سیاست

نظر لگے نہ کہیں ان کے دست و بازو کو

حفیظ نعمانی

نومبر اور دسمبر میں ہونے والے پانچ ریاستوں کے الیکشن میں ہر جگہ اپنی تقریر میں راہل گاندھی یہ کہتے تھے کہ اگر کانگریس کی حکومت بنی تو کسانوں کا سرکاری قرض دس دن کے اندر معاف کردیا جائے گا۔ اور ہر تقریر کے جواب میں وزیراعظم یہ ضرور کہتے تھے کہ راہل گاندھی جھوٹ بول رہے ہیں انہوں نے ایسا ہی وعدہ پنجاب اور کرناٹک میں کیا تھا۔ پنجاب میں نام کے لئے اور کرناٹک میں ایک ہزار کسانوں کا بھی قرض معاف نہیں کیا ہے۔

تین ریاستوں کے کسانوں نے کانگریس کو ووٹ دے کر ثابت کیا کہ ان کو راہل کی بات پر یقین ہے۔ اور مدھیہ پردیش میں جہاں سب سے پہلے کمل ناتھ کی حلف برداری ہوئی وہاں انہوں نے حلف لینے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ کسانوں کا دو لاکھ تک کا قرض معاف کردیا۔ اور جو اُن کے لیڈر راہل گاندھی نے کہا تھا کہ دس دن سے گیارہ دن نہیں ہوں گے کہ قرض معاف ہوجائے گا کمل ناتھ نے دس گھنٹے بھی نہیں ہونے دیئے۔ ہمیں یقین ہے کہ وزیراعظم مودی کو یاد آگیا ہوگا کہ انہوں نے بھی اترپردیش کے کسانوں سے وعدہ کیا تھا کہ حکومت بنتے ہی پہلی میٹنگ میں کسانوں کا قرض معاف کردیا جائے گا۔ اور سب نے دیکھا کہ وزیراعلیٰ یوگی نے حلف لینے کے بعد ہر دن دو دو چار چار احکامات دیئے مگر کسانوں کے قرض کا ذکر نہیں کیا ایک رپورٹر نے ان سے معلوم کیا کہ کسانوں کے قرض کی معافی کا کیا ہوا تو وزیراعلیٰ کا جواب تھا کہ کابینہ کی میٹنگ کا وعدہ تھا ابھی کابینہ کی میٹنگ نہیں ہوئی ہے۔ اور جب میٹنگ ہوئی تو ایک لاکھ تک کا قرض معاف کردیا گیا۔

کمل ناتھ نے اپنی کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ مدھیہ پردیش میںجو سرکاری نوکریاں نکالی جائیں گی ان میں 70  فیصدی مدھیہ پردیش والوں کے لئے ہوں گی۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ بے خبر اور ناسمجھ بھاجپائی نیتائوں نے شور مچا دیا کہ یہ تو وہی بات ہوگئی جو مہاراشٹر اور گجرات کی حکومت کرتی ہے۔ اس کا جواب کمل ناتھ نے دینا تو بے ضرورت سمجھا میڈیا کی طرف سے جواب آگیا کہ مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلیٰ چوہان نے وعدہ کیا تھا کہ 50  فیصدی نوکریاں اپنے صوبہ والوں کے لئے ہوں گی۔ جب یوپی کے ایک لاکھ کے جواب میں کمل ناتھ دو لاکھ اعلان کررہے ہیں تو 50  کے جواب میں 70  فیصدی نوکریاں کیوں بری بات ہے؟

