سیاست

نفرت کے مبلغین اپنے ہی پھیلائے جال میں پھنستے ہیں!

محمد آصف اقبال

 اس ہفتہ کی خبروں پر نظر ڈالی جائے تو دو اہم خبریں ابھر کے سامنے آتی ہیں ۔ ایک :وشو ہندوپریشد کے بین الاقوامی ایگیزیکٹیو چیرمین پروین توگڑیا کا اچانک غائب ہو جانا اور پھر پریس کانفرنس میں ان کا یہ کہنا کہ میرے انکائونٹر کی سازش رچی گئی ہے۔ تو دوسری خبر : ‘فائدے کا عہدہ’معاملہ میں عام آدمی پارٹی کے بیس اسمبلی کی رکنیت کا خطرے میں پڑنا ہے۔ اس کے علاوہ چند ایسی خبریں بھی سرخیوں میں رہیں جنہیں کم نظر اندازنہیں کیا جاسکتا۔ جن میں i)اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا دورہ ہندوستان اور اس کے خلاف حقوق انسانی کی تنظیموں کا احتجاج ہے۔ ii) دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سوشل میڈیا پر کنٹرول کی بات کہتے جنرل راوت کا بیان۔ iii)سرحدوں پر جنگ جیسے حالات اورانسانی جانوں کی ہلاکت۔ iv)سیٹلائٹ امیج کے حوالہ سے ڈوکلام کے شمالی حصے میں چینی فوج کی اسٹیبلشمنٹ کی کوشش۔ جہاں نہ صرف دو منزلہ واچ-ٹاور اور سات ہیلی پیڈ بنالیے گئے بلکہ ٹینک، میزائل، آرمڈوہیکلس اور آرٹلری تک جمع کیے جانے کی کوششیں ۔ v)جج لویا کے دوست کا دہلی میں ہوئی ایک میٹنگ میں سینئر وکیل ادے گوارے کا یہ کہنا کہ جج کی اچانک ہوئی موت پر ان کے ساتھیوں کو شک ہوا تھا اور لویا کی موت منصوبہ بند قتل ہو سکتی ہے۔ اور وہیں vi) جج لویا کی موت کے معاملے میں سپریم کورٹ میں داخل عرضی پر چیف جسٹس دیپک مشرا کی بنچ کی سماعت کی خبر۔ اس بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس اے ایم کھانویلکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی شمولیت کا فیصلہ۔ یہ ساری خبریں بہت اہم ہیں لیکن فی الوقت ہم اُن دو خبروں پر نظر ڈالیں گے جن کا تذکرہ آغاز میں کیا ہے۔

 شروع کرتے ہیں پروین توگڑیا کے اُس بیان کی جو انہوں نے انکائونٹر کی سازش رچنے کی بات سے کی تھی۔ 16؍جنوری کو اچانک وشوہندوپریشد کے لیڈر پروین توگڑیا تقریباً دس گھنٹے پراسرار گمشدگی میں رہتے ہیں ۔ اگلے دن وہ ایک پریس کانفرنس بلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فرضی پولیس انکائونٹر میں ان کے قتل کے اندیشوں کے سبب خاموشی سے ہوائی اڈے سے راجستھان جانے کے لیے نکلے تھے اور اسی اثنا میں انکی طبیعت بگڑنے سے وہ بیہوش ہو گئے۔ توگڑیا نے کہا کہ کل یعنی 16جنوری 2017، میں بھیاجی جوشی کے ساتھ پروگرام کر رہا تھا، میں نے گرفتاری کے سلسلے میں پولیس کو ڈھائی بجے آنے کے لیے کہا تھا لیکن میں جب صبح پوجاکررہا تھا تبھی ایک شخص آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ میرے انکائونٹر کی سازش ہو رہی ہے۔ توگڑیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے بعد میں نے راجستھان کی وزیر اعلیٰ، وزیر داخلہ سے رابطہ کیا اور اس کے بعد فون بند کر لیا تاکہ میرے فون کی لوکیشن پتہ نہ چل سکے۔ اگلے دن 17جنوری 2017توگڑیا نے براہ راست پی ایم نریندر مودی پر حملہ بولا اور کہا کہ دہلی کے سیاسی باس(پی ایم مودی)کے اشارے پر کرائم برانچ کے جوائنٹ کمشنر جے کے بھٹ ان کے خلاف اور وی ایچ پی کے کارکنوں کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔

توگڑیا نے مطالبہ کیا کہ بھٹ اور پی ایم نریندر مودی کے درمیان ہوئی بات چیت کو عام کیا جائے۔ توگڑیا نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ آر ایس ایس کے پروموشنل سنجے جوشی کے خلاف 2005میں آئی سیکس سی ڈی فرضی تھی اور اس کو بنانے والوں کا نام وہ وقت آنے پر بتائیں گے۔ ادھر ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق وشوہندوپریشد کاایگزیکٹو اجلاس فروری کے آخر تک منعقد کیا جائے گا۔ جس میں آر ایس ایس کونسل کے دوبارہ انتخابات کو لے کر دبائو پیداکرے گا تاکہ راگھو ریڈی کو ہٹا کر نئے صدر کا انتخاب کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی ریڈی کے توگڑیا سمیت دیگر حامیوں کو بھی ہٹانے کی مکمل منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ آر ایس ایس نے ان تمام لوگوں کو سنگھ سے باہر کا راستہ دکھانے کا فیصلہ کیا ہے، جو بی جے پی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف سامنے آئے ہیں ۔ اس کے پیچھے سب سے بڑی وجہ 2019کے عام انتخابات ہیں ۔

