سیاستہندوستان

وزیر داخلہ کا بھونڈا جھوٹ

حفیظ نعمانی

ہندوستان میں بھیڑ کے ذریعہ پیٹ پیٹ کر مار ڈالنے کے واقعات کے بارے میں مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا یہ کہنا کہ ایسے واقعات صرف گذشتہ چند سالوں میں ہی نہیں پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔ جھوٹ بالکل جھوٹ اور سفید جھوٹ ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے یہ صفائی دے کر پورے طور پر غلط بیانی کی ہے۔ ان کی ذات ایسی تھی کہ ہم جیسے یوپی والے اترپردیش کی پرانی یادوں کی بناء پر کبھی کبھی سوچا کررتے تھے کہ اگر مودی جی کی جگہ راج ناتھ سنگھ وزیراعظم ہوتے تو کیا اچھا نہ ہوتا؟ لیکن وزیر داخلہ ہوتے ہوئے ان کے اس بیان نے انہیں بہت چھوٹا کردیا۔

ہمیں اس سے انکار نہیں کہ گائوکشی کے معاملہ میں ہندو آزادی کے بعد زیادہ جذبات ہوگیا ہے۔ اور مسلمانوں کے تمام بڑے بڑے لیڈروں نے ان سے کہا ہے کہ گائے کو بھول جائو۔ اسے پالو اس کا دودھ پیو لیکن اس کا گوشت نہ کھائو۔ اس کے باوجود جاہل اور کم عقل مسلمانوں نے جیسے اپنے بزرگوں کی ہر بات سنی ان سنی کردی ایسے ہی وہ کہیں کہیں گائے کاٹتے پکڑے گئے اور ہندوئوں نے انہیں مارا۔ لیکن راج ناتھ سنگھ صاحب کسی ایک واقعہ کے بارے میں بھی نہیں بتا سکتے کہ نہ گائے ہو نہ گائے کی دُم اور ہندو غنڈے کسی پر ٹوٹ پڑے ہوں ؟

کیا وہ اس سے انکار کرسکتے ہیں کہ دادری کے گائوں میں ایک مندر سے پجاری نے اعلان کیا کہ اخلاق کے گھر میں گائے کٹی ہے اور اس کا گوشت پکایا جارہا ہے۔ یہ وہ اعلان ہے جس کا سفید بالوں والے پجاری نے خود میڈیا سے اقرار کیا اور کہا کہ مجھ سے دو لڑکوں نے کہا کہ اعلان کردو میں نے کردیا۔ اس مسئلہ میں اکھلیش یادو نے کیا کیا یہ الگ ہے کیا وزیر داخلہ کی حیثیت سے ان کا فرض نہیں تھا کہ جب یہ ثابت ہوگیا کہ نہ گائے نہ گائے کا گوشت اور نہ اس کا ذکر تو اس پجاری کو الٹا لٹکاکر مارا جائے؟ اور مرکزی وزیر کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کیا جائے؟

وزیرداخلہ جو کہہ رہے ہیں کہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے لیکن اس میں گائے ضرور رہی ہے وہ جیسی بھی ہو اور جس حال میں بھی ہو لیکن ان کے زمانہ میں جو کہا جارہا ہے کہ ایسے 80  واقعات ہوئے ہیں اور ایک میں بھی چھری یا گائے نہیں ہے۔ الور میں جو ہوا وہ مویشی بازار سے دودھ دینے والی گائیں کاروبار کے لئے لائے تھے اور ہریانہ لے جارہے تھے۔ جھارکھنڈ میں جو کچھ ہوا اس کی گاڑی میں بھینس کا گوشت تھا۔ ہاپوڑ میں جو شرمناک اور حکومت کے ڈوب مرنے کا واقعہ ہوا وہ بھی یہی کہ گائوں میں اعلان ہو ا کہ جنگل میں گائے کاٹی جارہی ہے۔ جبکہ نہ گائے تھی نہ چھری تھی جس کو پولیس نے موٹر سائیکل کا تنازعہ کہہ کر مودی کی عزت بچانے کی احمقانہ کوشش کی۔

