آس پاسسیاست

نیا پاکستان اور پرانے شکوک و شبہات

ادریس آزاد

مولانا فضل الرّحمان کی طرف سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں یہ جو بات کی گئی کہ پریذائیڈنگ آفیسرز گویا یرغمال بنائے ہوئے تھے فوج نے، بالکل من گھڑت ہے۔ اور یہ بات بالکل سچ ہے کہ فوجیوں کی وجہ سے پولنگ شفاف ہوا۔ عمران خان نے اپنے جلسوں میں مولانا فضل الرّحمان کا مذاق بنائے رکھا جو کہ نہایت بُری حرکت تھی لیکن مولانا فضل الرّحمان سے ذاتی مخاصمت کی توقع نہیں ہے، سو حیرت ہوئی جب انہوں نے کہا کہ پولنگ پر فوج کا قبضہ تھا اور یہ کہ وہ اسمبلی کا اجلاس نہیں ہونے دینگے۔

مولانا کے جلسوں میں عمران خان  پر یہ الزام متواتر لگایا جاتا رہا کہ عمران یہودیوں کا ایجنٹ ہے۔ اس الزام کے لیے استدلال البتہ بے حد کمزور رہا۔ یعنی یہ کہ عمران کی سابقہ بیوی چونکہ جمائمہ ہے اور عمران کے بچے چونکہ اُس بیوی سے ہیں فلہذا عمران یہودیوں کا ایجنٹ ہے۔ اِس ملک میں کون کون یہودیوں کا ایجنٹ ہےاِس بات کا اندازہ لگانا نہایت دشوار ہے۔ مثلاً آج کل سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان دشمنی موجود نہیں اور امریکہ اِن دونوں کے درمیان موجود ہے جبکہ ایران سعودیہ کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہے اور شام میں فی الحقیقت امریکہ اور روس آمنے سامنے ہیں۔ علاوہ بریں سی پیک چائنہ کو اور بڑی طاقت بنانےوالا ہے اور امریکہ کی مطلق العِنانی میں آخری حائل ملک چین ہے۔ اِن حالات میں ایٹم بم کا حامل اور اتنی بڑی فوج کا مالک، مُلک پاکستان کیا فیصلہ کرے؟ اُس کی فوج کس کا ساتھ دے؟ سعودیہ کا یا ایران کا؟ اگر سعودیہ کا ساتھ دیتاہے تو گویا امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دیتاہے۔ اگر امریکہ کا ساتھ دیتاہے تو سی پیک میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔ اگر ایران کا ساتھ دیتاہے تو گویا اینٹی امریکہ بلاک کا ساتھ دیتاہے۔ اس طرح سی پیک تیزی سے بنتاہے اور چائنہ حتمی طور پر امریکہ کے سامنے آجاتاہے۔ پاک فوج کے لیے ’’نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن‘‘ کی یہ کیفیت تب سے ہے جب سے یمن اور سعودیہ کے درمیان جنگ چھڑی۔ راحیل شریف کو ریٹائر کرواکے سعودیہ بھیجنا دراصل شہزادہ سلیمان کو راضی کرنا تھا جس کے ساتھ نواز شریف نے دوبار عسکری امداد کا وعدہ کیا لیکن ہمارے کور کمانڈرز نے انکار کردیا۔

عمران کی پہلی تقریر نہایت معنی خیز تھی۔ اس نے سعودیہ اور ایران کے حوالے سے جو بات کی وہ کان کھول کر سننے لائق ہے۔ اِسی طرح افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کا ذکر کیا تو وہ چودہ طبق روشن کرکے سننے والے جملے ہیں۔ مثلاً ’’میں تو یہ بھی چاہتاہوں کہ افغانستان کے ساتھ ہمارے اوپن بارڈرز ہوں، جس طرح یورپی یونین کے ہیں‘‘  اور ’’چونکہ افغانستان میں امریکہ موجود ہے اس لیے ہم امریکہ کے ساتھ بھی ایک متوازن رشتہ چاہتے ہیں‘‘۔ یوں نہیں کہا کہ چونکہ امریکہ وہاں موجود ہے تو ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ ہمارے خطے سے چلا جائے۔

عمران کو اسٹیبلشمنٹ لائی ہے تو ضرور عمران کی پالیسیوں میں سب سے اہم خارجہ پالیسی ہوگی۔ کیا عمران کی تقریر سے ایسا لگتاہے کہ وہ سعودیہ کی عسکری مدد کریگا؟ بلوچستان میں جنرل باجوہ کی تقریر واضح طورپر سی پیک کے تحفظ کے وعدوں پر مشتمل ہے۔ اگر ہماری فوج سی پیک کا تحفظ چاہتی ہے اور یقیناً چاہتی ہے تو پھر عمران سعودی عرب کی بجائے مشرقی بلاک کی طرف جھکاؤ ظاہر کرے گا۔ شاید اسی لیے عمران کے منہ سے یہ الفاظ بھی نکلے کہ ، ’’امریکہ کے ساتھ تعلقات میں ہمیشہ یکطرفہ فائدہ امریکہ کو ہوتا رہاہے یعنی وہ سمجھتاہے کہ میں امداد دیتاہوں اور ہم اس کی جنگ لڑتے ہیں۔ ہم متوازن تعلقات چاہتے ہیں تاکہ دونوں ملکوں کو فائدہ ہو‘‘

انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کیا چاہتی ہے؟ اور ہماری اسٹیبلشمنٹ کیا چاہتی ہے؟ یہ دو الگ الگ سوالات ہیں۔ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ اور ہماری اسٹیبلشمنٹ میں فاصلے جنم لے چکے ہیں اور بتدریج بڑھ رہے ہیں۔ اگر ہماری اسٹیبلشمنٹ عمران کو لائی ہے تو یہ بات خالی ازگمان نہیں ہوسکتی کہ تحریک ِ انصاف کی حکومت چائنہ کا ہراول دستہ ہے اور عمران اُن کا سپہ سالار۔ آخری سچائی عمران کی پالیسیوں سے اظہرمن الشمس ہوجائےگی۔ پاکستان تحریکِ لبیک کا یہ نعرہ کہ مدینے والے کی حرمت کا سوال ہے فی الاصل اس بیک گراؤنڈ سے نازل ہوا ہے جو پاکستانی عوام کی ہمدردیاں سعودیہ کے لیے حاصل کرنا چاہتا ہے نہ کہ ایران کے لیے۔ لیکن عمران کی تقریر سے کچھ وضاحت نہیں ہوتی۔ فی الحال اس نے سب خانے برابر رکھے۔ اگر عمران یہودیوں کا ایجنٹ ہوا تو ضرور وہ امریکی بلاک کی بڑی مثلث سعودیہ، اسرائیل اور امریکہ کو مربع بنادےگا۔ لیکن اگر اس نے کسی مردِ مجاہد کی طرح سی پیک کی حفاظت کی تو ضرور وہ یہودیوں کا ایجنٹ نہیں ہوگا۔

پیرنی کا برقعے میں رہنا خاصا مشکوک کام ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں پردہ دار خاتون کو نیک عورت سمجھا جاتاہے اور اس کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے کسی سی آئی اے ایجنٹ کا چھپ کر رہنا بعید ازقیاس نہیں۔ لیکن وہ اسٹیبلشمنٹ جو جنرل باجوہ جیسے محافظِ سی پیک کی نگرانی میں کام کرتی ہے ایسا کب ممکن ہونے دے گی؟ لیڈروں کو تو واش رومز میں بھی پاپارازیوں سے معافی نہیں مل پاتی۔ خاقان عباسی کے کپڑے ائرپورٹ پر اتروائے گئے۔ اگر عمران کے نہ اُتروائے گئے تو شک کا ایک پوائنٹ اور بڑھ جائےگا۔ یہ الگ بات ہے کہ اتارنے کا کہاجائے اور عمران بھی شاہ رخ خان کی طرح واپس آجائے۔ تب ہمیں کتنا فخر ہوگا!

بحیثیتِ مجموعی میرا دِل یہ کہتاہے کہ عمران ’’قائدِ قوم‘‘ ثابت ہوگا۔ پاکستان واقعی نیا پاکستان ہوگا۔ ہم عمران کے ساتھ مل کر سی پیک مکمل کرینگے۔ ڈیمز بنائیں گے۔ انڈیا سے دریا چھڑوائینگے۔ سابق مجرموں کو کیفرِ کردار تک  پہنچائیں گے۔ ایران اور سعودیہ کے درمیان صلح کروائیں گے۔ امریکہ کو خطّے سے نکالیں گے اور یہ کہ عمران یہودیوں کا ایجنٹ نہیں ہے۔

اور شہباز شریف نے جس طرح اپنے بھائی کی عمارت گرائی جب بھی خیال آتاہے تو پھرمجھے طرح طرح کی عمارتیں دکھائی دینے لگ جاتی ہیں۔ جیسے کہ وائٹ ہاؤس، ایوانِ صدر، سرے محل اور جانے کیا کیا۔  یہ بھی سوچتاہوں چینی وہ قوم ہیں جو کسی بڑی سرکاری عمارت کے پاس سے گزرتے ہیں  تو کہتے ہیں اس عمارت کی تعمیر میں ہم نے حصہ لیا تھا اور ہم وہ قوم ہیں جو کسی سرکاری عمارت کے پاس سے گزرتے ہیں تو کہتے ہیں اس عمارت کو توڑنے میں ہم نے بھی حصہ لیا تھا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close