سیاست

وزیراعظم کی خاموشی پر سب حیران ہیں

حفیظ نعمانی

گجرات کے سیٹھ ساہوکار کیا اس لئے نازک مزاج ہوگئے کہ ملک کا وزیراعظم بھی ان کے صوبہ کا ہے اور حکمراں پارٹی کا صدر بھی وہیں کا باشندہ ہے؟ نابالغ اور چھوٹی بچیوں کے ساتھ شیطانی حرکت جو بھی کرے جہاں بھی کرے اس کے لئے قانون موجود ہے اور جب سے مودی جی وزیراعظم بنے ہیں اس وقت سے ہر نوجوان ہندو کے ہاتھ میں قانون ہے اور جگہ جگہ وہ اس کا مظاہرہ بھی کرتے ہوئے پیٹ پیٹ کر مار دینے کی سزا بھی دے رہے ہیں۔ پھر اس قانون کو چھوڑکر یہ نعرہ کہ شمالی ہند کے باسی گجرات چھوڑ دیں کیا وہی نعرہ نہیں ہے جس کی بنیاد مہاراشٹر میں بال ٹھاکرے نے رکھی تھی اور راج ٹھاکرے نے بھی اس کا مظاہرہ کیا اور جھک مارکر سب کو واپس بلایا۔

خبروں کے مطابق 50  ہزار اترپردیش، بہار، مدھیہ پردیش اور جھارکھنڈ کے وہ باسی جو برسوں سے گجرات میں کاریگر ہیں یا مزدوری کررہے ہیں اپنے بچوں کو لے کر گھر آگئے ہیں۔ گجرات میں 28  برس سے بی جے پی کی حکومت ہے اب اترپردیش، بہار اور جھارکھنڈ میں بھی اسی پارٹی کی حکومت ہے حیرت کی بات ہے کہ اتنا بڑا حادثہ ہوگیا اور نہ مودی جی کی زبان سے ایک لفظ نکلا اور نہ امت شاہ کی زبان سے۔ اور اُترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ گجرات کے وزیراعلیٰ سے ایسے بات کررہے ہیں جیسے انہوں نے ہی انہیں اس کرسی پر بٹھایا ہے وہ گجرات ماڈل کی بات بھی کررہے ہیں اور وکاس کی بھی جبکہ گذشتہ الیکشن میں مونگ پھلی اور کپاس کے کسانوں کو روتے ہوئے ہم نے بھی دیکھا ہے اور راہل گاندھی نے بجلی اور پانی کا وعدہ کیا تھا کہ اگر ہماری حکومت بن گئی تو۔

گجرات کے وزیراعلیٰ کہہ رہے ہیں کہ تین دن سے کوئی واردات نہیں ہوئی ہے اور خبریں آرہی ہیں کہ بائک سواروں کو روک کر جرح کی جارہی ہے کہ تم کہاں کے ہو! اور گاڑیوں میں آگ لگائی جارہی ہے۔ ٹی وی دیکھئے تو گجرات سے رانچی تک ہر اسٹیشن کے پلیٹ فارم ان لوگوں سے بھرے پڑے ہیں جو گجرات کی گرم ہوا سے جان بچاکر بھاگ کر آرہے ہیں۔ یہ کاریگر یا مزدور گجرات میں بھیک مانگ کر زندگی نہیں گذار رہے تھے بلکہ دن رات محنت کرتے تھے اور اپنے ہنر کی اجرت لیتے تھے۔ اس وقت تو گجراتی صوبائی تعصب میں اندھے ہوگئے ہیں کل جب کارخانہ کھول کر بیٹھیں گے تو معلوم ہوگا کہ کسی کارخانہ کے آدھے اور کسی کارخانہ کے تمام کاریگر اور مزدور جاچکے ہیں اور کارخانہ بند ہے۔

گجرات کی حکومت جس کے ہاتھ میں بھی ہو انصاف وہاں کی مٹی میں نہیں ہے۔ 2002 ء میں مودی جی وزیراعلیٰ تھے انہوں نے ہی پولیس کے اعلیٰ افسروں کی میٹنگ بلائی تھی اور ان سے کہا تھا کہ گودھرا ٹرین آتشزنی کے انتقام کی کارروائی کو روکنے کی کوشش نہ کریں۔ اور جو بھی ہورہا ہے اسے ہونے دیں۔ (کل کے اودھ نامہ میں رفیق محترم عالم نقوی نے سب لکھ دیا ہے)

آج بھی جو وزیراعلیٰ ہیں وہ مودی جی کے چیلے ہیں نفرت ان کی گھٹی میں پڑی ہے۔ یہ ہر فساد کا قاعدہ ہے کہ وہ پتلی سڑکوں اور گلی کوچوں میں ہوتا ہے اور جو پردیسی کسی جگہ مزدوری کرنے جاتے ہیں وہ عالیشان بلڈنگوں میں نہیں رہتے۔ اور ان کے ساتھ مقامی لوگ جو کرتے ہیں ان کو پولیس کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔

مودی جی ہر دوسری پارٹی کے لیڈر پر ملک کو تقسیم کرنے کا الزام لگاتے ہیں لیکن انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ مہاراشٹر مراٹھوں کا اور گجرات گجراتیوں کا کہنے والے کیا ملک کو تقسیم نہیں کررہے؟ وزیراعظم کو کیا نہیں معلوم کہ کوئی صوبہ اور کوئی شہر ایسا نہیں ہے جہاں ایسی شیطانی حرکت نہ ہوئی ہو۔ ہم نے بحیثیت ہندوستانی مسلمان کے ہمیشہ کہا ہے کہ ایسی حرکت کرنے والے کے ٹکڑے کرکے کتوں کو کھلا دیا جائے۔ لیکن اگر بہاری نے کیا ہے تو پورے شمالی ہند کی ریاستوں کے جو لوگ گجرات میں ہیں وہ سب ذمہ دار ہیں یہ کون سا قانون ہوا؟

ہم جس بات سے ڈر رہے تھے آخرکار شمالی ہند والوں کے منھ سے وہ باہر آگئی کہ ہم شمالی ہند والے ایک گجراتی کو وزیراعظم کیوں بننے دیں اور حکمراں پارٹی کا صدر گجراتی کیوں ہو؟ اور اگر ایسا ہی ہوگا تو گجرات کو شمالی ہند سے الگ کرلو۔ گجرات والوں کو یہ نہیں معلوم کہ اگر اترپردیش، بہار، مدھیہ پردیش اور جھارکھنڈ کی تمام پارلیمانی سیٹیں یہ طے کرلیں کہ شمالی ہند والے کو ووٹ دیں گے تو پورا ملک بھی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔

آنے والے دنوں میں دسہرہ، درگا پوجا اور دیوالی کے تہوار ہیں ان تہواروں کے بعد گجرات سے آنے والوں کے سامنے یہ مسئلہ ہوگا کہ وہ کیا کریں نتیش کمار اور یوگی آدتیہ ناتھ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے آدمیوں کو کام دیں یا پھر یہ فیصلہ کریں کہ وہ بھی شمالی ہند کا وزیراعظم بنوانے میں عوام کا ساتھ دیں گے۔ گجرات میں ہمارے بھائیوں کے ساتھ جو کیا گیا ہے وہ برابر کے رشتہ کی بات نہیں ہے بلکہ گجراتیوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ان کاریگروں کو جنکے دم سے وہاں کارخانے چل رہے ہیں غلام سمجھتے ہیں۔ شمالی ہند میں اتنی بے روزگاری کی ذمہ داری وزیراعظم کے اوپر ہے انہوں نے ہی نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کا وہ فیصلہ کیا جس کے بارے میں وہ نہیں جانتے تھے کہ انجام کیا ہوگا؟ انہیں بس کچھ ایسا کرنا تھا جو کسی نے نہ کیا ہو۔ اور جی ایس ٹی کے بارے میں ماہرین کا کہنا یہ ہے کہ یہ کانگریس کا پروگرام تھا مودی جی نے پروگرام تو سمجھا نہیں بس پورے ملک کا ایک ٹیکس کا عنوان لے لیا اور ان ارون جیٹلی کو دے دیا جو خود نہیں جانتے تھے۔ اگر وزیراعظم نے یہ دونوں کام نہ کئے ہوتے تو شمالی ہند کے کاریگر تھوکنے بھی گجرات نہ جاتے۔ اب یہ وزیراعظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسپیشل ٹرینوں کے ذریعہ آنے والوںکو واپس بھیجیں ان کا نقصان پورا کرائیں اور انہیں روزگار سے باعزت طریقہ سے لگائیں۔ اترپردیش کے وزیراعلیٰ کے نزدیک تو گجرات کا چپراسی بھی قابل احترام ہے انہوں نے یہ کہہ کر کہ گجرات ایک امن پسند ریاست ہے اور ملک کی ترقی کا ماڈل ہے زخموں پر نمک چھڑکا ہے۔ گجرات کی تاریخ خون سے لکھی ہوئی ہے اور گجرات میں امن نام کی تو کوئی چیز نہیں ہے۔ اور نہ ترقی کا ماڈل ہے۔ اور اسے تو بغاوت کہا جائے گا کہ ہندی بولنے والوں کو ڈھونڈکر مارا جارہا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ اس کا نتیجہ ہو کہ وزیراعظم جب گجرات میں تقریر کرتے ہیں تو گجراتی میں کرتے ہیں ہندی میں نہیں ان کی اسی بات نے ہندی بولنے والوں کو دشمن بنا دیا۔ اب یہ بات الیکشن میں اٹھے گی اور مودی جی کے گلے کی ہڈی بنے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close