اور یہ تقریر تو نہ جانے کتنوں کو یاد ہوگی جو یوگی کی تاج پوشی کے بعد امت شاہ نے کی تھی اور کہا تھا کہ ہم 70  لاکھ نوکریاں نکالیں گے جس میں 90  فیصدی اترپردیش والوں کے لئے مخصوص ہوں گی۔ اس وقت یاد نہیں کہ بہار، اُڑیسہ اور مدھیہ پردیش یا ہریانہ کسی نے شور نہیں مچایا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ اس وعدہ اور اعلان کی حقیقت سے واقف ہوں جو اب دو سال ہونے والے ہیں اور 70  ہزار نوکریاں تو کیا 70  سو بھی نہیں نکلیں۔ اگر کسی کو روزگار سے لگایا گیا ہے تو وہ کمہار ہیں جن کو اجودھیا کے لئے دیوالی میں جلانے کے لئے دیے بنانے کا کام دے دیا گیا ہے ان کے علاوہ حالت یہ ہے کہ کل بھی کسانوں سے متعلق دن بھر کے پروگرام کے بعد رپورٹر کمال خاں ایک آلو کے بڑے کسان سے ہونے والی گفتگو سنوا رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ملک میں پیدا ہونے والے آلو کا 40  فیصدی اترپردیش میں پیدا ہوتا ہے اور پورے ملک کو آلو کھلانے والا کسان اپنے آلو یا 2 روپئے کلو بیچنے پر مجبور ہے یا پورا اسٹاک سڑکوں پر پھینک دیتا ہے۔ حکومت نے کوئی انتظام ایسا نہیں کیا کہ ملک اور بیرون ملک میں ہر طرف اترپردیش کا آلو چلا جائے اور نہ کسی حکومت نے وہ چاہے جس پارٹی کی ہو یہ کوشش کی کہ چپس، نمکین اور آلو سے بناکر کھانے والی فیکٹریاں اپنے صوبہ میں لگاتی اترپردیش میں ہی نہ جانے ایسے کتنے سرمایہ دار اور صنعت کار ہیں جن کو حکومت ان کے کاروبار کے لئے لاکھوں قرض دیتی ہے ان میں سے یا دوسری ریاستوں سے چند صنعت کاروں کو اس پر آمادہ کیا جائے کہ وہ اترپردیش میں ایسی فیکٹریاں لگائیں جس میں وہ چپس بنے جو صرف ایک آلو کے بنتے ہیں اور دس روپئے میں بکتے ہیں جبکہ کسان کا آلو دس روپئے میں پانچ کلو بکتا ہے۔

اب ایک بہت اہم اعلان کمل ناتھ نے یہ کیا ہے کہ 60  سال سے زیادہ عمر کے کسان کو اگر وہ کسان ہے اور اپنی زمین میں کام کے قابل نہیں رہا تو اسے ایک ہزار روپئے ماہوار پینشن دی جائے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ انتہائی قیمتی اور کسان نواز فیصلہ ہے۔ لیکن اپنے ملک سے ایمانداری اٹھ گئی ہے۔ ہم ذاتی طور پر جانتے ہیں کہ حکومت کی اس طرح کی ہر اسکیم سے جو کسانوں کی فلاح کے لئے بنائی گئی فراڈ کرکے کچھ کا کچھ کردیا گیا۔ وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے افسروں کو اس کا خاکہ بنانے کی ہدایت دی ہے۔ ہم بڑے دُکھ کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ یہ افسر ہی ہیں جو بڑے بڑے فارم والے دولتمند کسانوں سے موٹی موٹی رقمیں لے لیتے ہیں اور اپنے ہی رشتہ داروں یا ملازموں کو کسان ثابت کرکے ان کو پینشن کا حقدار بنادیتے ہیں اور پھر وہ پینشن یا تو ان کے پاس آجاتی ہے یا اس کے بدلہ میں وہ بندھوا مزدور بن کر زمیندار کے فارم پر مفت کام کرتے ہیں۔ ضرورت اس کی ہے کہ افسروں کے ساتھ ساتھ کانگریس کے مخلص کسانوں کو بھی مشورہ میں شریک کیا جائے۔

اور کمل ناتھ نے جو ویاپم گھوٹالے کی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا ہے یہ ایک ایسا کام ہے جس کی 2019 ء میں کانگریس کو سب سے زیادہ ضرورت پڑے گی۔ ملک کو بھی تو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ بی جے پی کی حکومتوں نے وہ کیا ہے جو 70  برس میں کوئی نہیں کرپایا یہ وہ گھوٹالا ہے جس میں گورنر ہائوس اور وزیراعلیٰ کا گھر گلے گلے تک ڈوبا ہوا تھا یہ پچاس جانوں کی قربانی اور کروڑوں روپئے کے ہیرپھیر کا ڈرامہ ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close