راج ناتھ سنگھ کو پارلیمنٹ میں بیان دینے سے پہلے ہر واقعہ کی تفصیل معلوم کرنا چاہئے تھی۔ انہوں نے اتنا بڑا جھوٹ بول کر اپنا قد بہت چھوٹا کرلیا۔ یہ صحیح ہے کہ ان کی نوکری کی ایک شرط یہ بھی ہوگی کہ وہ وزیراعظم کی طرف جاتے ہوئے تیروں کو اپنے سینے پر روک لیں گے۔ لیکن یہ بھی سوچنا چاہئے کہ ایسا جھوٹ جسے جاہل اور بچے بھی پکڑلیں جھوٹ نہیں ظلم ہے۔ پھر ان کی طرف سے یہ کہنا کہ حکومت کی طرف سے اس طرح کے معاملات میں حکومت کی تنقید کی گئی ہے اور اس طرح سے طور و طریقوں کو ناقابل برداشت بتایا گیا ہے۔ وزیرداخلہ کا یہ اس سے بڑا جھوٹ ہے کیا ناقابل برداشت کا مظاہرہ اس طرح ہوتا ہے کہ جھارکھنڈ کا ایک کورٹ گیارہ ملزموں کو عمرقید کی سزا دیتا ہے۔ بی جے پی کی پوری قیادت دبائو بناتی ہے۔ ایک بھگوا نیتا کپڑے اتار دیتے ہیں کہ یہ تن پر جب ڈالوں گا جب میرے پیارے چھوٹ جائیں گے۔ اور یہی قیادت چند دن کے بعد ضمانت کرادیتی ہے اور ایک مرکزی وزیر سب وزیروں کو بلاتا ہے ان کو اپنے ہاتھ سے مٹھائی کھلاتا ہے اور ہر ایک کے گلے میں مالا ڈالتا ہے۔ ایک وزیر جو گائے کے موت کو دودھ کی طرح فروخت کرتا ہے وہ جیل میں جاکر غنڈوں سے ملتا ہے اور ان کو یقین دلاتا ہے کہ جلد چھڑا لیا جائے گا۔ اور ایک وزیر سوامی اگنی ویش کو مارنے اور ذلیل کرنے کے جواز میں کہتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے وہ سنیاسی نہیں بہروپیہ ہے اور اس نے اپنے اوپر حملہ اپنی شہرت کے لئے کرایا تھا۔ یہ نمونے ہیں حکومت کی طرف سے ایسے واقعات کے ناقابل برداشت ہونے کے۔ ہم وزیر داخلہ سے معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو اگر بغیر کسی قصور کے پیٹ پیٹ کر مارنا حکومت کے پروگراموں میں ہوتا تو یہ وزیر اس سے زیادہ کیا کرتے؟

وزیر داخلہ نے کہا کہ لنچنگ واقعات بہت ہی تکلیف دہ ہیں اور ہر بڑے واقعہ پر انہوں نے خود متعلقہ ریاستوں کے وزیراعلیٰ سے کہا ہے کہ قصورواروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ ہم حیران ہیں کہ کیا ہوگیا ہے وزیر داخلہ کو؟ آج وزیرداخلہ اتنا بے وقعت اور حقیر ہوگیا ہے کہ وہ ایک صوبہ کے وزیراعلیٰ سے کہتا ہے کہ قصورواروں کے ساتھ کوئی رعایت نہ کی جائے اور مارنے والے رسّی میں باندھ کر گھسیٹتے ہوئے مرحوم کو لے جاتے ہیں اور پولیس ہنستی ہوئی ساتھ ساتھ چل رہی ہوتی ہے۔ یا الور میں ملزموں کو پولیس عدالت لے جاتی ہے تو راستے میں بی جے پی کی ایک رنڈی راستہ میں روک کر ان لڑکوں سے کہتی ہے کہ ہنستے ہوئے سینہ تان کر چلو تم کو پھانسی بھی ہوگی تو بھگت سنگھ کی طرح پوجے جائوگے۔ اور پولیس سب کو بے قصور کہہ کر چھوڑ دیتی ہے۔ کیا اب اس مرکزی وزیر داخلہ کی جس کے ہاتھ میں ہر وزیراعلیٰ کی گردن ہے یہ حیثیت ہوگئی ہے کہ وہ حکم دیتا ہے کہ قصورواروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے اور پولیس خود اس بھیڑ کا حصہ بن جاتی ہے اور وزیرداخلہ بیان سے زیادہ کچھ نہیں کرپاتا؟ اپنے ملک میں آزادی کے بعد جمہوریت صرف 15  سال رہی اس کے بعد سے پھر بادشاہ اور مہاراجہ کا زمانہ آگیا۔ اب ایک ملک ہے اس کا ایک حاکم نریندر مودی ہے جس نے صوبے فتخ کرکے صوبیدار بٹھا دیئے ہیں اس لئے وزیر اور مہاراجہ کے ذاتی ملازم صرف ملازم ہیں جو پڑھایا ہوا سبق سناتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close