سیاست

نوٹ بندی کا جواب ووٹ بندی

حفیظ نعمانی

لیجئے وہ مدھیہ پردیش جس کے پندرہ سالہ وزیراعلیٰ کو 2014 ء میں اڈوانی جی وزیراعظم بنانا چاہتے تھے آج ان کی حالت یہ ہوگئی کہ وہ ضمنی الیکشن میں اپنی اسمبلی کی ان دو سیٹوں کو کانگریس کی جھولی میں گرنے سے نہ بچا سکے جن کی مدت برسوں نہیں صرف چند مہینے ہے۔ وزیراعلیٰ چوہان کو اگر ذراسی بھی عقل ہوتی تو وہ ان دو سیٹوں پر جن کی مدت نومبر میں ختم ہوجائے گی اپنے اُمیدوار لڑانے سے انکار کردیتے اور عزت بچا لیتے۔ لیکن ہم نے خود دیکھا کہ وہ روڈشو بھی کررہے ہیں، طوفانی دورے بھی کررہے ہیں اور میڈیا کو کار میں اپنے ساتھ بٹھاکر بولنے کا شوق بھی پورا کررہے ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ وہ راجستھان کی وجے راجے سندھیا کو گھٹیا وزیراعلیٰ ثابت کرنا چاہ رہے ہوں یا اپنے آقا نریندر مودی کے چار برس پرانے سب سے پسندیدہ نعرے ’’کانگریس مکت بھارت‘‘ کی لاج رکھنے کے لئے کانگریس سے یہ دونوں سیٹیں بھی لے لینا چاہتے ہوں؟ ان دو اور اُڑیسہ کی ایک سیٹ کے بعد بی جے پی کو شکست سے دو چار کرنے والی ملک کی سات سیٹیں ہوگئیں۔ پانچ ان ریاستوں کی جہاں بی جے پی کی حکومت ہے اور دو دشمن صوبوں کی۔ وزیراعظم جو اب کوئی بازی ہارنا نہیں چاہتے تھے ان پر جو گذری ہوگی اس کے بارے میں دوسرا کوئی کیا کہہ سکتا ہے؟

ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ نوٹ بندی کے بعد جو 125 کروڑ بھارتی دم بخود رہ گئے تھے اور ان میں اکثریت وہ تھی جو اُن کی پوجا کرتی تھی وہ اسی انتظار میں رہی کہ کوئی بہت بڑے فائدہ کی بات سامنے آنے والی ہے۔ اب یہ ان کی بدقسمتی کہئے یا ملک کی کہ صرف آٹھ مہینے کے بعد نوٹ بندی کی تباہی کے داغ مٹانے کے بجائے جی ایس ٹی نوٹ بندی کے اعلان کے بجائے اس طرح نافذ کی بلکہ اپنے چاہنے والوں کی کمر پر لادی جیسے کوئی جلاد ایک قتل کرنے کے بعد یہ سوچ کر درجنوں قتل کرڈالتا ہے کہ سزا تو جو ایک پر ملے گی وہی 25  پر ملے گی۔ اور اس فیصلہ نے ملک بھر کے دُکان داروں اور خریداروں کی کمر توڑ دی۔ مودی جی شادی شدہ ضرور ہیں مگر بیوی بچوں والے نہیں ہیں اس لئے انہیں نہیں معلوم کہ ملک میں شہر ہو یا دیہات یا دُکاندار ہوتے ہیں یا خریدار اور جی ایس ٹی نے دونوں کو اتنا رُلایا کہ انہیں یقین ہوگیا نریندر بھائی مودی نام کے لیڈر کو حکومت کرنا نہیں آتی۔ عوام جب فیصلہ کرلیتے ہیں تو پھر ان کا فیصلہ کوئی نہیں بدل سکتا۔ اور یہ اسی فیصلہ کا نتیجہ ہے کہ مودی جی کے کہنے سے جس کا کانگریس کو بھارت سے دیس نکالا دینے کا فیصلہ کیا تھا ملک کے عوام اب اسے ہی واپس لارہے ہیں اور ہر جگہ بی جے پی کے مقابلہ میں کانگریس کو کامیاب بنا رہے ہیں۔

