سیاستہندوستان

وزیر اعظم بنتے بنتے نتیش رام دیو جونیئر بن گئے

حفیظ نعمانی

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے جو کیا حافظہ پر زور ڈالنے کے بعد بھی ہندوستان کی 72  سالہ تاریخ میں ایسا دوسرا وقعہ یاد نہیں آیا کہ بھرے پرے خاندان سے نکل کر گئے اور استعفیٰ دے دیا اور دوسرے دن خاندان کے ہر فرد کے دشمن سے ہاتھ ملاکر پھر وزیر اعلیٰ بن گئے۔ ان کی ہر بات سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ ہفتہ، دو ہفتہ کی نہیں مہینوں کی بنائی ہوئی سازش ہے اور نتیش اس زمانہ میں جتنی بار بھی دہلی گئے ہیں وہ اپنے آقا سے راز و نیاز کرتے رہے ہیں ۔ اور صرف 20  مہینے کی سرکار کے نائب وزیر اعلیٰ کے اوپر سی بی آئی کا حملہ مودی کا کم نتیش کا زیادہ ہے یہ پورا ڈرامہ دہلی میں لکھا گیا جس کے تین کردار ہیں بڑے مودی چھوٹے مودی اور بکا ہوا مہرہ نتیش کمار۔ جس کا قد ایک جھٹکے میں صرف تین فٹ کا رہ گیا۔

اگر کوئی سازش پہلے سے ہوئی نہ ہوتی تو ہونا یہ چاہئے تھا کہ نتیش کمار سب کو جمع کرتے اور کہتے کہ ایسے ماحول میں جس میں میرا نائب بدعنوانی کے شکنجہ میں کسا ہے حکومت کی ذمہ داری نہیں چلا سکتا آپ سب یا تو کچھ دنوں کے لئے ان کو گھر بٹھا دیجئے یا مجھے رخصت کرکے اپنا دوسرا لیڈر چن لیجئے۔ اور میں استعفیٰ دے دوں اور دوسرے کی حلف برداری ہوجائے۔ یہ فیصلہ محاذ کی تینوں پارٹیوں کے سامنے رکھنا چاہئے تھا۔ ہمارا خیال ہے کہ اکثریت تیجسوی یادو پر اور لالوجی پر دبائو ڈالتی کہ حکومت کو پاک صاف رکھنے کے لئے ان کا استعفیٰ دیجئے اور آر جے ڈی کا دوسرا نائب وزیر اعلیٰ بنا دیجئے۔ اور اگر یہ نہ ہوتا تو مردم خیز بہار بانجھ نہیں ہوگیا ہے کہ دوسرا وزیراعلیٰ نہ ملتا وہ تینوں پارٹیوں کے ممبروں میں سے جسے چاہتے وزیر اعلیٰ بنا دیتے اور نتیش ان کی رہنمائی کرتے رہتے۔

لیکن نتیش نے جو کیا اور بڑے مودی نے جو اُن سے کرایا وہ اتنا بھونڈا ڈرامہ ہے جسے آٹھویں درجہ میں پڑھنے والا لڑکا بھی بتا دے گا کہ نتیش بک گئے اور وزیراعظم نے ان کی منھ مانگی قیمت دے دی اور انہوں نے وزیر اعظم کے قدموں میں اپنی 40  برس کی بنائی ہوئی عزت ڈال دی اور سوشیل مودی جن کی صورت 20  مہینے سے بیمار بندر جیسی لگتی تھی ان کے بھی دانت ہونٹوں سے اتنے باہر آگئے کہ اب ہونٹ بند نہیں ہورہے۔

غیب کا علم تو پروردگار کو ہے اندازہ یہ ہے کہ بڑے مودی نے نتیش کو مجبور کردیا کہ کچھ نہ دیکھو کچھ نہ سوچو بس ہندوستان کے نقشہ میں بہار پر میرے دستخط کراکے کمل کا بھگوا جھنڈا لہرا دو تاکہ میں کانٹوں بھری یہ چادر بھی ہٹادوں ۔ ہمارے وزیراعظم بحیثیت وزیر اعظم کب کیا کرتے ہیں اور کتنا کرتے ہیں ؟ یہ تو وہ جانتے ہوں گے، ہمارا اندازہ ہے کہ ان کا زیادہ وقت ہندوستان کے نقشہ کے سامنے گذرتا ہوگا اور جس جس صوبہ میں بھگوا رنگ نہیں ہے ان کی آنکھیں ان پر لگی ہوں گی اور ہر وقت یہ سوچتے ہوں گے کہ اب ان میں کس صوبہ پر حملہ کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے؟

شاستری جی کے بعد اندرا گاندھی نے حلف لے کر سب سے پہلا حملہ اپنی پارٹی کے بڑوں اور اپنے باپ کے دوستوں پر کیا اور صدر کے لئے نیلم سنجیوا ریڈی کا نام پاس کرنے اور اپنے دستخط کرنے کے بعد باہر آکر بغاوت کا اعلان کردیا اور الیکشن کے چیف کمشنر وی وی گری کو صدر کے لئے کھڑا کردیا جن کا ایک ووٹ بھی نہیں تھا اور پھر پورے ہندوستان کا دورہ کرکے ایسی فضا بنائی کہ وی وی گری صدر ہوگئے۔ اور پھر اندرا گاندھی کے زمانہ میں ہی 1967 ء میں رفتہ رفتہ 9  صوبوں میں بغاوت ہوئی اور پہلی بار غیرکانگریسی حکومتیں بنیں اور یہ سلسلہ آج تک چل رہا ہے کہ پورے ملک پر ایک پارٹی کی حکومت نہیں رہی۔ نریندر مودی بے قرار ہیں کہ وہ اندرا گاندھی کے بجائے نہرو بنیں اور اس کے لئے وہ جیسی گھٹیا چالیں چل رہے ہیں اور جیسی بے صبری کا مظاہرہ کررہے ہیں وہی ان کے لئے عذاب بنے گی۔

مودی بالکل بھولے ہوئے ہیں کہ یہ ملک خدا کا ہے وہی ہے جس نے 2004 ء سے 2009 ء تک ڈاکٹر منموہن سنگھ سے ایسی حکومت کرائی کہ کانگریس کو اور زیادہ سیٹیں مل گئیں اور پھر جب وہ اور سونیا بے قابو ہوگئے تو ایسی غلطیاں کرائیں کہ پورا ملک چیخ پڑا اور وہ کانگریس جو دس برس سے حکومت کررہی تھی 44  سیٹوں پر سمٹ گئی اور ایک وہ آدمی وزیر اعظم بن گیا جس پر نہ جانے کتنے الزام ہیں اور امریکہ جیسے ہندوستان دوست ملک نے بھی جس کو امریکہ آنے کا ویزا نہیں دیا۔ اور یہ بھی اسی پروردگار کے ہاتھ میں ہے کہ وہ آج کے وزیراعظم سے ایسی غلطیاں کرائے کہ مخالف تو مخالف اس کے اپنے تھو تھو کرکے اس کا ساتھ چھوڑ دیں اور 2019 ء کے الیکشن میں وہ 100  سیٹیں بھی نہ لاسکے۔

بات بہار کی ہورہی تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ 2014 ء میں ہندوستان نے بی جے پی کو نہیں  مودی کو وزیر اعظم بنانے کے لئے ووٹ دیا تھا۔ نتیش کمار کو 2015 ء میں بہار نے ووٹ نہیں دیا اس صوبہ کے لوگوں نے اس محاذ کو دیا تھا جس میں ایک نتیش بھی تھے لالو بھی تھے اور راہل بھی تھے۔ اور بی جے پی کہیں نہیں تھی۔ بہار کی حکومت نتیش کی نہیں محاذ کی تھی نتیش کو بے ایمان، چور اور غاصب کہا جائے گا کیونکہ 107  کے مقابلہ میں اس کے 71  ممبر ہیں اور ان میں بھی نہ جانے کتنے محاذ کے ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ جو ممبر نتیش کے کہے جاتے ہیں ان میں کتنے ایسے ہوں جنہوں نے محاذ کے لیڈر کی وجہ سے نتیش کو ووٹ دیا ہو۔

لالو یادو نے جب کہا تھا کہ وزیرا علیٰ نتیش ہوں گے اس وقت لالو کو نہیں معلوم تھا کہ کس کو کتنے ممبر ملیں گے؟ 71  کے مقابلہ میں 80  ایم ایل اے بننے کے بعد اگر دوسرا ہوتا تو کہہ دیتا کہ الیکشن سے پہلے تو نہ جانے کیا کیا کہا جاتا ہے؟ اب جس کے زیادہ ممبر ہیں وزیر اعلیٰ اس کا ہوگا۔ اس وقت نتیش سر جھکانے پر مجبور ہوتے اس لئے کہ ایک مہینہ انہوں نے مودی سے ترکی بہ ترکی لفظی جنگ لڑی تھی اور لالو اور راہل کے علاوہ ان کا کوئی نہ تھا۔ ہم قانون کے آدمی نہیں ہیں لیکن ہونا تو یہ چاہئے کہ سپریم کورٹ اس چوری پر دوسری حلف برداری کو غیرقانونی قرار دے دے اور کہے کہ اگر محاذ میں تصفیہ نہیں ہوتا بہار کے کروڑوں ووٹروں سے دوبارہ معلوم کرلو کہ وہ کیا چاہتے ہیں ؟ ایسی آوازیں بھی آرہی ہیں کہ بات عدالت کے سامنے رکھی جائے گی۔ اور ملک میں وہی ایک عدالت ہے جس کی طرف 120  کروڑ ہندوستانی دیکھتا ہے۔

ہمارا اندازہ ہے کہ نتیش کمار نے شاید یہ سمجھا کہ 2019 ء کے انتخاب میں اپوزیشن صاف ہوجائے گا اور مودی کے دربار کی سب کرسیاں بھر جائیں گی وہ بی ایس پی کو چھوڑکر جانے والے ہر موریہ کو دیکھ  رہے ہیں کہ اس کی کار پر جھنڈا لہرا رہا ہے نتیش دیکھ رہے ہیں کہ وہ بابا رام دیو جس نے صرف اپنی برسوں کی بنائی ہوئی عزت مودی کے لئے جھوٹ بول بول کر قربان کردی اور وہ پوجا جانے والا بابا سب سے بڑا جھوٹا بن گیا اس کی اس قربانی کی جو قیمت مودی نے دی ہے وہ یہ ہے کہ ایک سانس میں رام دیو یادو یہ نہیں بتا سکتے کہ ان کے پاس کتنا نقد کتنے کاروبار کتنی فیکٹریاں اور کتنے کارخانے ہیں یقین ہے کہ ان کے پاس اتنی دولت ضرور ہوگئی ہے جو کبھی ٹاٹا بڑلا کے پاس ہوا کرتی تھی۔ شاید نتیش کمار نے بھی قربانی دے کر جو ملے گا وہ لے لیا یا لکھوا لیا ہے۔ واللہ اعلم۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close