 دوسری جانب فائر برانڈ دلت لیڈر اور گجرات کے وڈگام سے رکن اسمبلی جگنیش میوانی نے بھی توگڑیا کے سر میں سرملاتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے بھی پروین توگڑیا کی طرح ڈرلگتا ہے۔ مجھے بھی اس بات کا ڈر ہے کہ کچھ لوگ میرا قتل کر سکتے ہیں ۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ مجھے قتل کر سکتے ہیں ۔ مجھے ذرائع کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ مجھے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں ۔ میوانی نے یہ بات انڈین ایکسپریس سے گفتگو کے دوران کہی ہے۔ نیز اِس آواز میں ایک اور آواز اس وقت مل گئی جب شری رام سینا کے بانی پرمود متھالک نے الزام لگایا کہ آر ایس ایس کے کچھ ساتھیوں سے انہیں جان کا خطرہ ہے۔

نیوز 18کو انٹرویو میں پرمود متھالک نے کہا کہ میں اپنے دشمنوں کو بہت اچھے سے جانتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیچھے سے وار کرنے میں بہت اچھے ہیں ۔ پروین توگڑیاکے ساتھ جو ہوا وہ میرے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ متھالک نے براہ راست طور پر آر ایس ایس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ "کرناٹک کے سینئر آر ایس ایس لیڈر منگیش بھینڈے مجھے پسند نہیں کرتے۔ انہیں سابق وزیر اعلیٰ جگدیش سیٹر او دھرواڑ ممبر پارلیمنٹ پرہلاد جوشی کی حمایت حاصل ہے۔ وہ مجھے شمالی کرناٹک میں نہیں چاہتے ہیں ۔ میرے پیچھے میرے اپنی ہی لوگ ہیں ۔ انہیں میری مقبولیت پسند نہیں ہے۔ انہیں یہ بالکل پسند نہیں ہے کہ کسی کو نام اور شہرت ملے۔ متھالک نے کہا میں انے ان کے ساتھ اور ان کے بغیر بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اس وجہ سے مجھے زبردستی تنظیم چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ واضح ہو کہ پرمود متھالک کرناٹک میں آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے تیز طرار لیڈر ہوا کرتے تھے۔ دس سال پہلے انہوں نے تنظیم چھوڑ کر خود شری رام سینا تنظیم بنائی تھی۔ حال ہی میں متھالک کرناٹک یونٹ چیف کے طور پر شیوسینا میں شامل ہوئے ہیں ۔ وہیں پرمود متھالک کے الزامات پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیڈروں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

حالات کے پس منظر میں بخوبی دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے کہ وطن عزیز میں کیا چل رہا ہے۔ متذکرہ واقعات کے پس منظر میں ہی اگر سپریم کورٹ آف انڈیا کے چارججوں کی پریس کانفرنس کو یاد کر لیا جائے تو ہم سب پر حقیقت عیاں ہو جائے گی۔ اس سب کے باوجود ہماری آنکھیں بند ہیں ۔ میڈیا جو کچھ دکھانا چاہتا ہے ہم بس اسی کو دیکھتے اور سنتے ہیں ۔ برخلاف اس کے ظاہری چیزوں کے پس پشت حقیقت ہم سے عموماً اوجھل ہی رہتی ہے۔

  لیکن اگر دہلی کے سیاسی حالات پر نظر ڈالی جائے تو بدعنوانی کا خاتمہ کرنے کا اعلان کرکے برسراقتدار عام آدمی پارٹی کو الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کابینہ وزیر سمیت کل 20ممبران اسمبلی کو فائدے کے عہدے پر رہنے کی بنا پر نا اہل قرار دیدیا ہے اور اس کی سفارش صدر جمہوریہ کو بھیج دی ہے۔ نتیجہ میں دہلی میں ایک بار پھر ضمنی انتخابات کے امکانات قوی ہوگئے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی ضمنی انتخابات کے نتیجہ میں کہاں کھڑی نظر آتی ہے؟ وہیں کانگریس اور بی جے پی کو لوگ کس قدر اور کن بنیادوں پر کامیاب کرتے ہیں؟

اس کے باوجود کہ عام آدمی پارٹی نے اپنی حکومت کے دوران فلاحی کاموں کو عام آدمی کی رسائی تک پہنچانے اور ان سے مستفید ہونے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ سلسلہ دیگر اسکیموں کے تحت آگے بھی جاری رہنے کے امکانات ہیں ۔ اس کے باوجود الیکشن کے دوران وہ اپنی کامیابیوں کو عوام تک کیسے باور کراتے ہیں اور کس قدر عوام ان کے کاموں سے خوش ہیں ؟ یہ فیصلہ کسی حدتک ضمنی انتخابات کے نتیجہ میں سامنے آئے گا!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

آصف اقبال

آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close