آس پاسسیاست

نون لیگ کو شکست کیوں ہوئی؟

محمد احمد رضا ایڈووکیٹ

کچھ احباب کو کل سے یہ سوال پریشان کر رہا ہے کہ نون لیگ کا قصور کیا ہے؟ اشارۃ جواب عرض کرتا ہوں، تفصیلات انٹرنیٹ پر سرچ کی جا سکتی ہیں۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ اگر دجلہ کے کنارے بکری کا بچہ بھی بھوک سے مر گیا تو عمر سے سوال ہو گا۔ گویا حکومت میں ہونے والے ہر اچھے برے کام کی حکومت ذمہ دار ہوتی ہے۔ اسی ایک اصول کو سامنے رکھ لیں تو کچھ خاص خاص نکات پیش ہیں:

قصور کی زینت تو سب کو یاد ہو گی، اس کو سزا دلوانے کا وعدہ کیا گیا تھا اور وہ وعدہ مجرموں کو تحفظ دے گیا۔ اس سے پہلے بھی قصور کے ڈھائی سو سے زائد بچوں سے زیادتی ہوئی لیکن حکومت مجرموں کو سزا دینے میں ناکام رہی۔  رپورٹس کے مطابق، روزانہ 18 بہنیں بیٹیاں زینب بنتی ہیں۔ یہاں تو پچھلے ایک سال میں 5660 کیسز (عورتوں کے خلاف جرائم) دائر ہوتے ہیں۔ ایک سال میں قوم کی 274 بہنوں بیٹیوں کو مرد اپنی غیرت کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں، 206 سے اجتماعی زیادتی اور 2840 سے زیادتی ہوتی ہے، 681 کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ صرف پنجاب میں 3400 ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کے آنچل تار تار ہوتے ہیں۔ ٹی وی اینکر ڈاکٹر ماریہ ذوالفقار کی رپورٹ کے مطابق روزانہ 11 معصوم پھول اور کلیاں درندگی کا شکار بنتے ہیں۔ لیکن کیا حکومت کسی مجرم کو سزا دے سکی؟؟؟ یہ ہے نون لیگ کی ناکامی اور شکست کی وجہ۔

لاہور ماڈل ٹاؤن میں قادری صاحب کے بندوں کو دن دیہاڑے پنجاب پولیس نے گولیاں ماریں۔ حاملہ ماں سمیت چودہ افراد کو شہید کر دیا۔ پنجاب حکومت کا یہ عمل کسی صورت درست نہیں کہا جا سکتا۔ پھر حکومت نے ہی خود کمیٹی بنائی، قادری صاحب نے بائیکاٹ کیا، اس کے باوجود حکومت کی بنائی کمیٹی کی رپورٹ حکومت نے چھپا لی اور آج تک ورثاء انصاف کے منتظر ہيں۔ یہ ہے نون لیگ کی ناکامی اور شکست کی وجہ۔

پاکستان کی ایئر لائن خسارے میں جاتی ہے، پی آئی اے کی فلائٹس یہ کہہ کر بند کر دی جاتی ہيں کہ ڈیمانڈ نہيں جبکہ نون لیگ کے وزیر اعظم کی اپنی ایئر لائن منافع میں جاتی ہے اور جس روٹ پر پی آئي اے کی فلائٹس یہ کہہ کر بند کی جاتی ہیں کہ ڈیمانڈ نہیں ہے، اسی روٹ پر وزیر اعظم کی  نجی ایئر لائن نیا روٹ شروع کر دیتی ہے۔ یہ ہے نون لیگ کی ناکامی اور شکست کی وجہ۔

پاکستان کے مجموعی قرضے اور واجبات 268 کھرب 15 ارب روپے کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں ایک سال میں قرضوں کے بوجھ میں 34 کھرب 77 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔سٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران مجموعی طور پر 9 کھرب 91 ارب روپے کے نئے قرضے لیے گئے جس سے دسمبر کے اختتام تک اندرونی اور بیرونی قرضوں اور واجبات کا مجموعی حجم 268 کھرب 14 ارب 70 کروڑ روپے کی رکارد سطح پر پہنچ گیا ہے ۔قرضے اور واجبات جی ڈی پی کے 74.7 فیصد ہیں جو صرف تین ماہ قبل 71.9 فیصد تھے۔ مجموعی قرضوں میں سے 228 کھرب 21 ارب روپے حکومت کے قرضے ہیں۔چار سال کے دوران پاکستان کے قرضوں اور واجبات میں 47 فیصد اضافہ ہوا۔رپورٹ کے مطابق سال کے دوران حکومت نے اندرونی ذرائع سے 12 کھرب 45 ارب روپے کے نئے قرضے لیے ہیں جبکہ مجموعی بیرونی قرضے 13 ارب 13 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے اضافے سے 88 ارب 89 کروڑ ڈالر سے بھی تجاوز کر گئے ۔چار سال کے دوران پاکستان کے قرضوں اور واجبات میں 47 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ ہے نون لیگ کی ناکامی اور شکست کی وجہ۔

مودی کو اپنے خاندان کی شادیوں پر بلا کر گلابی پگڑیاں پہنی جاتی ہیں، راء کے ایجنٹ جندال کو سپیشل طور پر بلا کر میٹنگ کی جاتی ہے۔ کلبھوشن جیسے جاسوس کے پکڑے جانے پر آج تک ایک لفظ نہيں بول سکتے۔ کشمیر پر کوئی پالیسی نہیں بنا سکتے۔ ریمنڈ ڈیوس کو بھاگنے میں مدد کرتے ہیں۔ عالمی طور پر کشمیر اور پاکستان میں بھارت کی دہشت گردی کے معاملے کو اٹھانا تو دور ایک جملہ تک نہیں بول سکے۔ یہ ہے نون لیگ کی ناکامی اور شکست کی وجہ۔

یہ تو فقط تین چار خاص خاص وجوہات ہيں۔ اگر نون لیگ کی حکومت کے ایک ایک دن کا مطالعہ شروع کریں تو شاید ہزار میں سے ایک اچھا کام ہو گا اور باقی نو سو نناوے کام پاکستان کی عوام کے خلاف اور پاکستان کی داخلہ و خارجہ پالیسی کے خلاف ہو ں گے۔ حکومت کا آدھے سے زیادہ وقت تو ویسے ہی وزارت خارجہ سے خالی تھا۔ اور یہ ہی نون لیگ کی ناکامی اور شکست کی وجوہات ہیں۔

اللہ کرے نئی حکومت پاکستان کے حق میں بہتر ثابت ہو۔ آمین۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد احمد رضا ایڈووکیٹ

محمد احمد رضا ایڈووکیٹ آپ نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے الشریعہ و القانون (ایل ایل بی آنرز، شریعہ اینڈ لاء) کی ڈگری حاصل کی۔ آپ جدید قوانین کے ساتھ ساتھ اسلامی قوانین پر بھی مہارت رکھتے ہیں۔ بعد ازاں اسلام آباد میں دو سال قانون کی پریکٹس کی۔ اب اپنے آبائی شہر رحیم یار خان میں خواجہ فرید پوسٹ گریجوئیٹ کالج کے شعبہ اسلامیات میں بطور لیکچرار خدمات سرانجام دے رہے ہيں۔ آپ کے ریسرچ آرٹیکلز مختلف اخبارات، جرائد، میگزین اور ویب سائٹس پر شائع ہوتے رہتے ہيں۔

متعلقہ

Close