سیاست

نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی سزا کا عمل شروع

حفیظ نعمانی

صحیح تاریخ اور سال تو یاد نہیں لیکن یہ یاد ہے کہ لکھنؤ کے سی بی گپتا ڈاکٹر سمپورنانند کے بعد وزیراعلیٰ بنے تھے۔ اس زمانہ میں ہمارا راجہ احمد مہدی (پیرپور) کے گھر سے اچھا تعلق تھا راجہ صاحب کی بہن سکینہ باجی ولی عہد رام پور مرتضیٰ علی خاں کی بیگم تھیں اور احمد بھائی کے تعلق کی وجہ سے ہمیں بھی حفیظ بھائی کہتی تھیں۔ ایک دن ان کا پیر پور ہائوس سے فون آیا کہ کل اگر دن میں فرصت ہوسکے تو ایک گھنٹہ کے لئے آجایئے۔ ہم گئے تو انہوں نے جو فرمائش کی اسے سن کر حیران رہ گئے۔ کہنے لگیں کہ یہ آپ کے بھانجے مراد میاں ہیں یہ وزیراعلیٰ گپتا جی سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے احمد بھائی سے کہا تو انہوں نے بتایا کہ آپ کا ان سے بہت تعلق ہے آپ ملاقات کرادیں گے۔ اس وقت مراد میاں کی عمر شاید دس گیارہ سال ہوگی۔ میں نے معلوم کیا کہ ان سے کام کیا ہے؟ وہ میں کرا دوں گا۔ جواب میں انہوں نے جو جملہ کہا وہ اس مضمون کا عنوان ہے۔ کہ نواب گھرانے کے بچوں کو اپنے وقت کے بڑے آدمیوں سے اس لئے ملواتے رہنا چاہئے کہ وہ اپنے کو کمتر اور ان کو بہت برتر سمجھ کر مرعوب نہ ہوں۔

آگے کی تفصیل غیرضروری ہے۔ لیکن یہ اس بات کا جواب ہے کہ جب سونیا گاندھی نے راہل کو پہلے جنرل سکریٹری پھر نائب صدر اور آخرکار صدر بنانے کا اعلان کیا تو ایسے سیاسی کم لوگ تھے جنہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ خاندان سے باہر صدر کے لئے کیا کوئی نہیں ملتا؟ ہم بھی ان میں ہیں جو اس فیصلہ کو اس لئے نہیں کہ وہ سونیا گاندھی کے بیٹے تھے بلکہ اس لئے ہضم نہیں کرپارہے تھے کہ نریندر مودی نام کے وزیراعظم نے اپنے اقتدار کے زمانہ میں اپنے جو روپ دکھائے ہیں اور انتخابی جلسوں میں وہ کنکر پتھر کی طرح روپیہ لٹاتے ہیں اور خود وزیراعظم کا مکھوٹا اتارکر وہ مکھوٹا لگالیتے ہیں جس کے بعد بس یہ محسوس ہوتا ہے کہ جس پارٹی کے بلکہ زیادہ تر کانگریس کے جسم پر کھال کے علاوہ کچھ نہیں چھوڑیں گے۔ ہم 2017 ء سے اب تک اترپردیش کے الیکشن کی چبھن محسوس کررہے ہیں جب ہر تقریر میں وہ یہ ضرور کہتے تھے کہ جب قبرستان کو زمین دیتے ہو تو شمشان کے لئے بھی دو اور جب رمضان میں بجلی دیتے ہو تو دیوالی میں بھی بجلی دو۔

ان دنوں میں جو پانچ ریاستوں کے الیکشن ہورہے ہیں ان میں تین ریاستوں میں تو بی جے پی کی حکومت تھی ایک میں کانگریس کی اور ایک میں دوسری وہ اور تو کہاں کہتے انہوں نے تلنگانہ حیدر آباد میں دل کی بھڑاس یہ کہہ کر نکال لی کہ اگر مسجدوں اور چرچوں کو بجلی دیتے ہو تو مندروں کو بھی بجلی دو۔ اور اپنی ریاستوں میں صرف ان کے پاس ایک ہی موضوع تھا کہ کانگریس نے جتنے دنوں حکومت کی ملک کو کس طرح لوٹا؟ اور جب انہوں نے دیکھا کہ مقابلہ صرف سخت نہیں ہے بلکہ ان کی فوج ہار رہی ہے تو وہ یہ تک کہہ بیٹھے کہ کانگریس والے تو ایسے حکومت کرتے ہیں کہ لڑکی پیدا بھی نہیں ہوئی اور ہر منزل سے گذرکر بیوہ بھی ہوگئی اور اس کا وظیفہ بندھ گیا۔ یہ وظیفہ کون وصول کرتا تھا؟

یہ بات پانچ سال میں سب نے دیکھ لی کہ جس نے انہیں سامنے آکر للکارا انہوں نے سی بی آئی اور انکم ٹیکس کی فوجوں کو لگا دیا اور منظر سے ہٹاکر مانے۔ اب اگر راہل کے علاوہ اور کسی کو صدر بنایا ہوتا تو کیا اس کی ہمت تھی کہ وہ ہر سیٹ پر اور ہر شہر میں وزیراعظم کو اندرا گاندھی کے پوتے اور راجیو گاندھی کے بیٹے راہل کی طرح للکارے اور کہے کہ چوکیدار نے چوری کرلی اور ہر جگہ کہے کہ مودی جی نے تمہاری جیبوں سے 30  ہزار کروڑ روپئے نکال کر انل امبانی کی جیب میں ڈال دیئے۔ اور اب وہ سارے کانگریسی کہاں گئے جو راہل کے بجائے پرینکا گاندھی کو سامنے لانے پر بضد تھے۔ جو پرینکا اپنے شوہر کی غلطیوں کی سزا بھگت رہی ہیں لیکن راہل اور ان کی ماں صاف ہیں اس لئے ان کے الفاظ مودی جی کے کلیجے کے پار ہورہے ہیں اور وہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

اب تک بی جے پی کے علاوہ ہر آدمی کہتا تھا کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے ملک کی کمر توڑ دی اور وزیراعظم اسے ماننے کے لئے تیار نہیں تھے اب ان کی سمجھ میں آجانا چاہئے کہ وہ کانگریس جسے نیست و نابود کرنے چلے تھے مودی وہ ان کے حلق میں ہاتھ ڈال کر تین صوبے نکال لائی اور پانچ صوبوں میں سے بی جے پی کو ایک صوبہ بھی نہیں ملا اب وہ خود اور جس شاہ کو وہ جادوگر کہتے تھے دونوں کو حکومت نہیں سیاست چھوڑکر گھر بیٹھ جانا چاہئے۔ یہ ریاستیں وہ ہیں جو مودی کی حکمرانی میں تھیں اب وہاں ترنگا لہرائے گا اور کمل کا پھول مرجھا جائے گا۔

ایک بات ایک مسلمان کی حیثیت سے بھی کہنا ہے کہ ہم مسلمان کیسے مان لیں کہ راجستھان میں مسلمان لڑکوں کو اس جرم میں کہ ان کے ہاتھ میں گائے کی رسّی کیوں ہے مودی کی ذاتی فوج اتنا مارے کہ وہ مرجائیں ان کے جانور روپئے موبائل اور ہر چیز چھین لیں اور ان کو کوئی سزا نہ دی جائے اور وہ موٹی رانی کسی سے معلوم نہ کرے کہ بے قصور کو کیوں قتل کیا؟ اور اس کے بعد پاک پروردگار بھی اس رانی کو ذلیل نہ کرے اور اس سے حکومت واپس نہ لے۔ اسی طرح مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ نے سی می کے آٹھ ان لڑکوں کو جو جیل سے باہر بھی سجدے کرتے تھے اور جیل میں تو دعا اور عبادت کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں تھا ان کو سازش کرکے باہر نکالا اور پولیس نے ان کا قتل کردیا جبکہ وہ باعزت بری ہونے والے تھے۔ اگر ان کو بھی سزا نہ دی جاتی تو یہ آیت کس کے لئے تھی۔ العلم مالک الملک توتی الملک من تشاؤ و تزاع الملک من کن تشاء ُ و تلسز من تشاء و تزل من تشاء۔

راہل گاندھی یا کانگریس کسی میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ بی جے پی کی پندرہ پندرہ سال کی حکومتوں اور راج گھرانے کی رانی کی حکومت ان سے لے لیں پانچ ریاستوں میں سے ایک حکومت بھی نہ ملنا ان سو سے زیادہ مرنے والوں کی وجہ سے بھی ہے جو بینکوں میں اپنے ہی روپئے نکالنے میں ناکام رہے اور جان دے دی اور وزیر اعظم جن کے نامۂ اعمال میں ان سب کی موت ہے وہ کسی ایک کے گھر بھی نہیں گئے۔ اب کانگریس کو یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ ان کی مقبولیت نہیں نریندر مودی کے حکمرانی کے انداز کی سزا ہے۔ ان کو سنبھال کر رکھنا راہل گاندھی کا سب سے بڑا امتحان ہے۔

نوٹ: ہر آدمی کی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں ہماری مجبوری یہ ہے کہ ہم ایک بجے کے بعد نہیں لکھتے۔ اور راجستھان اور چھتیس گڑھ کانگریس کے قبضہ میں آگئیں اور مدھیہ پردیش بھی آجائے گی ان میں سے بی جے پی کو کچھ نہیں ملے گا اور یہی سب کی تمنا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close