر پارلیمنٹ پہونچی. اور حلف برداری سے چند روز قبل  عرصہ سے رہتے آئے اپنے بوائے فرینڈ بزنس مین اور Women’s Fashion Line کے بانی نکهل جین سے شادی کی.

بعض مسلم حلقوں کی جانب سے ان کو نشانہ بنایا جارہا ہے خاص طور شادی کے بعد مانگ میں سیندور اور ساڑی پہننے پر.
سب سے پہلی بات یہ کہ لباس زبان اور کهانے پینے کی عادات طرز رہائش وغیرہ کا تعلق مذہب سے نہیں کلچر تہذیب سے ہے عموماً ان کا تعین آب و ہوا کرتی ہے. ہندوستان سے لے کر عرب ممالک کے ساحلی علاقوں میں رہنے والوں کو دیکها کہ  ان کی روز مرہ کی اور محبوب غذا چاول اور مچھلی اور تیز مرچ والے سالن ہوتے ہیں اور لباس بنیان یا ہاف شرٹ اور لنگی.
اسلام ایک عالمی مذہب ہے اسے کسی مخصوص لباس کرتا پائجامہ قمیض شلوار دوپٹہ،  نہاری بریانی قورمہ اور نان میں قید کرنا اسلام کی عالمگیریت کے منافی ہے. ہاں لباس اور کهانے پینے کی عادات کے تعلق سے اسلام کے رہنما اصول ہیں اس کی پابندی ہونی چاہیئے. مردوں کے لئے ستر متعین ہے ناف سے لے کر گھٹنوں تک.اس کے علاوہ مہذب لباس کے لیے decent dress code  ہر خطے میں جو رائج ہے اس کا اہتمام کرنا چاہتے.

بڑی عجیب بات ہے کہ نصرت جہاں کی ساڑی پہننے پر اعتراض کرنے والوں کو مساجد میں بعض نمازیوں کے لباس میں کوئی خامی نظر نہیں آتی. عموماً جینز اور جیکٹ یا ٹی شرٹ پہن کر آنے والے نمازی جب سجدہ ریز ہوتے ہیں تو ان کی ٹی شرٹ اوپر کجنچ جاتی ہے اور جینز کمر سے نیچے کی طرف کهسک کر شرمگاہ کا کچھ حصہ نمایاں کرتی ہے. جبکہ فورمل پینٹ شرٹ پہننے والے نمازیوں میں ایسا بدنما منظر نہیں دکھائی دیتا. اسی طرح بعض trouser  ، lower پہن کر آنے والے نمازیوں کے مخصوص اعضاء اور نشیب و فراز ظاہر ہوتے رہتے ہیں.  دہلی میں بعض اسکولوں نے والدین کو ہدایات دی اور بعد میں وہ نوٹس بورڈ پر لکھنے پر مجبور ہوئے کہ جو مرد گارجین ٹروزر  لوور کیپری پہن کر اپنے بچوں کو صبح چهوڑنے یا دوپہر لینے آتے ہیں ان سے خواتین کو احراج embarrassment ہوتا ہے اس لئے فورمل ڈریس میں آیا کریں.

مجھے اور آپ کو کئی بار سابقہ پڑا ہوگا کہ کسی کے یہاں صبح دوپہر یا شام پہنچے صاحب خانہ بنیان اور لوور یا لنگی میں تهے دستک دینے پر دروازہ کھولا اور ایک منٹ کہ کر اندر گئے اور پورے لباس میں آکر اپنے گهر کے ڈرائنگ روم میں ہمیں لے گئے. میری اور آپ کی کیا اوقات ہے. پهر بهی تہذیب کے تقاضوں کو صاحبِ خانہ نے پورا کیا. اسی طرح کبهی  کوئی سرکاری محکمہ یا پرائیویٹ آفس یا اسکول کالج  مارکیٹ جانے کی اچانک نوبت آگئی تو وہاں جانے سے پہلے ہم پروپر ڈریس زیب تن  کرتے ہیں .

اب ذرا تصور کریں شہنشاہوں کے شہنشاہ اللہ رب العزت کے گهر جانے سے پہلے کیا ہم ایسا کرتے ہیں؟  خواتین کے لئے بهی اسلام نے decent dress code محتشم لباس  بتایا ہے اس کا اہتمام ہونا چاہیئے. اسی طرح کهانے پینے کی اشیاء میں اللہ نے رہنما اصول بتا دیا ہے اور وہ یہ ہے اللہ نے چند اشیاء کو حرام قرار دیا ہے شراب نشہ آور اشیاء سود مردار کا گوشت ، خنزیر اور خون وغیرہ.  ان اشیاء کے استعمال سے باز رہنا ہے باقی تمام اشیاء حلال ہیں کسی ایک یا چند حلال اشیاء کهانے کا حکم نہیں دیا گیا ہے بلکہ اختیار دیا گیا ہے مرضی ہو کهائیں مرضی نہ ہو تو نہ کهائیں. گائے کا گوشت کهانے کا حکم نہیں ہے اختیار ہے.

سیندور – برصغیر ہند میں غیر مسلموں کے متعدد رسم و رواج مسلمانوں کی تہذیب کا حصہ بن چکے ہیں.  گرچہ غیر مسلموں کے یہ دینی شعائر ہیں لیکن مسلمانوں نے اسے دین نہیں رسم و رواج مان کر اپنایا. مثال کے طور پر لڈو – انواع و اقسام کی مٹھائیاں بازار میں مہیا ہونے کے باوجود شادی منگنی اور دیگر مواقع پر لڈو کا اہتمام کیا جاتا ہے. جبکہ غیر مسلموں کے یہاں اس کی مذہبی اہمیت ہے کہ اسی لڈو سے شری گنیش ہوتا ہے اس لئے کہ گنیش جی کو چڑهاوا اسی لڈو کا ہوا تها. کبهی گنیش جی کی تصویر پر غور کریں.

سیندور اور ساڑی مشرقی اترپردیش بہار جهارکهنڈ بنگال آسام اور بنگلہ دیش کی شادی شدہ  خواتین کا پسندیدہ لباس اور رسم تها لیکن جیسے جیسے بیداری آتی گئی ساڑی اور سیندور کا استعمال کم ہوتا جا رہا ہے. جنوبی ہند میں بهی شرٹ اور اسکرٹ یا ہاف ساڑی بلوز کی جگہ شلوار قمیض / پنجابی/ نے بہت حد تک  جگہ لے لی ہے .

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

3 تبصرے

  1. جب شادی جین سے کی ہے تو پھر یہ توقع رکھنا کہ وہ لباس میں اسلامی شریعت کا لحاظ کریں بے معنی ہے۔

    1. جی باں درست فرمایا آپ نے جب محترمہ نے غیر مسلم سے شادی کرلی اور وہ بھی ہندو رسم ورواج سے تو بھلا مےں اور آپ کون ہوتے ہیں اسے ٹوکنے اور روکنے والا اسے اپنی مرضی کی شادی کرنے اور اپنے طریقے سےجےنے کا پورا حق ہے

  2. ہمیں اس کے طرز زندگی کے خدوخال پہ کوئی اعتراض نہیں ہے. لیکن ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ایک مسلمہ کا کافر مرد سے شادی کرنا باجماع امت حرام ہے. آپ اپنے مضمون میں اس کا اقرار کریں.قرآن و سنت ہی نجات کا ضامن ہے.

متعلقہ

Back to top button
Close