واعظ کا ہر اک ارشاد بجا تقریر بہت دلچسپ مگر

1

حفیظ نعمانی

وہ ذہنیت غلامانہ ہوتی ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ جس کے ہاتھ میں حکومت ہے وہ قابل بھی ہے۔ کل وزیر اعظم نے ان لوگوں کو جواب دیا جنہوں نے ملک میں بگڑتی ہوئی معیشت پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ بی جے پی کے بزرگ لیڈر اور سابق وزیر مالیات یشونت سنہا نے ایک مفصل مضمون میں وہ سب کچھ لکھ دیا جو وہ محسوس کررہے تھے اور ملک کا ہر آدمی بھی محسوس کررہا تھا۔ کل شام سے رات 9:00  بجے تک یا تو ہر ٹی وی چینل نے اسے اپنی مرضی سے مسلسل سنوایا یا حکم تھا کہ نہ خبریں پڑھو اور نہ بحث و مباحثہ کرو بس وزیر اعظم کی تقریر سنائے اور دکھائے جائو۔ اور یہ اتفاق نہیں ہے کہ ہر چینل پر یہ کہا گیا کہ مودی جی نے چن چن کر سب پر حملے کئے۔

ہم بھی اسے اس لئے سنتے رہے کہ وہ وقت ہم نے خبروں کے لئے فارغ کردیا ہے۔ مودی جی کی تقریر کا حاصل یہ تھا کہ جو اب ہورہا ہے وہ تو سابقہ حکومت میں آٹھ بار ہوچکا ہے۔ اور وہ اعداد و شمار سے ثابت کرتے رہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے بس تھوڑے انتظار اور صبر کی ضرورت ہے۔ مودی کے چن چن کر حملے کرنے اور جواب دینے سے تالیاں تو بجائی گئیں لیکن ہم نے جو کل سن کر اور دیکھ کر لکھا تھا کہ ایک بڑے مال کا منیجر کہہ رہا ہے کہ کاروبار 30  فیصدی رہ گیا اور بازار میں خریدار نہیں ہیں ان کا کوئی جواب وزیر اعظم کے پاس اس لئے نہیں تھا کہ ارون شوری کے کہنے کے مطابق نوٹ بندی کالے دھن کو سفید کرنے کا اب تک کا سب سے بڑا گھوٹالہ تھا۔ اور یہ نوٹ بندی کا ہی اثر ہے کہ بڑے اور چھوٹے کارخانوں میں جو کروڑوں مزدور کام کرتے تھے اور جنہیں نوٹ بندی کا اعلان ہوتے ہی ہٹادیا گیا تھا ان میں سے آدھے بھی واپس نہیں آئے ہیں اور اب جی ایس ٹی کی وجہ سے جو آئے تھے انہیں پھر چھٹی دے دی گئی۔ وہی تھے جو ڈیوٹی پوری کرنے کے بعد تہواروں اور شادیوں کی وجہ سے اوور ٹائم کرتے تھے اور جیب میں نوٹ بھر کے خریداری کیلئے بازار جاتے تھے اب مالک کے پاس نوکر کو دینے کے لئے نہیں اور نوکر کے سامنے اس کارخانہ سے دوسرے کارخانے اور اس دکان سے دوسری دکان جانے کے علاوہ دوسرا کام نہیں ۔

مودی جی ہر بات کو منموہن حکومت سے جوڑ دیتے ہیں حیرت یہ ہے کہ مودی جی ملک کے اکیلے ایسے لیڈر ہیں جنہوں نے پہلی بار ملک کو ’’کانگریس مکت بھارت‘‘ کا نعرہ دیا اور ہر تقریر میں کانگریس حکومت کی خرابیاں بتائیں اب ہر بات کے جواب میں اسی حکومت اور اس کانگریس کا نام لے رہے ہیں جو ملک کو برباد کرنے کی ذمہ دار ہے کہ اس میں بھی ایسا ہی ہوتا تھا۔ اگر آپ بھی وہی غلطی کررہے ہیں تو پھر ’’بھاجپا مکت بھارت‘‘ کا نعرہ لگنا چاہئے۔

