سیاست

وزیراعظم کا انداز چار سال کے بعد بدلا

الیکشن کی ہو یا حکومت کی تقریروں سے مخالف پارٹی کو جو چاہے کہیں مذہب کو موضوع نہ بنائیں سیاسی اختلاف کی چوٹ کا درد چند دن میں چلا جاتا ہے مذہبی چوٹ کا زخم ناسور بن جاتا ہے

حفیظ نعمانی

ہر بڑے ملک کے سربراہ کو یہ ضرور معلوم ہونا چاہئے کہ اس کے ملک میں کس مذہب کے ماننے والے کتنے ہیں اور ان کے مذہب کی اہم باتیں کیا ہیں؟ آج پوری دنیا میں زیادہ تر بڑے ملک ایسے ہیں کہ اس میں حکومت خاندانی نہیں رہی بلکہ جس کی زیادہ لوگوں نے حمایت کی وہ اقتدار پر قابض ہوگیا۔ اس میں اس کا موقع نہیں ملتا کہ وہ ملک کے ہر مذہب کی اہم باتوں سے ہی واقف ہوسکے۔

ہمارے ملک کے وزیراعظم شری نریندر مودی آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر ناگپور میں تربیت پاتے رہے۔ ہم نے تو ان کا نام اس وقت سنا جب اڈوانی جی اچانک ان کو لائے اور انہوں نے انہیں گجرات کا وزیراعلیٰ بنا دیا۔ اس کے بعد کسی کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم ان کو کسی خاص مقصد کے لئے لائے ہیں۔ اس کے بعد سے اب تک نہ جانے کتنے ایسے واقعات ہوگئے جن کو خاص مقصد کا عنوان دیا جاسکتا ہے لیکن اڈوانی جی نے پھر نہیں کہا کہ یہ تھا وہ خاص مقصد۔

مودی کے اقتدار کے زمانہ میں شاید یہ چوتھا رمضان ہے جس کے آنے سے پہلے انہوں نے مسلمانوں کو رمضان کی مبارکباد دی اور کہا کہ میں تمام ہم وطنوں کو رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی مبارکباد دیتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ یہ موقع امن اور خیرسگالی کے ان پیغامات پر چلنے کی ترغیب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ رمضان پیغمبر محمدؐ کی تعلیم اور ان پیغامات کو یاد کرنے کا موقع ہے اور ان کی زندگی سے سبق لے کر مساوات اور بھائی چارے کے راستے پر چلنا سب کی ذمہ داری بنتی ہے۔ مودی جی نے کہا کہ ایک بار ایک انسان نے پیغمبر صاحبؐ سے پوچھا کہ اسلام میں کون سا کام سب سے بہتر ہے۔ پیغمبر محمدؐ نے جواب دیا کہ غریب اور ضرورتمند کو کھانا کھلانا اور سبھی سے محبت اور شفقت سے ملنا چاہے آپ انہیں جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں۔ مسٹر مودی نے کہا کہ پیغمبرؐ صاحب علم اور ہمدردی میں یقین رکھتے تھے انہیں کسی بات کا غرور نہیں تھا انہوں نے کہا کہ پیغمبرؐ کا کہنا تھا کہ اگر آپ کے پاس کوئی بھی چیز ضرورت سے زیادہ ہو تو آپ اسے کسی ضرورتمند کو دے دیجئے۔ رمضان میں عطیات کی بہت اہمیت ہے۔

ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ مودی جی نے کون سی کتاب یا کس کا مضمون پڑھا بہرحال یہ وہی شری نریندر مودی ہیں جنہوں نے صرف ایک سال پہلے اُترپردیش میں گھوم گھوم کر کہا تھا کہ اکھلیش یادو رمضان کو تو بجلی دیتے ہیں دیوالی کو بھی دینا چاہئے۔ رمضان تو گذشتہ سال ہی جیسا تھا ایسا ہی اس سال آرہا ہے۔ اور یہ دوسرا رمضان بھی یوگی حکومت کے اندر ہے جو بتاسکتے ہیں کہ پچھلے سال رمضان میں مسلمانوں نے کتنی بجلی جلائی اور اب کیا کریں گے۔

رمضان شریف کا ہر لمحہ تحفہ ہے اور ہر رات ثواب کی بارش کی رات ہے اس کی ایک رات کو شب قدر کہا گیا ہے جس کی قرآن عظیم میں ایک چھوٹی سی سورت بھی ہے خود پاک پروردگار نے فرمایا کہ ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا (یعنی نازل کرنا شروع کیا) شب قدر کی عظمت کا ذکر قرآن مجید میں بلکہ ایک پوری سورت میں کیا گیا ہے کہ اس کی عظمتیں ہمارے بیان بلکہ ہمارے فہم و ادراک کی حدوں سے باہر ہیں۔ اتنا ضرور معلوم ہوا کہ قرآن مجید اس رات میں نازل ہوا اور یہ رات ہزار مہینوں کی راتوں سے افضل ہے اس رات میں فرشتے اور روح القدس حضرت جبرائیل ؑ اپنے مالک کے حکم سے تمام فیصلے لے کر اترتے ہیں اور صبح صادق تک برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا جو شخص شب قدر میں ایمان اور احتساب کے ساتھ کھڑا یعنی نوافل پڑھتا رہا اس کے پہلے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔
رمضان المبارک کے بارے میں حضور اکرمؐ نے فرمایا ہے کہ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے یہ ہمدردی کا مہینہ ہے اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں اس مومن بندے کے رزق میں اضافہ کیا جاتاہے جس نے اس مہینہ میں کسی روزہ دار کو اللہ کی رضا اور ثواب کے لئے افطار کرایا تو اس کے لئے گناہوں کی مغفرت اور آتشِ دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہوگا اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا۔

وزیراعظم کو جس نے بتایا بہت تھوڑا بتایا اور یہ ان کی مجبوری ہے کہ ان کی پارٹی میں اور ان کی وزارت میں جو مسلمان ہیں وہ ایسے نہیں ہیں جن کے عمل کو دیکھ کر وزیراعظم معلوم کریں اور وہ مختصر الفاظ میں پورا تعارف اسلام کا کرادیں اور حضور اکرمؐ اور صحابۂ کرامؓ کی سیرت باتوں باتوں میں انہیں معلوم ہوجائے۔ بہرحال یہ ابتدا ہے انہوں نے بدھ پورنیما کے ساتھ رمضان کو ملاکر دونوں کا قرض اتارنے کی کوشش کی ہے۔ اس موقع پر ہم ایک بات ادب سے عرض کریں گے کہ ضرورت الیکشن کی ہو یا حکومت کی تقریروں سے مخالف پارٹی کو جو چاہے کہیں مذہب کو موضوع نہ بنائیں سیاسی اختلاف کی چوٹ کا درد چند دن میں چلا جاتا ہے مذہبی چوٹ کا زخم ناسور بن جاتا ہے اور اب مودی جی کا ہر بال سفید ہوچکا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close