گذشتہ چار سال کا اگر جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ وزیراعظم ہر چھ مہینے کے بعد ایک نیا فیصلہ کرتے ہیں۔ 2014 ء کے الیکشن میں انہوں نے اپنی ہر بات کی تائید کرنے کے لئے ایک سادھو رام دیو یادو کو لگا لیا مودی جی ایک کے چار کرنے کی بات کرتے تھے تو وہ کہتا تھا چار نہیں آٹھ بنائیں گے مودی جی۔ مودی کی آواز اور بولنے کی طاقت اور وعدوں کی جھڑی لگانے کا ہنر نوجوانوں کو ایسا پسند آیا کہ انہوں نے الیکشن اپنے ہاتھ میں لے لیا اور ہر طرف مودی مودی مودی کی آواز گونجنے لگی۔ مودی جی نے اس خزانہ کو دانتوں سے پکڑلیا اور کہا کہ ہندوستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں نوجوان سب سے زیادہ ہیں اور جہاں یہ زیادہ ہوتے ہیں وہ ملک دنیا پر چھا جاتا ہے اور ہماری حکومت بنی تو ہر سال دو کروڑ نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔

اور یہ حقیقت ہے کہ یہ نوجوانوں کی طاقت رام دیو یادو کا ہر جھوٹے وعدے پر سچ کی مہر لگانا اور ہر بھارتی کے اکائونٹ میں 15  لاکھ روپیہ جمع ہونا اور گرتے ہوئے روپے کی قیمت ڈالر کے برابر ہونا مہنگائی کا نام و نشان مٹنا مگر کانگریس مکت بھارت بنانا۔ عیاری، فریب اور دھوکہ جیسا عوام کے ساتھ کھیل کھیلنا اور نتیجہ یہ سامنے آنا کہ ملک کی جس دولت کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ کانگریسیوں نے دنیا کے دوسرے ملکوں میں چھپائی ہے وہ دولت اب جارہی ہے اور لے جانے والے دو تو مودی ہیں ایک مالیہ ہے اور نہ جانے کتنے ہیں جو شاید 2020 ء تک سامنے آئیں۔

آج ہم مودی جی سے کہہ رہے ہیں کہ آپ کی جھوٹی باتوں پر بھروسہ کرکے ہم نے کانگریسی حاکموں کو کان پکڑکر کرسی سے نیچے اتارا اور آپ کا ہاتھ پکڑکر آپ کو بٹھایا آپ نے چار سال میں صرف قلابازیاں کھائیں کبھی جھاڑو پکڑی تو سب نے جھاڑو پکڑی آپ نے ایک گائوں کو گود لیا تو ہر ممبر پارلیمنٹ نے ایک گائوں گود لیا آپ نے اس کی طرف سے آنکھیں پھیریں تو سب نے آنکھیں پھیر لیں آپ نے وزیراعظم بنتے ہی تقریر میں کہا تھا کہ ایک سال میں داغی ممبر جیل میں ہوں گے ہر داغی ممبر اپنی کرسی پر بیٹھا ہے اور زیادہ داغی ہوگیا ہے آپ نے کہا تھا کہ 12  عدالتیں قائم کردی ہیں سب کو سزا ہوگی آپ لوک پال نام کا کھلونا لے آئے اور آپ کے چیلے یوپی کے وزیراعلیٰ ہر داغی کا مقدمہ واپس لے رہے ہیں۔ دوسری طرف کارتی چدمبرم ایک کانگریس کے سابق وزیر کا بیٹا ہے وہ لندن میں تھا وہاں سے واپس آیا اور سی بی آئی نے گرفتار کرلیا۔ عدالت نے 6 مارچ تک سی بی آئی کو دے دیا۔ یہ وہ معاملہ ہے جس پر عوام خوش ہیں مگر مجرم ہوں تو اس کے باپ کو بھی جیل میں ڈالا جائے مگر اس مودی کو تو بلایا جائے جس نے گجرات کے الیکشن کا پورا خرچ دیا تھا اور سورت کے تاجروں کو حمایت پر آمادہ کیا تھا۔ وہ جواب دے رہا ہے کہ تم ہندوستانی پھٹیچر لوگ تمہارے پاس تو کوئی کام ہے نہیں اور میرا نہ جانے کتنے ملکوں میں کاروبار ہے میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ 22  ہزار کروڑ کی تحقیقات میں میں مدد کروں۔

اب آپ نے حکم دیا ہے کہ  50 کروڑ یا زیادہ جس نے بینکوں سے قرض لے رکھا ہے ان کی فہرست بناکر عام کی جائے۔ جبکہ ضرورت اس کی ہے کہ ہر ایسے کاروباری کی طرف سے یہ اطمینان کیا جائے کہ وہ جی ایس ٹی کے بعد بھی دے سکتا ہے یا نہیں۔ اگر ذراسا بھی شبہ ہوتو اس کے کاروبار کو ضبط کرکے اسے گرفتار کیا جائے اور اس کی تحقیق کی جائے کہ اسے قرض کس کے کہنے سے دیا گیا اور کس نے کتنا کمیشن لیا۔ ہر قرض کے لئے یہ کہنا بند کیا جائے کہ وہ روپیہ بینک کا ہے بینک سے روپئے سے کیا مطلب وہ سارا روپیہ عوام کا ہے نہ سرکار کا نہ بینکوں کا۔

 مسز اندرا گاندھی نے پرائیویٹ بینکوں کو قومیا لیا تھا اس سے پہلے بینکوں کے کام کا طریقہ وہ تھا جو انگریز بنا گئے تھے کہ 10 بجے سے 2 بجے تک کوئی کرسی سے ہٹتا نہیں تھا۔ ہم خود گواہ ہیں کہ بینکوں کو سرکاری بنانے کے بعد ہر کارکن بے لگام ہوگیا جب جائو دو چار کائونٹر خالی کرسی پر کوئی نہیں معلوم کرو تو جواب ملتا تھا کہ آرہے ہیں۔ اور پھر ہر آدمی پریشان ہونے لگا سوائے ان کے جن کے تعلقات ہوں یا جو خاطر تواضع کرتے ہوں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ بڑے بڑے دُکانداروں کے کھاتے میں ہزار دو ہزار پڑے ہیں اور انہوں نے لاکھوں کے چیک دے رکھے ہیں۔ دوپہر کے بعد ملازم کو بینک بھیجا کہ جاکر ورما جی شرما جی سے پوچھو کہ ہمارے کون کون سے چیک آئے ہیں اور جب جواب مل گیا تو اپنے روپئے یا آس پڑوس کی دُکانوں سے رات تک لئے قرض لے کر بینک میں جمع کرادیئے۔

ایک مودی نواز چینل نے ہولی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے قانون میں یہ گنجائش تھی کہ جب تک کسی کے خلاف ایف آئی آر نہ ہو اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی جاسکتی تھی اب حکومت نیا قانون بنا رہی ہے جس سے یہ کمزوری ختم ہوجائے گی۔ تجربہ یہ ہے کہ کچھ نہیں ہوگا یہ بیماری کانگریس نے ہی لگائی تھی کہ صنعتکاروں کو آنکھ بند کرکے بینکوں سے قرض دیا جائے اور ان سے حکمراں پارٹی اپنے فضول اخراجات پورے کرائے۔ حکومت جب مودی جی کی آئی تو خزانہ ان کی طرف آنا شروع ہوگیا اور ہر الیکشن ہر کام ہر تقریر ان سرمایہ داروں کے اوپر لاد دی گئی۔ اور الیکشن جو 1962 ء تک سائیکل سے لڑے جاتے تھے اور ووٹ دینے والے ووٹ بھی دیتے تھے اور اپنا ہی خرچ کرتے تھے وہ کاروں اور بائک سے لڑا جانے لگا۔ اور کوئی نہیں بتا سکتا کہ اترپردیش یا گجرات کے الیکشن میں مودی جی نے کتنے ہزار کروڑ خرچ کرڈالے؟ اور اب چند صوبوں اور پھر لوک سبھا کے الیکشن میں کتنے لاکھ کروڑ پھونکیں گے؟ نیوز چینل نے جو کہا وہ بالکل جھوٹ ہے اسی ملک میں سیکڑوں تعلیم یافتہ مسلمان لڑکوں کو کسی بھی ایف آئی آر کے بغیر بند کیا ہے اور 15 اور 20  برس تک ثبوت ڈھونڈنے پر بھی جب نہیں ملے تو باعزت بری کیا ہے۔ اور خود ہم بیٹھے ہیں یکم اگست 1965 ء کو صرف اس لئے کہ مسلم یونیورسٹی نمبر ندائے ملت کا نہ نکالیں پہلے گرفتار کیا اور پھر ڈی آئی آر لگادی کہ ضمانت بھی نہ ہو۔ وزیراعظم اگر چاہتے تو نہ وجے مالیہ جاسکتا تھا اور نہ ہیروں والا مودی لیکن یہ اس لئے نہیں روکے گئے کہ کروڑوں روپئے ان دونوں نے دیئے تھے ان سے کون آنکھ ملاتا؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close