مودی جی اٹھتے بیٹھتے کہتے تھے کہ تم نے کانگریس کو ساٹھ برس دیئے مجھے ساٹھ مہینے دے دو میں ملک کو جنت بنا دوں گا۔ مودی جی کے ہی نوٹ بندی کے بعد الفاظ تھے کہ مجھے صرف 50  دن دے دو اس کے بعد دیکھوگے کہ ملک سونے کی طرح دمکتا ہوا نکلے گا ساٹھ مہینے تو دور ابھی چالیس مہینے ہوئے ہیں کہ ارون شوری جیسے بی جے پی کے بزرگ لیڈر یہ کہنے لگے کہ ملک کو ڈھائی آدمی چلا رہے ہیں۔ اور یہ حقیقت ہے کہ ہم نے آزادی کے بعد سے آج تک کاروبار کا یہ حال نہیں دیکھا کہ کاروباریوں کو فرصت ہی فرصت ہے۔ وہ جی ایس ٹی جس کا خوبصورت نام ایک ملک ایک ٹیکس تھا آج چھوٹے اور درمیانی کاروبار والوں کے لئے ایک معمہ بن گیا ہے۔ ایک دکاندار ایک مہینہ میں تین بار حکومت کے دربار میں یہ تفصیل بھیجے کہ اس نے کتنا خریدا، کتنا بیچا اور اب اس کے پاس کتنا بچا ہے؟ اور ہر بات میں جرمانہ اور سزا کی دھمکی؟ آدمی کاروبار کرے گا یا امتحان دے گا؟

ہم 27  سال سے دل کے مریض ہیں ضروری دوائیں مسلسل کھا رہے ہیں اب جو دوائوں کا کیش میمو آتا ہے اس میں آدھا ٹیکس مودی سرکار کا اور آدھا یوگی سرکار کا لکھ کر آتا ہے تو یہ ایک ٹیکس تو نہیں رہا۔

مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور راجستھان تینوں جگہ بی جے پی کی حکومت ہے اور تینوں جگہ کسان رو رہے ہیں مہاراشٹر میں اچھی بارش ہوئی تو فصل کے کیڑے مارنے والی دوا کے چھڑکنے سے 20  کسان مرگئے سیکڑوں اسپتال میں پڑ ے ہیں راجستھان میں اپنی سمادھی کھودکر اس میں برت رکھ کر بیٹھ گئے ہیں اور مدھیہ پردیش میں سوکھے کی وجہ سے احتجاج کرنے پر انہیں ننگا کرکے مارا گیا۔ یہ وہ کسان ہیں جن کی محبت میں مودی کی ہر تقریر ڈوبی ہوئی ہوتی ہے اور باتوں سے ایسا لگتا ہے جیسے ملک کی ساری دولت مودی کسانوں کو دے دیں گے۔

یہ ہے وہ جنت جو 40  مہینے کی حکومت میں ملی اور وہ سونے کی طرح دمکتا ہوا ملک جو نوٹ بندی کے 50  دن کے بعد مودی جی ہمیں اور آپ کو دینے جارہے تھے۔ اب ان کے دن اور رات کیرالہ اور بنگال کی طرف دیکھنے میں گذر رہے ہیں جہاں سے وہ 2019 ء میں ووٹ لے کر حکومت بچائیں گے۔ کیونکہ جن صوبوں میں ان کی حکومت ہے وہاں سے تو اب ان کے خیمے اُکھڑنے لگے اور کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ اگر مشینوں میں کاریگری نہیں ہوئی تو گجرات میں بھی مودی کو شرمندہ ہونا پڑے گا جہاں ’’ہماری بھول کمل کا پھول‘‘ نعرہ نے پائوں جمالئے ہیں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے